اسلام میں عیدین کا تعین، رویت ہلال کے لیئے مطلوبہ گواہان اور ساری اُمت کی ایک ہی دن عید

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عید کا معنی و مفہوم :۔

عید کا لغوی معنی اور وجہ تسمیہ :۔

لفظ عید کی لغوی تشریح اور اس کے نام رکھنے کی وجوہات کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال درج ذیل ہیں:
امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
➊ لفظ عید العود (لوٹنا) سے مشتق ہے اور عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر عید خوشی اور سرور لے کر لوٹتی ہے اور اس کی جمع اعياد آتی ہے۔
➋ لفظ عید اصل میں عود تھا، پھر اس قاعدہ کے تحت کہ واؤ ساکن ماقبل مکسور يا ہو جاتا ہے، کی رو سے واؤ کو یا سے بدل دیا گیا اور عود سے عيد بن گیا۔“
➌ خلیل نحوی کا قول ہے کہ ہر تہوار کو عید کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ عید میں شامل ہونے کے لیے اس دن لوٹ کر گھر آتے ہیں۔
ابن انباری کہتے ہیں: عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ہر انسان اپنے مقام و مرتبہ کی طرف لوٹتا ہے۔ چنانچہ میزبان اپنی حیثیت کے مطابق ضیافت کرتا ہے اور مہمان کی اس کی حیثیت کے مطابق مہمانی کی جاتی ہے۔ صاحبِ حیثیت و مالدار بقدر استطاعت لطف و اکرام کرتے ہیں اور نادار و فقیر لوگوں کی خوب مالی معاونت کی جاتی ہے۔ (نیل الاوطار: 1/400)
➎ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عید کے معنی و مفہوم کی تعیین کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:
1. اس دن کے بار بار لوٹ کر آنے کے سبب اسے عید کہا جاتا ہے۔
2. عید کے دن خوشی اور فرحت لوٹتی ہے اس لیے اس دن کو عید سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
3. اس سے نیک شگون لیا جاتا ہے کہ عید کی خوشی میں شریک لوگوں پر یہ دن دوبارہ لوٹ کر آئے، جیسے بطورِ نیک شگون قافلہ کو ”سالمہ“ کہا جاتا ہے کہ یہ راستے میں ڈاکوؤں اور حادثات سے محفوظ رہے۔ (شرح النووی: 2/411)

عید ایک مذہبی تہوار: ۔

ہر قوم، مذہب اور ملت کا خاص مذہبی تہوار ہوتا ہے جس میں وہ جشن مناتے ہیں، اپنے دینی شعار کا اظہار کرتے اور خوشی و فرحت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اہل اسلام کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ دو مذہبی تہوار منانے کی ترغیب دی گئی ہے اور انہیں اغیار کے تہوار، قومی جشن، سالِ نو کا جشن، جشنِ آزادی اور جشنِ میلاد جیسے عیدین کے سوا کسی بھی قسم کا تہوار منانے سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لِكُلِّ أُمَّةٍ مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ (الحج: 67)
”ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ اس معاملہ (دین) میں تم سے ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔“
اس آیت میں جیسے اس بات کی وضاحت ہے کہ گزشتہ شریعتیں ، ان کی عبادات کے طریقے منسوخ ہو چکے ہیں اسی طرح ان کے مذہبی تہوار بھی منسوخ ہیں اور مسلمانوں کو اپنی عبادات اور مذہبی تہوار اختیار کرنے اور اغیار کی نقالی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے سو جیسے انھیں اپنے مذہبی تہوار (عیدین) کو پر جوش منانے کا حکم ہے، اسی طرح غیر مسلموں کی عیدوں میں شرکت سے انھیں روکا گیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل أبو بكر وعندي جاريتان من جواري الأنصار، تغنيان بما تقاولت الأنصار يوم بعاث قالت: وليستا بمغنيتين فقال أبو بكر: أمزامير الشيطان فى بيت رسول الله ﷺ؟ وذلك فى يوم عيد فقال رسول الله ﷺ: يا أبا بكر! إن لكل قوم عيدا، وهذا عيدنا
”ابوبکر رضی اللہ عنہ (ہمارے گھر) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس انصار قبیلہ کی لڑکیاں بہادری کے وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگِ بعاث میں کہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ لڑکیاں پیشہ ور گلوکارائیں نہیں تھیں۔ (ان کے اشعار سن کر) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کے گھر میں شیطانی ساز؟ اور یہ عید کے دن کا واقعہ ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! بلاشبہ ہر قوم کی عید ہے اور یہ ہماری (مسلمانوں کی) عید ہے۔“
(بخاری: 952، مسلم: 892، ابن ماجہ: 1898، مسند احمد: 6/99)
یہ حدیث دلیل ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہبی تہوار منانے کی مکمل آزادی ہے۔ عیدین ہی مسلمانوں کے مذہبی تہوار ہیں اور غیر مسلم اقوام کی عیدوں اور غیر شرعی تہوار سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔

اسلام اور عید: (کتنی عیدیں)

شریعتِ اسلامیہ میں دو ہی عیدیں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) ہیں، اس کے علاوہ کسی تیسری عید یا مذہبی تہوار منانے کی اجازت نہیں ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قدم رسول الله ﷺ المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال: ما هذان اليومان؟ قالوا: كنا نلعب فيهما فى الجاهلية فقال رسول الله ﷺ: إن الله أبدلكم بهما خيرا منهما: يوم الأضحى ويوم الفطر
”رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن (مقرر) تھے جن میں وہ کھیل کود اور تفریح کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دو دن کیا ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہم جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل کود کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے دو بہترین دن (عید الاضحیٰ اور عید الفطر) دیے ہیں۔“
(سنن ابوداؤد: 1134، سنن نسائی: 1557، مسند احمد: 3/250، صحیحہ: 2021، اسناد صحیح)
حميد الطویل مدلس راوی ہے، لیکن مسند احمد میں سماع کی صراحت موجود ہے، جس سے تدلیس کی علت کا ازالہ ہو گیا ہے۔

فوائد: ۔

شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
➊ دور جاہلیت میں اہل جاہلیت کے خوشی کے دو دن (ایک نیروز اور دوسرا مہرجان) تھے قاموس میں ہے کہ نیروز سال نو کا پہلا دن ہے اور یہ فارسی کے لفظ نوروز (نیا دن) سے معرب ہے۔ نوروز پہلا دن ہے، جس میں سورج برج حمل میں منتقل ہوتا ہے اور یہ شمسی سال کا پہلا دن ہے۔ ماہ محرم میں نئے چاند کا طلوع ہونا قمری سال کا پہلا دن ہے۔ مہرجان نوروز کے مقابل دن ہے اور یہ میزان (معتدل موسم) کا پہلا دن ہے۔
یہ دونوں دن نوروز اور مہرجان، آب و ہوا اور سردی گرمی کے لحاظ سے نہایت معتدل ہوتے ہیں اور ان میں دن رات کے اوقات برابر ہوتے ہیں۔ گویا حکمائے متقدمین ، جو علم افلاک سے وابستہ تھے، انھوں نے یہ دو دن عید کے لیے منتخب کیے ہوئے تھے اور ان ادوار کے لوگوں نے اس اعتقاد سے کہ یہ حکماء، عقل کل رکھتے ہیں، اس معاملہ میں ان کی تقلید کی اور ان ایام کو تہوار اور جشن کا درجہ دیا۔ پھر انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہوئی اور انہوں نے حکماء کے یہ بناوٹی تہوار اور خود ساختہ عیدیں منسوخ قرار دیں۔
➋ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (اس حدیث کی ترتیب میں) عید الاضحیٰ کو عید الفطر سے اس لیے مقدم کیا گیا ہے کہ یہ بڑی عید ہے۔
➌ نیروز اور مہرجان (جاہلیت کی عیدوں میں) تفریح کرنا اور خوشی و فرحت کا اظہار نا جائز ہے۔
➍ عیدین میں انتہائی خوشی کا اظہار اور عبادت بجالانے کا حکم ہے، کیونکہ یہ حقیقی خوشی کے دن ہیں: فرمان باری تعالیٰ ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا (يونس: 58)
”آپ کہہ دیجیے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے لوگوں کو خوش ہونا چاہیے۔“
➎ مظہرکا قول ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ نیروز ، مہرجان اور کفار کی دیگر عیدوں اور تہواروں کی تعظیم ممنوع و حرام ہے، اس مسئلہ میں ابو حفص الکبیر حنفی رحمہ اللہ نے مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے نیروز کی تعظیم میں اس دن کسی مشرک کو انڈاہد یہ کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور اس کے اعمال غارت ہو جائیں گے۔
اور قاضی ابوالمحاسن حسن بن منصور حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس نے نیروز کے دن عام معمول سے ہٹ کر غیر معمولی خرید و فروخت کی یا معمول کے برخلاف اس دن کسی کو ہدیہ دیا۔ اگر اس نے یہ کام اس دن کی تعظیم میں کیے ہیں جیسے کفار و مشرکین اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے خرید و فروخت آسودہ حالی اور تعیش کے لیے کی اور معمول کے مطابق اسی دن ہدیے دیئے تو وہ کافر نہیں ہو گا لیکن کفار کی مشابہت کی وجہ سے یہ کام مکروہ ہیں اور ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (عون المعبود: 20/4)
➏ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار کی عیدوں کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کو اہل جاہلیت کی عیدوں کے دن نیروز اور مہرجان پر برقرار نہیں رکھا اور نہ ہی اہل اسلام کو ان دنوں میں خوشی منانے اور کھیل کی اجازت دی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان دو دنوں کے عوض خوشی کے اور دو دن عطاء کئے ہیں، اور یہ عوض (عیدین منجملہ جاہلیت کی عیدوں) کے ترک کا متقاضی ہے۔ (فيض القدير: 669/4)
➐ کتب سیرت میں مذکور ہے کہ اسلام میں پہلی عید الفطر تھی اور اس کا آغاز دو ہجری کو ہوا تھا۔
➑ عیدین میں خوشی و فرحت کا اظہار مستحب عمل ہے اور اس شریعت کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نافذ کی ہے۔ (سبل السلام: 497/2)

عید الفطر کی تعین کا شرعی طریقہ: ۔

عید الفطر یکم شوال کو منائی جاتی ہے اور اس کی تعیین کا طریقہ کار یہ ہے کہ انتیس رمضان کے بعد شوال کا چاند نظر آجائے تو ٹھیک ورنہ رمضان کے تیس دن مکمل ہونے پر اگلے روز عید ہوگی۔ کیونکہ اسلامی مہینا انتیس یا تیس دن کا ہوتا ہے اور تیس دن کی گنتی کے بعد لا محالہ اگلا مہینا بہر صورت شروع ہو جاتا ہے۔
➊ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صوموا لرؤيته و أفطرو لرؤيته، فإن غمى عليكم الشهر فعدوا ثلاثين
”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو (یعنی عید الفطر کا اہتمام کرو) پھر اگر تم بادل کی وجہ سے مہینہ کی تعین نہ کر سکو تو اس مہینے کو تیس دن شمار کرو۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبى صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأيتم الهلال فصوموا: 1909 ۔ صحیح مسلم کتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال: 1081 – سنن نسائی: 2119۔ مسند أحمد: 415/2
➋ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا:
لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له
”جب تک تم رمضان کا چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور تم روزہ ترک نہ کرو تا وقتیکہ تم چاند کا معائنہ نہ کرو، پھر اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تم مہینا کا حساب لگاؤ۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبى صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأيتم الهلال فصوموا 1906 – مسلم، كتاب الصيام باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال: 1080 – سنن نسائی: 2123 ، مسند أحمد: 6322
➌ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشهر تسع وعشرون، فإذا رأيتم الهلال فصوموا، وإذا رايتموه فأفطروا ، فإن غم عليكم فاقدرواله
”مہینا انتیس دن کا ہے، چنانچہ جب تم رمضان کا چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے (ہلال شوال) دیکھو تو روزہ چھوڑ دو اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو مہینے کی گنتی کا اندازہ لگاؤ۔“
صحيح بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأيتم الهلال فصوموا: 1907 – ، مسلم، کتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال: 1080 – سنن أبوداود، كتاب الصيام، باب الشهر يكون تسعا وعشرين: 2320

