مضمون کے اہم نکات
اللہ ربّ العزت نے انسان کو ایمان اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھایا ہے، لیکن کچھ ایسے خطرناک امور بھی ہیں جو انسان کی نیکیوں کو ضائع کر دیتے ہیں اور اس کے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ ایک سچا مومن وہی ہے جو نہ صرف نیک اعمال کرتا ہے بلکہ ان کی حفاظت بھی کرتا ہے اور ہر اُس چیز سے بچتا ہے جو اس کے ایمان اور اعمال کے لیے نقصان دہ ہو۔
زیرِ نظر مضمون میں انہی امور کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اعمالِ صالحہ کو ضائع کر دیتے ہیں، تاکہ ہم ان سے بچ سکیں اور اپنے اعمال کو محفوظ رکھ سکیں۔
➊ اللہ تعالیٰ کی آیات یا قیامت کے دن کا انکار کرنا
جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کر دے یا قیامت کے دن کو جھٹلا دے، اس کے تمام اعمالِ صالحہ اللہ کے نزدیک بے وقعت ہو جاتے ہیں، خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا أُولٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا ﴾
(الکہف: 103–105)
ترجمہ:
’’آپ کہہ دیجئے: کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں خبر دیں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا کی زندگی کی ساری کوششیں ضائع ہو گئیں، حالانکہ وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، چنانچہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، اور قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾
(الأعراف: 147)
ترجمہ:
’’اور جن لوگوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا، ان کے اعمال ضائع ہو گئے، انہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے رہے۔‘‘
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی آیات یا آخرت کا انکار نیکیوں کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے۔
➋ دینِ اسلام سے مرتد ہونا
اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہے، اس کے سوا کوئی دین اللہ کے ہاں قبول نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ ﴾
(آل عمران: 19)
ترجمہ:
’’بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔‘‘
اور فرمایا:
﴿ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴾
(آل عمران: 85)
ترجمہ:
’’اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے، اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘
جو شخص اسلام کو چھوڑ دے، اسے مرتد کہا جاتا ہے۔ ارتداد کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں:
❀ زبان سے کفر آمیز کلمات کہنا
❀ شرکیہ افعال کا ارتکاب کرنا
❀ باطل عقائد اختیار کرنا
❀ یا دین کے بنیادی عقائد میں شک کرنا
ایسا شخص جونہی مرتد ہوتا ہے، اس کے تمام سابقہ نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ﴾
(البقرۃ: 217)
ترجمہ:
’’اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، تو ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے، اور وہ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
البتہ اگر مرتد شخص موت سے پہلے سچی توبہ کر کے دوبارہ اسلام قبول کر لے تو اس کے اعمال محفوظ ہو جاتے ہیں۔
➌ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا
شرک سب سے بڑا گناہ اور عظیم ترین ظلم ہے۔ جو شخص شرک میں مبتلا ہو جائے، اس کے تمام اعمالِ صالحہ برباد ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾
(الأنعام: 88)
ترجمہ:
’’اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا:
﴿ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴾
(الزمر: 65)
ترجمہ:
’’اگر (فرضاً) آپ شرک کریں تو آپ کا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
یہ دراصل امت کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ شرک نیکیوں کو مکمل طور پر برباد کر دیتا ہے۔
➍ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنا
جو شخص اللہ تعالیٰ کا منکر ہو، وہ چاہے کتنے ہی بڑے رفاہی، سماجی یا خیراتی کام کیوں نہ کرے، اللہ کے نزدیک اس کے ان اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، جب تک وہ سچا ایمان نہ لائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ مَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَى شَيْءٍ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ ﴾
(ابراہیم: 18)
ترجمہ:
’’جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا، ان کے اعمال اس راکھ کی مانند ہیں جسے تیز آندھی والے دن سخت ہوا اڑا لے جائے۔ وہ اپنے کیے ہوئے اعمال میں سے کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھیں گے۔ یہی بہت دور کی گمراہی ہے۔‘‘
جس طرح تیز ہوا راکھ کو منتشر کر دیتی ہے اور اس کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی، اسی طرح کافروں کے اعمال بھی قیامت کے دن بے وزن اور بے حیثیت ہوں گے۔
➎ قرآنِ مجید کے کسی حکم کو ناپسند کرنا
قرآنِ مجید یا اس کے کسی بھی حکم کو دل سے ناپسند کرنا بھی اعمالِ صالحہ کے ضائع ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی مقرر کردہ حدود اور سزاؤں کو ناپسند کرتے ہیں، جیسے:
❀ چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا
❀ قاتل کے لیے قصاص
❀ زانی کے لیے حد
❀ خواتین کا حکمِ حجاب
اللہ تعالیٰ ایسے رویے کے بارے میں فرماتا ہے:
﴿ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ﴾
(محمد: 9)
ترجمہ:
’’یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی، تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘
یعنی بظاہر نیکی کے کام، جیسے صلہ رحمی یا خدمتِ حجاج، سب ناپسندیدگی کی وجہ سے برباد ہو گئے۔
