استوا کا معنی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
الرحمن على العرش استوى.
(طه: 5)
’’رحمن عرش پر مستوی ہے۔‘‘
فرمان باری تعالی ہے:
ثم استوى على العرش.
(الأعراف: 54 ، يونس: 3 الرعد: 2 ، الفرقان: 59، السجدة: 4 ، الحديد: 4)
سلف صالحین اور ائمہ دین نے ان آیات بینات کا معنی بیان کیا ہے کہ ’’وہ عرش پر بلند ہوا۔‘‘ جیسا کہ
علامه ابن بطال رحمتہ اللہ (449 ھ ) لکھتے ہیں:
أما قول من قال: علا، فهو صحيح، وهو مذهب أهل السنة والحق.
’’جن لوگوں نے کہا ہے کہ (استوا علی العرش کا معنی یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ بلند ہوا، ان کی بات صحیح ہے۔ اہل سنت اور اہل حق کا یہی مذہب ہے۔‘‘
(شرح صحيح البخاري: 92/20)
امام ابن جریر طبری رحمتہ اللہ (310ھ) لکھتے ہیں:
الرحمن على عرشه ارتفع وعلا.
’’اللہ تعالی عرش پر بلند ہوا۔‘‘
(تفسير الطبري: 169/23،270/18)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:
أما قوله تعالى: (ثم استوى على العرش) ، فللناس في هذه المقام مقالات كثيرة جدا، ليس هذا موضع بسطها، وإنما يسلك في هذا المقام مذهب السلف الصالح مالك، والأوزاعي، والثوري، والليث بن سعد، والشافعي، وأحمد بن حنبل، وإسحاق بن راهويه وغيرهم، من أيمة المسلمين قديما وحديثا، وهو إمرارها كما جاءت من غير تكييف ولا تشبيه ولا تعطيل، والظاهر المتبادر إلى أذهان المشهين منفي عن الله، فإن الله لا يشبهه شيء من خلقه، (و ليس كمثله شيء وهو السميع البصير ) (الشورى: 11) بل الأمر كما قال الأئمة، منهم نعيم بن حماد الخزاعي شيخ البخاري: من شبه الله بخلقه فقد كفر، ومن جحد ما وصف الله به نفسه فقد كفر، وليس فيما وصف الله به نفسه ولا رسوله تشبيه، فمن أثبت لله تعالى ما وردت به الآيات الصريحة والأخبار الصحيحة، على الوجه الذي يليق بجلال الله تعالى، ونفى عن الله تعالى النقائص، فقد سلك سبيل الهدي.
رہا اللہ کا یہ فرمان:
ثم استوى على العرش.
’’پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تو اس کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال ہیں۔ یہ جگہ ان کی تفصیل کی نہیں۔ اس مسئلے میں سلف صالحین کی راہ پر چلا جائے گا۔ امام مالک، امام اوزاعی، امام سفیان ثوری، امام لیث بن سعد، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ و غیر ہم رحمتہ اللہ ، جو کہ قدیم اور جدید دور کے مسلمانوں کے امام ہیں، ان کا مذہب یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ کو اسی طرح تسلیم کیا جائے، جس طرح وہ بیان ہوئی ہیں۔ نہ ان کی کیفیت بیان کی جائے، نہ ان میں تعطیل کی جائے اور نہ ہی مخلوق کے ساتھ انھیں تشبیہ دی جائے۔ تشبیہ دینے والے لوگوں کے ذہن میں جو متبادر بات آتی ہے، اللہ اس سے بری ہے، کیونکہ مخلوق میں چیز اس کے مثل نہیں۔ فرمانِ باری تعالی ہے:
ليس كمثله شيء وهو السميع البصير.
(الشوری: 11)
’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سمیع و بصیر ہے۔‘‘ بلکہ یہ معاملہ ایسے ہے، جیسے ائمہ دین نے فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک امام بخاری رحمتہ اللہ کے استاذ امام نعیم بن حماد رحمتہ اللہ بھی ہیں، انھوں نے فرمایا کہ جو اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے، وہ بھی کافر اور جو اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ صفات میں سے کسی کا انکار کرے، وہ بھی کافر (کتاب العرش للذهبي: 209، وسنده حسن) جو صفت باری تعالیٰ خود اللہ نے بیان کی ہے یا اس کے رسول نے بیان کی ہے، اس میں کوئی تشبیہ نہیں۔ لہذا جو شخص آیات بینات اور احادیث صحیحہ میں بیان کی گئی صفات کو اس طرح ثابت کرتا ہے، جیسے اللہ کی شان کو لائق ہیں اور اللہ سے تمام نقائص کی نفی کرتا ہے، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن ہے۔
(تفسير ابن كثير 426/3-427، سلامة)
امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على أن الله عز وجل في السماء على العرش من فوق سبع سماوات كما قالت الجماعة، وهو من حجتهم على المعتزلة والجهمية في قولهم: إن الله عز وجل في كل مكان، وليس على العرش، والدليل على صحة ما قالوه أهل الحق في ذلك قول الله عز وجل: (الرحمٰن على العرش استوى) (طه: 5)
اس حدیث میں دلیل ہے کہ اللہ ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے، جیسا کہ جماعت (اہل سنت) کا عقیدہ ہے۔ یہ حدیث معتزلہ اور جہمیہ کے خلاف اہل سنت کی دلیل ہے۔ جہمیہ اور معتزلہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ میں ہے، (صرف) عرش پر نہیں ہے۔ اہل حق کی دلیل یہ ہے:
الرحمٰن على العرش استوى.
’’رحمن عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
(التمهيد لما في المؤطّاً من المعاني والأسانيد: 129/7)
قال الإمام أبو أحمد الحاكم: سمعت محمد بن إسحاق الثقفي، قال: سمعت أبا رجا قتيبة بن سعيد، قال: هذا قول الأئمة المأخوذ في الإسلام والسنة، يعرف الله في السماء السابعة على عرشه كما قال: (الرحن على العرش استوى) (طه: 5)
امام قتیبہ بن سعید رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ کا اسلام اور سنت سے ماخوذ موقف یہ ہے کہ اللہ ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے، جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے:
الرحن على العرش استوای.
(طه: 5)
’’رحمن عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
(شعار أصحاب الحديث لأبي أحمد الحاكم 12 ، وسنده صحيح)
ایک تاویل
بعض نے لکھا ہے کہ
’’ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت و شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں، تا کہ کم فہم سمجھ لیں، مثلاً یہ کہ ممکن ہے کہ استوا سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت۔ تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے۔‘‘
(المهند علی المفند ص 48)
لیکن ان کی یہ تاویلات درست نہیں ہیں، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (مجموع الفتاوى: 374/17-379) نے بارہ اور علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ (مختصر الصواعق المرسله: 226-152/1) نے بیالیس طریقوں سے ان تاویلات کو باطلہ قرار دیا ہے۔ واللہ الحمد !
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
أهل السنة وسلف الأمة متفقون على أن من تأول استوى بمعنى استولى، أو بمعنى آخر، ينفي أن يكون الله فوق سماواته، فهو جهمي ضال.
’’اہل سنت اور سلف امت کا اتفاق ہے کہ جو شخص استوی کی تاویل استولی یا کسی اور معنی سے کرتا ہے اور اس سے اللہ کے آسمانوں کے اوپر ہونے کی نفی کرتا ہے، وہ گمراہ جہمی ہے۔‘‘
(التسعينية: 545/2)
مزید فرماتے ہیں:
اتفق المسلمون على أن يقال: استوى على العرش، ولا يقال: استولى على هذه الأشياء.
’’مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا اقرار کیا جائے گا۔ یہ معنی نہیں کیا جائے گا کہ اللہ ان چیزوں پر غالب ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوى: 145/5)
نیز فرماتے ہیں:
فسروا الإستواء بما يتضمن الإرتفاع فوق سماواته.
’’اہل سنت والجماعت نے استوا کا معنی آسمانوں کے اوپر بلند ہونے کا کیا ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوي: 359/16)
علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
إن ظاهر الاستواء وحقيقته هو العلو والارتفاع كما نص عليه جميع أهل اللغة والتفسير المقبول.