فوائد: ۔

مذكورہ بالا احادیث دلیل ہیں کہ رمضان کے روزوں اور عید الفطر کی تعیین کا طریقہ کار ہلال رمضان وعید کا نظر آنا ہے۔ بصورت دیگر مہینے کے تیس دن مکمل ہونے پر رمضان و شوال کی تعیین ہو جائے گی۔

ہلال عید کے ثبوت کے لیے معتبر گواہ: ۔

ہلال عید کے ثبوت کے لیے کتنے گواہوں کی شہادت معتبر ہے۔ اس بارے علماء کا اختلاف ہے۔ ذیل میں ہم اس مسئلہ کے دلائل، علماء کے اقوال اور راجح مسئلہ بیان کریں گے۔
➊ عبد الرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ نے شک کے روزہ کے دن لوگوں سے خطاب کیا کہ بلاشبہ میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اختیار کی اور میں نے انھیں اس مسئلے کے بارے پوچھا تو انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
صوموا لرؤيته، و أفطروا لرؤيته، وانسكوالها، فإن غم عليكم فأكملوا عدة ثلاثين، فإن شهد شاهدان فصوموا وأفطروا
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اسے دیکھ کر روزہ چھوڑ و اور رویت ہلال سے عبادت کا وقت مقرر کرو، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو تو مہینہ کے تیس دن مکمل کرو، پھر اگر دو گواہ رویت ہلال کی گواہی دیں تو ، اس گواہی پر ، تم روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو۔“
مسند أحمد: 321/4 ، سنن نسائی: 2118 ، إسناده حسن
➋ حسین بن حارث جدلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امیر مکہ (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) نے اپنے خطاب میں ارشاد کیا:
عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننسك للرؤية، فإن لم نره وشهد شاهدا عدل نسكنا بشهادتهما
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا پابند کیا ہے کہ ہم چاند دیکھ کر عبادت (روزے اور عید) کا وقت مقرر کریں اور اگر ہم خود چاند نہ دیکھ پائیں اور دو عادل گواہ (چاند نظر آنے کی) گواہی دیں تو ان کی گواہی کے سبب ہم عبادت کا وقت مقرر کریں۔
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال: 2338 ، سنن دار قطنی: 2171 ، سنن بیهقى: 248/4 – إسناد: حسن
➌ ربعی بن حراش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
إختلف الناس فى آخر يوم من رمضان، فقدم أعرابيان فشهد عند النبى صلى الله عليه وسلم بالله لاهلا الهلال أمس عشية، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس أن يفطروا وأن يغدوا إلى مصلاهم
”لوگوں میں رمضان کے آخری دن (چاند نظر آنے کے بارے) اختلاف پیدا ہو گیا۔ پھر دو دیہاتی آئے اور انہوں نے سہ پہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انھوں نے گزشتہ کل واقعی چاند دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور انھیں یہ حکم صادر کیا کہ کل صبح وہ عید گاہ میں حاضر ہوں۔“
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال: 2339- مسند أحمد: 314/4 ـ صحيح

فوائد: ۔

ان احادیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہلال شوال کے ثبوت کے لیے کم از کم دو عادل مسلم گواہوں کی شہادت ضروری ہے انھیں احادیث سے استدلال کرتے ہوئے جمہور علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو عادل گواہوں کا رویت ہلال کی شہادت دینا لازم ہے۔
➊ چنانچہ نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابو ثور رحمہ اللہ کے سوا تمام اہل علم کا موقف ہے کہ ایک عادل شخص کی گواہی پر کہ اس نے چاند دیکھا ہے عید الفطر کا انعقاد نا جائز ہے البتہ اس مسئلہ میں ابو ثور رحمہ اللہ نے ایک عادل کی شہادت کو جائز قرار دیا ہے۔ شرح النووي: 189/4
➋ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا احادیث دلیل ہیں کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے تنہا شخص کے چاند دیکھنے کی شہادت نا کافی ہے۔ تحفة الأحوذي: 253/3
➌ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ابو یوسف رحمہ اللہ رمضان کے ثبوت کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی قبول کرتے ہیں۔ حتی کہ اس بارے وہ غلام اور عورت حتی کہ باندی کی شہادت بھی درست تسلیم کرتے ہیں، لیکن عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو عادل مردوں کی گواہی لازم قرار دیتے ہیں اور اس بارے ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ شافعی رحمہ اللہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے عورتوں کے رویت ہلال کی گواہی جائز قرار نہیں دیتے اور مالک رحمہ اللہ، اوزاعی رحمہ اللہ اور اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ رمضان اور عید الفطر کے ثبوت کے لیے کم از کم دو گواہوں کے چاند دیکھنے کی شہادت قبول کرتے ہیں۔ عون المعبود: 28/7

