اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اللہ تعالیٰ کی جہتِ فَوْق کے اثبات پر ہے، اور ان جہمی شبہات کے رد میں ہے جو قرآن کی آیت ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ سے حلولِ ذاتی کا عقیدہ گھڑتے ہیں۔ مخالفین کہتے ہیں کہ اللہ ہر سمت بذاتہٖ موجود ہے اور عرش پر ہونا محدودیت ہے۔ اس کے جواب میں ہم سلف صالحین، صحابہ کرام اور ائمہ محدثین کے اقوال و نصوص سے واضح کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ عرش پر، جہتِ فَوْق میں ہے اور اپنے علم و قدرت کے ساتھ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اور یہی عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا ہے۔

فریق مخالف کا شبہ

اہلِ جہم و متکلمین قرآن کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:

عربی متن:
﴿وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾
(البقرۃ: 115)

ترجمہ:
"مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں، پس تم جدھر بھی رُخ کرو اُدھر ہی اللہ ہے۔”

دعویٰ:
ان کے بقول اس آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر سمت بذاتہ موجود ہے، اس نے ہر مخلوق کو گھیر رکھا ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ اللہ عرش کے اوپر جہتِ فوق میں ہے، اسے محدود جگہ میں ماننے کے مترادف ہے۔ اسی لئے وہ اہل السنۃ کو "مجسمہ” اور "رجسٹرڈ فرقہ” کہہ کر طعن کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں: قرآن ماننا ہے یا اہل حدیث کے تجسیمی عقائد؟

تحقیقی جواب

اہل سنت والجماعت کے نزدیک:

❖ یہ آیت حلولِ ذاتی پر نہیں بلکہ علم و قدرت کے احاطے پر دلالت کرتی ہے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا: ﴿أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ﴾ (فصلت: 54) یعنی "اللہ ہر چیز کو اپنے علم و قدرت سے گھیرے ہوئے ہے”۔

❖ قرآن و سنت کی متواتر نصوص، آثارِ صحابہ اور ائمہ کے اقوال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذاتہ عرش کے اوپر ہے، جہتِ فوق میں ہے، اور اپنے علم کے ذریعے ہر جگہ حاضر ہے۔

دلیل اوّل: اثرِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ

عربی متن:
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: ثنا أَسَدٌ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:
«مَا بَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ… وَالْعَرْشُ فَوْقَ السَّمَاءِ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ الْعَرْشِ، وَهُوَ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ».

اردو ترجمہ:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہر دو آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اور عرش آسمان کے اوپر ہے، اور اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، اور وہ جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو۔”

حوالہ: کتاب التوحید وإثبات صفات الرب، ابن خزیمہ (311ھ)

سندی درجہ

اس روایت کے تمام رواۃ ثقہ ہیں:

  • ابن خزیمہ (ثقة حجة)

  • بحر بن نصر (ثقة)

  • أسد بن موسى (ثقة)

  • حماد بن سلمة (ثقة عابد)

  • عاصم بن بہدلہ (صدوق)

  • زر بن حبیش (ثقة)

اصولی استدلال

یہ روایت دو حقیقتیں واضح کرتی ہے:

  1. “واللہ فوق العرش” → اللہ بذاتہ عرش کے اوپر ہے۔

  2. “وہ جانتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو” → علم و قدرت کے ساتھ ہر جگہ حاضر ہے۔

یعنی جہمیوں کا دعویٰ کہ “فوقیت ماننے سے اللہ محدود ہوجاتا ہے” سراسر باطل ہے، کیونکہ نصوص نے خود علوّ بذات اور احاطہ بالعلم دونوں کو جمع کیا ہے۔

دلیل دوم: امام عبداللہ بن المبارک (م 181ھ) کا قول

عربی متن:
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ سُئِلَ: بِمَ نَعْرِفُ رَبَّنَا؟
قَالَ: «بِأَنَّهُ فَوْقَ الْعَرْشِ، فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ عَلَى الْعَرْشِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ».
قُلْتُ: بِحَدٍّ؟
قَالَ: «فَبِأَيِّ شَيْءٍ؟»

