مضمون کے اہم نکات
اسلام میں قضا کے احکام
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قضا کے لغوی معنی کسی شے کو مضبوط کرنے یا کسی کام کو انجام دے کر فارغ ہونے کے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ”
“پھر اللہ نے انھیں دو دن میں سات آسمان بنا دیا۔” [1]۔حم السجدۃ12۔41۔
اس کے علاوہ عربی لغت میں لفظ قضا کے اور بھی کئی معانی آتے ہیں۔ جبکہ شرعی اور اصطلاحی اعتبار سے قضا کا معنی یہ ہے کہ شرعی حکم کو واضح کر کے کسی پر لازم کر دیا جائے اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جائے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “قضا (منصف) کی ذمے داری قبول کرنا دینی طور پر واجب اور باعثِ ثواب ہے۔ یہ سب سے افضل نیکیوں میں شامل ہے۔ اس معاملے میں خرابی اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ بہت سے لوگ اس کے ذریعے سے مال اور چودھراہٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔” [2]۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب القضاء5/556۔
قضا کے احکام کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور اجماع سے ثابت ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ”
“آپ ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی حکم (فیصلہ) کریں۔” [3]۔المائدہ:5/49۔
نیز ارشاد فرمایا:
"يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ”
“اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنا دیا، لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔” [4]۔ص:38۔26۔
قضا سے مراد یہ ہے کہ شرعی حکم کو واضح کیا جائے، اسے نافذ کیا جائے، اور جھگڑوں کے فیصلے کیے جائیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے درمیان متعدد فیصلے فرمائے، اور اسلامی سلطنت کے مختلف اطراف میں قاضی مقرر کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا۔
شیخ موصوف رحمۃ اللہ علیہ قاضی کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: “وہ فیصلے کے اثرات کے اعتبار سے گواہ ہوتا ہے، امر و نہی کے اعتبار سے مفتی ہوتا ہے، اور فیصلہ صادر کر کے لازم کر دینے کے اعتبار سے صاحبِ اقتدار کی حیثیت رکھتا ہے۔” [5]۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب القضاء5/556۔
دینِ اسلام میں قضا کا حکم فرضِ کفایہ ہے، کیونکہ اس کے بغیر لوگوں کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “لوگوں کے لیے حاکم ہونا ناگزیر ہے تاکہ ان کے حقوق ضائع نہ ہوں۔” [6]۔المغنی والشرح الکبیر:11/374۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کرنے والے چند آدمیوں پر عارضی طور پر بھی لازم قرار دیا کہ وہ دورانِ سفر اپنا امیر مقرر کریں۔ اس میں تنبیہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں قضا کا ہونا لازمی اور ضروری ہے۔” [7]۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب القضاء5/555
جو شخص قاضی بننے کی اہلیت رکھتا ہو، اس پر واجب ہے کہ وہ حکومت کے سامنے اپنی خدمات پیش کرے، بشرطیکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص دستیاب نہ ہو۔ جو بھی شخص اس ذمے داری کی قوت اور اہلیت رکھتا ہو، اس کے لیے یہ منصب عظیم اجر کا سبب ہے، اور جو شخص اس کا حق ادا نہ کرے، اس کے لیے یہ نہایت خطرناک معاملہ ہے۔
مسلمانوں کے خلیفہ پر واجب ہے کہ وہ حالات اور ضرورت کے مطابق قاضی مقرر کرے، تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں۔ نیز اس منصب کے لیے ایسے آدمیوں کا انتخاب کرے جو علم و تقویٰ میں بہتر ہوں۔ اگر باصلاحیت لوگوں کے بارے میں اسے علم نہ ہو تو وہ لوگوں سے دریافت کرے اور مشورہ لے۔
قاضی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے۔ خلیفہ کو چاہیے کہ بیت المال سے قاضی کی اتنی تنخواہ مقرر کرے کہ وہ ضروریاتِ زندگی کے حصول کے معاملے میں بے فکر ہو جائے۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین حکومت کے مناصب پر فائز حضرات کو بیت المال سے اتنا وظیفہ دیتے تھے جو ان کی ضروریاتِ زندگی کے لیے کافی ہوتا تھا۔
قاضی کی اہلیت اور صلاحیت مختلف اوقات اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ جس معاملے میں شریعت نے کوئی خاص حد بندی نہ کی ہو، اس کا دارومدار موجودہ حالات اور عرف پر ہوتا ہے۔
اس دور میں مملکتِ سعودیہ کی وزارتِ عدل و انصاف نے ایسا نظام نافذ کیا ہے جس کے تحت قاضی اپنے اپنے ماتحت علاقوں میں اپنا کام انجام دے رہے ہیں، اور ان کے اختیارات بھی متعین کر دیے گئے ہیں۔ لہٰذا ان اصول و ضوابط کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں معاملات کی اصلاح اور اختیارات کی تعیین ہے۔ چنانچہ جب یہ نظام کتاب و سنت کے مخالف نہیں، تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