راجح موقف: ۔

اس مسئلہ میں راجح موقف یہ ہے کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے ایک عادل شخص کا چاند دیکھنا کافی ہے اور اس کی گواہی معتبر ہوگی۔ اس کا ثبوت آئندہ دلائل ہیں۔

دلیل نمبر 1: ۔

یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ ثبوت رمضان کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی معتبر ہے اس کی دلیل عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث ہے وہ بیان کرتے ہیں:
تراءى الناس الهلال، فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني رأيته، فصام وأمر الناس بصيامه
”لوگ کوشش سے چاند دیکھ رہے تھے ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے واقعی چاند دیکھا ہے چنانچہ اس شہادت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزے کا حکم دیا۔“
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب في شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان: 2342 – سنن دارمی: 1697 – صحيح ابن حبان: 3447۔ سنن دارقطنی: 2127 ۔ سنن بیهقی: 212/4 – مستدرك حاكم: 423/1 – إسناده حسن
یہ حدیث واضح نص ہے کہ ثبوت رمضان کے لیے ایک عادل شخص کا چاند دیکھنے کی شہادت دینا کافی ہے چنانچہ اس پر قیاس کی رو سے عید الفطر کے ثبوت کے لیے ہلال شوال کے بارے ایک شخص کی گواہی معتبر ہو گی۔
شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت نہیں کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو عادل مردوں کے چاند دیکھنے کی شہادت شرط ہے تو ظاہر ہے کہ ایک شخص کی گواہی سے ثبوت رمضان کی دلیل پر قیاس کرتے ہوئے عید الفطر کے ثبوت کے لیے بھی ایک شخص کی گواہی کافی ہے۔ نیز مخصوص مسائل (جہاں دو مردوں کی گواہی شرط ہے) کے سوا جیسے دیگر مسائل میں خبر واحد قابل حجت ہے۔ اسی طرح ثبوت عید الفطر کے لیے بھی ایک شخص کی گواہی حجت ہو گی ۔ نيل الأوطار: 201/4
خطابی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ شوال کا چاند دیکھنے کے متعلق دو آدمیوں کی گواہی مقبول ہے لیکن ایک شخص کی گواہی کے بارے علماء کا اختلاف ہے اور اکثر علماء کا موقف ہے کہ شوال کے ثبوت کے لیے کم از کم دو گواہوں کی چاند دیکھنے کی گواہی قبول ہے۔
نیز کچھ علماء کا موقف ہے کہ ہلال عید کے ثبوت کے لیے ایک شخص کی گواہی بھی معتبر ہے ان کا خیال ہے کہ رویت ہلال کا تعلق باب الاخبار سے ہے، جس کا اطلاق شہادت (جن کے ثبوت کے لیے دو گواہوں کی گواہی شرط ہے) پر نہیں ہوتا پھر جیسے رمضان کے ثبوت کے لیے ایک شخص کی گواہی مقبول ہے اس سے لازم آتا ہے کہ ثبوت شوال کے لیے بھی ایک شخص کے چاند دیکھنے کی شہادت معتبر ہو۔ عون المعبود: 27/7

