مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اللہ تعالیٰ عرش پر ہے: 23 صحیح احادیث اور ائمہ سلف کا متفقہ عقیدہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

علو پر دلالت کرنے والی احادیث

یہاں اختصار کے ساتھ وہ احادیث صحیحہ ذکر کرتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے کی واضح طور پر دلالت کرتی ہیں:

حدیث نمبر ①:

سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
كانت لي جارية ترعى غنما لي قبل أحد والجوابية، فاطلعت ذات يوم، فإذا الذنب قد ذهب بشاة عن غنمها، وأنا رجل من بني آدم آسف كما يأسفون، لكني صككتها صكة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فعظم ذلك علي، قلت: يا رسول الله! أفلا أعتقها؟ قال: التني بها، فأتيته بها، فقال لها: أين الله؟ قالت: في السماء، قال: من أنا ؟ قالت: أنت رسول الله، قال: أعتقها، فإنها مؤمنة.

’’میری ایک لونڈی تھی، جو احد اور جوابیہ مقام کی طرف میری بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک بھیڑیا ریوڑ سے ایک بکری لے گیا، میں آدم زاد تھا، سو مجھے بھی افسوس ہوا، جیسے دوسروں کو ہوتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے گراں سمجھا۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لائیں، میں اسے لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ بولی: آسمانوں کے اوپر ، فرمایا: میں کون ہوں؟ کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مومنہ ہے۔ ‘‘

(صحیح مسلم: 537)

یہ حدیث نص صریح ہے کہ اللہ تعالی عرش پر ہے۔

امام ابو الحسن اشعری رحمتہ اللہ (324ھ) لکھتے ہیں:

هذا يدل على أن الله تعالى على عرشه فوق السماء.

’’یہ حدیث دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر ہے۔‘‘

(الإبانة في أصول الديانة، ص 109)

امام ابن عبد البر رحمتہ اللہ ( 463 ھ ) لکھتے ہیں:

معاني هذا الحديث واضحة يستغني عن الكلام فيها ، وأما قوله: أين الله؟ فقالت: في السماء، فعلى هذا أهل الحق.

’’اس حدیث کا مفہوم واضح ہے، جس پر مزید کلام کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کہ اللہ کہاں ہے؟ اور لونڈی کا جواب کہ آسمانوں کے اوپر ہے، اہل حق کا یہی عقیدہ ہے۔‘‘

(التمهيد لما في المؤطا من المعاني والأسانيد: 80/22)

نیز لکھتے ہیں:

أما قوله في هذا الحديث للجارية: أين الله؟ فعلى ذلك جماعة أهل السنة، وهم أهل الحديث ورواته المتفقهون فيه وسائر نقلته ، كلهم يقول ما قال الله تعالى في كتابه: (الرحمٰن على العرش استوى) (طه: 5)، وإن الله عز وجل في السماء وعلمه في كل مكان.

’’اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لونڈی سے کہنا کہ اللہ کہاں ہے؟ اسی پر اہل سنت والجماعت ہیں، جو کہ اہل حدیث، حدیث میں فقہ رکھنے والے روات اور تمام ناقلین ہیں۔ وہ صرف وہی بات کہتے ہیں، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہے: (الرحمٰن على العرش استوى) (طه: 5) الله تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے۔‘‘

(الاستذكار: 337/7)

امام عثمان بن سعید دارمی رحمتہ اللہ (280 ھ ) لکھتے ہیں:
في حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم دليل على أن الرجل إذا لم يعلم أن الله عز وجل في السماء دون الأرض، فليس بمؤمن، ولو كان عبدا، فأعتق لم يجز في رقبة مؤمنة، إذ لا يعلم أن الله في السماء، ألا ترى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل أمارة إيمانها معرفتها أن الله في السماء، وفي قول رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تكذيب لقول من يقول: هو في.

رسولِ اللہ ﷺ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ اللہ عزوجل زمین کے بجائے آسمان میں ہے، تو وہ مومن نہیں ہے، خواہ وہ غلام ہی کیوں نہ ہو۔ پس اگر اسے آزاد کیا جائے تو وہ “مومن غلام” کے طور پر قابلِ قبول نہیں ہوگا، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اللہ آسمان میں ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسولِ اللہ ﷺ نے اس عورت کے ایمان کی علامت یہی قرار دی کہ وہ یہ جانتی تھی کہ اللہ آسمان میں ہے؟ اور رسولِ اللہ ﷺ کے اس قول میں ان لوگوں کے قول کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ وہ (ہر جگہ) ہے۔

(الرد على الجهمية، ص 46-47)

نیز لکھتے ہیں:

قول رسول إنها مؤمنة، دليل على أنها لو لم تؤمن بأن الله في السماء لم تكن مؤمنة ، وأنه لا يجوز في الرقبة المؤمنة إلا من يحد الله أنه في السماء، كما قال الله ورسوله.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے مومنہ قرار دینا دلیل ہے کہ اگر وہ اللہ کو آسمانوں کے اوپر تسلیم نہ کرتی تو وہ مومنہ نہ ہوتی، نیز یہ کہ مومن گردن کی آزادی میں وہی غلام یا لونڈی کام دے سکے گی، جو اللہ ورسول کے فرمان کے مطابق اللہ تعالی کو آسمانوں کے اوپر تسلیم کرے۔‘‘

(نقض الإمام الدارمي على بشر المريسي: 226/1)

مزید لکھتے ہیں:

هذه الآي كلها تنبئك عن الله أنه في موضع، وأنه على السماء.

