اعضا اور زخموں میں دیت کا تعین

تحریر: عمران ایوب لاہوری

دونوں آنکھوں ، ہونٹوں ، ہاتھوں ، پاؤں اور خصیوں میں پوری دیت ہے اور ان میں سے ایک پر نصف دیت ہے ۔ اسی طرح ناک ، زبان ، ذکر ، پشت اور دماغ تک پہنچنے والے اور پیٹ تک پہنچنے والے زخم میں مظلوم کی دیت کا ایک ثلث لاگو ہو گا اور ہڈی کو اپنی جگہ سے ہلا دینے والے زخم میں دیت کا دسواں اور دسویں کا نصف (یعنی پندرہ اونٹ ) اور ہڈی کو توڑ دینے والے زخم میں دیت کا دسواں حصہ ہے اور ہڈی کو واضح کرنے والے زخم میں بھی اسی طرح دیت ہو گی
المامومة: ایسا زخم جو دماغ تک پہنچ جائے (یعنی دماغ اور زخم کے درمیان صرف باریک جھلی حائل ہو ) ۔
المنقلة: وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ کر اس میں داخل ہو جائے ۔
المنقلة: وہ زخم جو ہڈی کو اپنی جگہ سے ہلا دے ۔
الموضحة: جو ہڈی کو توڑے نہ لیکن اسے ظاہر کر دے ۔
الهاشمة: ہڈی توڑ دینے والا زخم ۔
[نيل الأوطار: 499/4 ، سبل السلام: 1600/3 ، الروضة الندية: 666/2]
➊ حضرت عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو جو خط لکھا اس میں یہ بھی تھا کہ ”جس نے ایک بے گناہ شخص کو قتل کیا اور اس قتل کے گواہ بھی موجود ہوں تو اس پر قصاص لازم ہے إلا کہ اگر مقتول کے ورثاء (معاف کرنے پر ) رضامند ہو جائیں تو ایک جان کے قتل کی دیت سو اونٹ ہے اور ناک میں بھی پوری دیت ہے جبکہ اسے جڑ سے کاٹا گیا ہو اور دونوں آنکھوں اور زبان اور دونوں ہونٹوں کے عوض بھی پوری دیت ہے ۔ اسی طرح عضو مخصوص خصیتین میں پوری دیت ہے اور پشت میں بھی پوری دیت ہے اور ایک پاؤں کی صورت میں آدھی دیت ہے اور دماغ کے زخم اور پیٹ کے زخم میں ایک تہائی دیت ہے اور وہ زخم جس سے ہڈی ٹوٹ جائے اس میں پندرہ اونٹ اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے اور ایسے زخم میں جس سے ہڈی نظر آنے لگے پانچ اونٹ دیت ہے ۔“
[مؤطا: 849/2 ، نسائي: 77/8 ، ابو داود فى المراسيل: 259 ، دارمي: 188/2 ، ابن حبان: 6559 ، حاكم: 395/1 ، بيهقي: 87/1 ، دار قطني: 121/1 ، ابن خزيمة: 2269]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هذه و هذه سواء يعنى الخنصر والإبهام
”یہ اور یہ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا (دیت میں ) برابر ہیں ۔“
[بخاري: 6895 ، كتاب الديات: باب دية الأصابع ، ابو داود: 4558 ، ترمذي: 1392 ، نسائي: 56/8 ، ابن ماجة: 6252 ، عبد بن حميد: 572 ، دارمي: 194/2 ، احمد: 227/1]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
دية أصابع اليدين والرجلين سواء عشر من الإبل لكل إصبع
”ہاتھوں اور پاؤں کی دیت برابر ہے ۔ ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ دیت ہے ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 2272 ، ترمذي: 1391 ، كتاب الديات: باب ما جاء فى دية الأصابع ، ابن حبان: 60/12/13]
➍ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الأصابع سواء والأسنان سواء الثنية والضرس سواء
”تمام انگلیاں برابر ہیں ، تمام دانت برابر ہیں ثنیہ (اوپر اور نیچے کے درمیانی دو دانت ) اور داڑھ برابر ہے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3813 ، كتاب الديات: باب أسنان الإبل ، ابو داود: 4559 ، احمد: 289/1]
➎ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فى المواضح خمس خمس من الإبل
”جن زخموں سے ہڈی ظاہر ہو جائے ان میں پانچ اونٹ (دیت ) ہے ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2150 ، كتاب الديات: باب الموضحة ، ابن ماجة: 2655 ، إرواء الغليل: 2285 ، 2288 ، نسائي: 57/8 ، ترمذي: 1390 ، احمد: 179/2]
➏ سنن أبی داود کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
فى كل إصبع عشر من الإبل وفي كل سن خمس من الإبل
”ہر انگلی میں دو اونٹ اور ہر دانت میں پانچ اونٹ دیت ہے ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3818 ، كتاب الديات: باب ديات الأعضاء ، ابو داود: 4554 ، نسائي: 57/8 ، ابن ماجة: 2653 ، ابن الجارود: 781 ، احمد: 217/2]
➐ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم أو حب فى الهاشمة عشرا من الإبل
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی توڑ دینے والے زخم میں دس اونٹ واجب کیے ہیں ۔“
[دارقطني: 201/3 ، 357 ، بيهقي: 82/8 ، عبد الرزاق: 314/9 ، 17348]
(احناف ، شافعیہ ) ہر (انگلی کے ) پورے میں انگلی کی دیت کا ثلث ہے لیکن انگوٹھے کے پورے میں اس کا نصف ہے ۔
(مالکؒ ) نہیں بلکہ اس میں بھی ثلث ہی ہے ۔
[نيل الأوطار: 502/4]
(مالکؒ ، شافعیؒ ) داڑھ کے ٹوٹنے میں ایک اونٹ ہے اور امام شافعیؒ سے ایک روایت میں یہ قول مروی ہے کہ ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں (اور یہی برحق ہے جیسا کہ پیچھے حدیث گزری ہے ) ۔
[الأم: 457/12 ، بيهقي: 90/8]
اور جو ان مذکورہ زخموں کے علاوہ زخم ہیں ان کی دیت ان میں سے کسی کی طرف اقرب نسبت کے لحاظ سے ہو گی
اس صورت میں فیصلہ مجتہد کی رائے پر ہو گا نہ کہ گذشتہ صحابہ و تابعین کے اقوال اور فیصلوں پر ۔ مثلاً دیکھا جائے گا کہ گوشت کی کتنی مقدار اتری ہے اور کتنی مقدار باقی ہے پھر اس زخم کی مکمل دیت سے اترے ہوئے (گوشت ) کے مطابق دیت کا فیصلہ کر دیا جائے گا ۔
[الروضة الندية: 667/2 ، السيل الجرار: 450/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے