مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نجاستیں دور کرنے کے احکام اور طریقے
الجواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جس طرح نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کے ذریعے بدن کے اعضا کو پاک کرنا ایک مسلمان پر لازم ہے، اسی طرح یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ اپنے جسم، لباس اور نماز کی جگہ کو ہر قسم کی گندگی اور ناپاکی سے صاف رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَثِيابَكَ فَطَهِّر ﴿٤﴾
"اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کرو۔” [المدثر 4/74]
اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو حکم دیا تھا کہ وہ کپڑوں پر لگے حیض کے خون کو دھو ڈالے۔ [صحیح البخاری، الوضوء، باب غسل الدم، حدیث 227؛ صحیح البخاری، الحیض، باب غسل دم المحیض، حدیث 307؛ صحیح مسلم، الطھارۃ، باب نجاسۃ الدم وکیفیۃ غسلہ، حدیث 291]
اس مسئلے کی حساسیت کے پیش نظر یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نجاست کو زائل کرنے کے احکام اور طریقوں کو تفصیل سے بیان کیا جائے، تاکہ مسلمان بھائی بہن اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔
اسی اہمیت کے باعث فقہائے کرام اپنی کتب میں "ازالة النجاسة” کے عنوان سے مستقل باب قائم کرتے ہیں، جس میں اعضائے وضو، بدن، لباس، برتن، بستر، چٹائی اور نماز کی جگہ پر لگنے والی نجاست کو دور کرنے کے مسائل تفصیل سے ذکر کیے جاتے ہیں۔ ذیل میں انہی احکام کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے:
① نجاست دور کرنے کا بنیادی ذریعہ
نجاست کو ختم کرکے طہارت حاصل کرنے کا اصل اور بنیادی ذریعہ پانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کی یہ صفت خود بیان فرمائی ہے:
"وَيُنَـزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ”
"اور وہ تم پر آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطانی وسوسوں کو دور کردے۔” [الانفال 8/11]
② زمین اور سخت اشیاء پر لگی نجاست
اگر زمین، دیوار، حوض، پتھر یا چٹان پر نجاست لگ جائے تو اس پر ایک مرتبہ پانی بہا دینا کافی ہے، بشرطیکہ نجاست زائل ہوجائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہانے کا حکم دیا۔
[صحیح البخاری، الوضوء، باب ترک النبی ﷺ والناس الاعرابی، حدیث 219؛ صحیح مسلم، الطھارۃ، باب وجوب غسل البول وغیرہ من النجاسات، حدیث 284]
اسی طرح بارش یا سیلاب کے بہاؤ سے بھی زمین پاک ہوجاتی ہے، یعنی اگر بارش کا پانی نجاست کو بہا لے جائے تو وہ جگہ پاک شمار ہوگی۔
③ کتے اور خنزیر کے لعاب کا حکم
اگر کتے یا خنزیر کا لعاب لگ جائے یا وہ کسی برتن میں منہ ڈال دیں، تو طہارت کے لیے اس چیز کو سات مرتبہ پانی سے اور ایک مرتبہ مٹی سے دھونا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولاهُنَّ بِالتُّرَابِ”
"تم میں سے کسی کے برتن میں اگر کتا منہ ڈال دے تو اس کا پاک کرنا یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے، پہلی مرتبہ مٹی سے۔” [صحیح البخاری، الوضوء، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا، حدیث 172؛ صحیح مسلم، الطھارۃ، باب حکم ولوغ الکلب، حدیث 279؛ سنن النسائی، المیاہ، باب تعفیر الاناء بالتراب من ولوغ الکلب، حدیث 339]
یہ حکم برتنوں کے ساتھ ساتھ کپڑوں، بستروں اور چٹائیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
④ پیشاب، پاخانہ اور خون جیسی نجاست
اگر پیشاب، پاخانہ یا خون جیسی نجاست لگ جائے تو پہلے خشک ہونے کی صورت میں اسے کھرچ دیا جائے، پھر پانی سے دھویا جائے یہاں تک کہ نجاست کا وجود اور رنگ ختم ہوجائے۔
دھونے کے قابل اشیاء کی تین اقسام ہیں:
◈ نچوڑنے کے قابل اشیاء: جیسے کپڑے، جنہیں دھونے کے بعد نچوڑنا ضروری ہے۔
◈ جنہیں نچوڑنا ممکن نہ ہو مگر پلٹایا جا سکے: جیسے چمڑا اور قالین، ان کو دھوتے وقت پلٹانا ضروری ہے۔
◈جنہیں نہ نچوڑا جا سکے نہ پلٹایا جا سکے: ایسی اشیاء کو کسی ڈنڈے سے کوٹ لیا جائے اور ان پر کوئی بھاری چیز رکھ دی جائے تاکہ پانی خارج ہو جائے۔
⑤ نجاست کی جگہ مشتبہ ہو
اگر بدن یا کپڑے پر نجاست لگ جائے اور اس کی جگہ معلوم نہ ہو تو جس مقام پر نجاست کا گمان ہو اسے دھو لیا جائے یہاں تک کہ زوالِ نجاست کا یقین ہوجائے۔ اگر جگہ بالکل معلوم نہ ہو تو پوری چیز کو دھو دینا ضروری ہے۔