قاضی کے لیے ضروری اوصاف
ایک قاضی کا حتی الامکان نو صفات سے متصف ہونا ضروری ہے، جو درج ذیل ہیں:
① مکلف ہو
یعنی عاقل اور بالغ ہو، کیونکہ غیر مکلف خود کسی کی سرپرستی میں ہوتا ہے، اس لیے وہ حاکم بننے کا اہل نہیں۔
② مرد ہو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً”
“وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جنھوں نے اپنے معاملات میں عورت کو حکمران بنا لیا۔” [8]۔صحیح البخاری المغازی باب کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی کسری و قیصر حدیث4425۔
③ آزاد ہو
اس وصف کی وجہ یہ ہے کہ غلام اپنے آقا کے حقوق کی ادائیگی میں ہمہ وقت مشغول ہوتا ہے۔
④ مسلمان ہو
کیونکہ کسی شخص کی نیکی، دیانت اور شرافت کے معتبر ہونے کے لیے اسلام میں داخل ہونا شرط ہے۔ نیز اسلامی معاشرے میں کافر کو ماتحت رکھنا اور اسے مسلمانوں جیسی عزت نہ دینا مطلوب ہے، جبکہ حکمرانی یا عہدۂ قضا عزت و احترام کا سبب ہے۔
⑤ عادل ہو
یعنی صالح، شریف اور دیانت دار ہو۔ فاسق کو عہدۂ قضا دینا قطعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا”
“اے مسلمانو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔” [9]۔الحجرات:6۔49۔
جب فاسق کی خبر مقبول نہیں، تو اس کا فیصلہ بطریقِ اولیٰ غیر مقبول ہوگا۔
⑥ قوتِ سماعت رکھتا ہو
کیونکہ بہرا ہونے کی صورت میں وہ فریقین کے بیانات نہیں سن سکے گا۔
⑦ قوتِ بصارت رکھتا ہو
کیونکہ نابینا شخص مدعی اور مدعا علیہ میں فرق نہ کر سکے گا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو قاضی بنایا جا سکتا ہے، جیسے اس کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے، کیونکہ اسے صرف جھگڑا کرنے والے کی ذات کو پہچاننے میں مشکل پیش آتی ہے، اور یہاں اس کی حاجت نہیں بلکہ وہ تو بیان کردہ اوصاف کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، جیسے سیدنا داؤد علیہ السلام نے دو فرشتوں کے درمیان فیصلہ کیا تھا۔” [10]۔۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب القضاء5/558۔
⑧ بولنے کی قوت رکھتا ہو
کیونکہ گونگے شخص کے لیے بول کر فیصلہ دینا ممکن نہیں۔ باقی رہے اشارات، تو تمام لوگ انھیں سمجھ نہیں پاتے۔
⑨ اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو
قاضی ایسا شخص ہو جو اجتہاد کر سکتا ہو۔ اگرچہ وہ اپنے اس مذہب میں مجتہد ہو جس میں وہ ائمہ میں سے کسی امام کی تقلید کر رہا ہے، تب بھی ضروری ہے کہ مذہب میں راجح اور مرجوح اقوال کا علم رکھتا ہو۔
اس شق پر قدیم زمانے ہی سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگوں کے احکام معطل ہو کر رہ جاتے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “ان شرائط کا حتی الامکان اعتبار کیا جانا چاہیے۔ جو زیادہ علم، تجربہ اور معرفت والا ہو، اسے دوسروں پر ترجیح دینی چاہیے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کی دلالت بھی یہی ہے کہ دو فاسقوں میں سے جو زیادہ نفع و فائدے والا اور کم خرابی والا ہو، اس کو والی (سربراہ) بنانا چاہیے۔” [11]۔اعلام الموقعین:4/186۔بتغیریسیر
انصاف پسند اور مذہب کی معرفت رکھنے والے مقلد کو بھی قاضی یا صاحبِ امر بنایا جا سکتا ہے، ورنہ لوگوں کے بہت سے کام معطل رہ جائیں گے۔
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ مفتیوں کے طبقات ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “مجتہد وہ ہے جو کتاب و سنت کا علم رکھتا ہو۔ مجتہد بعض امور میں اگر کسی کی تقلید کرے گا تو یہ عمل اس کے مجتہد ہونے کے منافی نہ ہوگا۔ ہر مجتہد اور امام نے بعض مسائل میں اپنے سے بڑے عالم کی تقلید کی ہے۔” [12]۔۔الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب القضاء6/556۔
قاضی کے اوصاف کا بیان
اس باب میں ان اوصاف اور خوبیوں کو بیان کرنا مقصود ہے جن سے ایک قاضی کا متصف ہونا لازمی ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “قاضی میں سب سے اعلیٰ اور اچھی خوبی یہ ہے کہ وہ غصے میں نہ آئے اور کسی فریق سے عناد و کینہ نہ رکھے۔”
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “قاضی کے لیے تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ ان کے بغیر قاضی کا فیصلہ دینا درست نہیں، یعنی دلائل، اسباب اور شہادتوں کی معرفت اور ان کا علم۔ کیونکہ دلیل سے اسے شرعی حکم معلوم ہوگا، اسباب سے اسے معلوم ہوگا کہ زیرِ غور مقدمے میں یہ حکم لگتا ہے یا نہیں، اور گواہیوں سے اختلاف کے وقت فیصلہ کرنا ممکن ہوگا۔ اگر ان تین میں سے کسی ایک میں غلطی ہو گئی تو فیصلہ کرنے میں غلطی واقع ہو جائے گی۔” [13]۔بدائع الفوائد لابن القیم:4/12۔
قاضی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سخت مزاج نہ ہو، لیکن ہر اعتبار سے مضبوط ہو تاکہ ظالم اس سے کسی غلط امید میں نہ رہے۔ اسی طرح وہ حلیم الطبع ہو۔ اسے چاہیے کہ فیصلے میں کمزوری نہ دکھائے تاکہ صاحبِ حق اس سے خوف زدہ نہ ہو۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “حکمرانی کرنے کے لیے دو چیزیں بنیادی رکن کا درجہ رکھتی ہیں، یعنی قوت اور امانت۔ لہٰذا قاضی کو چاہیے کہ وہ حلیم ہو، تاکہ کسی فریق کے بیان پر غصے میں نہ آئے جو صحیح فیصلہ دینے میں رکاوٹ بن جائے۔ علم کی زینت اور اس کا حسن و جمال حلم ہے، اور اس کی ضد جذبات میں آنا، جلد بازی کرنا اور عدمِ ثبات ہے۔ قاضی کو چاہیے کہ وہ علم والا، ٹھنڈے مزاج کا حامل اور حوصلہ مند ہو، تاکہ جلد بازی اور جوش کی وجہ سے اس سے ایسا کام صادر نہ ہو جو اس کے شایانِ شان نہ ہو۔ وہ فطین اور فہیم ہو، تاکہ کوئی فریق اسے دھوکا نہ دے سکے۔ وہ عفیف اور پاک دامن ہو، یعنی خود کو حرام کاموں سے بچانے والا ہو۔ صاحبِ بصیرت ہو اور اپنے سے پہلے قاضیوں کے فیصلوں سے آگاہ ہو۔ قاضی کی جگہ اور مقام، یعنی عدالت، حتی الامکان شہر کے وسط میں ہو تاکہ تمام اہلِ شہر آسانی سے اس کے پاس پہنچ سکیں۔ مسجد کو جائے عدالت بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں، چنانچہ خلفائے راشدین سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد ہی میں لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے۔ قاضی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ فریقین کے ساتھ بات چیت کے لہجے، الفاظ کے استعمال اور نشست گاہوں میں مساوات اور عدل و انصاف کا خیال رکھے۔”
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
"قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الخصمين يقعدان بين يدي الحاكم”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو قاضی کے سامنے بٹھایا جائے۔” [14]۔(ضعیف) سنن ابی داؤد القضاء باب کیف یجلس الخصمان حدیث: 3588۔ومسند احمد 4/4۔
قاضی پر واجب ہے کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان انھیں اپنے سامنے بٹھانے، ان کی طرف توجہ کرنے، اور ان سے گفتگو کرنے میں عدل و انصاف کرے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو امتیازی جگہ پر بٹھانا، یا اس پر زیادہ توجہ دینا، یا ایک فریق کے استقبال کے لیے کھڑے ہونا، یا اس سے مشورہ لینا منع ہے، تاکہ یہ چیز دوسرے فریق کے لیے دل شکنی کا سبب نہ بنے۔ نیز اس کا یہ اثر بھی ہوگا کہ جس فریق کو کم تر سمجھا گیا ہے، اس کے دلائل کو کمزور سمجھا جائے گا اور اس کی زبان لڑکھڑائے گی۔ یہ کیفیت افسوسناک ہے۔”
قاضی کے لیے یہ حرام ہے کہ وہ دورانِ مقدمہ کسی ایک فریق سے سرگوشی کرے، یا اسے مقدمہ جیتنے کے لیے دلائل سکھائے، یا اس کی مہمانی کرے، یا اسے دعویٰ کرنے کا طریقہ بتائے، یا اس کے بارے میں کوئی سبق پڑھائے۔ البتہ اگر مدعی دعویٰ میں کوئی ضروری بات چھوڑ دے تو قاضی اسے یاد دلا سکتا ہے۔
قاضی کو چاہیے کہ مشکل حالات میں مشورے کے لیے علمائے کرام سے تعاون حاصل کرے۔ اگر مقدمے کی مکمل صورتِ حال سمجھ میں آ جائے تو فیصلہ دے دے، ورنہ صورتِ حال واضح ہونے تک فیصلہ مؤخر رکھے۔
قاضی کے لیے حرام ہے کہ وہ غصے کی حالت میں فیصلہ دے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لاَ يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ”
“کوئی حاکم غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے۔” [15]۔صحیح البخاری الاحکام باب ھل یقیضی القاضی اویفتی وھو غضبان ؟حدیث 7158۔وصحیح مسلم الاقضیہ کراھیہ قضاء القاضی وھو غضبان حدیث 1717۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ غصے کی حالت میں انسان کے دل و دماغ پر دباؤ اور کھچاؤ ہوتا ہے، اور غصہ کمالِ فہم کے لیے مانع ہے۔ غصے سے نظرِ انصاف دھندلا جاتی ہے اور علم و حلم کی راہ گم ہو جاتی ہے۔
غصے کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے وہ تمام کیفیتیں بھی اسی حکم میں شامل ہیں جب قاضی ذہنی انتشار اور تناؤ میں ہو، اسے سخت بھوک یا پیاس لگی ہو، وہ شدید غم سے دوچار ہو، اکتاہٹ یا اونگھ میں ہو، سردی یا گرمی کی شدت نے اسے پریشان کر رکھا ہو، یا اسے قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہو۔ یہ سب صورتیں قاضی کے ذہن کو مشغول کر کے اسے کسی مثبت نتیجے تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں، لہٰذا ان کا حکم بھی غصے ہی کا حکم ہے۔
