سوال
اللہ اکبر کے بارے میں بیان کریں۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ "اکبر” تفضیلیہ ہے جو ہم جنس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں "اکبر” بڑائی اور برتری کے لیے آیا ہے، لہٰذا ہم جنس کے لیے "علیاً کبیراً” کہنا چاہیے۔ یہ صاحب چکڑالوی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ "اللہ اکبر” کہیں بھی قرآن میں بیان نہیں کیا گیا۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نماز میں "اللہ اکبر” کہنا سنت اور حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ آپ اس چکڑالوی صاحب سے یہ سوال کریں کہ قرآن مجید میں کون سی آیت ہے جس میں یہ آیا ہے کہ نماز کے اذکار صرف قرآن ہی سے لینے چاہییں اور حدیث سے نہیں لیے جا سکتے؟
پھر ان سے یہ بھی دریافت کریں کہ جب قرآن مجید میں
عَلِيًّا كَبِيرًا
آیا ہے تو وہ یہ الفاظ نماز کے کس حصے میں پڑھنے کا حکم بتائیں؟ اور اس کا جواب صرف قرآن ہی سے دیں، کیونکہ وہ صاحب حدیث کو مانتے ہی نہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے لیے اور بھی بہت سے اسماء و صفات موجود ہیں، جیسے:
✿ العلي
✿ العظيم
✿ الكبير
✿ المتعال
اب وہ یہ بھی وضاحت کریں کہ آخر نماز میں صرف
عَلِيًّا كَبِيرًا
کو ہی کیوں مخصوص کیا جائے؟
جہاں تک "اکبر” کا تعلق ہے تو یہ واقعی اسمِ تفضیل ہے، لیکن چکڑالوی کی یہ قید کہ "ہم جنس کے لیے ہی آتا ہے” بالکل فضول اور بے بنیاد ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب