بدعت کا دائرہ کار کیا ہے، یہ اسلام کے ہر قسم کے معاملات میں درانہ گھس جاتی ہیں یا صرف عقائد میں؟ یہ ایک نئی بحث ہے، جس کا وجود سلف میں نہیں ملتا، ان کے نزدیک بدعت ایک مطلق چیز ہے، وہ اعمال میں بھی ہوسکتی ہے، عقائد میں بھی، لیکن ہمارے اس دور میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے، مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه؛ فهو رد .
”جو شخص ہمارے اس دین میں وہ عقیدے ایجاد کرے جو کہ دین کے خلاف ہوں، وہ مردود ہے۔ ہم نے ”ما“ کے معنی عقیدے اس لیے کیے کہ دین عقائد ہی کا نام ہے، اعمال فروع ہیں ۔ “
( جاء الحق : 204 – 205)
حدیث کے معنی میں عقیدے کی قید درست نہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا ہے، خواہ وہ عقیدے میں جاری کی گئی ہو یا اعمال میں ۔
❀ مفتی صاحب ہی نے ایک جگہ لکھا ہے:
بدعت کے شرعی معنی ہیں وہ اعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں، بعد میں ایجاد ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بدعت شرعی دو طرح کی ہوئی بدعت اعتقادی اور بدعت عملی
(جاء الحق ، ص 204)
اب ان کی یہ منطق اگر مان لیں کہ عقائد میں بدعات حرام ہیں، جبکہ اعمال میں جائز، تو پھر عقائد میں بدعت حسنہ کا کیا حکم ہوگا؟ اگر کوئی شخص کسی عقیدے کو اچھا سمجھتے ہوئے اسلامی عقائد میں یہ کہہ کر داخل کر دے کہ یہ بدعت حسنہ ہے، تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
نیز اگر کوئی اعمال میں ایسی بدعت نکالے، جو ان کی طبع نازک پر گراں گزرے، جیسا کہ عیدین اور نماز جنازہ کی اذان وغیرہ، تو اسے بدعت حسنہ کہا جائے گا؟
یاد رکھئے کہ اعمال کو دین وایمان میں داخل نہ سمجھنا اور انہیں محض فروع قرار دینا بذات خود ایک ”بدعت “ہے، ایک ادنیٰ مسلمان بھی یہ سمجھتا ہے کہ اعمال دین میں داخل ہیں، یہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اتفاقی واجماعی مسئلہ ہے۔
❀ حافظ بغوی ماللہ (م :516ھ) فرماتے ہیں :
اتفقت الصحابة والتابعون، فمن بعدهم من علماء السنة على أن الأعمال من الإيمان وقالوا : إن الإيمان قول، وعمل، وعقيدة .
”صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد والے علمائے اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایمان قول عمل اور عقیدے کا نام ہے ۔ “
(شرح السنة : 388)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں :
لكن أعظم المهم فى هذا الباب وغيره تمييز السنة من البدعة إذ السنة ما أمر به الشارع والبدعة ما لم يشرعه من الدين فإن هذا الباب كثر فيه اضطراب الناس فى الأصول والفروع حيث يزعم كل فريق أن طريقه هو السنة وطريق مخالفه هو البدعة، ثم إنه يحكم على مخالفه بحكم المبتدع فيقوم من ذلك من الشر ما لا يحصيه إلا الله.
”ان مسائل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سنت اور بدعت کی تمیز کی جائے ، کیوں کہ سنت شارع کے حکم کا نام ہے اور بدعت ایسے دینی عمل کو کہتے ہیں، جسے شارع نے مشروع نہ کیا ہو۔ لوگ اس حوالے سے بہت مضطرب ہیں، ان کے عقائد و اعمال مختلف ہیں اور ہر فریق دوسرے کو بدعتی قرار دیتا ہے۔ان چیزوں نے شر کو اتنا پھیلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی شمار ہی نہیں کر سکتا۔“
(الاستقامة : 13/1)
عقائد و ایمان میں بدعات :
مذکورہ بالا وضاحت کے برخلاف نعیمی صاحب کا کہنا ہے کہ مذموم بدعت عقائد ہی میں ہوتی ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
”شریعت وطریقت دونوں کے چار چار سلسلے یعنی حنفی ، شافعی، مالکی ، حنبلی، اسی طرح ،قادری چشتی، نقشبندی، سہروردی، یہ سب سلسلے بالکل بدعت ہیں، ان میں سے بعض کے تو نام تک بھی عربی نہیں، جیسے چشتی یا نقشبندی، کوئی صحابی ، تابعی، حنفی ، قادری نہ ہوئے ۔ اب دیو بندی بتائیں کہ بدعت سے بچ کر وہ اپنی حیثیت سے زندہ بھی رہ سکتے ہیں؟ جب ایمان اور کلمہ میں بدعات داخل ہیں، تو بدعت سے چھٹکارا کیسا؟“
(جاء الحق :1/ 222)
اس کا جواب تو وہی دیں گے، جن سے سوال ہے، حیرانی مگر یہ ہے کہ عقائد کی جس بدعت کو مذموم قرار دیا جا رہا ہے، اسی کا دفاع کیوں؟ کیا ایمان اور کلمہ میں بھی بدعات داخل ہیں؟
بدعت قرآن و حدیث اور اجماع کے مخالف ہوتی ہے:
بعض کہتے ہیں کہ بدعت وہ نیا کام ہے، جو دین کے خلاف ہو، ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ بدعت بے اصل ہوتی ہے، شریعت نے بدعت سے منع کیا ہے، اور خوب سمجھ لیجئے کہ بدعت میں ملوث ہو جانا ہی قرآن، حدیث اور اجماع کی مخالفت ہے۔