مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اعادہ روح کا عقیدہ قرآن و حدیث کی روشنی میں – شرک ہے یا نہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 204

سوال

اعادہ روح کا عقیدہ قرآن و حدیث کے مطابق ہے یا مخالف؟ اور کیا یہ عقیدہ رکھنا شرک ہے، اور کیا یہ قرآن پاک کی کسی آیت کے خلاف ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◄ قبر میں سوال و جواب کے لیے روح کے اعادہ کا عقیدہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
◄ یہ بات صحیح مسلم، امام احمد کی مسند اور دیگر کتبِ حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ موجود ہے۔
◄ لہٰذا یہ عقیدہ شرک نہیں ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت

◄ یہ عقیدہ قرآن کریم کی کسی آیت کے خلاف بھی نہیں ہے۔
◄ اس کی وجہ یہ ہے کہ روح کا اعادہ عالمِ برزخ میں ہوتا ہے۔
◄ عالمِ برزخ کے احکام اس دنیوی زندگی کے احکام سے بالکل مختلف ہیں۔
◄ ان احکام کو دنیاوی معاملات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

مزید وضاحت

◄ اگر یہ اعادہ دنیاوی نوعیت کا ہوتا تو اس پر زبان کھولنے کی کسی حد تک گنجائش پیدا ہو سکتی تھی۔
◄ لیکن چونکہ یہ معاملہ عالمِ برزخ کا ہے، اور یہ دنیا سے بالکل جداگانہ ایک عالم ہے، لہٰذا اس میں کسی طرح کی استحالہ یا خلافِ عقل بات لازم نہیں آتی۔

سلف صالحین کا عقیدہ

◄ یہی عقیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور جمہور سلف صالحین کا رہا ہے۔
◄ اس سے انکار صرف:
معتزلہ نے کیا، یا
❀ آج کل کے بعض ملحد اور بعض مدعیانِ اجتہاد کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کی گمراہی سے اپنی پناہ میں رکھے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