مضمون کے اہم نکات
عیدین کا بیان
❀ عیدین اسلام کے شعائر میں سے ہیں اور انھیں کسی صورت ترک نہیں کیا جا سکتا۔
❀ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كان لكم يومان تلعبون فيهما وقد أبدلكم الله بهما خيرا منهما يوم الفطر ويوم الأضحى
”دور جاہلیت میں تمہارے کھیلنے کودنے کے لیے دو دن مخصوص تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، یعنی یوم الفطر اور یوم الأضحی۔“
(نسائی، کتاب صلاة العيدين، باب: 1557 – أبو داود: 1134 – صحیح)
عیدین کے دن روزہ رکھنا:
❀ عیدین کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهاكم عن صيام هذين العيدين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔“
(بخاری، کتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي… الخ: 5571 – مسلم: 1137)
عید کی تیاری کرنا:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن خوبصورت اور خاص لباس پہنتے تھے۔
(بخاری، کتاب العيدين، باب في العيدين والتجمل فيه: 948)
❀ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عید الفطر والے دن فرمایا: ”دو عیدیں ایک ہی دن میں اکٹھی ہو گئی ہیں۔“
(أبو داود، کتاب الجمعة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1072 – صحیح)
لہذا عید کے لیے ان تمام آداب کا خیال رکھنا چاہیے جو جمعہ کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں۔
عید کے دن کھیل کود:
❀ عید کے دن خوشی کے دن ہیں، ان میں کھیلنا کودنا جائز ہے، تاکہ خوشی کا اظہار ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”عید الفطر یا عید الأضحیٰ کا دن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے پاس تشریف فرما تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث کے وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جو انصار کے شعراء نے اپنے فخر میں کہے تھے، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ شیطانی مزامیر! انھوں نے یہ جملہ دو دفعہ دہرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! انھیں چھوڑ دے، ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور ہماری عید آج کا یہ دن ہے۔“
(بخاری، کتاب مناقب الأنصار، باب مقدم النبي وأصحابه المدينة: 3931 – مسلم: 892)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”عید کے دن حبشی صحابہ اپنے سپر اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔“
(بخاری، کتاب الجهاد، باب الدرق: 2907 – مسلم: 892)
عید کے دن ملاقات کرنا:
❀ ثقہ و صدوق محدث امام علی بن ثابت الجزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے تقبل الله منا ومنك (اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری نیکیاں قبول فرمائے) کے متعلق پوچھا، جو کلمہ لوگ عید کے دن ایک دوسرے سے کہتے ہیں، تو انھوں نے فرمایا: ہمارے ہاں (مدینہ میں) لوگ ہمیشہ ہی سے ایسا کرتے آ رہے ہیں اور ہم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔“
(الثقات ابن حبان: 90/9، ت: 15348 – إسناده صحیح)
❀ ثقہ و صدوق تابعی امام مکحول رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ عید والے دن جب کوئی شخص ان سے ملتا تو وہ اسے یہ دعا دیتے:
بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ
”اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں برکت دے۔“
(تاریخ ابن معین روایة الدوري: 336/2، ت: 5167 – إسناده حسن لذاته، حجوة و عثمان هما صدوقان وثقهما الجمهور)
عیدین کے دن معانقہ کرنے یعنی گلے ملنے کی کوئی دلیل میرے علم میں نہیں ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں ہدایة النجدین فی حکم المعانقة والمصافحة بعد العیدین المحدث علامہ شمس الحق عظیم آبادی: 116 تا 125)
تکبیرات عید:
❀ تکبیرات کہنا عید کا حصہ ہے، لازمی طور پر کہنی چاہییں۔ ارشاد ربانی ہے:
وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(البقرة: 185)
”اور تم ایک ماہ کی گنتی پوری کرو اور پھر اللہ کی بڑائی کرو کہ جو اس نے تمہیں ہدایت دی ہے، تا کہ تم شکر گزار بنو۔“
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج فى العيدين… رافعا صوته بالتهليل والتكبير
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے دنوں میں باہر نکلتے تو بلند آواز سے تکبیر و تہلیل پڑھتے ہوئے نکلتے۔“
(ابن خزيمة: 612/2، ح: 1431 – السلسلة الصحيحة: 171)
❀ ثقہ تابعی امام نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد سے سویرے سویرے ہی عید گاہ کی طرف نکل جاتے تھے اور عید گاہ میں پہنچنے تک بلند آواز میں تکبیرات کہتے رہتے اور وہاں امام کے آنے تک بھی تکبیرات کہتے رہتے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 279/3، ح: 6129 – إسناده حسن لذاته – سنن الدارقطني: 44/2، ح: 1698)
❀ خواتین بھی عید گاہ کو جاتے ہوئے اور عید گاہ میں نماز تک آہستہ آواز سے تکبیرات کہیں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:
”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) ہمیں عید کے دن عید گاہ جانے کا حکم ہوتا، یہاں تک کہ کنواری لڑکی بھی اپنے پردے والی جگہ سے باہر نکلتی اور حیض والی عورتیں بھی نکلتیں، وہ لوگوں کے پیچھے رہتیں، مردوں کے ساتھ تکبیرات کہتیں، ان کے ساتھ دعا میں شریک ہوتیں اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب التكبير أيام منى وإذا غدا إلى عرفة: 971 – مسلم: 890)
❀ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تکبیرات کے مختلف الفاظ ثابت ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں:
➊ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تکبیرات کے الفاظ یوں پڑھا کرتے تھے:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللَّهُ أَكْبَرُ عَلَىٰ مَا هَدَانَا
”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ اللہ سب سے بڑا اور جلالت والا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، (اس کی یہ سب تعریفیں) اس وجہ سے کہ اس نے ہمیں ہدایت دی۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 315/3، ح: 6280 – إسناده صحیح)
➋ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
”اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جلالت والا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 489/1، 490، ح: 5645، 56454 – إسناده صحیح)
➌ سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ سے تکبیرات کے الفاظ یوں منقول ہیں:
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُمَّ أَنْتَ أَعْلَىٰ وَأَجَلُّ مِنْ أَنْ تَكُونَ لَكَ صَاحِبَةٌ أَوْ يَكُونَ لَكَ وَلَدٌ أَوْ يَكُونَ لَكَ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ أَوْ يَكُونَ لَكَ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا
”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا، اے اللہ! تو اس سے اعلیٰ و اجل ہے کہ تیری کوئی بیوی ہو، یا تیری اولاد ہو، یا بادشاہی میں تیرا کوئی شریک ہو، یا عاجزی و کمزوری کی وجہ سے تیرا کوئی مددگار ہو، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے رہو، اے اللہ! ہمیں معاف فرما، اے اللہ! ہم پر رحم فرما!“
(السنن الكبرى للبيهقي: 316/3، ح: 6282 – إسناده صحیح)
➍ ثقہ تابعی ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ یوم عرفہ کو یہ تکبیرات پڑھتے تھے:
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔“
(ابن أبي شيبة: 167/2، ح: 5649 – صحیح)
تکبیرات عید کے یہ الفاظ دارقطنی میں مرفوع بھی مروی ہیں، لیکن اس کی سند سخت ضعیف ہے اور یہی الفاظ علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ابن ابی شیبہ میں مروی ہیں، لیکن وہ سند بھی ضعیف ہے۔
نماز عید کا بیان
❀ نماز عیدین کا ایک لازمی جز ہے، یہ مردوں اور عورتوں (جو شرعی احکام کے مکلف ہیں) سب پر فرض عین ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي
”ہم اپنے اس (عید کے دن کی) ابتدا نماز سے کریں گے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب سنة العيدين لأهل الإسلام: 951)
❀ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أمرنا نبينا صلى الله عليه وسلم أن نخرج العواتق ذوات الخدور
”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جوان پردے والی خواتین کو بھی عید گاہ میں لے کر جائیں۔“
(بخاری، کتاب العيد، باب خروج النساء والحيض إلى المصلى: 974 – مسلم: 890)
نماز عید میں خواتین کی شرکت:
❀ عید گاہ میں عورتوں کی شرکت لازمی ہے، اگر چہ وہ حیض یا نفاس کے دن گزار رہی ہوں۔
