اس روایت کی تحقیق کہ دنیا کی نعمتوں میں سے تین چیزیں ہیں

Read in English
فونٹ سائز:
تحریر: فضل اکبر کاشمیری

السلسلة الضعيفة کی آخری حدیث

۷۱۶۲. ثلاث من نعيم الدنيا – و إن كان لا نعيم لها – مركب وطي، والمرأة الصالحة، والمنزل الواسع، اگر چہ دنیا میں کوئی نعمت نہیں مگر (پھر بھی) دنیا کی نعمتوں میں سے تین چیزیں ہیں۔ نرم و آسان سواری ، نیک عورت اور کھلا مکان۔

یہ روایت ضعیف ہے۔ اسے حافظ ابن حجر نے المطالب العالیہ ( ۲/ ۳۱۸ ح ۱۹۹۱) میں ابو بکر بن ابی شیبہ: ’’حدثنا غندر : ثنا شعبة عن زيادبن مخراق قال: سمعت ابن قرة أوقرة: شك أبوبكر ـ أنه يحدث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال‘‘ کی سند سے ذکر کیا ہے۔

میں (البانی) نے کہا: یہ سند ضعیف ہے۔ اگر اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے معاویہ بن قرہ سے یادرکھا ہے تو اس کے راوی ثقہ ہیں کیونکہ انہیں قرہ اور ابن قرہ (کے تعین ) میں تردد ( اور شک ) حاصل ہوا ہے۔ اگر یہ روایت ابن قرہ سے ہے تو مرسل ہے اور اگر قرہ سے ہے تو میں اسے نہیں جانتا۔ (السلسلۃ الضعیفة : ج ۱۴ص۱۲۷۱ ح ۷۱۶۲ ) یہ السلسلۃ الضعیفۃ کی آخری حدیث ہے جس کی تحقیق الشیخ الامام المحد ث محمد ناصر الدین الالبانی نے کی ہے اور پھر فوت ہو گئے ہیں۔

رحمه الله رحمة واسعة. آمين

تنبیہ:

زیاد بن مخراق کے استادوں میں معاویہ بن قرہ المزنی کا نام ہے ( تہذیب الکمال ج ۶ ص ۴۰۳) لیکن قرہ بن ایاس کا نام نہیں اور نہ ان سے زیاد کی ملاقات ثابت ہے لہذا یہ روایت دونوں سندوں سے ضعیف ہی ہے۔

(۱۴ محرم ۵۱۴۲۷ )