اعضاء اور زخموں میں قصاص کے احکام و مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، قصاص اور جرائم کا بیان:جلد 02: صفحہ384

اعضاء اور زخموں میں قصاص کا حکم

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جسمانی اعضاء اور زخموں میں قصاص لینا کتاب، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَكَتَبنا عَلَيهِم فيها أَنَّ النَّفسَ بِالنَّفسِ وَالعَينَ بِالعَينِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالجُروحَ قِصاصٌ …﴿٤٥﴾… سورة المائدة

"اور ہم نے یہودیوں کے ذمے تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔” [المائدہ:5:45۔]

صحیحین میں سیدہ ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دانت توڑنے کا واقعہ مذکور ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"كِتَابُ اللَّهِ القِصَاصُ”

"کتاب اللہ میں اللہ کا قانون قصاص ہے۔” [صحیح البخاری الصلح باب الصلح فی الدیۃ حدیث 2703۔ وصحیح مسلم القسامۃ باب اثبات القصاص فی الاسنان وما فی معناھا حدیث1675۔]

جس شخص سے جان کا قصاص لینا درست ہو، اس سے اعضاء اور زخموں کا قصاص لینا بھی درست ہے، بشرطیکہ اس میں درج ذیل شرائط موجود ہوں:

① جسے زخم لگایا گیا ہو یا جس کا کوئی عضو کاٹ دیا گیا ہو، وہ شخص بے قصور ہو۔

② جنایت کرنے والا مکلف ہو۔

③ مظلوم، آزادی اور غلامی کے اعتبار سے، جنایت کرنے والے کے برابر ہو، اور جنایت کرنے والا اس کا باپ، دادا یا نانا نہ ہو۔

جس شخص سے جان کا بدلہ لینا درست نہیں، اس سے زخم یا عضو کاٹ دینے کا بدلہ لینا بھی درست نہیں۔ اس باب میں یہی قاعدہ جاری ہوتا ہے۔ مثلاً: اگر باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا یا زخمی کر دیا تو اس میں قصاص نہیں ہوگا۔

جو صورتیں جان کے قصاص کو واجب قرار دیتی ہیں، وہی صورتیں اعضاء کے قصاص کو بھی واجب قرار دیتی ہیں۔ یعنی جنایت کرنے والا عمداً جنایت کا مرتکب ہو۔ لہٰذا "شبہ عمد” یا "خطا” کی صورت میں زخموں اور اعضاء میں قصاص نہیں ہوگا۔

اعضاء میں قصاص کی صورت یہ ہے کہ:
◈ آنکھ کے بدلے آنکھ
◈ ناک کے بدلے ناک
◈ کان کے بدلے کان
◈ ہاتھ کے بدلے ہاتھ
◈ ٹانگ کے بدلے ٹانگ
◈ دائیں عضو کے بدلے دایاں عضو
◈ بائیں عضو کے بدلے بایاں عضو

جس نے دانت توڑا ہو، قصاص میں بھی اسی قسم کا دانت توڑا جائے گا۔ اگر آنکھ کا پپوٹا، اوپر والا ہو یا نیچے والا، کاٹا گیا ہو یا زخمی کیا گیا ہو، تو قصاص میں مجرم کا بھی وہی پپوٹا کاٹا یا زخمی کیا جائے گا۔ اسی طرح ہونٹ، اوپر والا ہو یا نیچے والا، قصاص میں مجرم کا بھی وہی ہونٹ کاٹا یا زخمی کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ”

"اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔” [المائدہ:5۔45۔]

انگلی کے بدلے وہی انگلی کاٹی جائے گی جو جگہ اور نام میں اس سے مشابہ ہو۔ ہتھیلی کے بدلے وہی ہتھیلی کاٹی جائے گی جو اس کے مشابہ ہو۔ دائیں ہتھیلی کے بدلے دائیں ہتھیلی اور بائیں ہتھیلی کے بدلے بائیں ہتھیلی کاٹی جائے گی۔ کہنی بھی اسی طرح دائیں کے بدلے دائیں اور بائیں کے بدلے بائیں کاٹی جائے گی۔ اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ کاٹی جائے گی، کیونکہ ان اعضاء کی حد بندی موجود ہے اور حد سے تجاوز کیے بغیر قصاص لینا ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ”

"اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔” [المائدہ:5۔45۔]

عضو میں قصاص لینے کی تین شرائط

زیادہ ٹوٹنے یا زیادہ کٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو:
یعنی قصاص میں مجرم کا کوئی عضو جوڑ سے کاٹنا ہو یا اس کی کوئی حد ہو جہاں جا کر وہ ختم ہوتا ہو، تو یہ درست ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اس میں قصاص لینا جائز نہیں۔ لہٰذا ایسے زخم میں قصاص نہیں ہوگا جس کے لگانے کا اثر منتہی نہ ہو۔ مثلاً: جائفہ، یعنی ایسا زخم جس کا اثر پیٹ کے اندر تک ہو۔ اسی طرح دانت کی ہڈی کے سوا پنڈلی، ران یا بازو کی ہڈی توڑنے میں بھی مماثلت کا امکان نہیں، اس لیے اس میں قصاص نہیں ہوگا۔ البتہ دانت کی ہڈی میں قصاص ممکن ہے، اس طرح کہ جنایت کرنے والے کا مطلوبہ دانت ریتی وغیرہ سے رگڑ کر اتنا اتار دیا جائے جتنا دانت اس نے توڑا تھا۔

عضو کے نام اور جگہ میں مماثلت ہو:
قصاص میں ظالم اور مظلوم دونوں کے عضو کے نام اور جگہ میں مماثلت کا لحاظ کیا جائے گا۔ ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور کان وغیرہ اعضاء میں دایاں دائیں کے بدلے اور بایاں بائیں کے بدلے کاٹا جائے گا، اس کے برعکس نہیں۔ کیونکہ ہر حصے اور ہر عضو کی ایک خاص منفعت اور خاص نام ہوتا ہے، اس لیے دایاں اور بایاں عضو مساوی نہیں ہو سکتے۔ ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی، ساتھ والی انگلی کے برابر نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا جو انگلی کاٹی گئی ہو، قصاص میں بھی وہی انگلی کاٹی جائے گی۔ اسی طرح اصلی عضو کے بدلے کسی کا زائد عضو نہیں کاٹا جائے گا۔

عضو کا صحیح یا مریض اور کامل یا ناقص ہونے میں برابری:
ظالم اور مظلوم دونوں کے عضو کے صحیح یا مریض ہونے، اور کامل یا ناقص ہونے میں بھی برابری ہونی چاہیے۔ لہٰذا کامل اور صحت مند ہاتھ یا ٹانگ کے بدلے میں ظالم کا بیمار یا ناکارہ ہاتھ یا ٹانگ نہیں کاٹی جائے گی۔ اسی طرح پوری انگلیوں اور پورے ناخن والا ہاتھ یا پاؤں، ناقص عضو کے بدلے میں نہیں کاٹا جائے گا، بلکہ اس صورت میں دیت ہوگی۔ قصاص میں دیکھنے والی اور نہ دیکھنے والی آنکھ، یا بولنے والی اور نہ بولنے والی زبان برابر نہیں ہیں۔ البتہ اس صورت میں اگر مظلوم چاہے تو اپنے کامل عضو کے بدلے مجرم کا ناقص عضو کاٹ کر قصاص لے سکتا ہے، ورنہ دیت قبول کر لے۔

زخموں میں قصاص

ہر وہ زخم جو ہڈی تک اثر کر جائے، اس میں قصاص ہے، کیونکہ اس میں کمی بیشی کے بغیر پورا بدلہ لینا ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً: سر یا چہرے کا ایسا زخم جس سے ہڈی ننگی ہو جائے، یا بازو، پنڈلی، ران اور قدم کا زخم۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ”

"اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے۔” [المائدہ:5۔45۔]

جو زخم ہڈی تک نہ پہنچے، اس میں قصاص نہیں ہوگا۔ مثلاً: سر وغیرہ کا معمولی زخم یا پیٹ کا گہرا زخم۔ اس میں کمی بیشی ضرور ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"لا قود في المأمومة ولا في الجائفة، ولا في المنقلة”

"مامومہ، جائفہ اور منقلہ میں قصاص نہیں۔” [سنن ابن ماجہ الدیات باب مالا قود فیہ حدیث 2637۔]

یاد رہے:
◈ مامومہ سے مراد ایسا زخم ہے جو دماغ تک پہنچ جائے۔
◈ جائفہ وہ زخم ہے جو پیٹ کے اندر تک پہنچے۔
◈ منقلہ وہ زخم ہے جس سے سر پھٹ جائے اور ہڈی سرک جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "زخموں میں قصاص کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے، بشرطیکہ دونوں شخصوں میں مساوات ہو۔ اگر کسی نے سر پھوڑ دیا تو قصاص میں بھی سر پھوڑا جائے گا۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو، مثلاً: کسی نے اندرونی ہڈی توڑ دی یا سر میں ایسا زخم لگایا جو گہرا نہ تھا، تو اس میں قصاص نہیں بلکہ دیت واجب ہے۔” [مجموع الفتاوی 1/475۔]

ہاتھ، لاٹھی یا کوڑے وغیرہ کی ضرب میں قصاص سے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہل علم کی ایک جماعت کی یہ رائے ہے کہ اس میں قصاص نہیں بلکہ تعزیر ہے۔ لیکن خلفائے راشدین، دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہ سے مذکورہ صورتوں میں قصاص منقول ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر فقہائے کرام سے بھی یہی منقول ہے۔ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی یہی وارد ہے۔ اور یہی موقف درست ہے۔” [ملاحظہ کیجئے سابقہ حوالہ۔]

سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "میں اپنے عمال کو اس لیے نہیں بھیج رہا کہ وہ لوگوں کو ماریں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جس نے ایسا کیا، میں اس سے قصاص لوں گا۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قصاص کے لیے خود اپنے آپ کو پیش کرتے تھے۔” [مسند احمد :1/41باختصار و مجموع الفتاوی 28/379۔380۔]

اس کا مطلب یہ ہے کہ حاکم سے قصاص اس وقت لیا جائے گا جب وہ کسی کو ناجائز سزا دے۔ اگر سزا جائز ہو تو اس میں بالاجماع قصاص نہیں۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شافعیہ، حنفیہ، مالکیہ اور متاخرین حنابلہ وغیرہ کا یہ مسلک ہے کہ تھپڑ اور ضربہ (مارنے) میں قصاص نہیں۔ بعض نے اس پر اجماع کا دعویٰ بھی نقل کیا ہے، حالانکہ یہ قول قیاس صریح، نصوص اور اجماع صحابہ کے خلاف ہے۔” پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں:

﴿وَإِن عاقَبتُم فَعاقِبوا بِمِثلِ ما عوقِبتُم بِهِ…﴿١٢٦﴾… سورة النحل

"اور تم اگر بدلہ لو تو بالکل اتنا ہی بدلہ لو جتنا صدمہ تمھیں پہنچایا گیا ہے۔” [النحل:16۔126۔]

پھر فرماتے ہیں: "مظلوم کو چاہیے کہ تھپڑ کے بدلے تھپڑ رسید کرے، اور اسی جگہ پر مارے جہاں اسے مارا گیا تھا، اور ویسی ہی چیز سے ضرب لگائے جس چیز سے اسے ضرب لگائی گئی۔ یہی طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، خلفائے راشدین کا بھی یہی عمل ہے، اور قیاس کا بھی یہی تقاضا ہے۔” [اعلام الموقعین :1/294۔]

ایک شخص کا قصاص پوری جماعت سے لینے کا بیان

اگر لوگوں کی ایک جماعت مل کر ایک شخص کو ارادتاً ظلماً قتل کر دے تو ان سب سے قصاص لیا جائے گا۔ علماء کی صحیح رائے کے مطابق مقتول کے بدلے میں سب قتل کیے جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں عموم ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ القِصاصُ فِى القَتلَى الحُرُّ بِالحُرِّ وَالعَبدُ بِالعَبدِ وَالأُنثىٰ بِالأُنثىٰ فَمَن عُفِىَ لَهُ مِن أَخيهِ شَىءٌ فَاتِّباعٌ بِالمَعروفِ وَأَداءٌ إِلَيهِ بِإِحسـٰنٍ ذ‌ٰلِكَ تَخفيفٌ مِن رَبِّكُم وَرَحمَةٌ فَمَنِ اعتَدىٰ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ فَلَهُ عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٧٨﴾ وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيو‌ٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾… سورةالبقرة

"اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، اور عورت عورت کے بدلے۔ ہاں! جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو اسے معروف طریقے سے اتباع (دیت کا مطالبہ) کرنا چاہیے، اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے۔ تمھارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے۔ اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے، اس کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ عقل مندو! قصاص میں تمھارے لیے زندگی ہے، تاکہ تم (قتل ناحق سے) رک جاؤ۔” [البقرۃ:2/179۔178۔]

اس مسئلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اجماع بھی موجود ہے۔ جناب سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ "سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سات افراد کو ایک آدمی کے قصاص میں قتل کروا دیا تھا، کیونکہ وہ سب ایک آدمی کو دھوکے سے قتل کرنے میں شریک تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر صنعاء شہر کے سارے باشندے اس آدمی کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔” [صحیح البخاری الدیات باب اذا اصاب قوم من رجل حدیث6896۔]

علاوہ ازیں دیگر صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے کہ ایک آدمی کے قتل میں انہوں نے ایک سے زیادہ افراد، جو قتل میں شریک تھے، سب کو قتل کیا ہے۔ اس مسئلے کی مخالفت کسی صحابی سے منقول نہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اس پر اجماع تھا۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایک آدمی کے قتل میں شریک پوری جماعت کو قتل کرنے پر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور اکثر فقہائے کرام عظام کا اتفاق ہے۔ اگرچہ یہ قصاص ظاہری ضابطہ، یعنی ایک شخص کے بدلے میں ایک شخص کو قتل کیا جائے، کے خلاف ہے، لیکن اس میں حکمت اور مقصد یہ ہے کہ دوسروں سے قصاص نہ لینا ناجائز خونریزی میں تعاون کا ذریعہ نہ بن جائے۔” [اعلام الموقعین 3/128۔]

علامہ ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "قتل کا بدلہ قتل، معاشرے میں خونریزی کو روکنے کے لیے ہے، جیسا کہ قرآن مجید نے اس پر تنبیہ کی ہے۔ اگر ایک فرد کے قتل میں شریک جماعت کو قتل نہ کیا جائے تو قتل و غارت کا خطرناک دروازہ کھل جائے گا، کیونکہ پھر کسی بھی آدمی کو قتل کرنے کے لیے متعدد افراد اس لیے ایکا کر لیں گے کہ انہیں قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ نیز زجر و توبیخ کا مقصد تبھی حاصل ہوگا اور مقتول کے ورثاء کی تسلی بھی تبھی ہوگی جب قتل میں شریک تمام افراد سے قصاص لیا جائے گا۔” [بدایۃ المجتہد :2/710۔]

ایک فرد کے قتل میں شریک جماعت کے تمام افراد کو اسی وقت قتل کیا جائے گا جب ہر ایک نے ایسا کام کیا ہو جس سے آدمی قتل ہو جائے۔ اگر ہر شخص کا انفرادی عمل جان لینے کا موجب نہ ہو، لیکن وہ سب باہمی مشورے میں شریک تھے اور کچھ افراد نے قتل کیا، تو سب سے قصاص لینا واجب ہوگا، کیونکہ قتل میں ہر ایک دوسرے کا معاون تھا۔

اگر ایک شخص نے کسی کو مجبور کیا کہ فلاں کو قتل کر دو، چنانچہ اس نے مجبوری میں اسے قتل کر دیا، تو مجبور کرنے والے اور جسے مجبور کیا گیا ہے دونوں کو قصاص میں قتل کیا جائے گا، بشرطیکہ دونوں میں قصاص کی مذکورہ جملہ شرائط موجود ہوں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قاتل نے خود کو زندہ رکھنے کے لیے قتل کیا ہے، جبکہ مجبور کرنے والا قتل کا سبب بنا ہے۔

