مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اللہ تعالیٰ کی صفت ارادہ اور صفت رضا میں کیا فرق ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اللہ تعالیٰ کی صفت ارادہ اور صفت رضا میں کیا فرق ہے؟

جواب:

ارادہ اور رضا اللہ تعالیٰ کی دو الگ الگ صفات ہیں۔ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت سے ہو رہا ہے، یعنی اللہ چاہے، تو وہ ہوتا ہے، نہ چاہے، تو نہیں ہوتا، خواہ اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ ایسا نہیں کہ کائنات میں کچھ ہوا ہو یا ہوتا ہو، مگر اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ نہ کرتا ہو۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی صفت رضا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شے کو پسند بھی کرتا ہو۔ کفر و شرک اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت سے ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا، مسلمان نماز پڑھتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے تحت بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی رضا ان امور کے ساتھ ہوگی، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ہوں۔ جبکہ صفت ارادہ و مشیت کا تعلق ہر جائز و ناجائز کام کے ساتھ ہے۔
❀ علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
لا يرضى الكفر وإن أراده، فالله تعالى يريد الكفر من الكافر وبإرادته كفر لا يرضاه ولا يحبه، فهو يريد كون ما لا يرضاه، وقد أراد الله عز وجل خلق إبليس وهو لا يرضاه، فالإرادة غير الرضا، وهذا مذهب أهل السنة
اللہ تعالیٰ کفر پر راضی نہیں، مگر اس کا ارادہ کرتا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کافر کے کفر کا ارادہ کرتا ہے اور کافر اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی کفر کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی اس میں رضا نہیں ہوتی، نہ وہ کفر سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کاموں کا بھی ارادہ کرتا ہے، جنہیں وہ پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی تخلیق کا ارادہ کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہیں۔ لہذا ارادہ اور چیز ہے اور رضا اور چیز ہے۔ یہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔
(تفسير القرطبي: 236/15)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