سوال :
عشق کا لفظ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث سے واضح کریں۔
جواب :
قرآن حکیم اور حدیث رسول میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے جو لفظ کثرت سے آیا ہے، وہ محبت ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾
(المائدة:54)
”اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا (یاد رکھے) عنقریب اللہ ایسی قوم لائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
اے معاذ! یقیناً میں تیرے ساتھ محبت کرتا ہوں۔ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں بھی آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں۔“
(مسند احمد 244/5، 245 ح 22470، ابو داود ح 1022، صحیح ابن حبان ح 2020)
قرآن حکیم میں محبت کے الفاظ والی کئی ایک آیات ہیں اور اسی طرح احادیث صحیحہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے لیے محبت کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ لہذا ہمیں اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا چاہیے اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن حکیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی صحیح حدیث میں عشق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ البتہ ایک مصنوعی، بناوٹی اور جعلی روایت میں لفظ عشق استعمال ہوا ہے۔ یہ روایت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کر کے یوں بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عشق کیا اور چھپایا اور پاکباز رہا، پھر مر گیا تو وہ شہید ہے۔“ یہ روایت تاریخ بغداد (166/5، 262-50/2-51، 188/11-184/13)، تاریخ دمشق اور علل الہندیہ وغیرہ کتب میں وارد ہوئی ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة ح 309) میں اسے موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی جہالت سے باقی اور عشق کے مریض نے یہ روایت بنائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان کارزار میں قتل ہونے والوں کے علاوہ جل کر، فرق ہو کر، پیٹ کے مرض سے، ذات الجنب والے اور ایسی عورت کو بھی شہید قرار دیا ہے جو نفاس میں بچے کی ولادت کے موقع پر فوت ہو جائے۔
قتیل عشق کو کہیں بھی شہید قرار نہیں دیا۔ کسی قبیل بیلی کی یہ کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ اس موضوع روایت سے دھوکا مت کھائیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہے اور اس کا آپ کے کلام میں سے ہونا جائز نہیں، اس لیے کہ اللہ کے ہاں شہادت ایک بلند درجہ ہے جو صدیقیت کے رتبے کے ساتھ ملایا گیا ہے، اس کے لیے کچھ اعمال اور احوال ہیں جو اس کے حصول کے لیے لازمی ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں، ایک عام اور دوسری خاص، خاص تو شہادت فی سبیل اللہ ہے اور عام شہادت میں کئی ہیں جو صحیح حدیث میں بیان ہوئی ہیں اور عشق ان میں سے نہیں ہے۔ عشق کا فساد بہت بڑا ہے، بلکہ یہ روح کی خمر (شراب) ہے جو اسے مست کر دیتی ہے اور اللہ کے ذکر اور اس کی محبت اور اس کی مناجات سے لذت اور انس حاصل کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے اور دل کی عبودیت کو غیر اللہ کے لیے واجب کر دیتی ہے۔ عاشق کا دل معشوق کی عبادت کرتا ہے۔ بتاؤ جو کسی دوسرے آدمی کی عورت کے ساتھ عشق کرتا ہے یا امرد لڑکوں اور زانیہ و بدکار عورت سے عشق کرتا ہے، وہ اس عشق کی وجہ سے شہادت کا درجہ پالے گا۔ یہ تو صریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے خلاف ہے اور پھر عشق تو ان بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے جن کے لیے اللہ نے شرعی اور قدرتی علاج مقرر کیا ہے، جبکہ جو شہادت حدیث میں بیان کی گئی ہے اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
الغرض لفظ عشق قرآن و حدیث میں کہیں وارد نہیں ہوا، عشق ایک بیماری ہے جس کا علاج کیا جانا چاہیے اور پھر یہ ہمارے عرف میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں مستعمل ہے۔ اس لیے ایسے لفظ کا استعمال اللہ اور اس کے رسول کے لیے نہیں کرنا چاہیے، کوئی شخص بھی یہ لفظ اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لیے استعمال کرنا پسند نہیں کرتا تو پھر اللہ اور اس کے رسول کے لیے کیسے پسند کر لیتا ہے۔