“یہ تمام آیات تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ خبر دیتی ہیں کہ وہ ایک مقام پر ہے، اور یہ کہ وہ آسمان کے اوپر ہے۔”

(الرد على الجهمية، ص 46-47)

نیز لکھتے ہیں:

قول رسول إنها مؤمنة، دليل على أنها لو لم تؤمن بأن الله في السماء لم تكن مؤمنة ، وأنه لا يجوز في الرقبة المؤمنة إلا من يحد الله أنه في السماء، كما قال الله ورسوله.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے مومنہ قرار دینا دلیل ہے کہ اگر وہ اللہ کو آسمانوں کے اوپر تسلیم نہ کرتی تو وہ مومنہ نہ ہوتی، نیز یہ کہ مومن گردن کی آزادی میں وہی غلام یا لونڈی کام دے سکے گی، جو اللہ ورسول کے فرمان کے مطابق اللہ تعالی کو آسمانوں کے اوپر تسلیم کرے۔‘‘

(نقض الإمام الدارمي على بشر المريسي: 226/1)

مزید لکھتے ہیں:

هذه الآي كلها تنبئك عن الله أنه في موضع، وأنه على السماء دون الأرض، وأنه على العرش دون ما سواه من المواضع، قد عرف ذلك من قرأ القرآن وآمن به وصدق الله بما فيه، فلم تحكم على الله تعالى أيها العبد الضعيف بما هو مكذبك في كتابه، ويكذبك الرسول صلى الله عليه وسلم؟ أو لم يبلغك حديث النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال للأمة السوداء: أين الله؟ فقالت: في السماء، قال: أعتقها، فإنها مؤمنة، فهذا ينبئك أنه في السماء دون الأرض، فكيف تترك ما قال الله تعالى ورسوله وتختار عليهما في ذلك قول بشر والثلجي ونظرائهما من الجهمية.

’’یہ تمام آیات اللہ کے متعلق آپ کو آگاہ کرتی ہیں کہ وہ ایک جگہ میں ہے اور وہ جگہ آسمانوں کے اوپر ہے، نہ کہ زمین پر، نیز وہ عرش پر ہے، نہ کہ کسی اور جگہ پر۔ یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہو جاتی ہے، جو قرآن پڑھتا ہے، اس پر ایمان لاتا ہے اور اس میں موجود اللہ کے جملہ فرامین کی تصدیق کرتا ہے۔ اے کمزور انسان ! تو اللہ پر وہ حکم کیسے لگاتا ہے، جسے اللہ اپنی کتاب میں اور اس کا رسول اپنے فرامین میں غلط قرار دیتا ہے یا آپ کو وہ حدیث نہیں پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ فام باندی سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ کہا: آسمانوں کے اوپر ۔ فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مومنہ ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے، زمین میں نہیں۔ تو آپ کیونکر بشر اور ثلجی جیسے جہمیوں کی باتیں راجح قرار دیتے ہو، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر۔‘‘

(النقض على بشر المريسي 145/1-146)

حافظ ذہبی رحمتہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:
هكذا رأينا في كل من يسأل: أين الله؟ يبادر بفطرته ويقول: في السماء، في الخبر مسألتان: إحداهما: شرعية قول المسلم: أين الله؟ وثانيهما: قول المسئول: في السماء، فمن أنكر هاتين المسألتين، فإنما ينكر على المصطفى صلى الله عليه وسلم.

’’جس سے بھی پوچھا جائے کہ اللہ کہاں ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق یہی کہے گا کہ آسمانوں میں ہے۔ اس حدیث میں دو مسئلے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مسلمان کے لیے یہ پوچھنا مشروع ہے کہ اللہ کہاں ہے؟ دوسرا یہ کہ جس سے سوال کیا جائے ، اس کا یہ کہنا بھی مشروع ہے کہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے۔ ان دو باتوں کا انکاری مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکاری ہے۔‘‘
(العلو، ص 26)

علامہ عبد الغنی مقدسی رحمتہ اللہ (600ھ) لکھتے ہیں:

من أجهل جهلا، وأسخف عقلا، وأضل سبيلا ممن يقول: إنه لا يجوز أن يقال: أين الله، بعد تصريح صاحب الشريعة بقوله: أين الله؟

’’اس سے بڑا جاہل اور کم عقل کون ہو سکتا ہے، جو صاحب شریعت (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)  کی واضح صراحت کے بعد بھی کہے کہ ’’أين الله‘‘ اللہ کہاں ہے؟ کہنا جائز نہیں؟‘‘

(الإقتصاد في الإعتقاد، ص 89)

بعض اس واضح نص کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ یہاں سوال اللہ کے مکان کا نہیں، بلکہ اس باندی کے دل میں رب تعالٰی کی عظمت اور علو مرتبت کا ہے اور اس کے جواب کا بھی یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں ہے، بلکہ مراد علو مرتبت ہے۔

بعض اس حدیث کی یوں تحریف کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی سے پوچھا کہ کیا تو اللہ کو خالق، مدبر اور فعال سمجھتی ہے؟ …. وغیرہ

قرآن، حدیث اور سلف صالحین کے روشن فہم اور فطرت سلیمہ کے ہوتے ہوئے ان تاویلات کی کوئی ضرورت نہیں۔ حق وہی ہے، جسے سلف نے اختیار کیا، کیونکہ وہ سب سے زیادہ قرآن اور حدیث کی نصوص کو سمجھنے والے تھے۔ ائمہ محدثین نے اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے کی دلیل لی ہے۔

حدیث نمبر ②:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهار، ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر، ثم يعرج الذين باتوا فيكم، فيسألهم، وهو أعلم بهم: كيف تركتم عبادي؟ فيقولون: تركناهم وهم يصلون، وأتيناهم وهم يصلون.

’’رات اور دن کے فرشتے تمھارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ فجر اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں، پھر رات کو تمھارے ساتھ رہنے والے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں، اللہ ان سے پوچھتا ہے، گو کہ وہ ان سے بہتر جانتا ہوتا ہے، میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ آئے؟ عرض کرتے ہیں: ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ نماز میں مشغول تھے اور جب ان کو چھوڑ کر آئے ہیں، تب بھی نماز ادا کر رہے تھے۔‘‘

(صحيح البخاري: 7429، صحیح مسلم: 632)

امام الائمہ، ابن خزیمہ رحمتہ اللہ (311ھ) لکھتے ہیں:

في الخبر ما بان وثبت وصح أن الله عز وجل في السماء، وأن الملائكة تصعد إليه من الدنيا، لا كما زعمت الجهمية المعطلة أن الله في الدنيا كهو في السماء ولو كان كما زعمت لتقدمت الملائكة إلى الله في الدنيا، أو نزلت إلى أسفل الأرضين إلى خالقهم، على الجهمية لعائن الله المتتابعة.

’’یہ حدیث وضاحت کر رہی ہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے اور فرشتے دنیا سے اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ جہمیہ کہتے ہیں کہ اللہ آسمانوں کی طرح زمین میں بھی ہے۔ اگر حقیقت ایسے ہی ہوتی، جیسے جہمیہ کہتے ہیں، تو فرشتے زمین میں اللہ کے پاس جاتے یا زمین میں اترتے (اوپر نہ چڑھتے)۔ جہمیہ پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار لعنتیں ہوں!‘‘

(کتاب التوحيد : 892/2)

حدیث نمبر ③:

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«الراحمون يرحمهم الرحمان، أرحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء».

’’رحمٰن انھی پر رحم کرتا ہے، جو رحم کرتے ہیں۔ آپ اہل زمین پر رحم کرو، وہ آپ پر رحم کرے گا، جو آسمان میں ہے۔‘‘

(مسند الحميدي: 591، مسند الإمام أحمد : 160/2 ، سنن أبي داود: 4941 سنن الترمذي: 1924، وسنده حسنٌ)

اس حدیث کو امام ترمذی رحمتہ اللہ نے ’’حسن صحیح‘‘ اور امام حاکم رحمتہ اللہ (159/4) نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ اس کا راوی ابو قابوس ’’حسن الحدیث‘‘ ہے، امام ترمذی اور امام ابن حبان رحمتہ اللہ وغیر ہما نے اس کی توثیق کر رکھی ہے۔

حدیث نمبر ④:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روز خطبہ (حجۃ الوداع) میں فرمایا:

أنتم تسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت، فقال بإصبعه السبابة يرفعها إلى السماء وينكتها إلى الناس: اللهم اشهد، اللهم اشهد، ثلاث مرات.

’’جب آپ سے میرا پوچھا جائے، تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے (دین) پہنچا دیا، (اللہ کی اس امانت کو بخوبی) ادا کیا اور ہماری خیر خواہی کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی، لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ فرمایا: اللہ ! گواہ ہو جا، الله ! گواہ ہو جا، اللہ ! گواہ ہو جا۔‘‘

(صحیح مسلم: 1218)

شیخ الاسلام، علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ (751ھ ) لکھتے ہیں:

لو لم يكن قد عرف المسلمون وتيقنوا ما أرسل به وحصل لهم منه العلم اليقين لم يكن قد حصل منه البلاغ المبين ولما رفع الله عنه اللوم ولما شهد له أعقل الأمة بأنه قد بلغ وبين، وغاية ما عند الثفاة أنه بلغهم ألفاظا لا تفيدهم علما ولا يقينا وأحالهم طلب العلم واليقين على عقولهم ونظرهم وأبحاثهم لا على ما أوحي إليه وهذا معلوم المطلان بالضرورة.

’’اگر صحابہ نے علم یقینی کی حد تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین حاصل نہ کیا ہوتا، تو بلاغ مبین کا حصول ممکن ہی نہیں تھا۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوم اس سے دور ہوتا، نہ ہی امت کا سب سے زیادہ بالغ العقل طبقہ (صحابہ) اس بات کی گواہی دیتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پہنچا دیا ہے۔ جو لوگ اللہ کو عرش پر نہیں مانتے، ان کی باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایسے الفاظ میں تبلیغ کی ، جو انھیں علم کا فائدہ نہیں دے سکے، یقین ان سے حاصل نہیں ہو پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو علم اور یقین کے حصول کے لیے وحی الہیٰ کے بجائے اپنی عقلوں ، نظریات اور مباحثوں پر اعتماد کرنے کو کہا۔ حالانکہ خاص و عام سبھی کو معلوم کہ یہ بات باطل محض ہے۔‘‘

(الصواعق المرسلة في الرد على الجهمية والمعطلة: 733/2)

حدیث نمبر ⑤:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب، ولا يصعد إلى الله إلا الطيب، فإن الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبه، كما يربي أحدكم فلوه، حتى تكون مثل الجبل.

’’اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور صدقہ اگر آپ کرتے ہیں، تو اللہ اسے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کی تربیت کرتا ہے، ایسے جیسے آپ گھوڑے کی تربیت کرتے ہیں، پھر وہ صدقہ پہاڑ کے جیسا ہو جاتا ہے۔ یادر ہے کہ پاکیزہ مال کا صدقہ ہی اللہ کی طرف چڑھتا ہے۔‘‘

(صحیح البخاري:7430، صحيح مسلم: 1014)

حدیث نمبر ⑥:

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألا تأمنوني وأنا أمين من في السماء؟ يأتيني خبر السماء صباحا ومساء.

’’آپ مجھے امین نہیں سمجھتے، حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں، جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ میرے پاس صبح و شام آسمانوں کی خبر آتی ہے۔‘‘

(صحيح البخاري:4351 ، صحیح مسلم: 1064)

حدیث نمبر⑦:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

والذي نفسي بيدہ ، ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشها، فتأبى عليه، إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها، حتى يرضى عنها.

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو عورت اپنے خاوند کے بستر پر جانے سے انکار کر دیتی ہے، اللہ جو آسمان پر ہے، اس سے ناراض رہتا ہے، جب تک کہ خاوند اس سے راضی نہ ہو جائے۔‘‘

(صحیح مسلم: 1438)

حدیث نمبر ⑧:

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:

أصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مطر، قال: فحسر رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوبه، حتى أصابه من المطر، فقلنا: يا رسول الله! لم صنعت هذا؟ قال: لأنه حديث عهد بربه عز وجل.

’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش نے ہمیں آلیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن سے کپڑا ہٹایا، بارش کا پانی آپ کے جسم کو چھونے لگا، عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ فرمایا: یہ بارش اللہ کے پاس سے ابھی ابھی آئی ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 898)

حدیث نمبر ⑨:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الميت تحضره الملائكة، فإذا كان الرجل صالحا، قالوا: اخرجي أيتها النفس الطيبة كانت في الجسد الطيب، اخرجي حميدة، وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان، فلا يزال يقال لها حتى تخرج ، ثم يعرج بها إلى السماء، فيفتح لها، فيقال: من هذا؟ فيقولون: فلان، فيقال: مرحبا بالنفس الطيبة، كانت في الجسد الطيب، ادخلي حميدة، وأبشري بروح وريحان ورب غير غضبان، فلا يزال يقال لها ذلك، حتى ينتهى بها إلى السماء التي فيها الله عز وجل.