’’استوا کا ظاہری اور حقیقی معنی بلند ہونا ہی ہے، جیسا کہ تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے صراحتاً بیان کیا ہے۔‘‘
(مختصر الصواعق المرسلة: 145/2)
نیز فرماتے ہیں:
إن لفظ الاستواء في كلام العرب الذي خاطبنا الله بلغتهم وأنزل به كلامه نوعان: مطلق ومقيد ….. هذه معاني الاستواء المعقولة في كلامهم.
’’کلام عرب، کہ جس زبان میں اللہ نے ہمیں مخاطب کیا ہے اور جس میں اپنی کلام نازل فرمائی ہے، اس میں لفظ استوا کی دو قسمیں ہیں: مطلق اور مقید استوا کے یہ معانی کلام عرب میں معقول ہیں۔‘‘
(مختصر الصواعق المرسلة: 126/2 – 127)
حافظ ابن الجوزی رحمتہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں:
بعضهم يقول: استوى بمعنى استولى، ويحتج بقول الشاعر: حتى استوى بشر على العراق من غير سيف ودم مهراق وبقول الشاعر أيضا: هما استويا بفضلهما جميعا على عرش الملوك بغير زور وهذا منكر عند اللغويين، قال ابن الأعرابي: العرب لا تعرف استوى بمعنى استولى، ومن قال ذلك فقد أعظم، قالوا: وإنما يقال: استولى فلان على كذا إذا كان بعيدا عنه غير متمكن منه، ثم تمكن منه، والله عز وجل لم يزل مستوليا على الأشياء، والبيتان لا يعرف قائلهما ، كذا قال ابن فارس اللغوي، ولو صحا فلا حجة فيهما لما بينا من استيلاء من لم يكن مستوليا، نعوذ بالله من تعطيل الملحدة، وتشبيه المجسمة.
’’بعض لوگ استویٰ کا معنی استولی کرتے ہیں اور دلیل شاعر کے اس قول سے لیتے ہیں:
حتى استوى بشر على العراق من غير سيف ودم مهراق.
’’یہاں تک کہ بشر عراق پر بغیر تلوار چلائے اور خون بہائے غالب ہو گیا۔‘‘ نیز شاعر کے اس قول کے ساتھ بھی:
هما استويا بفضلهما جميعا على عرش الملوك بغير زور .
’’وہ دونوں اپنی فضیلت و منقبت کی وجہ سے بغیر غلط طریقہ استعمال کیے بادشاہوں کے تخت پر غالب ہو گئے۔ حالانکہ یہ معنی لغویوں کے ہاں منکر ہے۔ ابن الاعرابی کہتے ہیں کہ عرب استویٰ کا استولی کے معنی میں ہونا نہیں جانتے۔ جو ایسا کہے گا، بڑی سخت بات کہے گا۔ پھر استولی کا لفظ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے، جب کوئی چیز کسی سے دُور ہو اور وہ اس پر قادر نہ ہو، بعد میں قادر ہو گیا ہو، جب کہ اللہ تمام اشیا پر ازل سے قادر ہے۔ ابن الفارس لغوی کا کہنا ہے کہ یہ شعر ثابت ہی نہیں ہیں، اگر یہ دونوں شعر ثابت ہو بھی جائیں ، تو ان میں کوئی دلیل نہیں، کیونکہ استولی کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے، جب کوئی پہلے قادر و غالب نہ ہو، بعد میں ہوا ہو۔ ہم ملحدین کی تعطیل اور مجسمہ فرقہ والوں کی تشبیہ سے اللہ تعالی کی پناہ میں آتے ہیں۔
(زاد المسير : 213/3)
یہ دونوں شعر لسان العرب (414/14، مادہ سوی) اور الصحاح للجوهری (238/6) میں مذکور ہیں، لیکن شاعر کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
لم يثبت نقل صحيح أنه شعر عربي، وكان غير واحد من أئمة اللغة أنكروا، وقالوا: إنه بيت مصنوع، لا يعرف في اللغة.