⑥ دودھ پینے والے بچے کا پیشاب
اگر وہ بچہ جو ابھی کھانا نہیں کھاتا پیشاب کر دے تو اس جگہ پر صرف پانی کے چھینٹے مار دینا کافی ہے۔ سیدہ اُمِّ قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں، بچے نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا، تو آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور کپڑوں پر چھینٹے مار دیے، دھویا نہیں۔
[صحیح البخاری، الوضوء، باب بول الصبیان، حدیث 223؛ صحیح مسلم، الطھارۃ، باب حکم بول الطفل الرضیع، حدیث 287]
⑦ کھانا کھانے والے بچے کا پیشاب
اگر بچہ اپنی مرضی سے کھانا کھانے لگا ہو تو اس کا پیشاب بالغ انسان کی طرح ناپاک ہے۔ اسی طرح بچی کا پیشاب بھی بالغ عورت کے پیشاب کی طرح ہے، اور ان تمام صورتوں میں پیشاب کو پانی سے دھونا ضروری ہوگا۔
⑧ نجاست کی اقسام
نجاست کی تین قسمیں ہیں:
① نجاستِ غلیظہ: جیسے کتے کا لعاب
②نجاستِ خفیفہ: جیسے دودھ پینے والے بچے کا پیشاب
③ نجاستِ متوسطہ: ان کے علاوہ باقی تمام نجاستیں
⑨ حلال جانوروں کی لید اور پیشاب
جس جانور کا گوشت حلال ہے اس کا گوبر اور پیشاب بھی پاک ہے، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عُرَینہ کے لوگوں کو علاج کے لیے صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے اور ان کا دودھ و پیشاب پینے کا حکم دیا۔
[صحیح البخاری، الوضوء، باب ابوال الابل والدواب والغنم ومرابضھا، حدیث 233؛ صحیح مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب حکم المحاربین والمرتدین، حدیث 1671]
اگر یہ کہا جائے کہ یہ حکم مجبوری کے تحت تھا تو جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نماز کے وقت ان اثرات کو دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مزید برآں، صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد بننے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح البخاری، الوضوء، باب ابوال الابل والدواب والغنم ومرابضھا، حدیث 234؛ صحیح مسلم، الحیض، باب الوضوء من لحوم الابل، حدیث 360]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اصل حکم لید کے بارے میں طہارت کا ہے، سوائے اس کے جسے شریعت نے مستثنیٰ کیا ہو۔” [الفتاویٰ الکبریٰ، باب ازالۃ النجاسۃ، 5/313]
⑩ جوٹھے کے احکام
◈ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا جوٹھا پاک ہے۔
◈ بلی کا جوٹھا بھی پاک ہے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَات”
"بلی ناپاک نہیں ہے، یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے۔” [جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ما جاء فی سور الھرۃ، حدیث 92]
اسی علت کی بنا پر بعض اہل علم نے بلی سے چھوٹے جانوروں اور پرندوں کے جوٹھے کو بھی پاک قرار دیا ہے۔
بلی اور اس کے حکم میں آنے والے جانوروں کے علاوہ جن جانوروں کا گوشت حلال نہیں، ان کی لید، پیشاب اور جوٹھا ناپاک ہے۔
⑪ طہارت کی اہمیت
مسلمان کے لیے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی طہارت کا اہتمام ضروری ہے۔ باطنی طہارت توحید اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ ظاہری طہارت نجاست کو دور کرنے سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ”
"طہارت ایمان کا نصف ہے۔” [صحیح مسلم، الطھارۃ، باب فضل الوضوء، حدیث 223]
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ عموماً قبر کا عذاب پیشاب سے بے احتیاطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [صحیح البخاری، الوضوء، باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ، حدیث 216؛ صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الدلیل علی نجاسۃ البول ووجوب الاستبراء منہ، حدیث 292؛ المستدرک للحاکم 1/183-184]
لہٰذا نجاست لگنے کی صورت میں جلد طہارت حاصل کرنی چاہیے، خصوصاً نماز کے ارادے کے وقت۔ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے جوتوں کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے، اگر نجاست لگی ہو تو صاف کرلی جائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں طہارت کے ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