’’مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ نیک ہو، تو کہتے ہیں: اے پاک جان، جو پاک جسم میں تھی! نکل جا، تیرے لیے تعریف و ستائش ہے۔ خوشگوار و خوشبودار ہوا کے جھونکے اور راضی و مہربان رب کی خوشخبری ہے۔ اسے مسلسل یہی بات کہی جاتی ہے، تا آنکہ وہ جسم سے نکل جاتی ہے۔ پھر اسے آسمان کی طرف چڑھایا جاتا ہے۔ آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے، کہا جاتا ہے: پاک جان جو پاک جسم میں تھی ، خوش آمدید! آیئے ، ستائش ہو۔ خوشگوار و خوشبودار ہوا اور مہربان رب کی خوشخبری آپ کے لیے۔ اسے مسلسل یہی کہا جاتا ہے، حتی کہ اس آسمان تک پہنچا دیا جائے ، جس کے اوپر اللہ عزوجل کی ذات ہے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 364/2، سنن ابن ماجه: 4262 ، وسنده حسن)

حدیث نمبر ⑩:

عامر بن سعد رحمتہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا:

إن سعد بن معاد رضي الله عنه حكم على بني قريظة أن يقتل منهم كل من جرت عليه الموسى، وأن تقسم أموالهم وذراريهم، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: لقد حكم اليوم فيهم بحكم الله الذي حكم به من فوق السماوات.

’’سعد بن معاذ رضی الله عنه نے بنو قریظہ کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا ہر بالغ مرد قتل کر دیا جائے اور مال و اولاد کو (مسلمانوں میں) تقسیم کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو آسمانوں کے اوپر اللہ نے فیصلہ کیا ہے۔‘‘

(السنن الكبرى للنسائي: 5906 ، فضائل الصحابة للنسائي: 119، المستدرك للحاكم: 124/2 ، الأسماء والصفات للبيهقي: 161/2-162، وسنده حسن)

حدیث نمبر ⑪:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سألتم الله فسلوه الفردوس، فإنه أوسط الجنة، وأعلى الجنة، وفوقه عرش الرحمن.

’’اللہ سے مانگو، تو جنت الفردوس مانگو، یہ جنت کا وسط اور بلند ترین حصہ ہے اس سے اوپر رحمٰن کا عرش ہے۔‘‘

(صحیح البخاري:7423)

امام الائمہ ابن خزیمہ رحمتہ اللہ (311ھ) لکھتے ہیں:

الخبر يصرح أن عرش ربنا جل وعلا فوق جنته، وقد أعلمنا جل وعلا أنه مستو على عرشه، فخالقنا عال فوق عرشه الذي هو فوق جنته.

حدیث صراحت کرتی ہے کہ ہمارے رب کا عرش جنت الفردوس کے اوپر ہے۔ اللہ جل و علا نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے عرش پر ہے، لہذا ہمارا خالق جنت الفردوس کے اوپر اپنے عرش پر بلند ہے ۔

(کتاب التوحيد، ص 240)

حدیث نمبر ⑫:

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ما من عبد مسلم أنى أخا له يزوره في الله إلا ناداه مناد من السماء أن طبت، وطابت لك الجنة، وإلا قال الله في ملكوت عرشه: زار في وعلي قراه، فلم أرض له بقرى دون الجنة.

’’مسلمان اللہ کے لیے اپنے بھائی کی زیارت کو جاتا ہے، تو ایک منادی آسمان سے ندا لگاتا ہے: خوش رہو اور آپ کو جنت مبارک ہو، اللہ عرش کے فرشتوں میں اعلان کرتے ہیں: اس نے میرے لیے زیارت کی، اب اس کی مہمان نوازی میرے ذمہ ہے، میری رضا ہے کہ اس کی مہمانی جنت ہی سے کروں، کسی اور چیز سے نہیں۔‘‘

(مسند أبي يعلى: 4140 ، مسند البزار (كشف الأستار): 1918، وسنده حسن)

حافظ منذری رحمتہ اللہ نے اس کی سند کو ’’جید‘‘ کہا ہے۔

(الترغيب والترهيب: 239/3)

حدیث نمبر ⑬:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر، فيقول: من يدعوني، فأستجيب له؟ من يسألني، فأعطيه؟ من يستغفرني، فأغفر له؟

’’ہر رات جب آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، تو ہمارا رب آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کون ہے، جو مجھے پکارے اور میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے، جو مجھ سے مانگے اور میں اس کی دست گیری کروں؟ کون ہے، جو مجھ سے معافی مانگے اور میں اسے معاف کر دوں؟‘‘

(صحيح البخاري: 1145 ، صحیح مسلم: 758)

حافظ ابن عبدالبر رحمتہ اللہ (463 ھ ) فرماتے ہیں:

هذا الحديث لم يختلف أهل الحديث في صحته، وفيه دليل على أن الله تعالى في السماء على العرش من فوق سبع سماوات، كما قالت الجماعة ، وهو من حجتهم على المعتزلة.

’’محدثین کا اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ اللہ ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پہ ہے، جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ معتزلہ کے خلاف اہل حدیث کی ایک دلیل یہ حدیث بھی ہے۔‘‘

(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 129/7)

نیز لکھتے ہیں:
هذا أشهر وأعرف عند الخاصة والعامة وأعرف من أن يحتاج فيه إلى أكثر من حكايته، لأنه اضطرار، لم يؤذبهم عليه أحد، ولا أنكره عليهم مسلم.

’’دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا، خواص وعوام کے ہاں مشہور ہے۔ اس کی شہرت محتاج بیان نہیں، اسے مانے بغیر چارہ ہی نہیں ، اس پر کسی مسلمان نے انتباہ کیا ہے، نہ اس کا انکار ۔‘‘

(التمهيد لما في المؤطّاً من المعاني والأسانيد: 134/4)

حدیث نمبر ⑭:

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
التفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى جبريل، كأنه يستشيره في ذلك، فأشار إليه جبريل أن نعم إن شئت، فعلا به إلى الجبار، فقال، وهو مكانه: يا رب خفف عنا، فإن أمتي لا تستطيع هذا.