❀ حیض و نفاس والی عورتیں نماز سے علیحدہ رہیں لیکن دعا، تکبیرات اور خطبہ میں ضرور شرکت کریں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أمرنا أن نخرج الحيض يوم العيدين وذوات الخدور فيشهدن جماعة المسلمين ودعوتهم ويعتزلن الحيض عن مصلاهن قالت امرأة يا رسول الله إحدانا ليس لها جلباب قال لتلبسها صاحبتها من جلبابها
”ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم عید کے دن حیض والی اور پردہ دار خواتین کو بھی لے کر آئیں، تا کہ وہ مسلمانوں کے اجتماع اور دعا میں شامل ہوں، ہاں حیض والی عورتیں جائے نماز سے دور رہیں۔ ایک عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس اوڑھنی نہیں ہوتی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی سہیلی اسے اپنی اوڑھنی میں سے ایک حصہ اوڑھا دے۔“
(بخاری، کتاب الصلاة، باب وجوب الصلاة في الثياب: 351 – مسلم: 883)
بعض لوگوں نے ان تمام احادیث کے باوجود عورتوں کے لیے عید گاہ میں جانے پر پابندی لگا رکھی ہے اور یہ مشہور کر رکھا ہے کہ عورتوں کے لیے عید گاہ میں جانا ممنوع ہے، یہ سراسر زیادتی اور احادیث کا مقابلہ ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ الشوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”عورتوں کے عید کے لیے نکلنے کو مطلق طور پر مکروہ کہنا صحیح احادیث کا فاسد آراء کے ذریعے رد کرنا ہے اور اگر تو جوان لڑکیوں کو خاص طور پر روکا جائے تو متفق علیہ صریح حدیث اس کا انکار کرتی ہے، یعنی یہ متفق علیہ حدیث کے صراحتاً خلاف ہے۔“
(نیل الأوطار: 342/3 – والنسخة الأخرى: 306/3)
نماز عید میں بچوں کی شرکت:
❀ بچوں کو بھی نماز عید میں شرکت کرنی چاہیے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بچے تھے) فرماتے ہیں:
خرجت مع النبى صلى الله عليه وسلم يوم فطر أو أضحى فصلى العيد
”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الأضحی کے دن نکلا اور نماز عید ادا کی۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب خروج الصبيان إلى المصلى: 975 – مسلم: 884)
❀ بڑوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاندان کے تمام افراد (چھوٹے، بڑے اور مرد و عورت سب) کو لے کر جائیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے افراد فضل بن عباس، عبد اللہ، عباس علی، جعفر، حسن، حسین، اسامہ بن زید، زید بن حارثہ اور ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہم سب کو لے کر عیدین کی نماز کے لیے نکلتے۔“
(ابن خزيمة: 612/2، ح: 1431 – السلسلة الصحيحة: 171)
عید گاہ جانے کے آداب:
❀ نماز عید کے لیے جانے کے وہی آداب ہیں جو عام نماز کے لیے جانے کے ہیں، لہذا جماعت کے لیے جانے کے آداب ملاحظہ فرمائیں۔ ان کے علاوہ یہ کہ عید گاہ کو جاتے ہوئے اور عید گاہ میں نماز تک بلند آواز سے تکبیرات کہنا مسنون ہے۔
(إرواء الغليل: 650 – السنن الكبرى للبيهقي: 279/3، ح: 6129 – إسناده حسن لذاته)
❀ دوسری روایت میں ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج فى العيدين رافعا صوته بالتهليل والتكبير
”بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے لیے نکلتے تو بلند آواز سے لا إله إلا الله اور تکبیر کہتے تھے۔“
(ابن خزيمة: 612/2، ح: 1431 – السلسلة الصحيحة: 171)
نماز عید کے اوقات:
❀ نماز عید کا وقت سورج طلوع ہو کر ذرا بلند ہونے پر ہے۔
❀ نماز عید جلدی ادا کر لینی چاہیے۔ یزید بن خمیر الرجبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”صحابی رسول عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الأضحی کے دن نکلے، امام کی تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا: (دور نبوی میں) اس وقت تو ہم نماز سے فارغ ہو جایا کرتے تھے اور وہ نماز ضحی کا وقت تھا۔“
(أبو داود، کتاب الصلاة، باب في الصلاة إلى العيد: 1135 – ابن ماجه: 1317 – صحیح)
❀ نماز عید کا آخری وقت زوال سے پہلے تک ہے، جیسا کہ ایک قافلہ دن کے آخری حصہ میں آیا اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ انھوں نے گزشتہ کل چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ روزہ افطار کر دو اور کل عید کی نماز کے لیے آجانا۔
(ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء في الشهادة على رؤية الهلال: 1653 – أبو داود: 1157 – نسائی: 1558 – صحیح)
نماز عید کے لیے اذان واقامت:
❀ عید کی نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز سے آغاز کیا، بغیر اذان اور اقامت کے۔
(مسلم، کتاب صلاة العيدين، باب صلاة العيدين: 885)
❀ لیکن سپیکر وغیرہ میں نماز عید کا وقت وغیرہ بتانا جائز ہے، جیسا کہ ایک قافلہ والوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گزشتہ کل چاند دیکھنے کی گواہی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار کرنے اور کل عید کرنے کا اعلان کروایا۔
(ابن ماجه: 1653)
نماز عیدین کا طریقہ:
❀ عید والے دن سب سے پہلے عید کی نماز پڑھنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي
”ہم اپنے اس (عید کے دن کی) ابتدا نماز سے کریں گے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب سنة العيد لأهل الإسلام: 951)
❀ عید کی نماز دو رکعت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر فصلى ركعتين
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے اور دو رکعت نماز ادا کی۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب الصلاة قبل العيد وبعدها: 989 – مسلم: 884)
❀ عید کی نماز ادا کرنے کا طریقہ وہی ہے جو عام نماز کا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ نماز عید میں بارہ تکبیرات زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں دعائے استفتاح کے بعد سات زائد تکبیرات (ٹھہر ٹھہر کر) کہیں، پھر قراءت کریں اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر پانچ زائد تکبیرات کہیں، پھر قراءت کریں۔
❀ سیدنا عمرو بن عوف المزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كبر فى العيدين فى الأولى سبعا قبل القراءة وفي الآخرة خمسا قبل القراءة
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نمازوں میں پہلی رکعت میں سات تکبیرات کہتے، پھر قراءت کرتے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کہتے، پھر قراءت کرتے تھے۔“
(ترمذی، کتاب العيدين، باب ما جاء في التكبير في العيدين: 536 – أبو داود: 1151 – ابن ماجه: 1277 – صحیح)
❀ احناف کے نزدیک چھ تکبیرات زائد ہیں، تین پہلی رکعت میں اور تین دوسری رکعت میں، لیکن اس کی دلیل والی روایت ضعیف ہے۔
(ملاحظہ ہو معالم السنن: 252/1 – نیل الأوطار: 356/3)
❀ ہر زائد تکبیر کہتے ہوئے رفع الیدین کرنا چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه ثم يكبر ويرفعهما فى كل تكبيرة يكبرها قبل الركوع
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے اور رکوع سے پہلے جتنی بھی تکبیرات کہتے ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے۔“
(أبو داود، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 722 – صحیح)
یہ حدیث رکوع سے پہلے کہی جانے والی تمام تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کو مشروع قرار دیتی ہے، اگر چہ اس میں صراحتاً نماز عید کا ذکر نہیں ہے، لیکن امت کا عملی تسلسل یہی ہے، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ سے عید کی زائد تکبیرات میں رفع الیدین سے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: ”ہاں! ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرو لیکن اس مسئلہ کے حوالے سے میں نے کوئی حدیث نہیں سنی۔“
(إرواء الغليل: 113/3)
ان کے علاوہ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد (یعنی ائمہ اربعہ)، امام اوزاعی اور عطاء رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔
نماز عیدین کی قراءت:
❀ عیدین کی نماز میں قراءت بلند آواز سے کی جائے گی۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۃ ق (سورۃ قمر) اور دوسری رکعت میں سورۃ ق (سورۃ القمر) پڑھنا ثابت ہے۔ اس کے علاوہ پہلی رکعت میں سورۃ الأعلىٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھنا بھی ثابت ہے۔
(مسلم، کتاب الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة: 878)
عید کا خطبہ:
❀ عید کا خطبہ ایک ہی ہے جو نماز کے بعد ہوتا ہے اور کھڑے ہو کر دیا جاتا ہے۔
❀ خطبہ عید میں وعظ و نصیحت کی جائے اور صدقہ کا حکم دیا جائے۔ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الأضحی کے دن عید گاہ کی طرف جاتے اور سب سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں وعظ و نصیحت کرتے، احکام شریعت بتاتے اور فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر: 956 – مسلم: 889)
❀ عید کے لیے دو خطبوں کی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواتین کو علیحدہ خطبہ دینے سے دو خطبوں کا استدلال کرنا قطعاً درست نہیں، کیونکہ صحیح مسلم (884) میں اس کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ دور ہونے کی وجہ سے انھوں نے خطبہ نہیں سنا تھا۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کا خطبہ دینے کے لیے عید گاہ میں منبر نہیں لے جاتے تھے، بلکہ بغیر منبر کے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔
(بخاری، کتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر: 956 – مسلم: 889)
❀ اگر لوگوں کی تعداد زیادہ ہو اور امام کی آواز لوگوں تک نہ پہنچ رہی ہو تو امام اونچی جگہ کھڑا ہو کر خطبہ دے سکتا ہے۔
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب يوم العيد على راحلته
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن سواری پر بیٹھ کر خطبہ دیا۔“
(ابن حبان: 2825 – شعیب الارناؤوط نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
❀ عید کا خطبہ سننا سنت ہے، اس لیے ضرورت کے تحت کوئی شخص بغیر خطبہ سنے بھی جا سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے بعد فرمایا:
إنا نخطب فمن أحب أن يجلس للخطبة فليجلس ومن أحب أن يذهب فليذهب
”اب ہم خطبہ دیں گے، جو خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے وہ بیٹھ جائے اور جو جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے۔“
(أبو داود، کتاب الصلاة، باب الجلوس للخطبة: 1155 – نسائی: 1572 – ابن ماجه: 1290 – صحیح)
عید گاہ میں نوافل:
❀ نماز عید سے پہلے یا بعد عید گاہ میں نوافل پڑھنا جائز نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر فصلى ركعتين لم يصل قبلها ولا بعدها
”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب الصلاة قبل العيد وبعدها: 989 – مسلم: 884)
گاؤں میں نماز عید:
❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نماز عید صرف شہر میں ہو گی، گاؤں میں نہیں، لیکن یہ خیال باطل ہے، کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام ابن ابی عقبہ کو زاویہ گاؤں میں عید سے متعلق حکم دیا تو اس نے ان کے اہل و عیال اور بیٹوں کو جمع کر کے شہر والوں کی طرح نماز عید پڑھائی اور ان کی طرح تکبیرات کہیں۔
(بخاری، کتاب الصلاة، باب إذا فاته العيد يصلى ركعتين، تعليقا، قبل الحديث: 987)
نماز عید کس جگہ ادا کرنی چاہیے؟:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ عید کی نماز عید گاہ میں ادا کرتے تھے۔ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الأضحی کے دن عید گاہ کی طرف جاتے تھے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر: 956)
مجبوری کی صورت میں مسجد یا کسی بھی جگہ نماز عید پڑھی جاسکتی ہے۔
❀ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا
(التغابن: 16)
”اپنی طاقت کے مطابق اللہ سے ڈرو، احکام سنو اور اطاعت کرو۔“
اگر عید جمعہ کے دن آجائے تو؟
❀ ہمارے ہاں بعض لوگ جمعہ کے دن عید آنے کو حکومت کے حق میں بہت برا سمجھتے ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ یہ خوشی کا موقع ہے کہ دو عیدیں ایک دن جمع ہو گئی ہیں۔
❀ عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھے ہو جائیں تو عید لازمی پڑھنی چاہیے، لیکن جمعہ ادا کرنے کی رخصت ہے، جبکہ دونوں ادا کرنا افضل ہے۔ ایاس بن ابی رملہ شامی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کر رہے تھے: ”کیا تمہارے ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کبھی دو عیدیں (جمعہ اور عید) ایک ہی دن میں اکٹھی ہوئی ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں!“ پوچھا: ”تب آپ نے کیسے کیا؟“ انھوں نے جواب دیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا:
فمن شاء أن يصلي فليصل
”جو جمعہ پڑھنا چاہتا ہے وہ جمعہ پڑھ لے۔“
(أبو داود، کتاب الجمعة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1070 – ابن ماجه: 1310 – صحیح)
عید گاہ سے واپسی:
❀ نماز عید سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا مسنون ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد خالف الطريق
