مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اس عورت کے روزے کا حکم جس کی ماہواری میں بگاڑ پیدا ہو گیا اور اسے ایک دن حیض آتا ہے اور ایک دن طہر کا ہوتا ہے

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

جب عورت اپنے ماہواری کے ایام میں ایک دن خون پائے اور جب دوسرا دن ہو تو سارا دن اس کو خون نہ آئے تو وہ کیا کرے ؟

جواب :

ظاہر بات تو یہ ہے کہ بلاشبہ یہ طہر یا خون کا وقتی طور پر خشک ہونا جو عورت کو اس کے ایام حیض میں لاحق ہوا یہ حیض کے ہی تابع ہوگا ، طہر شمار نہیں ہوگا ، لہٰذا اس بنا پر وہ ان تمام چیزوں سے رکی رہے جن سے حائضہ رکا کرتی ہے ۔
اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جونسی عورت ایک دن خون اور ایک دن صفائی پاتی ہے تو پندرہ دن تک یہ خون حیض کا خون اور یہ صفائی طہر شمار ہوگی ۔ اور جب پندرہ دن گزر جائیں گے تو اس کے بعد یہ خون استحاضہ شمار ہوگا ، یہی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ پر کا مشہور مذہب ہے ۔

(محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