مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اسلام میں گواہی چھپانے کا حکم اور اس کی ممانعت

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

گواہی چھپانا

گواہی چھپانا جائز نہیں۔ جو اسے چھپاتا ہے وہ خطا کار اور نافرمان ہے اس کے لیے توبہ کرنا فرض ہے۔
«وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا» [البقرة: 282]
”اور گواہ جب بھی بلائے جائیں انکار نہ کریں۔“
نیز فرمایا:
«وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» [البقرة: 283]
”اور شہادت مت چھپاؤ اور جو اسے چھپائے تو بے شک وہ، اس کا دل گناہ گار ہے اور اللہ، جو کچھ تم کر رہے ہو اسے خوب جانے والا ہے۔“
[اللجنة الدائمة: 13646]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