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید کے لیے آتے جاتے راستہ تبدیل کیا کرتے تھے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب من خالف الطريق إذا رجع يوم العيد: 986)
عید الفطر کے مخصوص مسائل:
❀ عید الفطر یکم شوال کو ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الفطر يوم يفطر الناس
”عید الفطر اس دن ہے جب لوگ روزے افطار کرتے ہیں۔“
(ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء في الفطر والأضحى متى يكون؟: 802 – ابن ماجه: 1660 – صحیح)
❀ شوال کا چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس دن پورے کر لیے جائیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”چاند دیکھے بغیر روزے نہ رکھو اور نہ روزے ختم کرو، حتی کہ (شوال کا چاند) دیکھ لو، اگر بادل چھا جائیں تو (رمضان کے) تیس دن پورے کر لو۔“
(بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبي إذا رأيتم الهلال… الخ: 1907، 1906 – مسلم: 1080)
❀ اگر شوال کے چاند کا علم نہ ہو اور روزہ رکھ لیا جائے اور بعد میں علم ہو کہ چاند نظر آچکا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ چاند کی اطلاع عید کے وقت کے اندر اندر مل گئی ہے تو روزہ کھول کر عید کر لینی چاہیے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ چاند کی اطلاع زوال کے بعد ملی ہے تو روزہ تو کھول دینا چاہیے لیکن عید دوسرے دن کرنی چاہیے۔
(ابن ماجه: 1653 – أبو داود: 1157 – نسائی: 1558 – صحیح)
صدقہ فطر (فطرانہ) کا مسئلہ:
❀ عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ہر مسلمان پر اپنی طرف سے اور اپنے زیر کفالت افراد کی طرف سے فطرانہ ادا کرنا فرض ہے۔
❀ فطرانہ کی مقدار ایک فرد کی طرف سے علاقہ کی خوراک کا ایک صاع ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر فرض کیا ہے کھجور کا ایک صاع، یا جو کا ایک صاع مسلمانوں کے غلام و آزاد، مرد و عورت اور چھوٹے و بڑے ہر کسی پر اور حکم دیا کہ لوگوں کے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔“
(بخاری، کتاب صدقة الفطر، باب فرض صدقة الفطر: 1503 – مسلم: 984)
ایک صاع میں چار مد ہوتے ہیں اور ایک مد یہ ہے کہ (درمیانے ہاتھوں والا) آدمی اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور اس میں غلہ بھرے۔
(لسان العرب: 53/13 – مجمع بحار الأنوار: 568/4 – النهاية في غريب الحديث والأثر: 308/4 – القاموس المحيط: 407)
لہذا ثابت ہوا کہ ایک صاع درمیانی ہتھیلیوں والے آدمی کی چار مد ہوتا ہے۔
(المجموع: 129/6 – مغني المحتاج: 382/1 – المصباح المنير: 415/1 – الايضاح والتبيان في معرفة المكيال والميزان: 57، 56 – احكام زكوة وعشر: 53 – الميزان في الأوزان)
صدقہ فطر دینے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ درمیانے ہاتھوں والا آدمی دونوں ہاتھوں کی مٹھی بھر کر چار مرتبہ دے دے۔
(فتاویٰ ہيئة كبار العلماء)
عید الفطر سے پہلے کھانا:
❀ عید الفطر کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھانا مسنون ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات ويأكلهن وترا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن طاق تعداد میں کھجوریں کھا کر جاتے تھے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب الأكل يوم الفطر قبل الخروج: 953)
عید الأضحیٰ کے مخصوص مسائل:
❀ عید الأضحی ذی الحجہ کی دس تاریخ کو ہوتی ہے۔
(ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء في الفطر والأضحى متى يكون؟: 802 – ابن ماجه: 1660)
عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں سے بڑھ کر کسی دن کا عمل اللہ کو زیادہ محبوب نہیں ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”کیا جہاد بھی نہیں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد بھی نہیں، مگر وہ مجاہد جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلے اور کچھ بھی واپس نہ آئے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق: 969)
تکبیرات عشرہ ذی الحجہ:
❀ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں کثرت سے تکبیرات کہتے رہنا چاہیے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عشرہ ذی الحجہ میں بازاروں میں چلتے اور بلند آواز سے تکبیرات کہتے اور بازار والے لوگ بھی ان کے ساتھ مل کر تکبیرات کہتے۔
(بخاری، کتاب العيدين، باب فضل العمل في أيام التشريق، تعليقا، قبل الحديث: 969)