قاضی کے لیے رشوت قبول کرنا حرام ہے، کیونکہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
"عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ "
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے اور رشوت لینے والے (دونوں) پر لعنت کی ہے۔” [16]۔جامع الترمذی الاحکام باب ماجاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم حدیث 1337۔
رشوت دو طرح کی ہوتی ہے:
① کسی ایک فریق سے اس لیے وصول کی جائے کہ اس کے حق میں باطل اور ناجائز طور پر فیصلہ دیا جا سکے۔
② کسی فریق کو اس کا جائز حق دینے کے لیے بھی اس سے رشوت کا مطالبہ کیا جائے۔
دونوں صورتوں میں رشوت کا مطالبہ بہت بڑا ظلم ہے۔
قاضی کے لیے حرام ہے کہ وہ ایسے شخص کا تحفہ قبول کرے جو اسے عہدۂ قضا پر فائز ہونے سے پہلے تحفے نہیں دیا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
"هَدَايَا الْعُمَّالِ غُلُولٌ”
“حکومت کے کارندوں کا تحائف قبول کرنا خیانت ہے۔” [17]۔مسند احمد :5/425۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے شخص سے تحفہ قبول کرنا، جس کے لیے تحفے دینا عادت نہ ہو، اس کے حق میں فیصلہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔
قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بازار میں خود اشیاء کی خرید و فروخت کرے، کیونکہ اس طریقے سے دکاندار لوگ اسے اشیاء میں رعایت دے کر محبت و تعلق پیدا کر سکتے ہیں، جو آگے چل کر ناجائز مفاد کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ البتہ قاضی کو چاہیے کہ وہ خرید و فروخت اپنے کسی ایسے وکیل کے ذریعے کرے جس سے عام لوگ واقف نہ ہوں۔
قاضی نہ اپنے حق میں فیصلہ خود کرے، اور نہ اس معاملے میں فیصلہ دے جس کے بارے میں خود قاضی کی گواہی شرعاً قبول نہ ہو، مثلاً والد، اولاد، بیوی وغیرہ، کیونکہ اس موقع پر جانبداری کا امکان ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دشمن کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کرے، کیونکہ ان حالات میں اس پر تہمت اور الزام لگنے کا امکان ہوتا ہے۔ بلکہ ایسے مقدمات کسی دوسرے قاضی کی طرف منتقل کر دے۔ روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کروایا۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک عراقی شخص کے خلاف دعویٰ قاضی شریح کی عدالت میں دائر کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کروایا۔
قاضی کے لیے مستحب ہے کہ وہ پہلے ان لوگوں کے معاملات نمٹائے جن کے حالات فوری فیصلے کا تقاضا کرتے ہوں، مثلاً:
◈ قیدیوں کے معاملات
◈ یتیموں کے معاملات
◈ ذہنی معذوروں کے معاملات
پھر اوقاف اور وصیتوں کے فیصلے کرے جن کا کوئی ذمے دار نہ ہو۔
اگر قاضی کا فیصلہ کتاب و سنت کے احکام کے مخالف ہو، یا اجماعِ قطعی کے خلاف ہو، تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
قاضی کے ان آداب پر سرسری نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں قاضی کے عادل ہونے کی کتنی زیادہ اہمیت ہے، اور اسلام میں قضا کے منصب کو اتنا بلند مقام دیا گیا ہے کہ دنیا کے نظام اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے:
"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ "
“کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟” [18]المائدہ:5۔50۔
اللہ ستیاناس کرے ان لوگوں کا جو اس ربانی فیصلے سے اعراض کر کے شیطانی قانون کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کی کیفیت بالکل وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوئی ہے:
"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (28) جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَارُ”
“کیا آپ نے ان کی طرف نظر نہیں ڈالی جنھوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا، یعنی دوزخ میں، جس میں یہ سب جائیں گے، اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔” [19]۔ابراہیم:14۔28۔29۔
فیصلہ کرنے کے طریقے کا بیان
جب قاضی کی عدالت میں دونوں فریق حاضر ہوں تو وہ انھیں اپنے سامنے بٹھائے اور پوچھے کہ تم میں سے مدعی کون ہے؟ یا پھر قاضی انتظار کرے یہاں تک کہ مدعی خود گفتگو شروع کر دے۔
جب ایک شخص دعویٰ کرے تو قاضی غور سے اس کا دعویٰ سنے۔ جب مدعی درست طریقے سے اپنا دعویٰ پیش کر لے تو قاضی کو چاہیے کہ مدعا علیہ سے سوال کرے کہ اس دعویٰ کے بارے میں تمھارا کیا موقف ہے؟