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کی طرف مشورہ طلب نگاہوں سے دیکھا، جبریل علیہ السلام نے اشارہ کیا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے، پھر جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اللہ کی طرف چڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں عرض کیا: اللہ ! ہم پر تخفیف فرما، میری امت اس (پچاس نمازوں کے حکم کو بجا لانے کی) طاقت نہیں رکھے گی۔‘‘

(صحيح البخاري: 7517)

حدیث نمبر ⑮:

سید نا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن لله تبارك وتعالى ملائكة سيارة فضلا يتتبعون مجالس الذكر، فإذا وجدوا مجلسا فيه ذكر فعدوا معهم، وحف بعضهم بعضا بأجنحتهم، حتى يملؤوا ما بينهم وبين السماء الدنيا، فإذا تفرقوا عرجوا وصعدوا إلى السماء، قال: فيسألهم الله عز وجل، وهو أعلم بهم: من أين جئتم؟.

’’اللہ تعالیٰ کے معزز فرشتے زمین میں چلتے پھرتے اور ذکر کی مجالس تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی ذکر کی مجلس انھیں ملتی ہے، اس کے ساتھ بیٹھ رہتے ہیں۔ بعض انھیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں، ان سے لے کر آسمان دنیا تک کا تمام خلا بھر جاتا ہے۔ جب وہ مجلس برخاست کرتے ہیں، تو فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے، لیکن پھر بھی ان سے سوال کرتا ہے کہ کہاں سے آئے ہو؟ ۔‘‘

(صحیح مسلم: 2669)

حدیث نمبر ⑯:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إن الله إذا أحب عبدا دعا جبريل ، فقال: إني أحب فلانا فأحبه، قال: فيحبه جبريل، ثم ينادي في السماء، فيقول: إن الله يحب فلانا فأحبوه، فيحبه أهل السماء، قال: ثم يوضع له القبول في الأرض، وإذا أبغض عبدا دعا جبريل، فيقول: إني أبغض فلانا فأبغضه، قال: فيبغضه جبريل، ثم ينادي في أهل السماء: إن الله يبغض فلانا فأبغضوه، قال: فيبغضونه، ثم توضع له البغضاء في الأرض.

’’اللہ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں، تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتے ہیں: میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، آپ بھی اس سے محبت کریں۔ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتے ہیں، آپ بھی اس سے محبت کریں، چنانچہ سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں بھی محبت رکھ دی جاتی ہے اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت کرتے ہیں، تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتے ہیں: میں فلاں آدمی سے نفرت کرتا ہوں، آپ بھی اس سے نفرت کریں۔ جبریل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ آسمان والوں میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ فلاں آدمی سے نفرت کرتے ہیں، آپ بھی اس سے نفرت کریں، چنانچہ وہ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں بھی نفرت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘

(صحيح البخاري: 3209 ، صحيح مسلم: 2637 ، واللفظ له)

حدیث نمبر ⑰:

سید نا عبداللہ بن عباس رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:

’’ایک انصاری صحابی کسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ ایک ستارہ (شہاب ثاقب) ٹوٹا اور روشن ہوا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی الله عنه سے پوچھا: آپ جاہلیت میں اس طرح ستارے کے ٹوٹنے پر کیا کہتے تھے؟ عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم تو کہتے تھے: آج رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے یا فوت ہوا ہے، اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یہ تارے کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں توڑے جاتے، بلکہ ہمارا رب کسی کا فیصلہ کرتا ہے، تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے فرشتے تسبیح کرتے ہیں، کرتے کرتے بات آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے، پھر عرش کو اٹھانے والے فرشتوں سے آس پاس والے پوچھتے ہیں: رب نے کیا فرمایا ؟ وہ انھیں فرمان الہی کی خبر دیتے ہیں، پھر دوسرے آسمان والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، چلتے چلتے خبر آسمان دنیا تک پہنچ جاتی ہے، یہاں سے اس بات کو جن اڑا لیتے ہیں اور اپنے دوستوں تک پہنچاتے ہیں، جنوں کی اس جرات کی بنا پر انھیں ستارے مارے جاتے ہیں۔ جو بات وہ بعینہ وہاں سے لے آئیں، وہ سچ ہوتی ہے، لیکن وہ اس میں ملاوٹ کرتے ہیں اور اپنی طرف سے باتیں اس میں داخل کر دیتے ہیں۔

(صحیح مسلم: 1229)

حدیث نمبر ⑱:

سیدنا عبداللہ بن سائب رضی الله عنه بیان کرتے ہیں۔
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي أربعا بعد أن تزول الشمس قبل الظهر، وقال: إنها ساعة تفتح فيها أبواب السماء، وأحب أن يصعد لي فيها عمل صالح.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس کے بعد اور ظہر سے پہلے چار رکعات سنت ادا کیا کرتے اور فرماتے: اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، مجھے پسند ہے کہ اس گھڑی میرا نیک عمل اوپر جائے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد 411/3 ، سنن الترمذي: 478، وقال: حسن غريب، السنن الكبرى للنسائي: 331، وسنده حسن)

حدیث نمبر ⑲:

سیدنا اسامہ بن زید رضی الله عنه بیان کرتے ہیں:
قلت: يا رسول الله ، لم أرك تصوم شهرا من الشهور ما تصوم من شعبان، قال: ذلك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان، وهو شهر ترفع فيه الأعمال إلى رب العالمين، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم.

’’میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں دیکھتا ہوں کہ آپ کسی مہینے میں ماہ شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے۔ فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے کہ لوگ اس سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں، اس مہینے میں اعمال رب العالمین کی طرف بلند ہوتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اوپر جب جائیں، تو میں روزے سے ہوں۔‘‘

(سنن النسائي: 2367، وسنده حسن)

حدیث نمبر ⑳:

سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اخرج نبي من الأنبياء يستسقي، فإذا هو بنملة رافعة بعض قوائمها إلى السماء، فقال: ارجعوا، فقد استجيب لكم من أجل شأن النملة.