اردو ترجمہ:
ابن المبارک سے پوچھا گیا: ہم اپنے رب کو کس طرح پہچانیں؟ انہوں نے فرمایا: "اس طرح کہ وہ عرش کے اوپر ہے، ساتویں آسمان کے اوپر عرش پر ہے، اور اپنی مخلوق سے جدا ہے۔” میں نے کہا: کیا اس کے لیے کوئی حد ہے؟ فرمایا: "پھر کس چیز کی (حد)؟”

حوالہ: الرد على الجهمية للدارمي (ص 162)

تبصرہ

❖ "فوق العرش” اور "بائن من خلقہ” کے الفاظ اہل سنت کے عقیدہ کی صریح دلیل ہیں۔
❖ ساتھ ہی ابن المبارک نے واضح کیا کہ اللہ کے لیے "حد” مخلوقی مفہوم میں بیان کرنا غلط ہے؛ یعنی اللہ کی فوقیت ثابت ہے مگر بلا کیف اور بلا حد۔

دلیل سوم: امام احمد بن حنبل (م 241ھ) کا قول

عربی متن:
قِيلَ لِأَبِي (أحمد بن حنبل): رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ عَلَى عَرْشِهِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَقُدْرَتُهُ وَعِلْمُهُ بِكُلِّ مَكَانٍ؟
قَالَ: «نَعَمْ؛ لَا يَخْلُو شَيْءٌ مِنْ عِلْمِهِ».

اردو ترجمہ:
امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا ہمارا رب ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے، مخلوق سے جدا ہے، اور اس کی قدرت اور علم ہر جگہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: "جی ہاں، کوئی چیز اس کے علم سے خالی نہیں۔”

حوالہ: شرح أصول اعتقاد أهل السنة، للالكائي (رقم: 807)

تبصرہ

❖ امام احمد نے ایک جملے میں اہل سنت کا عقیدہ واضح کردیا:

  • اللہ بذاتہ عرش کے اوپر ہے۔

  • وہ مخلوق سے جدا ہے۔

  • مگر اس کا علم و قدرت ہر جگہ محیط ہے۔

❖ اس قول سے جہمیوں کا شبہ باطل ہوجاتا ہے کہ "عرش پر ہونا اللہ کو محدود کردیتا ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ذات فوق العرش ہے اور اس کا علم و قدرت مخلوق کے ہر ذرے کو گھیرے ہوئے ہیں۔

دلیل چہارم: امام محمد بن عثمان ابن ابی شیبہ (م 297ھ)

عربی متن:
ثُمَّ تَوَافَرَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ الْعَرْشَ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ بِذَاتِهِ، ثُمَّ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ، فَصَارَ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، وَمِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْعَرْشِ.
فَهُوَ فَوْقَ السَّمَاوَاتِ وَفَوْقَ الْعَرْشِ بِذَاتِهِ، مُتَخَلِّصًا مِنْ خَلْقِهِ، بَائِنًا مِنْهُمْ، عِلْمُهُ فِي خَلْقِهِ لَا يَخْرُجُونَ مِنْ عِلْمِهِ.

اردو ترجمہ:
امام ابن ابی شیبہ نے کہا: "احادیث متواتر اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ نے عرش کو پیدا کیا پھر اپنی ذات کے ساتھ اس پر مستوی ہوا۔ پھر زمین و آسمان پیدا کیے۔ پس وہ اپنی ذات کے ساتھ آسمانوں کے اوپر اور عرش کے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، اور اس کا علم مخلوق کے اندر ہے، وہ اس کے علم سے باہر نہیں نکل سکتے۔”

حوالہ: کتاب العرش لابن أبي شيبة (ص 52/أ)

دلیل پنجم: امام ابوبکر محمد بن اسحاق ابن خزیمہ (م 311ھ)

عربی متن:
سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ:
«مَنْ لَمْ يُقِرَّ بِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى عَرْشِهِ قَدِ اسْتَوَى فَوْقَ سَبْعِ سَمَاوَاتِهِ فَهُوَ كَافِرٌ بِرَبِّهِ».