◈ اگر مدعا علیہ دعویٰ کو سچ اور درست تسلیم کر لے، تو قاضی کو چاہیے کہ دعوے کی سچائی کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ دے دے۔
◈ اگر مدعا علیہ دعوے کے درست ہونے کا انکار کر دے، تو قاضی مدعی سے گواہ طلب کرے تاکہ مدعی اپنے دعوے کو ثابت کر سکے اور قاضی اس گواہی کی روشنی میں فیصلہ کر سکے۔
◈ اگر مدعی گواہی پیش کر دے، تو قاضی اس کی گواہی سنے۔
◈ اگر گواہی قابلِ قبول ہو، تو مدعی کے حق میں فیصلہ دے دے۔
قاضی محض اپنے علم اور ذاتی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ نہ دے، کیونکہ اس سے اس پر جانبداری کی تہمت لگنے کا اندیشہ ہے۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ غلط فیصلے دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے، چنانچہ قاضی غلط فیصلہ دے کر یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اپنی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے۔”
آگے چل کر امام موصوف فرماتے ہیں: “سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کوئی ان کے اس فیصلے کا مخالف نہ تھا۔ قاضیوں کے سردار سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کے بارے میں علمِ یقینی رکھتے تھے کہ ان کا خون اور مال مباح ہے، لیکن آپ ان کے معاملات میں اپنے علم کے ساتھ فیصلہ نہ کرتے تھے بلکہ دلائل اور شہادتوں کو بنیاد بناتے تھے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے بندوں کے نزدیک ہر قسم کی تہمت بلکہ شک و شبہے سے بالاتر تھی۔” [20]۔اعلام الموقعین:3/129والطراق الحکمۃ لا بن القیم ص:263۔264۔
امام موصوف مزید لکھتے ہیں: “البتہ قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ فیصلہ دیتے وقت ان معلومات اور اخبار کو بنیاد بنا لے جو متواتر اور مشہور و معروف ہوں، جن میں قاضی کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہوں، کیونکہ یہ بھی ایسے واضح شواہد اور قرائن ہیں کہ قاضی پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگ سکتی، اور اس کی بنیاد پر فیصلہ دلیل کے ساتھ فیصلہ ہے۔” [21] ۔ الطراق الحکمۃ لا بن القیم ص:265۔267۔
اگر مدعی کہے: میرے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، تو قاضی اسے بتائے کہ فریقِ ثانی یعنی مدعا علیہ کے ذمے قسم ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں روایت ہے:
"جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ»”
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک حضرمی تھا اور دوسرا کندی۔ حضرمی نے کہا: “اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میری زمین پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے جو میرے باپ کی تھی۔” کندی نے کہا: “وہ زمین میری ہے اور میرے قبضے میں ہے، میں اس پر کاشت کرتا ہوں، اس کا اس میں کوئی حق نہیں۔” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: “کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟” اس نے کہا: “نہیں!” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “پھر تیرے لیے اس کی قسم ہے۔” یعنی کندی قسم اٹھائے گا۔ [22]۔صحیح مسلم الایمان باب وعید من اقنطع حق مسلم بیمین فاجرہ بالنارحدیث :139۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “اس روایت سے یہ قاعدہ و ضابطہ نکلتا ہے کہ قسم اٹھانے کی ذمے داری مدعا علیہ پر ہے، بشرطیکہ مدعی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مضبوط دلیل پیش نہ کر سکے۔” [23] ۔ الطراق الحکمۃ لا بن القیم ص:178۔
جب مدعی فریقِ مخالف یعنی مدعا علیہ سے قسم کا مطالبہ کرے تو قاضی کو چاہیے کہ اس سے قسم لے۔ جب وہ قسم اٹھا لے گا تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ جاری کرے گا اور اسے جانے دے گا۔ البتہ مدعا علیہ کی قسم اسی وقت درست تسلیم کی جائے گی جب وہ صاف اور واضح الفاظ کے ساتھ ہو اور مدعی کے مطالبے پر ہو، کیونکہ جس چیز کے بارے میں قسم اٹھانی ہے، اس سے مدعی کا حق متعلق ہے، لہٰذا اس کے مطالبے کے بغیر قسم درست نہ ہوگی۔
اگر مدعا علیہ قسم اٹھانے سے انکار کر دے تو اس بنیاد پر اس کے خلاف فیصلہ دیا جائے گا، کیونکہ مدعا علیہ کا قسم سے انکار، مدعی کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔ اہلِ علم کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے، جن میں سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں۔ ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ جب مدعا علیہ قسم اٹھانے سے انکار کرے گا تو مدعی کو قسم اٹھانا ہوگی۔
