مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال

اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اعتکاف مشروع و مستحب سنت ہے، یہ واجب نہیں۔
❀ علامہ ابو عبداللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أنه ليس بواجب، وهو قربة من القرب ونافلة من النوافل عمل بها رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وأزواجه.
فقہا کا اجماع ہے کہ اعتکاف واجب نہیں، یہ قرب الٰہی کا باعث ہے اور نفلی عبادت ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ رضی اللہ عنہم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا عمل ہے۔
(تفسير القرطبي: 333/2)
نیز فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أن الاعتكاف ليس بواجب وأنه سنة.
اہل علم کا اجماع ہے کہ اعتکاف واجب نہیں، سنت ہے۔
(تفسير القرطبي: 335/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