اردو ترجمہ:
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "جو شخص یہ اقرار نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ساتوں آسمانوں کے اوپر مستوی ہے، وہ اپنے رب کا کافر ہے۔”

حوالہ: معرفة علوم الحديث للحاكم (ج 1، ص 84)

دلیل ششم: امام ابن بطہ العکبری (م 387ھ)

عربی متن:
وَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَجَمِيعِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى عَرْشِهِ، فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَعِلْمُهُ مُحِيطٌ بِجَمِيعِ خَلْقِهِ.

اردو ترجمہ:
امام ابن بطہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "صحابہ کرام، تابعین اور تمام اہلِ علم کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر، آسمانوں کے اوپر، مخلوق سے جدا ہے اور اس کا علم تمام مخلوقات پر محیط ہے۔”

حوالہ: الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية (ج 7، ص 138)

دلیل ہفتم: امام ابوسعید عثمان بن سعید الدارمی (م 280ھ)

عربی متن:
قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَادَّعَى الْمُعَارِضُ أَيْضًا أَنَّهُ لَيْسَ لِلَّهِ حَدٌّ وَلَا غَايَةٌ وَلَا نِهَايَةٌ. وَهَذَا هُوَ الْأَصْلُ الَّذِي بَنَى عَلَيْهِ جَهْمٌ ضَلَالَاتِهِ. …
ثُمَّ قَالَ: فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ عَرْشِهِ، فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، فَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ بِذَلِكَ لَمْ يَعْرِفْ إِلَهَهُ الَّذِي يَعْبُدُ.

اردو ترجمہ:
امام دارمی نے فرمایا: "مخالف یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ کی کوئی حد نہیں، نہ غایت اور نہ انتہا، اور یہی جہم کی گمراہی کی بنیاد ہے۔ … پس اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اپنے آسمانوں کے اوپر، مخلوق سے جدا ہے۔ جو شخص اللہ کو اس طرح نہ پہچانے وہ اپنے معبود کو نہیں پہچانتا جس کی وہ عبادت کرتا ہے۔”

حوالہ: الرد على الجهمية للدارمي (ص 66)

دلیل ہشتم: امام ابوحاتم الرازی (م 275ھ) اور امام ابو زرعہ الرازی (م 264ھ)

عربی متن:
قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ السُّنَّةِ فِي أُصُولِ الدِّينِ … فَقَالَا:
«أَدْرَكْنَا الْعُلَمَاءَ فِي جَمِيعِ الْأَمْصَارِ … فَكَانَ مِنْ مَذْهَبِهِمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَرْشِهِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، كَمَا وَصَفَ نَفْسَهُ فِي كِتَابِهِ».

اردو ترجمہ:
عبدالرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں: میں نے اپنے والد (ابوحاتم) اور ابو زرعہ سے اہل سنت کے اصولِ دین کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: "ہم نے تمام شہروں کے علما کو پایا، ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں اپنی صفت بیان کی ہے۔”

حوالہ: شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي (رقم 321)

دلیل نہم: امام اسماعیل بن یحییٰ المزنی (م 264ھ)

عربی متن:
عَالٍ عَلَى عَرْشِهِ بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، مَوْجُودٌ وَلَيْسَ بِمَعْدُومٍ وَلَا بِمَفْقُودٍ.

اردو ترجمہ:
امام مزنی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اللہ اپنے عرش پر بلند ہے، مخلوق سے جدا ہے، موجود ہے، معدوم نہیں اور مفقود نہیں۔”

حوالہ: شرح السنة لمزني (ص 8)

دلیل دہم: امام محمد بن ادریس الشافعی (م 204ھ)

عربی متن:
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ:
ثُمَّ مَعْنَى قَوْلِهِ فِي الْكِتَابِ: (مَنْ فِي السَّمَاءِ) مَنْ فَوْقَ السَّمَاءِ عَلَى الْعَرْشِ، كَمَا قَالَ: (الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى). وَكُلُّ مَا عَلَا فَهُوَ سَمَاءٌ، وَالْعَرْشُ أَعْلَى السَّمَاوَاتِ، فَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ، سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، كَمَا أَخْبَرَ بِلَا كَيْفٍ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، غَيْرُ مُمَاسٍّ لِخَلْقِهِ: (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ).