’’اس شعر کے عربی ہونے کے متعلق کوئی صحیح نقل ثابت نہیں ہو سکی۔ بہت سے ائمہ لغت نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خود ساختہ شعر ہے، لغت عرب میں نہیں ملتا۔‘‘
(مجموع الفتاوى: 146/5، الصواعق المرسلة لابن القيم، ص 388)
امام ابو عمر احمد بن محمد بن عبدالله طلمنکی رحمتہ اللہ (129ھ) اپنی کتاب الوصول إلى علم الأصول میں لکھتے ہیں:
قال أهل السنة في قوله: (الرحمٰن على العرش استوى) أن الاستواء من الله على عرشه على الحقيقة لا على المجاز فقد قال قوم من المعتزلة والجهمية لا يجوز أن يسمى الله عز وجل بهذه الأسماء على الحقيقة ويسمى بها المخلوق، فنفوا عن الله الحقائق من أسمائه وأثبتوها لخلقه فإذا سئلوا ما حملهم على هذا الزيغ قالوا: الإجتماع في التسمية يوجب التشبية، قلنا: هذا خروج عن اللغة التي خوطبنا بها لأن المعقول في اللغة أن الاشتباه في اللغة لا تحصل بالتسمية وإنما نشبيه الأشياء بأنفسها أو بهيئات فيها كالبياض بالبياض والسواد بالسواد والطويل بالطويل والقصير بالقصير ولو كانت الأسماء توجب اشتباها لاشتبهت الأشياء كلها لشمول اسم الشيء لها وعموم تسمية الأشياء به فنسألهم أتقولون إن الله موجود ، فإن قالوا: نعم، قيل لهم: يلزمكم على دعواكم أن يكون مشبها للموجودين، وإن قالوا: موجود ولا يوجب وجوده الاشتباه بينه وبين الموجودات، قلنا: فكذلك هو حي عالم قادر مرید سميع بصير متكلم يعني ولا يلزم اشتباهه بمن اتصف بهذه الصفات.
اہل سنت نے فرمانِ باری تعالٰی:
الرحمن على العرش استوى.
(طه: 5)
(رحمن عرش پر مستوی ہوا) کی تفسیر میں کہا ہے کہ اللہ کا عرش پر استوا حقیقی ہے، مجازی نہیں، جب کہ معتزلہ اور جہمیہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ مخلوق کے نام ہوتے ہوئے اللہ کے لیے ان اسما کا اطلاق جائز نہیں۔ انھوں نے ان اسما کی حقیقت کو اللہ سے نفی کر دیا اور مخلوق کے لیے ثابت کر دیا۔ جب ان لوگوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ تمھیں اس گمراہی پر کس نے آمادہ کیا؟ تو کہتے ہیں کہ نام ایک ہونے سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات تو اس لغت کو ٹھکرانے کے مترادف ہے، جس میں ہمارے ساتھ کلام کیا گیا ہے۔ لغت میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ناموں کے ساتھ مشابہت نہیں ہوتی، بلکہ چیزوں کی آپس میں تشبیہ خود ان چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے یا ان کی شکل وصورت کی وجہ سے ہوتی ہے، مثلاً سفیدی کی سفیدی کے ساتھ ، سیاہی کی سیاہی کے ساتھ ، لمبائی کی لمبائی کے ساتھ اور صغر کی صغر کے ساتھ تشبیہ ہوتی ہے۔ اگر ناموں کی وجہ سے چیزوں میں مشابہت ہونے لگے، تو پھر تمام چیزوں میں مشابہت پیدا ہو جائے، کیوں کہ سب کو چیز کا نام دیا جاتا ہے اور عمومی طور پر سب اشیا کو اسی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ہم ایسے لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا تم اللہ وجود کے اقراری ہو؟ اگر وہ ہاں میں جواب دیں تو ہم انھیں کہیں گے کہ تمھارے کہنے کے مطابق تو اللہ تعالیٰ کی سب موجودات سے تشبیہ ہو گئی ہے۔ اگر وہ کہیں کہ اللہ موجود تو ہے، لیکن اس کے موجود ہونے سے دوسری موجودات سے تشبیہ لازم نہیں آتی تو ہم کہیں گے کہ اسی طرح اللہ حي ، عالم، قادر، مرید ، سمیع، بصیر، متکلم ہے، یعنی ان صفات کی وجہ سے اللہ کی ان صفات سے موصوف مخلوق کے ساتھ مشابہت لازم نہیں آتی ۔
(العلم للذهبي، ص 264)
امام الائمہ ابن خزیمہ رحمتہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:
باب ذكر استواء خالقنا العلي الأعلى الفعال لما يشاء، على عرشه فكان فوقه ، وفوق كل شيء عاليا كما أخبر الله جل وعلا في قوله: (الرحمن على العرش استوى)، وقال ربنا عز وجل: (إن ربكم الله الذى خلق السبوت والارض في ستة أيام ثم استوى على العرش) وقال في تنزيل السجدة: (الله الذي خلق السموت والأرض وما بينهما في سنة أيام ثم استوى على العرش) وقال الله تعالى: (وهو الذى خلق السيوت والارض في ستة أيام وكان عرشه على الماء) ، فنحن نؤمن بخبر الله جل وعلا أن خالقنا مستو على عرشه، لا نبدل كلام الله، ولا نقول قولا غير الذي قيل لنا، كما قالت المعطلة الجهمية: إنه استولى على عرشه ، لا استوى فبدلوا قولا غير الذي قيل لهم، كفعل اليهود كما أمروا أن يقولوا حطة، فقالوا: حنطة، مخالفين لأمر الله جل وعلا كذلك الجهمية.