جس نے بچے یا دیوانے شخص کو حکم دیا کہ فلاں شخص کو قتل کر دو اور اس نے قتل کر دیا، تو اس صورت میں قصاص صرف اسی شخص سے لیا جائے گا جس نے قتل کا حکم دیا ہے، کیونکہ اس میں قاتل، حکم دینے والے کا آلہ بنا ہے۔ نیز بچہ اور دیوانہ شرعاً مکلف نہیں، اس لیے ان سے قصاص بھی نہیں لیا جائے گا۔

اسی طرح اگر کسی نے ایسے عاقل و بالغ شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا جسے یہ علم نہ تھا کہ مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے، جیسے کوئی شخص غیر مسلم ملک میں پیدا ہوا ہو اور اسے احکام شریعت سے واقفیت نہ ہو، اور اس نے مقرر شخص کو قتل کر دیا، تو قصاص صرف اسی سے لیا جائے گا جس نے حکم دیا، کیونکہ وہی قتل کا سبب بنا ہے۔ باقی رہا قاتل، تو وہ عدم علم کی وجہ سے معذور سمجھا جائے گا۔

اگر مامور شخص عاقل و بالغ ہو اور حرمت قتل سے واقف ہو، تو اگر وہ کسی کو قتل کر دے گا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

"لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق”

"خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔” [مسند احمد 1/131۔ والمصنف لا بن ابی شیبہ السیر باب فی امام السریہ یا مرھم بالمعصیہ من قال لا طاعۃ لہ 6/549حدیث 33706۔ واللفظ لہ۔]

یاد رہے، حکم دینے والا بادشاہ ہو یا مالک یا کوئی اور شخص، حکم دینے والے کو وقت و حالات کے مطابق عبرتناک سزا دی جائے گی، کیونکہ یہ شخص گناہ کے ارتکاب کا سبب ثابت ہوا ہے۔

اگر ایک شخص کو عمداً قتل کرنے میں دو آدمی شریک تھے لیکن ایک میں وجوب قصاص کی شرائط موجود نہیں تھیں اور دوسرے میں وہ شرائط پائی جاتی تھیں، تو دوسرے شخص سے قصاص لیا جائے گا، کیونکہ وہ قتل میں شریک ہے۔ پہلے سے قصاص نہیں لیا جائے گا، کیونکہ اس میں قصاص نہ لیے جانے کا سبب موجود ہے۔

جس نے کسی کو پکڑ کر رکھا یہاں تک کہ دوسرے نے اسے قتل کر دیا، تو قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا، جبکہ پکڑنے والے کو جیل میں قید رکھا جائے گا یہاں تک کہ وہ وہیں مر جائے۔ [مؤلف نے جیل میں قید رکھنے کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی۔]

جس طرح چند افراد مل کر ایک شخص کو قتل کر دیں تو سب سے قصاص لیا جاتا ہے، اسی طرح اگر کچھ افراد مل کر کسی کو زخم لگائیں یا اس کا کوئی عضو کاٹ دیں، تو ان سب کو زخم لگایا جائے گا، یا عضو کاٹنے کی صورت میں سب کا وہی عضو کاٹا جائے گا جو انہوں نے مل کر کاٹا تھا، کیونکہ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ اس جرم میں کس نے کتنا حصہ لیا۔

مثلاً: کچھ لوگوں نے ایک شخص کے ہاتھ پر تیز دھار آلہ رکھا، پھر انہوں نے مل کر زور لگایا جس سے ہاتھ کٹ گیا، تو اسی طرح ان تمام مجرموں کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔

چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو آدمیوں نے گواہی دی کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گواہی کی بنیاد پر ملزم کا ہاتھ کاٹ دیا۔ تھوڑی دیر بعد یہ دونوں ایک اور شخص کو پکڑ کر لے آئے اور کہا: اصل چور تو یہ ہے، پہلے شخص کے بارے میں ہم سے غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوسرے شخص کے خلاف دونوں کی گواہی رد کر دی، اور پہلے شخص پر غلط الزام لگانے کی وجہ سے ان دونوں پر دیت عائد کر دی، اور فرمایا:

"لو علمت أنكما تعمدتما لقطعتكما”