جب مدعا علیہ قسم اٹھا لے گا تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ صادر کر دے گا۔ اگر فیصلہ صادر ہو جانے کے بعد مدعی اپنے دعوے کی سچائی پر گواہ لے آئے، تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ اگر مدعی نے پہلے یہ کہا تھا کہ میرے پاس گواہ نہیں، تو اب اس کا گواہ قابلِ قبول نہ ہوگا، کیونکہ وہ اپنے پہلے بیان میں جھوٹا ثابت ہو گیا۔ اور اگر اس نے پہلے ایسا نہیں کہا تھا تو اس کی گواہی قابلِ سماعت ہوگی، اور اگر وہ مضبوط ہو تو قاضی اپنے سابقہ فیصلے میں نظر ثانی کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے گا۔
مدعا علیہ کے قسم اٹھانے سے مدعی کا حق ختم نہیں ہو جاتا، کیونکہ قسم لینے سے دعویٰ غلط ثابت نہیں ہوتا۔ یہ قسم صرف جھگڑا ختم کرنے کے لیے ہوتی ہے، اس سے حقدار کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔
اسی طرح اگر مدعی کہے: میں نہیں جانتا کہ میرا کوئی گواہ ہے، پھر بعد میں اسے گواہ مل جائے تو گواہی سنی جائے گی اور اس کی روشنی میں فیصلہ دیا جائے گا، کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے پہلے بیان سے منحرف نہیں ہوا۔ واللہ اعلم۔
صحتِ دعویٰ کی شرائط
کسی دعویٰ کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ وہ واضح اور متعین ہو۔ مثلاً اگر وہ میت پر قرض سے متعلق ہو تو دعوے میں موت کا ذکر کیا جائے، قرض کی نوعیت اور مقدار کی تفصیل بیان کی جائے، اور وہ تمام معلومات دی جائیں جن سے دعوے کی صورتِ حال واضح ہو، کیونکہ قاضی کے فیصلے کا دارومدار اسی تحریر پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
"وَأَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ”
“میں تمھارے درمیان ان بیانات کی بنیاد پر فیصلہ دوں گا جو میں سنوں گا۔” [24]۔صحیح البخاری الحیل باب 10۔حدیث 6967وصحیح مسلم الاقصیۃ باب بیان ان حکم الحاکم لا یغیرالباطن حدیث 1713۔وسنن النسائی آداب القضاۃ باب ما یقطع القضاء حدیث 5424۔واللفظ لہ۔
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دعویٰ کو واضح صورت میں پیش کرنا لازم ہے، تاکہ قاضی کے سامنے حقیقتِ حال اچھی طرح واضح ہو جائے۔
صحتِ دعویٰ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جس چیز سے متعلق دعویٰ ہو وہ شے معلوم اور متعین ہو، مجہول نہ ہو، تاکہ جب دعویٰ ثابت ہو جائے تو اس شے کو لازم کیا جا سکے۔ البتہ بعض مواقع پر مجہول شے کا دعویٰ درست تسلیم ہوگا، مثلاً اپنے مال میں سے کچھ حصے کی، یا اپنے غلاموں میں سے کسی غلام کی وصیت کرنا، جسے حق مہر وغیرہ بنایا جائے۔
دعویٰ کا واضح اور صریح ہونا ضروری ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ فلاں کے پاس میری فلاں چیز ہے، بلکہ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ میں اس کے لینے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اور جس شے کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ موجود بھی ہو۔ لہٰذا ایسے قرض کے مطالبے کا دعویٰ نہیں ہو سکتا جس کی ادائیگی کے لیے باہمی طے شدہ مدت ابھی باقی ہو، کیونکہ مقررہ وقت سے پہلے اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں، اور نہ اس بنیاد پر مدعا علیہ پر کوئی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
صحتِ دعویٰ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس کے جھوٹ ہونے کا کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو۔ مثلاً کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ فلاں شخص نے بیس سال پہلے قتل یا چوری کی تھی، جبکہ مدعا علیہ کی عمر بیس سال سے بھی کم ہو۔ ایسی صورت میں عقل اس دعوے کو درست نہیں مانتی، اس لیے اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
اگر کسی نے بیع یا اجارے کے کسی معاہدے کا دعویٰ کیا تو صحتِ دعویٰ کے لیے ضروری ہے کہ بیان میں ان شرائط کا بھی ذکر ہو جن کے تحت معاہدہ ہوا تھا، کیونکہ لوگ معاہدات میں مختلف شرائط عائد کر دیتے ہیں، اور بسا اوقات کسی شرط کی وجہ سے قاضی کے نزدیک معاہدہ صحیح نہیں ہوتا۔
اگر کسی نے وراثت کے حصول کا دعویٰ کیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ وراثت کا سبب بیان کرے، کیونکہ اسبابِ میراث متعدد ہیں۔ [25]۔بنیادی اسباب میراث تین ہیں۔نسب نکاح اور ولاء ہر ایک کی تفصیل وراثت کے ابواب میں گزر چکی ہے۔(صارم) اس لیے تعیین ضروری ہے۔