ہمارے بلند واعلیٰ خالق، ہر چیز پر قادر کے عرش پر مستوی ہونے کا بیان۔ اللہ عرش کے اوپر اور ہر چیز پر بلند ہے، جیسا کہ اس نے خبر دی ہے:
الرحمن على العرش استوی.
’’رحمن عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
نیز فرمایا:
ان ربكم الله الذى خلق السموت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش.
’’بے شک تمھارا رب وہ ہے، جس نے زمین و آسمان کو چھے دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
سورت حم السجدہ میں فرمایا:
الله الذي خلق السموت والارض وما بينهما في سنة أيام ثم استوى على العرش.
’’اللہ وہ ذات ہے، جس نے آسمان وزمین اور اس کے درمیان جو ہے، سب کو چھے دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘
نیز فرمایا:
وهو الذى خلق السموت والارض في شة أيام وكان عرشه على الماء.
’’الله وه ذات ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھے دنوں میں پیدا کیا، تب اس کا عرش پانی پر تھا۔‘‘
ہم اللہ کی اس خبر کے مطابق ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا خالق عرش پر مستوی ہے۔ ہم کلام الہی میں تبدیلی نہیں کرتے ، نہ ہم ایسی بات کہتے ہیں، جو اللہ نے ہمیں بتائی ہی نہیں، معتزلہ اور جہمیہ کہتے ہیں کہ اللہ عرش پر غالب و مسلط ہوا ہے، مستوی نہیں ہوا۔ انھوں نے فرمان باری تعالیٰ کے خلاف نظریہ اپنا لیا ہے۔ یہی کام یہودیوں نے کیا تھا، جب انھیں حطة کہنے کا حکم دیا گیا، تو انھوں نے حکم الہی کی مخالفت کرتے ہوئے حنطة کہا۔
(كتاب التوحيد : 1 /231 – 233)
امام ابن عبد البرل رحمتہ اللہ ( 463ھ) فرماتے ہیں:
هذه الآيات كلها واضحات في إبطال قول المعتزلة، وأما ادعاتهم المجاز في الاستواء وقولهم في تأويل استوى استولى فلا معنى له، لأنه غير ظاهر في اللغة، ومعنى الإستيلاء في اللغة المغالبة، والله لا يغالبه، ولا يعلوه أحد وهو الواحد الصمد.
’’یہ تمام آیات معتزلہ کے رد میں بہت واضح ہیں۔ رہا ان کا استوا کے معنی میں مجاز کا دعوی اور استوی میں استولی کی تاویل، تو یہ بے معنی ہے، کیوں کہ یہ چیز لغت میں معروف نہیں۔ پھر استیلا کا لغوی معنی مغالبہ (دوسرے سے غلبہ حاصل کرتا) ہے، حالانکہ اللہ سے کوئی غلبہ میں مقابلہ نہیں کر سکتا، نہ ہی کوئی اس سے بلند ہو سکتا ہے۔ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے۔‘‘
(التمهيد لما في المؤطّاً من المعاني والأسانيد: 132/7)
امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ (324ھ) فرماتے ہیں:
قد قال قائلون من المعتزلة والجهمية والحرورية إن معنى قول الله تعالى: (الرحمٰن على العرش استوى) (طه:6) أنه استولى وملك وقهر وأن الله تعالى في كل مكان وجحدوا أن يكون الله عز وجل مستو على عرشه كما قال أهل الحق، وذهبوا في الإستواء إلى القدرة.