اردو ترجمہ:
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: "کتاب اللہ میں (مَن فِي السَّمَاءِ) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ آسمان کے اوپر، اپنے عرش پر ہے، جیسا کہ فرمایا: ﴿الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾۔ اور جو بھی اوپر ہے وہ آسمان ہے، اور عرش تمام آسمانوں سے بلند ہے، پس اللہ عرش پر ہے، بغیر کیفیت کے، مخلوق سے جدا، اور مخلوق کو چھوئے بغیر۔ اس جیسا کوئی نہیں، وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔”

حوالہ: تفسير الإمام الشافعي (ج 2، ص 13)

دلیل یازدہم: امام ابن رشد القرطبی (م 595ھ)

عربی متن:
أما هَذِه الصّفة (الجهة) فَلَمْ يَزَل أهل الشريعة من أول الْأَمر بثبوتها لله سُبْحَانَهُ حَتَّى نفتها المعتزلة، ثم تبعهم على نَفْيها متأخرو الأشاعرة كأبي المعالي الجويني. وظواهر الشرع كلها تقتضي إثبات الجهة.

اردو ترجمہ:
امام ابن رشد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جہت کی صفت کے بارے میں اہلِ شریعت ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا اثبات کرتے آئے ہیں، یہاں تک کہ معتزلہ نے اس کی نفی کی، پھر متاخر اشاعرہ جیسے امام جوینی نے ان کی پیروی کی۔ جبکہ شریعت کے تمام ظواہر اللہ کے لیے جہت کے اثبات کا تقاضا کرتے ہیں۔”

حوالہ: الكشف عن مناهج الأدلة في عقائد الملة (ص 186)

دلیل دوازدہم: امام عبیداللہ بن سعید السجزی (م 444ھ)

عربی متن:
وعند أهل الحق أن الله سبحانه مباين لخلقه بذاته فوق العرش بلا كيفية بحيث لا مكان.

اردو ترجمہ:
امام سجزی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اہلِ حق کے نزدیک اللہ اپنی ذات کے ساتھ مخلوق سے جدا ہے اور عرش کے اوپر ہے، بلا کیفیت، اس طرح کہ وہ کسی مکان کا محتاج نہیں۔”

حوالہ: رسالة السجزي إلى أهل زبيد (ص 107)

دلیل سیزدہم: امام معمر بن احمد الاصبہانی (م 418ھ) → نقل قوام السنۃ الاصبہانی (م 535ھ)

عربی متن:
وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَوَى عَلَى عَرْشِهِ بِلا كَيْفٍ وَلَا تَشْبِيهٍ وَلَا تَأْوِيلٍ، فَالِاسْتِوَاءُ مَعْقُولٌ، وَالْكَيْفُ فِيهِ مَجْهُولٌ، وَالْإِيمَانُ بِهِ وَاجِبٌ، وَالإِنْكَارُ لَهُ كُفْرٌ. وَأَنَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ مُسْتَوٍ عَلَى عَرْشِهِ بِلَا كَيْفٍ، وَأَنَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَالْخَلْقُ بَائِنُونَ مِنْهُ، فَلَا حُلُولَ وَلَا مُمَازَجَةَ.

