مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اللہ کو تین مواقع پر خاموشی پسند ہے – حدیث کی سند اور وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، تفسیر کا بیان، جلد ۱، صفحہ 483

سوال

حدیث:

«إِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الصَّمْتَ عِنْدَ ثَلاَثٍ عِنْدَ تِلاَوَةِ الْقُرْآنِ وَعِنْدَ الزَّحْفِ وَعِنْدَ الْجَنَازَةِ»
(بے شک اللہ تعالیٰ تین موقعوں پر خاموشی کو پسند کرتا ہے: تلاوت قرآن کے وقت، لڑائی کے وقت، اور جنازہ کے وقت)۔

یہ روایت تفسیر ابن کثیر جلد نمبر ۲ میں طبرانی کے حوالہ سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث کی وضاحت درکار ہے۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث کا حوالہ اور سند

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سورۃ الأنفال آیت 45 کی تفسیر میں لکھا ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمۡ فِئَةٗ فَٱثۡبُتُواْ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾ — الأنفال: 45

اسی آیت کی تفسیر میں، جلد نمبر ۲، صفحہ ۳۱۶ پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وقال الحافظ ابو القاسم الطبرانی حدثنا ابراهيم بن هاشم البغوی حدثنا امية بن بسطام حدثنا معتمر بن سليمان حدثنا ثابت بن زيد عن رجل عن زيد بن ارقم عن النبی ﷺ مرفوعا قال : إن اﷲ يحب الصمت عند ثلاث»

(ترجمہ: حافظ ابو القاسم طبرانی نے بیان کیا کہ ہمیں ابراہیم بن ہاشم بغوی نے حدیث سنائی، انہوں نے امیہ بن بسطام سے، انہوں نے معتمر بن سلیمان سے، انہوں نے ثابت بن زید سے، انہوں نے ایک شخص سے، اور اس نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے، اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مرفوع روایت بیان کی: "بے شک اللہ تعالیٰ تین موقعوں پر خاموشی کو پسند کرتا ہے…”)

سند کی حیثیت

✿ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔

✿ اس کی علت یہ ہے کہ روایت میں ایک راوی "عن رجل” کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے، جو کہ مجہول (نامعلوم) ہے۔

✿ یعنی یہ راوی کی پہچان نہیں ہو سکی، اس لیے اس سند کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔

نتیجہ

✿ حدیث کے مفہوم میں ظاہری طور پر کوئی خرابی نہیں، اور خاموشی کا ان تین مواقع پر پسندیدہ ہونا عقل و ادب کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

✿ لیکن حدیث کی سند ناقابلِ اعتماد ہے، اس لیے اسے اصولی طور پر حجت (شرعی دلیل) نہیں بنایا جا سکتا۔

✿ بہتر یہی ہے کہ ایسی روایات کو فضائل اعمال میں تو ذکر کیا جا سکتا ہے، لیکن احکام و مسائل میں ان پر حکم نہیں لگایا جا سکتا، خصوصاً جب وہ ضعیف السند ہوں۔
تفسیر ابن کثیر، جلد ۲، صفحہ ۳۱۶، بحوالہ طبرانی

ھٰذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