اللهم أجرني من النار کی روایت کا تفصیلی تحقیقی جائزہ

ماخوذ: فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الدعاء، صفحہ 484
مضمون کے اہم نکات

سوال:

روایت "اللهم أجرني من النار” کی تحقیق مطلوب ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ:

"جو شخص صبح و شام ‘اللهم أجرني من النار‘ سات دفعہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے آگ سے نجات ہے۔”

یہ روایت مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الدعوات میں مذکور ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ شیخ البانیؒ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن فی الحال مجھے وہ جگہ یاد نہیں آ رہی۔

جواب:

الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روایت کے مصادر:

یہ روایت درج ذیل کتب حدیث میں موجود ہے:

  • سنن ابی داود (حدیث نمبر: 5079، 5080)
  • السنن الکبریٰ للنسائی (حدیث نمبر: 9939)
  • عمل الیوم واللیلۃ للنسائی (حدیث نمبر: 111)
  • صحیح ابن حبان (موارد الظمان، حدیث نمبر: 2346)

محدثین کی آراء:

➊ حافظ منذریؒ

انہوں نے الترغیب والترہیب (جلد 1، صفحہ 303-304، حدیث 663) میں اس روایت کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

➋ حافظ ابن حجرؒ

انہوں نے نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار 2/326 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

راوی کا تعارف:

➊ مسلم بن الحارث رضی اللہ عنہ

یہ صحابی رسولؐ ہیں۔ تجرید اسماء الصحابہ للذہبی 2/75 وغیرہ

➋ حارث بن مسلم

ان کے بارے میں اختلاف ہے:

  • دارقطنی وغیرہ نے انہیں مجہول کہا ہے۔
  • ◈ بعض علماء نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم الاصبہانی، جلد 2، صفحہ 794، ترجمہ 659

راوی کی حیثیت پر اصولی بات:

جس کے صحابی ہونے میں اختلاف ہو اور اس پر جرحِ مفسر بھی ثابت نہ ہو تو وہ حسن الحدیث راوی شمار ہوتا ہے۔
التلخیص الحبیر، جلد 1، صفحہ 74، حدیث 70

حارث بن مسلم کی توثیق:

درج ذیل محدثین نے ان راوی کی توثیق کی ہے:

  • ابن حبان
  • ہیثمی (مجمع الزوائد 8/99)
  • ابن حجر
  • منذری (جیسا کہ پہلے ذکر ہوا)

لہٰذا وہ حسن الحدیث تھے۔
والحمد للہ

نتیجہ:

ان تمام تفصیلات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:

شیخ البانیؒ کا اس روایت کو "حارث بن مسلم” کی جہالت کی وجہ سے ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے۔
بلکہ یہ روایت حسن لذاتہ ہے۔

(بحوالہ: ماہنامہ شہادت، جنوری 2003)

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️