مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اللہ تعالیٰ کی صفت ”محبت“ کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اللہ تعالیٰ کی صفت ”محبت“ کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

جواب:

اہل سنت و الجماعت اللہ تعالیٰ کی صفات کا اقرار کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ ہر اس صفت سے متصف کرتے ہیں، جس نے اس نے خود یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے متصف کیا ہے، اس میں تاویل یا تحریف سے کام نہیں لیتے۔ محبت بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، بغیر تاویل ،تشبیہ اور تحریف اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔
❀ فرمان باری تعالی ہے:
﴿سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا﴾
(مريم :96)
”عنقریب رحمن ان سے محبت کرے گا۔“
❀ مجاہد رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
يحبهم ويحببهم إلى المؤمنين
”اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت کرتا ہے اور مومنوں کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال دیتا ہے۔ “
(تفسير الطبري : 23963 ، وسنده صحيح)
❀ ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
النفس المطمئنة اطمأنت إلى الله واطمأن إليها، وأحبت لقاء الله وأحب الله لقاء ها، ورضيت عن الله ورضي الله عنها، فأمر بقبض روحها فغفر لها وأدخلها الجنة وجعلها من عباده الصالحين
”مطمئن جان وہ ہے، جو اللہ سے مطمئن ہوگئی اور اللہ اس سے مطمئن ہو گیا، اس نے اللہ کی ملاقات کو پسند کیا اور اللہ نے اس کی ملاقات کو پسند کیا، وہ اللہ سے اور اللہ اس سے راضی ہوگیا، لہذا اللہ نے اسے قبض کرنے کا حکم دیا، پھر اسے معاف کر کے جنت میں داخل کر دیا اور اسے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دیا۔“
( حلية الأولياء لأبي نعيم : 300/6 ، وسنده حسن)
❀ عدی بن ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إذا أحب عبدا نادى مناد من السماء : ألا إن الله قد أحب فلانا فأحبوه، قال : فيحببه الله إلى أهل السماء، وإلى أوليائه من أهل الأرض، وإذا أبغض عبدا نادى مناد من السماء : ألا إن الله قد أبغض فلانا فأبغضوه، فيبغضه الله إلى أهل السماء، وإلى أوليائه من أهل الأرض .
اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے، تو آسمان سے ایک پکارنے والا پکار لگاتا ہے: خبردار! اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے، لہذا تم بھی اس سے محبت کرو، اس طرح اللہ تعالیٰ آسمان والے (فرشتوں) اور زمین میں اپنے اولیا کے ہاں اسے محبوب بنا دیتا ہے، اور جب اللہ کسی بندے سے بغض کرتا ہے، تو پکارنے والا آسمان سے پکار لگاتا ہے: خبردار! اللہ تعالیٰ اس بندے سے بغض رکھتا ہے، لہذا تم بھی اس سے بغض رکھو، اس طرح اللہ تعالیٰ اسے آسمان والوں اور زمین میں اپنے اولیا کے نزدیک مبغوض بنا دیتا ہے۔“
(الزهد لهناد بن السري : 491 ، وسنده صحيح)
❀ رجاء بن ابی سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب امام عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے بیٹے عبد الملک فوت ہوئے ، تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مختلف شہروں کی طرف خط لکھے ، نوحہ سے منع فرمایا اور لکھا:
إن الله أحب قبضه، وأعوذ بالله أن أخالف محبته .
”اللہ تعالیٰ نے اسے فوت کرنا پسند کیا ، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اس کی محبت کی مخالفت کروں۔“
(الزوائد لعبد الله بن أحمد على الزُّهد لأبيه : 1719، وسنده حسن)
❀ ابو حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
شيئان إذا عملت بهما أصبت بهما خير الدنيا والآخرة، ولا أطول عليك، قيل : وما هما؟ قال : تحمل ما تكره إذا أحبه الله، وتكره ما تحب إذا كرهه الله عز وجل.
”دو چیزیں جب آپ کر لیں، تو دنیا و آخرت کی بھلائی پالیں گے، میں لمبی بات نہیں کرتا۔ پوچھا گیا: وہ دونوں چیزیں کونسی ہیں، فرمایا: جب اللہ تیری نا پسندیدہ چیز کو پسند کرے، تو اسے برداشت کر اور جب اللہ تیری کسی پسندیدہ چیز کو ناپسند کرے تو اسے نا پسند کرناشروع کر دے۔“
( حلية الأولياء لأبي نعيم : 241/3 ، وسنده صحيح)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
إن الكتاب والسنة وإجماع المسلمين أثبتت محبة الله لعباده المؤمنين ومحبتهم له.
”کتاب وسنت اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں سے محبت کرتا ہے اور مؤمن اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔“
(مجموع الفتاوى : 354/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