اردو ترجمہ:
امام معمر الاصبہانی نے فرمایا: "اللہ اپنے عرش پر مستوی ہے بلا کیف، بلا تشبیہ اور بلا تاویل۔ استواء کا معنی معقول ہے اور کیفیت مجہول ہے، ایمان لانا واجب اور انکار کرنا کفر ہے۔ وہ عرش پر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے، اور مخلوق اس سے جدا ہے۔ نہ حلول ہے اور نہ اختلاط۔”

حوالہ: الحجة في بيان المحجة (ج 2، ص 111)

دلیل چودھم: امام ابو اسماعیل الانصاری الہروی (م 481ھ)

عربی متن:
قال الإمام الكبير أبو إسماعيل الهروي في كتاب الصفات:
«باب استواء الله على عرشه فوق السماء السابعة بائنا من خلقه من الكتاب والسنة. … وفي أخبار شتى أن الله في السماء السابعة على العرش بنفسه، وهو ينظر كيف يعملون، وعلمه وقدرته واستماعه ونظره ورحمته في كل مكان».

اردو ترجمہ:
امام ابو اسماعیل الہروی رحمہ اللہ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے، مخلوق سے جدا ہے، جیسا کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ مختلف احادیث میں آیا ہے کہ اللہ بذاتہ ساتویں آسمان پر عرش پر ہے، وہ دیکھ رہا ہے کہ بندے کیا کرتے ہیں، اور اس کا علم، قدرت، سننا، دیکھنا اور رحمت ہر جگہ ہے۔”

حوالہ: مختصر العلو للذهبي (ص 339)

دلیل پندرھم: امام عبداللہ بن یوسف الجوینی (ابو محمد) (م 438ھ)

عربی متن:
العَبْدُ إِذَا أَيْقَنَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَوْقَ السَّمَاءِ، عَالٍ عَلَى عَرْشِهِ بِلاَ حَصْرٍ وَلاَ كَيْفِيَّةٍ … وَمَنْ لاَ يَعْرِفْ رَبَّهُ بِأَنَّهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ عَلَى عَرْشِهِ فَإِنَّهُ يَبْقَى ضَائِعاً لاَ يَعْرِفُ وَجْهَةَ مَعْبُودِهِ».

اردو ترجمہ:
امام ابو محمد الجوینی رحمہ اللہ نے فرمایا: "جب بندے کو یقین ہو جائے کہ اللہ آسمان کے اوپر ہے، اپنے عرش پر ہے، بغیر کسی حد اور کیفیت کے… اور جو اپنے رب کو اس طرح نہ پہچانے کہ وہ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے، تو وہ ضائع ہے اور اپنے معبود کی سمت کو نہیں پہچانتا۔”

حوالہ: رسالة في إثبات الاستواء والفوقية (ص 15)

دلیل سولہ: امام ابو الحسین العمرانی الیمنی (م 558ھ)

عربی متن:
عند أصحاب الحديث والسنة أن الله سبحانه بذاته بائن عن خلقه، على العرش استوى فوق السموات، غير مماس له، وعلمه محيط بالأشياء كلها.

اردو ترجمہ:
امام عمرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اہل حدیث و سنت کے نزدیک اللہ اپنی ذات کے ساتھ مخلوق سے جدا ہے، آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے، مخلوق کو چھوئے بغیر، اور اس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے۔”

حوالہ: الانتصار في الرد على المعتزلة (ص 102)

دلیل سترھم: امام عبدالغنی المقدسی الحنبلی (م 600ھ)

عربی متن:
المنزه عن الأشباه والنظراء، … واستوى على عرشه فوق السماء.

اردو ترجمہ:
امام عبدالغنی المقدسی رحمہ اللہ نے فرمایا: "(اللہ) ہر قسم کی مشابہت سے پاک ہے … اور اپنے عرش پر آسمان کے اوپر مستوی ہے۔”

حوالہ: الاقتصاد في الاعتقاد (ص 27)

دلیل اٹھارھم: امام ابو عبداللہ القرطبی (م 671ھ)

عربی متن:
وَقَدْ كَانَ السَّلَفُ الْأَوَّلُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ لَا يَقُولُونَ بِنَفْيِ الْجِهَةِ وَلَا يَنْطِقُونَ بِذَلِكَ، بَلْ نَطَقُوا هُمْ وَالْكَافَّةُ بِإِثْبَاتِهَا لِلَّهِ تَعَالَى كَمَا نَطَقَ كِتَابُهُ وَأَخْبَرَتْ رُسُلُهُ، وَلَمْ يُنْكِرْ أَحَدٌ مِنَ السَّلَفِ أَنَّهُ اسْتَوَى عَلَى عَرْشِهِ حَقِيقَةً.

ترجمہ:
امام قرطبی فرماتے ہیں: "سلف صالحین نہ اللہ کے لیے جہت کی نفی کرتے تھے اور نہ اس بارے میں زبان کھولتے تھے، بلکہ سب نے اللہ کے لیے جہت کا اثبات کیا جیسا کہ اس کی کتاب اور رسولوں کی خبریں بتاتی ہیں۔ اور سلف میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا کہ اللہ حقیقتاً اپنے عرش پر مستوی ہے۔”

حوالہ: الجامع لأحكام القرآن (تفسیر القرطبی، سورۃ طہ: 5)

دلیل انیسویں: امام سعدالدین التفتازانی (م 793ھ)

عربی متن:
قِيلَ إِذَا كَانَ الدِّينُ الْحَقُّ نَفْيَ الْحَيِّزِ وَالْجِهَةِ، فَمَا بَالُ الْكُتُبِ السَّمَاوِيَّةِ وَالْأَحَادِيثِ النَّبَوِيَّةِ مُشْعِرَةٌ فِي مَوَاضِعَ لَا تُحْصَى بِثُبُوتِ ذَلِكَ؟

ترجمہ:
تفتازانی فرماتے ہیں: "اگر دینِ حق یہ ہے کہ اللہ کے لیے حیز اور جہت کی نفی کی جائے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آسمانی کتابیں اور نبوی احادیث بے شمار مقامات پر جہت اور فوقیت کے اثبات کی خبر دیتی ہیں؟”

حوالہ: شرح المقاصد في علم الكلام (ج 2، ص 32)

دلیل بیسویں: امام ابن تیمیہ (م 728ھ)

عربی متن:
فَهَذَا بَاطِلٌ مُخَالِفٌ لِإِجْمَاعِ سَلَفِ الْأُمَّةِ، فَإِنَّ السَّلَفَ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ اللَّهَ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ عَلَى عَرْشِهِ، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ.

ترجمہ:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: "یہ قول (کہ اللہ کے لیے جہت نہیں) باطل اور اجماعِ سلف کے خلاف ہے۔ سلف کا اجماع ہے کہ اللہ اپنے آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور اپنی مخلوق سے جدا ہے۔”

حوالہ: الفتاوى الكبرى (ج 6، ص 584)

دلیل اکیسویں: امام ابن قیم (م 751ھ)

عربی متن:
فَعَلَى زَعْمِهِمْ يَكُونُ فِرْعَوْنُ قَدْ نَزَّهَ الرَّبَّ عَمَّا لَا يَلِيقُ بِهِ وَكَذَّبَ مُوسَى فِي إِخْبَارِهِ، إِذْ مَنْ قَالَ: إِنَّ رَبَّهُ فَوْقَ السَّمَاوَاتِ فَهُوَ كَاذِبٌ! فَهُمْ فِي هَذَا التَّكْذِيبِ مُوَافِقُونَ لِفِرْعَوْنَ مُخَالِفُونَ لِمُوسَى وَجَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ.

ترجمہ:
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ان کے زعم کے مطابق فرعون نے گویا اللہ کو اس چیز سے پاک کہا جو اس کے لائق نہیں اور موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کے آسمانوں کے اوپر ہونے کی خبر دینے میں جھوٹے ہوئے! پس یہ لوگ (جہمیہ) فرعون کی موافقت اور موسیٰ و تمام انبیاء کی مخالفت کرتے ہیں۔”

حوالہ: إعلام الموقعين (ج 4، ص 251)

جہتِ فوق کی نفی پر جہمیہ کے دلائل کا جواب

شبہ اوّل: امام ابو سلیمان الخطابی (م 388ھ)