دلیل نمبر 2: ۔

وہ حدیث جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو آدمیوں کا رویت ہلال کی گواہی دینا شرط ہے۔ وہ حدیث ضعیف ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أجاز شهادة رجل واحد على رؤية هلال رمضان، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحير شهادة فى الإفطار إلا شهادة رجلين
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا چاند دیکھنے کے بارے ایک شخص کی شہادت قبول کی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے چاند کے ثبوت کے لیے دو آدمیوں ہی کی گواہی تسلیم کرتے تھے۔“
المعجم الأوسط للطبرانی: 5353 – سنن دار قطني: 2129 إسناده ضعيف
یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میں ابو اسماعیل حفص بن عمر صنعانی رحمہ اللہ ضعیف راوی ہے۔

نیا چاند دیکھنے کی دعا: ۔

یاد رہے ! چاند دیکھنے کی کوئی مسنون دعا ثابت نہیں ہے، بلکہ چاند دیکھنے کے متعلق جتنی روایات منقول ہیں، وہ ثابت نہیں ہیں۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى الهلال قال: اللهم ! أهله علينا باليمن والإيمان، والسلامة والإسلام، ربي وربك الله
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے ، اے اللہ ! اس چاند کو ہمارے لیے برکت، ایمان، سلامتی اور اسلام کا باعث بنا کر نکال (پھر چاند کو مخاطب کر کے کہتے) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔“
جامع ترمذى كتاب الدعوات، باب مايقول عند رؤية الهلال: 3451۔ مسند أحمد: 162/1 – مسند أبو يعلى: 661 – سنن دارمی: 1688 – مستدرك حاكم: 284/4 – إسناده ضعيف
اس حدیث میں سلیمان بن سفیان مدنی رحمہ اللہ اور بلال بن یحییٰ بن طلحہ رحمہ اللہ ضعیف راوی ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو یہ کلمات کہتے:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأى الهلال قال: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، والتوفيق لما تحب وترضى ربنا وربك الله
”اے اللہ ! اسے امن و ایمان، امن وسلامتی کا اور ان اعمال کی توفیق کا باعث بنا کر طلوع کر جو تجھے محبوب اور پسند ہیں ہمارا اور تیرا رب ایک ہے۔“
طبرانی کبیر: 13330 ۔ سنن دارمی: 1693 – صحيح ابن حبان: 888 – ضعيف الجامع 4404 ، إسناده ضعيف، عثمان بن ابراہیم حاطبی رحمہ اللہ ضعیف راوی ہے۔
اسی طرح چاند دیکھنے کے بارے منقول دعائیں ضعف و مقال سے خالی نہیں ہیں۔

عید الاضحی کا دن: ۔

عید الاضحی، عید البقر، یوم النحر یا عید قربان دس ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے اسے عید الاضحی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن اللہ کی رضا کی خاطر جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ نیز فضیلت و عظمت کے لحاظ سے بھی دس ذوالحجہ کا دن باقی ایام سے افضل ہے عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الأيام عند الله تبارك و تعالى يوم النحر، ثم يوم القر
”بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین دن یوم نحر (دس ذوالحجہ) پھر یوم قر (گیارہ ذوالحجہ) ہے۔“
سنن أبو داؤد، كتاب المناسك، باب فى الهدى إذا عطب قبل أن يبلغ: 1765 – مسند أحمد: 350/4 – صحیح ابن خزیمه: 2866 – سنن بیهقی: 237/5 – إسناده صحيح
آئندہ حدیث سے بھی تعیین ہوتی ہے کہ عید الاضحیٰ کا دن دس ذوالحجہ ہے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرت بيوم الأضحى عيدا جعله الله لهذه الأمة
”مجھے اضحی (دس ذوالحجہ ) کے دن عید منانے کا حکم دیا گیا ہے (اور ) اس دن کو اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عید قرار دیا ہے۔“
مستدرك حاكم: 223/4 – سنن أبو داؤد، كتاب الضحايا، باب ما جاء في ايجاب الأضاحي: 2789 ۔ سنن نسائی: 4370 ۔ صحیح ابن حبان: 5914۔ سنن دار قطني – إسناده حسن، عیسی بن ہلال صدفی رحمہ اللہ صدوق راوی ہے
نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کتاب الاضاحی میں یہ عنوان باندھ کر (باب من قال الأضحى يوم النحر) اس شخص کے موقف کا بیان جو کہتا ہے کہ اضحی یوم النحر (دس ذوالحجہ کا دن) ہے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ عید الاضحی کا دن دس ذوالحجہ ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اضحی (عید قربان کا دن) دس ذوالحجہ ہے۔ فتح الباری: 11/10