عرفہ کی فضیلت:
❀ عرفہ کے دن دین اسلام مکمل ہوا، یعنی یہ تکمیل دین کا دن ہے۔
(بخاری، کتاب الإيمان، باب زيادة الإيمان ونقصانه: 45 – مسلم: 3017)
❀ یوم عرفہ میں اللہ تعالیٰ بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے، بندوں کے قریب ہوتا ہے اور فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
هؤلاء ما يريدون؟
”یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“
(مسلم، کتاب الحج، باب فضل يوم عرفة: 1348)
یوم عرفہ کی تکبیرات:
❀ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں، ذوالحجہ کی نو (9) تاریخ سے اور بالخصوص نو سے تیرہ (13) تاریخ تک تکبیرات کہتے رہنا چاہیے۔
سیدنا علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یوم عرفہ کی نماز فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی شام تک تکبیرات کہتے تھے، نماز مغرب میں نہیں کہتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 2488/3، ح: 5645، 5630 – مستدرك حاکم: 299، 300، ح: 1113، 1114 – علامہ الالبانی نے اسے صحیح کہا ہے)
یوم عرفہ کا روزہ:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله والسنة التى بعده
”یوم عرفہ (نو ذوالحجہ) کو روزہ رکھا جائے تو مجھے امید ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔“
(مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة أيام، كل شهر… الخ: 1162)
❀ یوم عرفہ کے بارے میں بعض علماء نے اختلاف کیا ہے کہ آیا اپنے علاقے کی رؤیت کا اعتبار کرتے ہوئے نو ذی الحجہ کا روزہ رکھا جائے گا، یا پھر مکہ کی رویت کا اعتبار کرتے ہوئے اس دن روزہ رکھا جائے گا جس دن حاجی میدان عرفات میں جمع ہوں گے۔ تو صحیح بات یہی ہے کہ اپنے علاقے کی رؤیت کا اعتبار کرتے ہوئے نو ذی الحجہ کو یہ روزہ رکھا جائے گا۔
قربانی کے دن کی فضیلت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الأيام عند الله يوم النحر ثم يوم القر
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والا دن قربانی کا دن ہے (یعنی دس ذی الحجہ)، پھر گیارہ ذی الحجہ ہے۔“
(أبو داود، کتاب المناسك، باب في الهدى إذا عطب قبل أن يبلغ: 1765 – صحیح)
نماز عید الاضحیٰ کے آداب:
❀ عید الأضحی کے دن نماز عید کے بعد کھانا سنت ہے۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کوئی چیز (طاق کھجوریں) کھا کر نکلتے تھے اور عید الأضحی کے دن نماز کے بعد کھانا کھاتے تھے۔“
(ترمذی، کتاب العيدين، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج: 542 – ابن ماجه: 1756 – صحیح)
❀ بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت سے کھائیں، کیونکہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری سند سے اس روایت کے الفاظ یوں ہیں:
ولا يطعم يوم النحر حتى يذبح
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الأضحی کے دن کچھ نہ کھاتے، یہاں تک کہ قربانی کر لیتے۔“
(ابن خزيمة: 610/2، 611، ح: 1426 – ابن حبان: 2812 – اسے شعیب الارناؤوط اور الاعظمی نے حسن کہا ہے)
نماز عید کے بعد قربانی:
❀ قربانی عید الأضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے بعد کرنی چاہیے، کیونکہ نماز سے پہلے جانور ذبح کرنے سے قربانی نہیں ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أول ما نبدأ فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن نحر قبل الصلاة فإنما هو لحم قدمه لأهله ليس من النسك فى شيء
”اس دن سب سے پہلے ہم نماز ادا کریں گے، پھر واپس جا کر قربانی کریں گے، جس شخص نے ایسا ہی کیا اس نے ہمارے طریقے کو پالیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی، اس نے اپنے گھر والوں کو گوشت مہیا کیا ہے، وہ قربانی ہرگز نہیں ہے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب الخطبة بعد العيد: 965 – مسلم: 1961)
❀ اگر کوئی غلطی سے نماز عید سے پہلے قربانی کر لے (تو استطاعت ہو) تو نماز کے بعد اسے دوبارہ قربانی کرنی چاہیے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
من ذبح قبل أن يصلي فليذبح أخرى مكانها
”جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی، اسے اس کی جگہ (استطاعت ہو تو) دوسری قربانی کرنی چاہیے۔“
(بخاری، کتاب العيدين، باب كلام الإمام والناس في خطبة العيد… الخ: 985 – مسلم: 1960)