صحتِ دعویٰ کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز سے متعلق دعویٰ ہو وہ متعین ہو، نیز وہ چیز اسی مجلس میں یا اسی شہر میں موجود ہو تاکہ اس کے بارے میں کوئی مغالطہ نہ رہے۔ اگر وہ شے دور یا غائب ہو تو اس کے اوصاف اور علامات کا ذکر ضروری ہے، تاکہ وہ دوسری اشیاء سے ممتاز ہو جائے۔
گواہ کے قابلِ قبول ہونے کی شرائط
گواہ کے قابلِ قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک اور دیانت دار شخص ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ "
“اور آپس میں دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو۔” [26]۔الطلاق:2/65۔
اور فرمانِ الٰہی ہے:
"مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ”
“جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو۔” [27]۔البقرۃ:2/282۔
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا”
“اے مسلمانو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔” [28]۔الحجرات:6/49۔
فقہائے کرام میں اس بات پر اختلاف ہے کہ وصفِ عدالت ظاہری اور باطنی دونوں طرح معتبر ہوگا یا صرف ظاہری طور پر کافی ہوگا۔ اس مسئلے میں دو قول ہیں۔ ان میں سے زیادہ واضح قول یہی ہے کہ ظاہری عدالت ہی معتبر ہوگی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی شخص کی شہادت قبول فرمائی تھی، اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول بھی ہے: (الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ) “تمام مسلمان عادل ہیں۔” [29]۔السنن الکبری للبیہقی :10۔155۔
قاضی پر لازم ہے کہ وہ عادل شخص کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دے، البتہ اگر اس کے خلاف مواد موجود ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں۔
اگر قاضی کو کسی گواہ کے عادل ہونے کا علم نہ ہو تو وہ کسی ایسے معتبر شخص سے معلومات حاصل کرے جو اس کے ساتھ رہنے، کوئی معاملہ کرنے، یا اس کے پڑوس میں رہنے کی وجہ سے اس کے حالات جانتا ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں ایک شخص نے کسی کے بارے میں تعریفی کلمات کہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اس کے پڑوسی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر امیر المؤمنین نے پوچھا: کیا تم نے اس سے درہم و دینار کا لین دین کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔
اگر گواہ کے بارے میں تحقیق کرتے وقت بعض لوگ اسے قابلِ اعتماد قرار دیں اور بعض ناقابلِ اعتماد، تو اس کی گواہی قبول نہیں ہوگی، کیونکہ تعریف کرنے والے کی نسبت تنقید کرنے والے کی معلومات زیادہ گہری اور وزنی ہوتی ہیں۔ تعریف کرنے والے کی نظر ظاہری حالات پر ہوتی ہے، جبکہ تنقید کرنے والے کی نگاہ انسان کے مخفی حالات پر بھی ہوتی ہے۔ تنقید کرنے والا ایک خامی یا برے وصف کی موجودگی ظاہر کرتا ہے، جبکہ تعریف کرنے والا صرف خامیوں کی نفی کرتا ہے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ مثبت، نافی پر مقدم ہوتا ہے۔
اگر مدعا علیہ اکیلا ہی گواہ کی تعریف کر دے یا اسے سچا قرار دے دے، تو گواہ کے قابلِ اعتماد ہونے کے لیے یہی کافی ہے، کیونکہ گواہ کو قابلِ اعتماد سمجھنا، مدعی کے حق کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، اس لیے اس کے اقرار کی بنیاد پر اس کے خلاف فیصلہ دیا جائے گا۔
جب قاضی کو مدعی کے گواہ کے قابلِ اعتماد ہونے کا علم ہو تو وہ اس کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر سکتا ہے، اور اب مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر اسے گواہ کے قابلِ اعتماد ہونے کا علم نہ ہو تو وہ اس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اگر اسے گواہوں پر شک ہو تو ان سے پوچھے کہ انھیں یہ معلومات کب اور کیسے حاصل ہوئیں۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “قاضی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر دو آدمیوں نے گواہی دی کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر شک ہوا تو فرمایا: تم دونوں اس شخص کا ہاتھ کاٹ دو۔ یہ سن کر وہ بھاگ گئے۔” [30]۔ الطراق الحکمۃ لا بن القیم ص:68۔99۔100۔
اگر فریقِ مخالف نے گواہوں کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا تو اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ ان کے ناقابلِ اعتبار ہونے کا ثبوت پیش کرے، کیونکہ حدیث میں ہے:
"البينة على المدعي”
“گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے۔” [31]۔جامع الترمذی الاحکام باب ماجاء فی ان البینہ علی المدعی حدیث 1341۔۔