عید الفطر اور عید الاضحیٰ اجتماعی تہوار ہیں: ۔

عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں اجتماعیت مقصود ہے اور ان میں انفرادیت اختیار کرنا یا اجتماعیت کی مخالفت کرنا قطعی نا جائز ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الصوم يوم تصومون، والفطر يوم تفطرون، والأضحى يوم تضحون
”روزہ اس دن ہے، جس دن لوگ روزہ رکھیں ، جس دن لوگ روزہ چھوڑیں وہ عید الفطر ہے اور جس دن لوگ قربانی کریں وہ عید الاضحیٰ ہے۔“
جامع ترمذى كتاب الصوم، باب ما جاء الصوم يوم تصومون: 697 – إسناده صحيح

فقہ الحدیث: ۔

امام صنعانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں یہ حدیث دلیل ہے کہ عید کے ثبوت کے لیے لوگوں کی موافقت ضروری ہے اور منفرد شخص کو چاند دیکھنے سے عید کا علم ہونے کی صورت میں بھی باقی لوگوں کی موافقت لازم ہے اور وہ نماز عید ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں باقی لوگوں کی مطاوعت کے حکم میں شامل ہے۔ تحفة الأحوذي: 356/3
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الفطر يوم تفطرون، والأضحى يوم تضحون
”جس دن تم روزہ چھوڑو وہ عید الفطر ہے اور جس دن تم قربانی کرو وہ عید الاضحیٰ ہے۔“
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب إذا أخطاء القوم الهلال: 2324 – سنن ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء فى شهرى العيد: 1660 ـ إسناده صحيح

فقہ الحدیث: ۔

علامہ سندھی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان امور (عیدین) کی تعیین میں انفرادیت کو عمل دخل نہیں ہے بلکہ ان امور میں امام اور جماعت کی اتباع و موافقت ملحوظ ہے اور ان مسائل میں منفرد رائے رکھنے والوں پر امام اور جماعت کی اتباع فرض ہے چنانچہ اگر کوئی اکیلا شخص عیدین کا چاند دیکھ لے اور حاکم اس کی شہادت رد کر دے تو وہ اپنے تئیں کوئی چیز ثابت نہیں کر سکے گا بلکہ ان امور کے ثبوت میں اس پر عوام الناس کی متابعت لازم ہے۔ (حاشیہ سندھی علی ابن ماجہ: 431/3)

کیا ساری امت مسلمہ ایک ہی دن عید منائے گی؟

اس مسئلہ میں کافی اختلاف ہے کہ کیا تمام امت مسلمہ عیدین کے تہوار ایک ساتھ منائے یا ہر علاقے کے لوگ جن کی چاند کی منازل اور مطالع مختلف ہیں وہ چاند کی گنتی کے حساب سے اپنے تہوار منائیں گے؟ اس مسئلے میں راجح بات یہ ہے کہ ہر علاقے کے لوگ چاند کی گنتی کے حساب سے عیدین کا انعقاد کریں گے۔
اس مسئلہ کی حقانیت اور قرین صواب ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں۔