➏ اللہ کو ناراض کرنے والی راہوں پر چلنا اور اس کی رضا کو ناپسند کرنا
جو شخص ایسے کاموں کے پیچھے لگ جائے جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے، اور اللہ کی رضا کو ناپسند کرے، حتیٰ کہ اس کی تقدیر پر اعتراض کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ ذٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللّٰهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ﴾
(محمد: 28)
ترجمہ:
’’یہ اس لیے کہ انہوں نے ان چیزوں کی پیروی کی جن سے اللہ ناراض ہوا اور اس کی رضا کو ناپسند کیا، تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘
➐ اعتقادی نفاق
اعتقادی نفاق یہ ہے کہ آدمی ظاہراً مسلمان بن کر رہے، لیکن دل میں کفر چھپائے رکھے، کفار سے خفیہ دوستی رکھے اور مسلمانوں کے ساتھ صرف ظاہری تعلقات قائم کرے۔ ایسا نفاق انسان کے تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ منافقوں کے بارے میں فرماتا ہے:
﴿ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ﴾
(المائدۃ: 52)
ترجمہ:
’’آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہیں ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ ﴾
(المائدۃ: 53)
ترجمہ:
’’ان کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ نقصان اٹھانے والے بن گئے۔‘‘
اسی طرح غزوۂ احزاب کے موقع پر منافقوں کے طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ أُولٰئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللّٰهُ أَعْمَالَهُمْ ﴾
(الأحزاب: 19)
ترجمہ:
’’یہ لوگ ایمان نہیں لائے، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘
➑ ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول ﷺ کی مخالفت کرنا
ایک سچا مومن کبھی جان بوجھ کر رسول اکرم ﷺ کی مخالفت نہیں کرتا۔ لیکن جس کے دل میں کفر ہو، وہ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی نبی ﷺ کی مخالفت کرتا ہے، اور ایسے شخص کے اعمال اللہ تعالیٰ ضائع کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللّٰهِ وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَىٰ لَنْ يَضُرُّوا اللّٰهَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ ﴾
(محمد: 32)
ترجمہ:
’’جن لوگوں نے کفر کیا، اللہ کی راہ سے روکا، اور ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول ﷺ کی مخالفت کی، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اور اللہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔‘‘
➒ رسولِ اکرم ﷺ کی بے ادبی
اعمالِ صالحہ کے ضیاع کا ایک نہایت خطرناک سبب رسولِ اکرم ﷺ کی بے ادبی اور گستاخی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر نبی کریم ﷺ کی تعظیم، توقیر اور ادب کو لازم قرار دیا ہے، اور آپ ﷺ کی بے ادبی کو سختی سے حرام فرمایا ہے۔
اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی ﷺ کی موجودگی میں بلند آواز سے بات کرنے اور آپ ﷺ کو عام لوگوں کی طرح نام لے کر پکارنے سے منع کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ﴾
(النور: 63)
ترجمہ:
’’رسول ﷺ کو اس طرح نہ پکارو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔‘‘
اور فرمایا:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ﴾
(الحجرات: 2)
ترجمہ:
’’اے ایمان والو! نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کرو، اور نہ ان سے اس طرح اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘
یہ آیت واضح دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بے ادبی انسان کے اعمال کو اس کے شعور کے بغیر بھی برباد کر سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ﴾
(الفتح: 8–9)
ترجمہ:
’’بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، ان کی مدد کرو، ان کا ادب کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرو۔‘‘
➓ ریاکاری
ایسے اعمال جن میں نیت خالص نہ ہو بلکہ لوگوں کو دکھانے، تعریف سننے یا دنیاوی فائدے کے لیے کیے جائیں، وہ اللہ کے ہاں رائیگاں چلے جاتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ ))
“بے شک مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے۔”
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: شرکِ اصغر کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( الرِّيَاءُ ))
الصحیحۃ للألبانی: 951
ترجمہ:
’’مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے۔‘‘
’’اور شرکِ اصغر ریاکاری ہے۔‘‘
اور فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ریاکاروں سے کہے گا:
(( اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً ))
ترجمہ:
’’جن لوگوں کے لیے تم دنیا میں ریا کرتے تھے، ان کے پاس چلے جاؤ، دیکھو کیا وہ تمہیں کوئی بدلہ دیتے ہیں؟‘‘
اسی طرح ایک شخص نے پوچھا کہ جو جہاد اس نیت سے کرے کہ اجر بھی ملے اور شہرت بھی، تو اس کا کیا بدلہ ہے؟
آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا:
(( لَا شَيْءَ ))
’’اسے کچھ بھی نہیں ملے گا۔‘‘
پھر فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ))
سنن النسائی: 3140، وصححہ الألبانی
ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے کیا جائے اور اسی کی رضا مقصود ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ ﴾
(البقرۃ: 264)
ترجمہ:
’’اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے۔‘‘
⓫ خلوت میں محرمات کا ارتکاب
لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر تنہائی میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرنا بھی نیکیوں کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بَيْضًا فَيَجْعَلُهَا اللّٰهُ هَبَاءً مَنْثُورًا ))