معتزلہ، جہمیہ اور حروریہ کہتے ہیں کہ فرمانِ باری تعالی:
الرحن على العرش استوی.
(طه: 6)
’’رحمن عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غالب ہوا، مالک بنا اور اس نے تسلط حاصل کیا، ان کے خیال میں اللہ ہر جگہ ہے۔ انھوں نے اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کر دیا ہے، جبکہ اہل حق اس کے قائل ہیں۔ اہل باطل استوا کی تاویل میں قدرت کی طرف گئے ہیں۔‘‘
(الإبانة عن أصول الديانة: 14)
شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ (561 ھ) فرماتے ہیں:
هو بجهة العلو مستو على العرش محتو على الملك، محيط علمه بالأشياء: (اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه) ، (يدبر الأمر من السماء إلى الأرض ثم يعرج إليه في يوم كان مقدارة الف سنة مما تعدون) ، ولا يجوز وصفه بأنه في كل مكان، بل يقال: إنه في السماء على العرش كما قال: (الرحمٰن على العرش استوى)، وينبغي إطلاق صفة الاستواء من غير تأويل، وأنه استواء الذات على العرش ، وكونه سبحانه وتعالى على العرش مذكور في كل كتاب أنزل على كل نبي أرسل بلا كيف.
بلندی کے اعتبار سے اللہ عرش پر مستوی ہے، بادشاہت پر حاوی ہے، اس کا علم تمام اشیاء کو محیط ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے:
اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه.
’’اس کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور وہ عمل صالح کو بلند کرتا ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
يدبر الأمر من السماء إلى الأرض ثم يعرج إليه في يوم كان مقدارة الف سنة مما تعدون.
’’وہ معاملات کی تدبیر آسمان سے زمین تک کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس دن میں جس کی مقدار تمھاری گنتی کے مطابق ہزار سال ہے۔‘‘ اللہ کو ہر جگہ قرار دینا جائز نہیں، بلکہ کہا جائے گا کہ اللہ عرش پر ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
الرحمن على العرش استوی.
’’رحمن عرش پر مستوی ہے۔‘‘
صفت استوا کا اطلاق بغیر تاویل کے کرنا ضروری ہے۔ عرش پر یہ استوا ذات کے اعتبار سے ہے۔ اللہ کا عرش پر ہونا بغیر کیفیت بیان کیے انبیا پر نازل ہونے والی ہر کتاب میں مذکور ہے۔
(غنیة الطالبين:54/1-57، طبع الحلبي)
امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ (463 ھ ) لکھتے ہیں:
أما نزع من نزع منهم بحديث يرويه عبد الله بن واقد الواسطي عن إبراهيم بن عبد الصمد عن عبد الوهاب بن مجاهد عن أبيه عن ابن عباس في قوله تعالى: (الرحمٰن على العرش استوى) على جميع بريته فلا يخلو منه مكان فالجواب عن هذا أن هذا حديث منكر عن ابن عباس ونقلته مجهولون ضعفاء، فأما عبد الله بن داود الواسطي وعبد الوهاب بن مجاهد، فضعيفان وإبراهيم بن عبد الصمد مجهول لا يعرف وهم لا يقبلون أخبار الآحاد العدول، فكيف يسوع لهم الإحتجاج بمثل هذا من الحديث لو عقلوا أو أنصفوا أما سمعوا الله عز وجل حيث يقول: (و قال فرعون يها من ابن لي صرحا لعلى ابدع الأسباب ، اسباب السموت فأتلع إلى إله موسى وإني لأخته كاذبا) فدل على أن موسى عليه السلام كان يقول: إلهي في السماء وفرعون يظنه كاذبا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنه فرمان باری تعالیٰ: (الرحمن على العرش استوى) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’وہ اپنی تمام مخلوق کے اوپر ہے۔ اس سے کوئی جگہ خالی نہیں۔‘‘ اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه سے منکر ہے، اس کے راوی ضعیف اور مجہول ہیں۔ عبداللہ بن داؤد واسطی اور عبدالوہاب بن مجاہد دونوں ضعیف ہیں، ابراہیم بن عبدالصمد مجہول ہے۔ اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔ یہ لوگ تو عادل راویوں کی اخبار آحاد قبول نہیں کرتے۔ اگر یہ لوگ عقل اور انصاف سے کام لیں، تو سوچیں کہ ان کے لیے اس روایت سے حجت لینا کیسے جائز ہے؟ کیا انھوں نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا:
وقال فرعون يها من ابن لي صرحا لعلى ابدع الأسباب لا اسباب السموت فاطلع إلى إله موسى واني لأظنه كاذبا.