دلیل نمبر 1: ۔

یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلامی مہینوں کا آغاز مہینے کے انتیس دن ہونے پر چاند کے طلوع ہونے سے یا مہینے کے تیس دن مکمل ہونے پر ہوتا ہے اور ہر علاقے کی چاند کی منزل اور مطلع مختلف ہے۔ لہذا ہر علاقے کے لوگ اپنے مہینے کی گنتی کے لحاظ سے عیدین اور رمضان المبارک کا تعین کریں گے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا:
لا تصوموا حتى تروه، ولا تفطروا حتى تروه، فإن أغمي عليكم فاقدروا له
”تم روزہ نہ رکھو تا وقتیکہ رمضان المبارک کا چاند نہ دیکھ لو اور جب تک عید الفطر کا چاند نہ دیکھو روزہ ترک نہ کرو، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو تو مہینے کی گنتی کا اندازہ لگاؤ۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبى صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأيتم الهلال فصوموا: 1906 – صحيح مسلم، کتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال: 1080 – سنن نسائی: 2123، مسند أحمد: 63/2- صحيح ابن حبان: 3445
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صوموا لرؤيته: وأفطروا لرؤيته، فإن غمى عليكم فعدوا ثلاثين
”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، چاند دیکھ کر ہی روزہ ترک کرو اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو (مہینے کے) تیس دن شمار کرو۔“
مسند أحمد: 430/2 – صحیح بخاری: 1909۔ مسلم: 1081۔ سنن نسائی: 2120

فقہ الحدیث: ۔

یہ احادیث واضح دلیل ہیں کہ رمضان المبارک اور عید الفطر کی تعیین کی دو صورتیں ہیں:
➊ شعبان یا رمضان کے انتیس دن مکمل ہونے کے بعد چاند نظر آجائے۔
➋ اگر انتیس تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو مہینے کے تیس دن مکمل کئے جائیں اور یہ بات طے ہے کہ ہر علاقے کا مطلع مختلف ہے لہذا یہ حکم ہر علاقے کے ساتھ خاص ہے جن کے چاند کا مطلع ایک ہے، اس کا ثبوت آئندہ روایت ہے۔
➌ کریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال: فقدمت الشام، فقضيت حاجتها، واستهل على رمضان وأنا بالشام، فرأيت الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة فى آخر الشهر، فسألني عبد الله بن عباس رضى الله عنهما، ثم ذكر الهلال فقال: أنت رأيته فقلت: نعم، ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية فقال: لكنا رأينا ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين، اونراه فقلت: اولا تكتفي برؤية معاوية و صيامه؟ فقال: لا ، هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے (کسی کام کی غرض سے) انھیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، انھوں نے بیان کیا کہ میں شام آیا، اس (ام فضل رضی اللہ عنہا) کا کام کیا اور میں شام ہی میں تھا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا اور میں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر پر مدینہ واپس آیا تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے حال احوال پوچھا بعد ازاں ہلال رمضان کا ذکر چھڑا تو انھوں نے کہا تم نے رمضان المبارک کا چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی، ہم نے رمضان المبارک کا چاند جمعہ کی رات دیکھا تھا، انھوں نے پوچھا: کیا تو نے چاند خود دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے اور میرے سمیت دیگر لوگوں نے بھی دیکھا اور (اس رویت پر) معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت سبھی لوگوں نے روزہ رکھا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے تو ہلال رمضان ہفتہ کی رات دیکھا تھا، چنانچہ ہم مسلسل روزے رکھیں گے۔ تا وقتیکہ ہم تیس دن پورے کر لیں یا چاند دیکھ لیں۔
میں نے عرض کیا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا تمہیں کافی نہیں؟ یہ سن کر انہوں نے کہا: نہیں ! بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے (کہ ہم چاند دیکھ کر یا مہینے کی گنتی پوری کر کے روزہ رکھیں اور اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے عید الفطر کا اہتمام کریں)۔
مسلم، کتاب الصيام، باب بيان أن لكل بلد رؤيتهم: 1087 ـ أبو داؤد، كتاب الصيام، باب إذا رئ الهلال في بلد: 2332- جامع ترمذی کتاب الصوم، باب ما جاء لكل بلد رؤيتهم: 693 – سنن نسائی: 2113 ۔ مسند أحمد: 306/1 ۔ صحیح ابن خزیمہ 1916

فقہ الحدیث: ۔

یہ حدیث واضح نص ہے کہ ہر علاقے کے لوگ جن کے چاند کا مطلع ایک ہے وہ چاند دیکھ کر یا رمضان المبارک کی تیس دن گنتی پوری کرنے کے بعد عید الفطر منائیں گے اور کسی ایک علاقے میں چاند نظر آنے سے تمام روئے زمین کے مسلمان اس علاقے کے لوگوں کی موافقت کے پابند نہیں ہیں۔