’’ایک نبی (اپنی قوم کے ساتھ ) اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے۔ اچانک انھوں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی آسمانوں کی طرف اپنی کچھ ٹانگیں اٹھائے ہوئے (بارش کی دُعا کر رہی) ہے۔ نبی نے فرمایا: واپس لوٹ جائیں، کیونکہ چیونٹی کے عمل کی وجہ سے آپ کی دُعا قبول کر لی گئی ہے۔‘‘
(سنن الدارقطني: 1797 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 325/1 326 ، وسنده حسن، واللفظ له)

امام حاکم رحمتہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
اس کے راوی محمد بن عون ’’حسن الحدیث‘‘ ہیں۔

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
رجل معروف.

’’یہ جانے پہچانے (محدث) ہیں۔‘‘
(العِلل ومعرفة الرجال: 211/2)

امام ابن حبان رحمتہ اللہ نے انھیں ’’الثقات‘‘ (411/7) میں ذکر کیا ہے۔

امام حاکم اے نے ان کی حدیث کی سند کو صحیح قرار دے کر ان کی توثیق ضمنی کی ہے۔

محمد بن عون کے والد عون بن حکم بھی ”ثقہ ہیں۔
امام ابن حبان واللہ نے انھیں ”الثقات‘‘ (2817) میں ذکر کیا ہے۔

امام حاکم داشتہ نے ان کی حدیث کی سند کو صحیح قرار دے کر ان کی توثیق ضمنی کی ہے۔
عون بن حکم رحمتہ اللہ نے امام زہری رحمتہ اللہ سے اور امام زہری رحمتہ اللہ نے ابو سلمہ رحمتہ اللہ سے سماع کی تصریح کی ہے، الہذا سند ’’صحیح متصل‘‘ ہے۔

حافظ بہیقی رحمتہ اللہ (384۔ 458ھ) لکھتے ہیں:
والأخبار في مثل هذا كثيرة، وفيما كتبنا من الآيات دلالة على إبطال قول من زعم من الجهمية: إن الله سبحانه وتعالى بذاته في كل مكان.

’’اس (اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے کے) بارے میں احادیث بے شمار ہیں، نیز جو آیات ہم نے لکھی ہیں، ان میں بھی جہمیہ کا رڈ ہے، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ ہے۔‘‘

(الاعتقاد، ص 118)

ثابت ہوا کہ اللہ اپنے عرش پر ہے، مخلوق سے جدا ہے، اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔

حدیث نمبر ㉑:

سیدنا سلمان فارسی رضی الله عنه کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«إن الله حبي كريم، يستحيي، إذا رفع العبد يديه، أن يردهما صفرا، حتى يضع فيهما خيرا».  

’’حیا اور کرم اللہ کی صفات ہیں، بندہ جب اس کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے، تو ان ہاتھوں کو خالی لوٹانے میں اس کی حیا مانع ہو جاتی ہے اور وہ ان ہاتھوں کو خیر سے بھر دیتا ہے۔‘‘

(أمالي المحاملي برواية ابن يحيى البيع: 433، شرح السنة للبغوي: 1385 ، وسنده صحيح)

حافظ بغوی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:

هذا حديث حسن غریب.

’’یہ حدیث حسن غریب ہے۔‘‘
یہاں دُعا میں ہاتھ آسمانوں کی طرف بلند کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے، جس سے بخوبی علم ہوتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ مخلوقات سے بلند ہے۔

حدیث نمبر ㉒:

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی الله عنه کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا دعوات المظلوم، فإنها تصعد إلى السماء ، كأنها شرار .

’’مظلوم کی بددعا سے بچیں، کیونکہ وہ آسمانوں کی طرف چنگاریوں کی طرح چڑھ جاتی ہے۔‘‘

(المستدرك للحاكم: 29/1، وسنده حسن)

امام حاکم رحمتہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

قد احتج مسلم بعاصم بن كليب، والباقون من رواة هذا الحديث متفق على الاحتجاج بهم.

’’امام مسلم رحمتہ اللہ نے عاصم بن کلیب کی حدیث سے دلیل لی ہے اور اس حدیث کے باقی راویوں کے حجت ہونے پر اتفاق ہے۔‘‘

حدیث نمبر ㉓:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا:

أنتم تسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت، فقال بإصبعه السبابة يرفعها إلى السماء وينكتها إلى الناس : اللهم اشهد، اللهم اشهد، ثلاث مرات.

’’(روز قیامت) آپ سے میری بابت پوچھا جائے گا، تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ صحابہ رضی الله عنه نے عرض کیا : ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے (دین) پہنچا دیا، (اللہ کی اس امانت کو بخوبی ادا کر دیا اور خیر خواہی فرمائی۔ آپ رضی الله عنه نے انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین دفعہ فرمایا: اے اللہ ! گواہ ہو جا، اے اللہ ! گواہ ہو جا۔‘‘

(صحیح مسلم: 1218)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
يجمع بين الإشارة الحرية المرثية والعبارة الحرية المسموعة.

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بصارت اور حس سماعت دونوں سے اشارہ کیا تھا۔‘‘
(بیان تلبيس الجهمية : 442/2)

شیخ الاسلام ثانی ، علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمتہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

الإشارة إليه حسا إلى العلو كما أشار إليه من هو أعلم به وما يجب له ويمتنع عليه من أفراخ الجهمية والمعتزلة والفلاسفة في أعظم مجمع على وجه الأرض يرفع أصبعه إلى السماء، ويقول: اللهم اشهد ليشهد الجميع أن الرب الذي أرسله ودعا إليه واستشهده هو الذي فوق سماواته على عرشه.

