چھٹی صدی کے ائمہ اہل سنت کی صراحت
قوام السنة ، امام ابو القاسم اسماعیل بن محمد اصبہانی رحمتہ اللہ (535ھ) فرماتے ہیں:
الجهمية لا يصفون الله بالسمع والبصر والاستواء على العرش، ويقولون: هو في الأرض كما هو في السماء، وهو بكل مكان.
’’جہمیہ اللہ تعالیٰ کو سمع و بصر اور عرش پر مستوی ہونے کی صفات سے متصف نہیں کرتے ، بلکہ کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ جیسے آسمانوں کے اوپر ہے، ویسے ہی زمین میں بھی ہے اور وہ ہر جگہ ہے۔‘‘
(الحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة: 514)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
قال أهل السنة: خلق الله السماوات والأرض ، وكان عرشه على الماء مخلوقا قبل خلق السماوات والأرض، ثم استوى على العرش بعد خلق السماوات والأرض على ما ورد به النص، وليس معناه المماسة، بل هو مستو على عرشه كما بلا كيف كما أخبر عن نفسه، وزعم هؤلاء أنه لا يجوز الإشارة إلى الله سبحانه بالرؤوس والأصابع إلى فوق، فإن ذلك يوجب التحديد، وقد أجمع المسلمون أن الله هو العلي الأعلى، ونطق بذلك القرآن في قوله: (سبح اسم ربك الأعلى) ، وزعموا أن ، ذلك بمعنى علو الغلبة لا علو الذات، وعند المسلمين أن لله عز وجل علو الغلبة والعلو من سائر وجوه العلو لأن العلو صفة مدح، فتبت أن لله تعالى الذات، وعلو الصفات، وعلو القهر والغلبة، وفي منعهم الإشارة إلى الله سبحانه من جهة الفوق خلاف منهم لسائر الملل ، لأن جماهير المسلمين وسائر الملل قد وقع منهم الإجماع على الإشارة إلى الله جل ثناؤه من جهة الفوق في الدعاء والسوال، فاتفاقهم بأجمعهم على ذلك حجة ، ولم يستجز أحد الإشارة إليه من جهة الأسفل، ولا من سائر الجهات سوى جهة الفوق، وقال الله تعالى: (يخافون ربهم من فوقهم) ، وقال: (إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه) ، وقال: (تعرج الملبكة والروح إليه) ، وأخبر عن فرعون أنه قال: (يها من ابن لي صرحا لعلى ابدع الأسباب، أسباب السموت فاطلع إلى إله موسى وإني لأظنه كاذبا) ، فكان فرعون قدفهم عن موسى أنه يثبت إلها فوق السماء حتى رام بصرحه أن يطلع إليه، واتهم موسى بالكذب في ذلك، والجهمية لا تعلم أن الله فوقه بوجود ذاته، فهم أعجر فهما من فرعون، وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه سأل الجارية التي أراد مولاها عنقها: أين الله؟ قالت في السماء، وأشارت برأسها، وقال: من أنا ؟ فقالت: أنت رسول الله، فقال: أعتقها فإنها مؤمنة، فحكم النبي صلى الله عليه وسلم بإيمانها حين قالت: إن الله في السماء، وتحكم الجهمية بكفر من يقول ذلك.
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ انھیں پیدا کرنے کے بعد اللہ عرش پر مستوی ہوا، جیسا کہ نص میں بیان ہوا ہے۔ استوا کا معنی عرش کے ساتھ ملنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ اس نے خود بیان کیا ہے، البتہ اس کی کیفیت ہم بیان نہیں کرتے۔ جہمیہ کا نظریہ ہے کہ اللہ کے لیے اوپر کی طرف سریا انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے حد بندی لازم آتی ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ بلند اور اعلیٰ ہے۔ قرآن کریم اسی بارے میں گویا ہوا:
(سبح اسم ربك الأعلى)
’’اپنے بلند رب کے نام کی تسبیح بیان کیجیے۔‘‘
جہمیہ کہتے ہیں کہ اللہ کی بلندی سے مراد غلبے کی بلندی ہے، ذات کی نہیں، جبکہ مسلمانوں کے نزدیک اللہ کے لیے غلبے کی بلندی بھی ہے اور بلندی کی باقی تمام قسمیں بھی اسے حاصل ہیں، کیونکہ بلندی اچھی صفت ہے۔ اللہ کے لیے ذات کی بلندی بھی ہے، صفات کی بلندی بھی ہے اور قہر و غلبے کی بلندی بھی۔ جہمیہ نے اوپر کی سمت اللہ کی طرف اشارے سے منع کر کے تمام ادیان کی مخالفت کی ہے، کیونکہ جمہور مسلمان اور باقی تمام ادیان اتفاقی طور پر دعا اور سوال کے وقت اللہ کی طرف اوپر کو اشارہ کرتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کا اجماع کرنا حجت و دلیل ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اللہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے نیچے کو یا اوپر کے علاوہ کسی اور سمت کو اشارہ کرنا جائز قرار نہیں دیا۔ اللہ کا فرمان بھی ہے: (وہ اپنے رب سے اوپر کی طرف سے ڈرتے ہیں)، نیز فرمایا: ’’اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور وہ نیک عمل کو بلند کرتا ہے۔‘‘ نیز فرمان ہوا: ’’فرشتے اور روح الامین اس کی طرف چڑھتے ہیں۔‘‘ فرعون کے بارے میں خبر دی کہ اس نے کہا تھا: ہامان! میرے لیے ایک محل تعمیر کرو، شاید کہ میں آسمانوں کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے اللہ کو جھانک سکوں اور بلاشبہ میں اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔ فرعون موسی علیہ السلام کے بارے میں یہ سمجھ گیا تھا کہ آپ علیہ السلام آسمانوں کے اوپر ایک رب کا اثبات کرتے ہیں، اسی لیے اس نے ایک محل تعمیر کر کے اس کی طرف جھانکنے کی خواہش کی تھی اور اس حوالے سے موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا خیال کیا تھا۔ جہمیہ نہیں جانتے کہ اللہ ذات کے اعتبار سے اوپر ہے۔ یہ لوگ سوچ سمجھ میں فرعون سے بھی گئے گزرے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اس لونڈی سے سوال کیا، جس کا مالک اسے آزاد کر دینا چاہتا تھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں کے اوپر اور اس نے اپنے سر کے ساتھ (اوپر کی طرف) اشارہ بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں کون ہوں؟ کہنے لگی: آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالک سے فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مومنہ ہے۔ جب لونڈی نے کہا کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایمان کی گواہی دی، جبکہ جہمیہ ایسے آدمی پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔
(الحجة في بيان المحجة: 118/2)
امام ابومحمد عبد القادر بن ابی صالح جیلانی رحمتہ اللہ (581 ھ) فرماتے ہیں:
هو بجهة العلو مستو على العرش ، محتو على الملك، محيط علمه بالأشياء: (إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه والذين يمكرون السيات لهم عذاب شديد ومكر أولبك هو يبور) (فاطر: 10) (ثم يعرج إليه في يوم كان مقدارة الف سنة مما تعدون) (السجدة: 5)، ولا يجوز وصفه بأنه في كل مكان، بل يقال: إنه في السماء على العرش كما قال: (الرحمٰن على العرش استوى) (طه: 5)، وينبغي إطلاق صفة الاستواء من غير تأويل، وأنه استواء الذات على العرش، وكونه سبحانه وتعالى على العرش مذكور في كل كتاب أنزل على كل نبي أرسل ، بلا كيف.
اللہ تعالٰی بلندی کی سمت میں اپنے عرش پر مستوی ہے۔ وہ اپنی بادشاہت پر حاوی اور تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
(اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه والذين يمكرون السيات لهم عذاب شديد ، ومكر أوليك هو يبور)
(فاطر: 10)
’’اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل کو وہ بلند کرتا ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
(ثم يعرج إليه في يوم كان مقدارة الف سنة مما تعدون)
(السجدة: 5)
(وہ آسمانوں سے زمین کی طرف معاملات کی تدبیر فرماتا ہے، پھر وہ معاملات اس کی طرف اس دن میں بلند ہوں گے، جس کی مقدار آپ کی گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔) اللہ کے بارے میں یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ہر جگہ ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وہ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے، جیسا کہ خود اللہ نے فرمایا ہے:
(الرحمن على العرش استوى)
(طه: 6)
’’رحمن عرش پر مستوی ہے۔‘‘
صفت استوا کا اطلاق بغیر تاویل کے کرنا چاہیے۔ استوا سے مراد یہ ہے کہ اللہ ذات کے اعتبار سے عرش پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا تمام اُن کتابوں میں مذکور ہے، جو اللہ کی طرف سے انبیا پر نازل کی گئی ہیں۔ صفت استوا کی کیفیت البتہ بیان نہیں کی گئی۔
(الغنية لطالبي طريق الحق: 54/1-57)
حافظ ابن الجوزی رحمتہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
الملتزقة جعلوا الباري سبحانه في كل مكان.
’’فرقہ ملتزقہ کا عقیدہ ہے، کہ اللہ ہر جگہ ہے۔‘‘
(تلبيس إبليس: 27 ، وفي نسخة: 180/1)