لہٰذا اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ اگر اس نے اپنی جرح کے حق میں گواہ پیش نہ کیے تو فیصلہ اس کے خلاف دے دیا جائے گا، کیونکہ جرح کے حق میں مقررہ مدت میں گواہ پیش نہ کر سکنا اس کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے۔
اگر قاضی کو گواہوں کے حالاتِ زندگی کے بارے میں علم و خبر نہ ہو تو وہ مدعی سے ان کے بارے میں تزکیہ طلب کرے تاکہ ان کا عادل اور دیانت دار ہونا ثابت ہو، اور ان کی شہادت پر فیصلہ دیا جا سکے۔ کسی شخص کے تزکیے کے لیے دو آدمیوں کی شہادت شرط ہے، جبکہ بعض کے نزدیک ایک آدمی کی شہادت بھی تزکیہ کے لیے کافی ہے۔
اگر ایک فریق عدالت سے غائب ہو اور وہ اتنی مسافت پر ہو جس سے نماز قصر کرنے کا حکم ہوتا ہے، تو قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ دلائل اس کے خلاف جا رہے ہوں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ زیادہ ہی کفایت شعار ہیں، وہ مجھے نان و نفقہ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان کی غیر حاضری میں اتنا مال لے سکتی ہے جو تجھے اور تیری اولاد کو کفایت کر جائے۔ [32]۔صحیح البخاری التفقات باب اذا لم ینفق الرجل حدیث:5364۔وصحیح مسلم الاقضیۃ باب قضیۃ ھذا حدیث :1714۔
اس روایت سے ثابت ہوا کہ غیر حاضر شخص کے خلاف بھی فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ پھر جب وہ حاضر ہوگا تو اس کی دلیل سنی جائے گی، کیونکہ اب رکاوٹ ختم ہو چکی ہوگی۔
جب یہ فیصلہ دے دیا جائے کہ حق فلاں شخص کا ہے، تو اس سے یہ دعویٰ ختم نہیں ہو جاتا کہ صاحبِ حق کو اس کی ادائیگی کی جائے، یا یہ کہ مدعا علیہ اس سے بری الذمہ ہو چکا ہے، یا کوئی اور ایسی صورت پیش آ چکی ہے جس سے حق ختم ہو گیا ہے۔
غیر حاضر شخص کے خلاف فیصلہ دینے میں یہ شرط ہے کہ وہ قاضی کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو۔ اگر وہ اس کے دائرۂ اختیار کی حدود میں ہو اور وہاں کوئی فیصلہ کرنے والا یعنی نائب قاضی موجود نہ ہو، تو قاضی کسی ایسے شخص کے نام تحریری آرڈر جاری کرے جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی بھی شخص کے لیے ان میں صلح کروانے کا حکم جاری کرے۔ اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مدعی سے کہے کہ اپنا دعویٰ ثابت کرو۔ اگر وہ ثابت کر دے تو مدعا علیہ کو حاضر کیا جائے گا، خواہ وہ کتنی ہی دور ہو۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے: “علمائے مدینہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ غیر موجود کے خلاف فیصلہ دے دیتے ہیں۔” اور فرمایا: “یہ موقف اچھا ہے۔”
علامہ زرکشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “امام احمد رحمۃ اللہ علیہ دعویٰ سننے اور گواہی سننے کو غلط نہیں سمجھتے تھے۔” پھر علمائے مدینہ اور علمائے عراق کے اقوال ذکر کیے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس مسئلے پر دونوں شہروں کے علماء میں اتفاق ہے۔
غیر مکلف کے خلاف بھی دعوے کی سماعت ہوگی اور فیصلہ دیا جائے گا۔ اس کی دلیل ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے۔
فیصلہ ہو جانے کے بعد جب وہ مکلف ہو جائے تو اس کے خلاف دلائل و شہود پیش کیے جا سکتے ہیں۔
حصے داروں میں تقسیم کا بیان
حصے داروں میں تقسیم کا مسئلہ کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ "
“اور انھیں خبر دے دیں کہ بے شک پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم شدہ ہے۔” [33]القمر:54۔28۔
نیز فرمانِ الٰہی ہے:
"وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا”
“اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار، یتیم اور مسکین آ جائیں تو تم اس میں سے تھوڑا بہت انھیں بھی دے دو اور ان سے نرمی سے بات کرو۔” [34]۔النساء:4/8۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
"لشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ”
“حقِ شفعہ اس چیز میں ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔” [35]۔۔ذکرہ البخاری فی ترجمۃ الباب کتاب الشفعہ فی مالم یقسم۔یر موارد الظمان (ابن حبان)4/38۔39۔حدیث 1152۔
اس کے علاوہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ اس مسئلے پر اجماع کا ہونا متعدد علماء سے منقول ہے۔ مزید برآں انسان کی ضرورت بھی اسی مسئلے کی متقاضی ہے، کیونکہ جن لوگوں کا حق کسی ایک مشترک چیز سے متعلق ہو، ان کے حقوق کی وصولی تقسیم کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔
تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ ایک مشترک چیز میں جس شخص کا جو حصہ ہو، اسے الگ الگ کر دیا جائے۔
تقسیم کی دو قسمیں ہیں:
① رضا مندی کی تقسیم
② زبردستی کی تقسیم