’’فرعون نے کہا: ہامان! تو میرے لیے ایک ایسا محل بنا کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے الہ کو جھانک کر دیکھوں، میں اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کہتے تھے کہ میرا الہ آسمانوں پر ہے، جب کہ فرعون موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا سمجھتا تھا۔
(التمهيد لما في المؤطا من المعاني والأسانيد: 132/7)
امام نعیم بن حماد رحمتہ اللہ (228 ھ ) فرماتے ہیں:
من شبه الله بشيء من خلقه، فقد كفر، ومن أنكر ما وصف الله به نفسه، ورسوله فقد كفر ، وليس فيما وصف الله به نفسه ولا رسوله تشبيه.
’’اللہ کو کسی مخلوق سے تشبیہ دینے والا کافر ہے۔ جو اس وصف کا انکار کرے، جو اللہ نے اپنے لیے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے لیے بیان کیا، وہ کافر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ وصف میں تشبیہ جائز نہیں۔‘‘
(تاریخ ابن عساکر: 163/62، وسنده حسن)
حافظ ذہبی رحمتہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:
قلت: هذا الكلام حق، نعوذ بالله من التشبيه، ومن إنكار أحاديث الصفات، فما ينكر الثابت منها من فقه، وإنما بعد الإيمان بها هنا مقامان منمومان، تأويلها وصرفها عن موضوع الخطاب، فما أولها السلف، ولا حرفوا ألفاظها عن مواضعها، بل آمنوا بها، وأمروها كما جاءت، المقام الناني المبالغة في إثباتها، وتصورها من جنس صفات البشر، وتشكلها في الذهن، فهذا جهل وضلال، وإنما الصفة تابعة للموصوف، فإذا كان الموصوف عز وجل لم نره، ولا أخبرنا أحد أنه عاينه مع قوله لنا في تنزيله: (ليس كمثله شيء) ، فكيف بقي لأذهاننا مجال في إثبات كيفية البارى تعالى الله عن ذلك فكذلك صفاته المقدسة، نقر بها ونعتقد أنها حق، ولا نمثلها أصلا ولا نتشكلها.
یہ بات حق ہے۔ تشبیہ اور احادیث صفات کے انکار سے ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ کسی سمجھدار نے ثابت صفت کا انکار نہیں کیا۔ ان پر ایمان لانے کے بعد دو مذموم مقام اور ہیں:
◈ان کی تاویل کرنا اور حقیقی معنی سے پھیر دینا۔ سلف نے نہ ان کی تاویل کی اور نہ ہی لفظی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں، بلکہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور جیسے وارد ہوئی ہیں، ایسے ہی گزار دیتے ہیں۔
◈ان کے اثبات میں حد سے بڑھ جانا، انھیں بشر کی صفات کی قبیل سے خیال کرنا اور ذہن میں تصور بنانا۔ یہ نری جہالت وضلالت ہے۔ بلاشبہ صفات موصوف کے تابع ہوتی ہیں۔ جب ہم نے موصوف کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے اسے دیکھنے کا دعویٰ کیا، فرمان باری تعالی ہے:
ليس كمثله شيء.
’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘
تو ہمارے ذہنوں کی کیا مجال کہ ہم باری تعالیٰ کی کیفیت بیان کریں۔ اللہ اس سے بلند ہے۔ یہی معاملہ صفات مقدسہ کا ہے۔ ہم ان کا اقرار کرتے ہیں اور انھیں حق سمجھتے ہیں، کوئی مثال بیان نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی تصور پیش کرتے ہیں۔
(سير أعلام النبلاء: 611/10-612)