’’(اللہ کے مخلوق سے بلند ہونے کی ایک دلیل) بلندی کی طرف حسی اشارہ ہے، جیسا کہ جہمیہ، فلاسفہ اور معتزلہ کی نسبت اللہ کے بارے میں زیادہ بہتر جاننے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے روئے زمین کے سب سے بڑے اجتماع میں انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: اللہ! گواہ ہو جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام اس لیے کیا تھا کہ سب لوگ گواہ ہو جائیں کہ جس رب نے آپ کو مبعوث کیا ہے اور جس کی طرف آپ نے دعوت دی ہے اور جس کو آپ نے گواہ بنایا ہے، وہ آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے۔‘‘

(إعلام الموقعین : 302/2)

نیز فرماتے ہیں:

تأمل ما في هذه الآيات من الرد على طوائف المعطلين والمشركين …. وقوله تعالى: (ثم استوى على العرش) يتضمن إبطال قول المعطلة والجهمية الذين يقولون ليس على العرش شيء سوى العدم وأن الله ليس مستويا على عرشه، ولا ترفع إليه الأيدي، ولا يصعد إليه الكلم الطيب، ولا رفع المسيح عليه الصلاة والسلام إليه، ولا عرج برسوله محمد صلى الله عليه وسلم إليه ولا تعرج الملائكة والروح إليه ولا ينزل من عنده جبريل عليه الصلاة والسلام ولا غيره، ولا ينزل هو كل ليلة إلى السماء الدنيا، ولا يخافه عباده من الملائكة وغيرهم من فوقهم ولا يراه المؤمنون في الدار الآخرة عيانا بأبصارهم من فوقهم، ولا تجوز الإشارة إليه بالأصابع إلى فوق كما أشار إليه النبي صلى الله عليه وسلم في أعظم مجامعه في حجة الوداع وجعل يرفع إصبعه إلى السماء وينكبها إلى الناس ويقول: اللهم اشهد.

’’ان آیات پر غور کریں کہ کس طرح معطلہ اور مشرکین کے گروہوں کا رد کیا گیا ہے … اور فرمان باری تعالیٰ کہ اللہ عرش پر مستوی ہے، اس سے معطلہ اور جہمیہ کی تردید ہوتی ہے۔ راہ راست سے ہٹے ہوئے یہ لوگ کہتے ہیں کہ عرش پر سوائے عدم کے کچھ نہیں ، اللہ عرش پر مستوی نہیں، ہاتھوں کو بلند کرنا درست نہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف پاکیزہ کلمات نہیں چڑھتے، عیسی علیہ السلام بھی اوپر نہیں اٹھائے گئے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج نہیں کرائی گئی، نہ ہی فرشتے اور روح القدس اوپر چڑھتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے جبریل علیہ السلام اور دوسرے فرشتے نازل نہیں ہوتے ، اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول نہیں فرماتا۔ اللہ تعالیٰ کے بندے یعنی فرشتے وغیرہ اپنے اوپر سے رب کا خوف نہیں رکھتے۔ مومن آخرت میں اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کا اوپر کو دیدار نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اوپر کو اشارہ کرنا جائز نہیں، حالانکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنے سب سے بڑے اجتماع میں انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اے اللہ ! گواہ ہو جا۔‘‘

(إجتماع الجيوش الإسلامية: 62/2)

مزید فرماتے ہیں:
شهد له أعقل الخلق وأفضلهم وأعلمهم بأنه قد بلغ، فأشهد الله عليهم بذلك في أعظم مجمع وأفضله، فقال في خطبته بعرفات في حجة الوداع: إنكم مسؤولون عني، فماذا أنتم قائلون؟، قالوا: نشهد أنك بلغت وأديت ونصحت، فرفع إصبعه إلى السماء مستشهدا بربه الذي فوق سمواته، وقال: اللهم اشهد.

’’سب سے زیادہ بالغ النظر، علم میں فائق اور امت کے افضل ترین طبقہ نے گواہی دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پہنچا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی بات پر سب سے بڑے اور سب سے افضل اجتماع میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنایا۔ آپ نے عرفات میں حجتہ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا: آپ سے میری بابت پوچھا جائے گا، کیا جواب دیں گے؟ صحابہ رضی الله عنه نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ یقیناً آپ نے دین پہنچا دیا، اپنی ذمہ داری ادا کر دی اور خیر خواہی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے اپنے رب کو گواہ بنایا، جو کہ آسمانوں کے اوپر ہے اور فرمایا: اللہ! گواہ ہو جا۔‘‘

(الصواعق المرسلة: 22/1)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (661-728ھ) فرماتے ہیں:

قوله في الحديث: يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب إلى أمثال ذلك مما لا يحصيه إلا الله مما هو من أبلغ المتواترات اللفظية والمعنوية التي تورث علما يقينا من أبلع العلوم الضرورية أن الرسول صلى الله عليه وسلم المبلغ عن الله ألقى إلى أمته المدعوين أن الله سبحانه على العرش وأنه فوق السماء كما فطر الله على ذلك جميع الأمم عربهم وعجمهم في الجاهلية والإسلام، إلا من اجتالته الشياطين عن فطرته ثم عن السلف في ذلك من الأقوال ما لو جمع لبلغ مثين أو ألوفا، ثم ليس في كتاب الله ولا في سنة رسوله صلى الله عليه وسلم ولا عن أحد من سلف الأمة لا من الصحابة ولا من التابعين لهم بإحسان ولا عن الأئمة الذين أدركوا زمن الأهواء والاختلاف حرف واحد يخالف ذلك لا نصا ولا ظاهرا ولم يقل أحد منهم قط إن الله ليس في السماء ولا إنه ليس على العرش ولا إنه بذاته في كل مكان ولا إن جميع الأمكنة بالنسبة إليه سواء ولا إنه لا داخل العالم ولا خارجه ولا إنه لا متصل ولا منفصل ولا إنه لا تجوز الإشارة الحرية إليه بالأصابع ونحوها؛ بل قد ثبت في الصحيح عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه وسلم لما خطب خطبته العظيمة يوم عرفات في أعظم مجمع حضره الرسول صلى الله عليه وسلم جعل يقول: ألا هل بلغت؟ فيقولون: نعم، فيرفع إصبعه إلى السماء ثم ينكبها إليهم ويقول: اللهم اشهد غير مرة وأمثال ذلك كثيرة فلين كان الحق ما يقوله هؤلاء السالمون النافون للصفات الثابتة في الكتاب والسنة من هذه العبارات ونحوها، دون ما يفهم من الكتاب والسنة إما نصا وإما ظاهرا، فكيف يجوز على الله تعالى ثم على رسوله صلى الله عليه وسلم ثم على خير الأمة أنهم يتكلمون دائما بما هو إما نض وإما ظاهر في خلاف الحق ثم الحق الذي يجب اعتقاده لا ييوحون به قط ولا يدلون عليه لا نصا ولا ظاهرا، حتى يجيء أنباط الفرس والروم وفروح اليهود والنصارى والفلاسفة يبينون للأمة العقيدة الصحيحة التي يجب على كل مكلف أو كل فاضل أن يعتقدها لئن كان ما يقوله هؤلاء المتكلمون المتكلفون هو الاعتقاد الواجب وهم مع ذلك أحيلوا في معرفته على مجرد عقولهم وأن يدفعوا بما اقتضى قياس عقولهم ما دل عليه الكتاب والسنة نصا أو ظاهرا، لقد كان ترك الناس بلا كتاب ولا سنة أهدى لهم وأنفع على هذا التقدير، بل كان وجود الكتاب والسنة ضررا محضا في أصل الدين، فإن حقيقة الأمر على ما يقوله هؤلاء: إنكم يا معشر العباد لا تطلبوا معرفة الله عز وجل وما يستحقه من الصفات نفيا وإثباتا لا من الكتاب ولا من السنة ولا من طريق سلف الأمة، ولكن انظروا أنتم فما وجدتموه مستحقا له من الصفات فصفوه به سواء كان موجودا في الكتاب والسنة أو لم يكن وما لم تجدوه مستحقا له في عقولكم فلا تصفوه به.