"اگر مجھے علم ہوتا کہ تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو میں تم دونوں کے ہاتھ کاٹ دیتا۔” [صحیح البخاری الدیات باب اذا اصاب قوم من رجل ھل یعاقب او ینقص منھم کلھم ؟قبل حدیث6896۔ معلقاً۔]

کسی عضو پر جنایت کی وجہ سے اس کا اثر دوسرے عضو تک پہنچ جائے یا اس کے نتیجے میں جان چلی جائے، تو یہ اثر بھی جنایت میں شامل سمجھا جائے گا، کیونکہ جس چیز کی ذمے داری قبول کی جاتی ہے، اس کے اثرات کی ذمے داری بھی اسی میں شامل ہوتی ہے۔ مثلاً: اگر ایک انگلی کاٹی گئی، پھر زخم خراب ہو جانے کی وجہ سے دوسری انگلی یا پورا ہاتھ ضائع ہو گیا، تو قصاص میں پورا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور اگر کسی چھوٹی جنایت کے نتیجے میں جان ضائع ہو گئی تو قصاص واجب ہوگا۔

کسی عضو یا زخم میں اس وقت تک قصاص لینا درست نہیں جب تک وہ درست نہ ہو جائے، کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ:

"أن رجلا جرح ، فأراد أن يستقيد ، فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يستقاد من الجارح حتى يبرأ المجروح”

"ایک شخص کو زخمی کر دیا گیا۔ جب مظلوم نے بدلہ لینا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا کہ وہ تندرست ہونے سے پہلے بدلہ نہ لے۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی 3/87حدیث 3092۔]

اس میں حکمت یہ ہے کہ ممکن ہے مظلوم کا زخم خراب ہو جائے اور وہ خرابی آگے سرایت کر جائے، جس کی وجہ سے پورا عضو ناکارہ ہو جائے یا اس کی جان چلی جائے۔ اگر اس نے زخم کے لگنے کے فوراً بعد قصاص لے لیا، پھر بعد میں اس کے زخم نے سارے عضو کو ضائع کر دیا، تو اسے مزید قصاص نہیں دلوایا جائے گا، کیونکہ اس نے قصاص لینے میں جلد بازی سے کام لیا ہے۔

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

” قضى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – في رجل طعن رجلا بقرن في رجله ” , فقال: يا رسول الله أقدني , فقال له رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: ” لا تعجل حتى يبرأ جرحك ” , قال: فأبى الرجل إلا أن يستقيد , ” فأقاده رسول الله – صلى الله عليه وسلم – منه ” , قال: فعرج المستقيد , وبرأ المستقاد منه , فأتى المستقيد إلى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فقال له: يا رسول الله , عرجت وبرأ صاحبي , فقال له رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: ” ألم آمرك ألا تستقيد حتى يبرأ جرحك فعصيتني؟ , فأبعدك الله وبطل جرحك "

"ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے کی ہڈی میں نیزے کا بھالا مار دیا۔ مضروب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے قصاص چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی نہ کر، جب تندرست ہو جائے گا تب قصاص لے لینا۔ لیکن اس نے قصاص لینے پر اصرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلا دیا۔ جس نے قصاص لیا تھا وہ لنگڑا ہو گیا، اور جس سے قصاص لیا گیا تھا وہ تندرست ہو گیا۔ چند دن بعد وہ آیا اور کہا: میں تو لنگڑا ہو گیا ہوں اور میرا صاحب ٹھیک ہو گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے منع کیا تھا کہ زخم درست ہونے سے پہلے بدلہ نہ لو، لیکن تو نے میری بات نہ مانی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے تیرے لنگڑے پن کو باطل قرار دے دیا ہے۔” [مسند احمد 2/217۔]

ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری شریعت محاسن کا مجموعہ ہے۔ اس کے تمام احکام عدل و رحمت پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:

﴿وَتَمَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدقًا وَعَدلًا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمـٰتِهِ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ ﴿١١٥﴾… سورة الانعام

"آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔” [الانعام: 6۔115۔]

ستیاناس ہو اس قوم کا جو ان بہترین احکام کے بدلے طاغوتی، من گھڑت بلکہ ظالمانہ احکام کا نفاذ چاہتے ہیں۔

"بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا”

"ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدل ہے۔” [الکھف 18۔50۔]