سوال:
سیدہ جوہریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے میرے پاس سے گزرے، تو میں مصلی پر بیٹھی تھی، چاشت کے وقت دوبارہ تشریف لائے، تو میں اسی جگہ بیٹھی تھی، فرمایا: تب سے بیٹھی ہیں؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: میں نے یہاں سے جانے کے بعد چار کلمات تین تین بار کہے ہیں، ان کلمات کا وزن آپ کے اس سارے ذکر سے کیا جائے، تو یقیناً وہ چار کلمات وزنی ہوں گے، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرائی، فرمایا: وہ کلمات یہ ہیں:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ
اللہ پاک ہے اور تمام تعریفیں اس کے لیے ہیں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر اور اس کے نفس کی رضا، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
(صحیح مسلم: 2726)
تسبیح کو عرش کے وزن کے برابر کیسے کہا جا سکتا ہے، کیا تسبیح کا وزن ہے؟
جواب:
اہل سنت والجماعت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے کہ روز قیامت اعمال کا وزن ہوگا، جسے میزان (ترازو) میں تولا جائے گا۔ قرآن، احادیث متواترہ اور امت کا اجماع اس پر دلیل ہیں۔
سبحان اللہ کہنا بھی عمل ہے، ان تسبیحات کا وزن کیسے ہوگا، جبکہ ان کا جسم نہیں ہے؟ تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
ملحد و معاند کا یہ قول ناقابل التفات ہے کہ اعمال اعراض ہیں، ان کا وزن نہیں ہو سکتا، وزن تو جسم والی اشیاء کا ہوتا ہے! اللہ تعالیٰ اعراض کو اجسام میں تبدیل کر دے گا۔ پس ثابت ہوا کہ اعمال، عامل اور صحیفوں کا وزن ہوگا، یہ بھی ثابت ہوا کہ ترازو کے دو پلڑے ہوں گے، اس کے ماورا کیا کیفیات ہیں؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے ذمے تو غیب پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے، اس میں نہ زیادتی کی جائے اور نہ کمی۔ کتنے بدبخت ہیں وہ لوگ، جو قیامت کے دن عدل کا ترازو قائم ہونے کا انکار صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کی حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ نصوص میں قدح کرتے ہوئے کہتے ہیں: ترازو کی ضرورت تو دکاندار اور سبزی فروش کو ہوتی ہے خدشہ ہے کہ ان لوگوں کا شمار ان میں نہ ہو جائے، (کہ کفر کی وجہ سے) جن کے لیے اللہ تعالیٰ ترازو ہی قائم نہیں کرے گا۔ اگر اعمال کے وزن میں یہی حکمت ہو کہ اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے لیے عدل و انصاف کو ظاہر کرے گا، تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کس کے پاس یہ وجہ ہو سکتی ہے؟ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا۔ (یہ تو ہے ایک حکمت) اس کے علاوہ جن حکمتوں کو ہم نہیں جانتے، معلوم نہیں وہ کیا ہوں گی؟
(شرح الطحاویہ، ص 419)