’’حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آدمی دعا کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر اے میرے رب! اے میرے رب!۔۔۔ کہتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے فرامین نبویہ ان لفظی و معنوی متواتر روایات میں سے ہیں، جو علم یقینی کا فائدہ دیتی ہیں۔ یہ روایات بنیادی علوم دینیہ میں سے ہیں، یہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ اللہ تعالی کی طرف سے دین پہنچانے والے تھے، انھوں نے اپنی امت کو یہ پیغام دیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ عرش پر ہے اور آسمانوں کے اوپر ہے۔ اللہ نے جاہلیت و اسلام میں تمام عربی و عجمی مخلوق کو اسی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ سوائے ان لوگوں کے، جنھیں شیطان نے اغوا کر لیا ہے۔ پھر اس بارے میں سلف صالحین کے اتنے اقوال ہیں کہ اگر وہ جمع کیے جائیں، تو سینکڑوں، ہزاروں سے متجاوز ہو جائیں۔ پھر کتاب اللہ، سنت رسول، صحابہ و تابعین اور فتنوں اور اختلافات کے زمانے کا مشاہدہ کرنے والے ائمہ دین سے اس بات کی مخالفت میں کوئی ایک بھی صریح یا غیر صریح بات نہیں ملتی، نہ ائمہ دین میں سے کسی نے کبھی یہ کہا کہ اللہ آسمانوں کے اوپر نہیں ہے، وہ عرش پر نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ میں ہے، تمام جگہیں اس کی نسبت برابر ہیں، وہ نہ کائنات میں داخل ہے، نہ خارج، وہ نہ متصل ہے، نہ منفصل۔ اس کی طرف انگلی وغیرہ سے حسی اشارہ درست نہیں۔ وغیرہ۔ اس کے برعکس صحیح مسلم (1218) میں سیدنا جابر بن عبد الله رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرفات کے دن اپنا ظیم خطبہ (حجۃ الوداع) دیا، تو سب سے بڑے مجمع میں فرمایا: کیا میں نے دین پہنچا دیا ہے؟ صحابہ کرام رضی الله عنه نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے اور پھر اس کے ساتھ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بار بار فرما رہے تھے: اے اللہ ! گواہ رہنا۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ قرآن وحدیث کے صریح طور پر یا اشارتاً بیان کو چھوڑ کر کتاب وسنت میں موجود صفات باری تعالیٰ کی نفی اور ان کا انکار کرنے والے لوگوں کی بات اگر سچ مان لی جائے، تو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور امت کے بہترین لوگوں کے بارے میں یہ کہنا کیا درست ہوگا کہ وہ ہمیشہ ایسی بات کرتے ہیں، جو صریح طور پر یا اشارتاً حق کے خلاف ہے۔ پھر جو بات حق ہے، وہ اس کا اظہار کبھی بھی نہیں کرتے۔ نہ صریح طور پر، نہ اشارتاً حتی کہ روم و فارس کے انباط اور یہود و نصاری اور فلاسفہ کی ذریت نے آکر امت کے لیے وہ صحیح عقیدہ بیان کیا، جس پر اعتقاد رکھنا ہر مکلف یا فاضل پر ضروری ہے؟ اگر ان تکلف پسند متکلمین کا بیان کیا گیا وہ عقیدہ صحیح ہو، جس کی معرفت میں انھوں نے صرف اپنی عقل پر اعتماد کیا ہے۔ عقلی کسوٹی پر پورا نہ اتر نے والی کتاب وسنت کی نصوص و اشارات کو چھوڑ دیا ہے، تو اس کے مطابق لوگوں کو کتاب وسنت کے بغیر چھوڑ دینا ان کے لیے زیادہ نفع مند اور مفید ہوگا، بلکہ کتاب وسنت کا وجود لوگوں کے لیے اساس دین میں محض نقصان کا سبب ہو ان متکلمین کے مطابق حقیقی دعوت یہ ہے: اے عبادت گزاروں کی جماعت! اللہ کی ذات اور اس کی ذات کے لائق نفی و اثباتی صفات کی معرفت ! کے لیے کتاب وسنت اور سلف صالحین کے طریقے کی طرف نہ دیکھیں، بلکہ خود غور کریں، جس صفت کو آپ اس کے لائق سمجھیں، اس سے اسے متصف کر دیں، خواہ وہ کتاب وسنت میں موجود ہو یا نہ ہو اور جسے آپ اپنی عقل کے مطابق اس کے لائق نہ سمجھو، اس کے ساتھ اسے متصف نہ کریں۔‘‘
(الفتاوى الحموية الكبرى، ص 17 ، مجموع الفتاوى: 15/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