مضمون کے اہم نکات
یہ تحریر اسلام کے پھیلاؤ اور دنیا بھر میں اسلام قبول کرنے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد پر روشنی ڈالتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے دشمنوں کی طرف سے کی جانے والی مزاحمت کے باوجود، اسلام کی حقانیت اور کشش کو بیان کرتی ہے۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے مختلف ممالک، خاص طور پر مغربی دنیا، میں اسلام کو قبول کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور یہ کہ میڈیا اور دیگر طاقتیں اسلام کو بدنام کرنے کی کوششوں کے باوجود اس دین کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
1. اسلام کی تیز رفتار پھیلاؤ:
تحریر میں مختلف اعداد و شمار کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ جرمنی، فرانس، بیلجئم، اور دیگر ممالک میں کس طرح بڑی تعداد میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیلی میل کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں مختلف مذاہب کے پھیلاؤ کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، اور اسلام کے تیزی سے پھیلنے کو نمایاں کیا گیا ہے۔
2. غیر مسلم معاشروں میں اسلام کی مقبولیت:
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلام صرف پیدائشی مسلمانوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خاص طور پر نائن الیون کے بعد، جب اسلام کے بارے میں منفی پروپیگنڈا عروج پر تھا، اس کے باوجود اسلام کی جانب رغبت میں اضافہ ہوا۔
3. اسلام دشمنی کے باوجود حق کا پھیلنا:
اسلام کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور منفی پروپیگنڈا کے باوجود، لوگوں کے دلوں میں اسلام کی حقانیت جگہ بنا رہی ہے۔ یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اسلام کی سچائی اور اس کا پیغام اتنا مضبوط ہے کہ کوئی بھی اسے جھٹلا نہیں سکتا۔
4. عظیم راستہ اور ایمان کی قوت:
تحریر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جو لوگ اسلام قبول کرتے ہیں، وہ تمام تر مشکلات اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، کیونکہ وہ حق کی روشنی کو پہچان چکے ہوتے ہیں۔ اسلام کی یہ کشش انہیں ہر مصیبت اور پریشانی کو جھیلنے کی طاقت دیتی ہے، اور کوئی بھی حربہ انہیں صراط مستقیم سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
5. اسلام کے فروغ کا موقع:
مصنف نے خبردار کیا ہے کہ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر ہمیں واہمے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ بلکہ یہ ہمیں مزید حوصلہ دینا چاہیے کہ ہم اسلام کے پیغام کو پھیلانے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں اور نبی اکرم ﷺ کے فرمان کو اپنا نصب العین بنائیں۔
نتیجہ:
یہ تحریر اسلام کے پھیلاؤ کی خوشخبری دیتے ہوئے ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ہمیں مطمئن ہو کر بیٹھنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے اور دین کی دعوت کو پھیلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑنی چاہیے۔ یہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کی اس نصیحت کو یاد دلانے کی تلقین کرتی ہے کہ ایک شخص کو بھی حق کی طرف لانا دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