جہمی حضرات یہ جملہ پیش کرتے ہیں:

عربی عبارت:
«أو متحيز في جهة من جهاته»
(إعلام الحديث للخطابي)

ترجمہ:
"اللہ جہات میں سے کسی جہت میں نہیں۔”

جواب:

یہ جملہ شاذ اور غیر واضح ہے، اور اس کو سیاق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ امام خطابی نے دوسرے مقامات پر صاف طور پر علو اور عرش پر استواء کا اثبات کیا ہے:

  1. معالم السنن (شرح سنن ابی داؤد) میں جہمیہ و معتزلہ کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    «ومن باب الرد على الجهمية والمعتزلة … ليعلم أن الموصوف بعلو الشأن وجلالة القدر وارتفاع عرشه»
    (معالم السنن، ج 4، ص 285)
    یعنی اللہ کے عرش کی بلندی اور اس کی شانِ علو کا اثبات ہے۔

  2. شأن الدعاء میں آیت ﴿الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    «فنحن نؤمن بما أنزل، ونقول كما قال، ولا نكيفه، ولا نحده، ولا نتأوله كما فعلته نفاة الصفات»
    (شأن الدعاء للخطابي، ص 37)
    یعنی ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، کیفیت بیان نہیں کرتے، نہ حد مقرر کرتے ہیں، اور نہ تاویل کرتے ہیں جیسے نفاتِ صفات (جہمیہ) نے کیا۔

  3. اسی کتاب میں "العلي” کے بارے میں لکھتے ہیں:
    «العلي: هو العالي القاهر … وقد يكون ذلك من العلو الذي هو مصدر: علا يعلو فهو عال، كقوله: الرحمن على العرش استوى»
    (شأن الدعاء، ص 37)

خلاصہ:

امام خطابی کا مقصود نفیِ کیفیت و تحدید ہے، نفیِ علو و فوقیت نہیں۔ وہ جہمیہ کے مقابلے میں اللہ کے عرش پر ہونے اور علو کے قائل ہیں۔

شبہ دوم: امام عزالدین بن عبدالسلام (م 660ھ)

جہمیہ تاج الدین سبکی (م 771ھ) کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ:
«ولا تحيط به الجهات»
(طبقات الشافعية الكبرى)

ترجمہ:
"جہات اللہ کو گھیر نہیں سکتیں۔”

جواب:

  1. یہ جملہ بغیر سند کے نقل کیا گیا ہے اور مبہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ مخلوقی جہات کے احاطے میں نہیں آتا، یہ نفیِ علو نہیں۔

  2. عزالدین کے دوسرے اقوال دیکھیں تو واضح ہے کہ وہ صوفیہ کے فاسد عقائد (جیسے ابن عربی) کے سخت ناقد تھے۔
    ابن عابدین شامی نے نقل کیا:
    «سمعت أن الفقيه العالم عز الدين بن عبد السلام كان يطعن في ابن عربي ويقول هو زنديق»
    (رد المحتار، ج 2، ص 263)
    یعنی ابن عربی کو زندیق کہتے تھے۔

  3. حافظ ذہبی نے ان سے نقل کیا:
    «ما رأيت في كتب الإسلام في العلم مثل المحلى لابن حزم والمغني لابن قدامة»
    (تذكرة الحفاظ، ج 4، ص 1477)
    یعنی ابن حزم اور ابن قدامہ کی کتب کو علمی لحاظ سے بے مثل کہا۔ اور یہ دونوں علو و فوقیت کے صریح قائل ہیں۔

خلاصہ:

لہٰذا عزالدین کا مبہم جملہ نفیِ فوقیت پر محمول نہیں کیا جا سکتا، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ مخلوق کی طرح کسی جہت میں محصور نہیں۔

شبہ سوم: امام ابو جعفر طحاوی (م 321ھ)

انہوں نے اپنی کتاب "العقیدہ الطحاویہ” میں فرمایا:

عربی متن:
«وتعالى عن الحدود والغايات والأركان والأعضاء والأدوات، لا تحويه الجهات الست كسائر المبتدعات»
(العقیدہ الطحاویہ، فقرة 38)

ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ حدود، غایات، ارکان، اعضاء اور آلات سے پاک ہے، اور چھ جہات اس کو نہیں گھیرتیں جیسا کہ مخلوقات کو گھیرتی ہیں۔”

جواب:

بظاہر اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ امام طحاوی نے فوقیت کی نفی کی، لیکن آگے وہ خود وضاحت کرتے ہیں:

عربی متن:
«والعرش والكرسي حق، وهو مستغن عن العرش وما دونه، محيط بكل شيء وفوقه، وقد أعجز عن الإحاطة خلقه»
(العقیدہ الطحاویہ، فقرات 49–51)

ترجمہ:
"عرش اور کرسی حق ہیں، اللہ عرش اور اس کے ما دون سے بے نیاز ہے، وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے اور اس کے اوپر ہے، اور اس کی مخلوق اس کا احاطہ کرنے سے عاجز ہے۔”

امام ابن ابی العز الحنفی (م 792ھ) نے اس کی شرح میں لکھا:
«محيط بكل شيء وفوقه: مراده أن الله لا يحويه شيء، ولا يحيط به شيء كما يكون لغيره من المخلوقات، وأنه العلي عن كل شيء»
(شرح العقیدہ الطحاویہ، ص 312)

ترجمہ:
"یعنی اللہ کو کوئی چیز اپنے اندر نہیں لے سکتی، نہ اس کا احاطہ کر سکتی ہے جیسے مخلوقات کا ہوتا ہے، بلکہ وہ ہر چیز سے بلند اور اعلیٰ ہے۔”

خلاصہ:

طحاوی کی مراد یہ نہیں کہ اللہ فوق العرش نہیں، بلکہ یہ کہ اللہ مخلوقی جہات کے احاطے میں نہیں آتا۔ وہ "فوق کل شیء” ہے، اس کا علو اور جہتِ فوق سلف کے اجماع کے مطابق ثابت ہے۔

پورے مضمون کا خلاصہ و نتیجہ

  1. جہمی و متکلمین کا شبہ یہ ہے کہ ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ سے اللہ کا "ہر سمت بذاتہ ہونا” ثابت ہوتا ہے اور "فوق العرش” کا عقیدہ اللہ کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

  2. اہل سنت والجماعت نے قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمہ کے اقوال سے واضح کیا کہ:

    • اللہ بذاتہ عرش کے اوپر، جہتِ فوق میں ہے۔

    • وہ اپنی مخلوق سے جدا (بائن) ہے۔

    • مگر اس کا علم و قدرت ہر جگہ محیط ہے۔

  3. امام ابن مسعود، ابن المبارک، امام احمد، ابن ابی شیبہ، ابن خزیمہ، ابن بطہ، دارمی، ابوحاتم، ابو زرعہ، المزنی، شافعی، ابن رشد، سجزی، اصبہانی، ہروی، الجوینی، العمرانی، عبدالغنی مقدسی، قرطبی، تفتازانی، ابن تیمیہ، ابن قیم سب نے یہی عقیدہ بیان کیا۔

  4. خطابی، عزالدین بن عبدالسلام اور طحاوی کے اقوال جنہیں مخالفین جہت کی نفی پر پیش کرتے ہیں، دراصل نفیِ احاطہ و تحدید ہیں، نفیِ فوقیت نہیں۔

  5. اس طرح اہل سنت کا عقیدہ ایک ہی جملے میں یہ ہے:
    "اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، مخلوق سے جدا ہے، اور اپنے علم سے ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔”

اہم حوالاجات کے سکین

اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 01 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 02 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 03 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 04 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 05 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 06 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 07 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 08 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 09 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 10 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 11 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 12 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 13 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 14 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 15 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 16 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 17 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 18 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 19 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 20 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 21 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 22 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 23 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 24 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 25 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 26 اللہ کی جہتِ فوق کے اثبات پر 21 شہادتیں اور جہمی دلائل کا جائزہ – 27