“میں اپنی امت کے کچھ ایسے لوگوں کو ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر سفید (روشن) نیکیاں لے کر آئیں گے، مگر اللہ تعالیٰ انہیں اڑتی ہوئی گرد بنا دے گا۔”
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی وضاحت فرما دیجئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( هُمْ إِخْوَانُكُمْ… وَلَكِنَّهُمْ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللّٰهِ انْتَهَكُوهَا ))
سنن ابن ماجہ: 4245، الصحیحۃ: 505
ترجمہ:
’’وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، رات کی عبادت بھی کریں گے، لیکن جب تنہائی میں اللہ کی حرام کردہ چیزیں سامنے آئیں گی تو ان سے نہیں بچیں گے۔‘‘
⓬ نمازِ عصر کو جان بوجھ کر چھوڑنا
نمازِ عصر کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا اعمالِ صالحہ کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ﴾
(البقرۃ: 238)
ترجمہ:
’’تمام نمازوں کی حفاظت کرو، خاص طور پر درمیانی نماز کی۔‘‘
(درمیانی نماز سے مراد نمازِ عصر ہے)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ ))
صحیح البخاری: 553
ترجمہ:
’’جس نے نمازِ عصر چھوڑ دی، اس کا عمل ضائع ہو گیا۔‘‘
⑬ نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جانا
نجومیوں، کاہنوں اور غیب دانی کا دعویٰ کرنے والوں کے پاس جانا اور ان سے اپنی مشکلات یا مستقبل کے بارے میں پوچھنا اعمالِ صالحہ کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
(( مَنْ أَتَىٰ عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ))
صحیح مسلم: 2230، صحیح الجامع للألبانی: 5940
ترجمہ:
’’جو شخص کسی نجومی یا کاہن کے پاس جائے اور اس سے کسی بات کے بارے میں سوال کرے، اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔‘‘
اور فرمایا:
(( مَنْ أَتَىٰ عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ ﷺ ))
صحیح الجامع للألبانی: 5939
ترجمہ:
’’جو شخص کسی نجومی یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، اس نے محمد ﷺ پر نازل کردہ دین کا انکار کیا۔‘‘
⑭ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ کہنا کہ فلاں شخص کو اللہ معاف نہیں کرے گا
اللہ تعالیٰ نہایت غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کی رحمت سے مایوس کرنا یا اس کے بارے میں قسم کھا کر یہ کہنا کہ وہ فلاں شخص کو معاف نہیں کرے گا، انتہائی خطرناک بات ہے جو نیکیوں کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾
(الزمر: 53)
ترجمہ:
’’کہہ دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے، یقیناً وہی بہت معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘
حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں کو معاف نہیں کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(( مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّىٰ عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ؟ ))
“وہ کون ہے جو میرے بارے میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو ہرگز معاف نہیں کروں گا؟”
پھر فرمایا:
(( فَقَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ ))
صحیح مسلم: 2621
ترجمہ:
’’وہ کون ہے جو میرے بارے میں قسم کھا کر یہ کہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا؟ میں نے فلاں کو معاف کر دیا اور تیرے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘
⑮ اللہ کے بندوں کی حق تلفی کرنا (حقوق العباد)
اعمالِ صالحہ کے ضیاع کا سب سے سنگین اور خطرناک سبب اللہ کے بندوں کے حقوق غصب کرنا، ان پر ظلم کرنا اور دنیا میں ان سے معافی نہ مانگنا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ ))
“کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟”
صحابہ نے کہا:
(( الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ ))
“ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان۔”
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هٰذَا، وَقَذَفَ هٰذَا، وَأَكَلَ مَالَ هٰذَا، وَسَفَكَ دَمَ هٰذَا، وَضَرَبَ هٰذَا… ))
صحیح مسلم: 2581
ترجمہ:
’’میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں ان لوگوں میں بانٹ دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(( مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ ))
صحیح البخاری: 2449، 6534
ترجمہ:
’’جس کے ذمے اپنے بھائی کا کوئی حق ہو، وہ آج ہی اس سے معاف کروا لے، اس دن سے پہلے جب نہ دینار ہوگا نہ درہم۔‘‘
اور فرمایا:
(( مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللّٰهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ))
صحیح مسلم: 137
ترجمہ:
’’جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مار لے، اللہ اس کے لیے جہنم واجب اور جنت حرام کر دیتا ہے، خواہ وہ حق مسواک کی لکڑی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
نتیجہ
ایک سچے مومن کے لیے صرف نیک اعمال کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی حفاظت بھی نہایت ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان، نیت اور اعمال کی مسلسل نگرانی کریں اور ہر اس چیز سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اعمال کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور حقوق العباد ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے اعمال کو شرفِ قبولیت بخشے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