اسلام میں زکوٰۃ کا مکمل نظام: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل زکوٰۃ کے مسائل:جلد 01: صفحہ 275
مضمون کے اہم نکات

سوال

◈ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زکاۃ کی فرضیت اور اہمیت

جواب

◈ وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
◈ الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

❀ یہ بات ذہن نشین رہے کہ زکاۃ کے مسائل، اس کی شرائط، زکاۃ ادا کرنے والوں اور مستحقین، زکاۃ والے اموال اور ان کے نصاب—ان سب امور کا جاننا نہایت ضروری ہے۔

① زکاۃ: اسلام کا رکن اور اساس

◈ زکاۃ دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے اور شریعت کی بنیادوں میں شامل ہے، جیسا کہ کتاب و سنت کے دلائل اس پر صاف دلالت کرتے ہیں۔
◈ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تقریباً بیاسی (82) مقامات پر زکاۃ کو نماز کے ساتھ ذکر فرمایا، جس سے زکاۃ کی عظمت اور اس کا نماز سے گہرا تعلق ظاہر ہوتا ہے۔

❀ اسی بنا پر خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ”
“اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص کے ساتھ لڑائی کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب وجوب الزکاۃ حدیث 1400]

❀ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَأَقيمُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتُوا الزَّكو‌ٰةَ … ﴿٤٣﴾… سورة البقرة
“اورتم نمازوں کو قائم کرو اورزکاۃ دو۔” [البقرۃ2/43]

❀ اور فرمانِ الٰہی ہے: ﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ فَخَلّوا سَبيلَهُم …﴿٥﴾… سورةالتوبة
“ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکاۃ اداکرنے لگیں توتم ان کی راہیں چھوڑدو۔” [التوبۃ 9/5]

❀ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ”
“اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
① لالاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا۔
② نماز قائم کرنا۔
③ زکاۃ دینا۔
④ حج کرنا۔
⑤ رمضان کے روزے رکھنا۔” [صحیح البخاری الایمان باب دعاؤکم ایمانکم۔۔۔حدیث 8۔وصحیح مسلم الایمان باب بیان ارکان الاسلام ودعائمہ العظام حدیث 16]

◈ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ زکاۃ فرض ہے اور اسلام کا تیسرا رکن ہے۔
◈ زکاۃ کے وجوب کا انکار کرنے والا کافر ہے، اور جو شخص اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس سے قتال کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پوری زکاۃ ادا کر دے۔

② زکاۃ کی فرضیت کا زمانہ اور عملی نظام

◈ زکاۃ سن 2 ہجری میں فرض ہوئی۔
◈ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ وصول کرنے اور مستحقین تک پہنچانے کے لیے بعض افراد کو بھیجا۔
◈ آپ کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین اور مسلمان حکمرانوں کا طریقہ بھی یہی رہا۔

③ زکاۃ: طہارت، حفاظت اور عبودیت

◈ زکاۃ کی ادائیگی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک اور نیکی کا عمل ہے۔
◈ یہ مال کو میل کچیل سے پاک کرنے کا ذریعہ ہے اور مصیبتوں/آفات سے حفاظت کا سبب بنتی ہے۔
◈ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کی ایک نمایاں صورت ہے۔

❀ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿خُذ مِن أَمو‌ٰلِهِم صَدَقَةً تُطَهِّرُهُم وَتُزَكّيهِم بِها وَصَلِّ عَلَيهِم إِنَّ صَلو‌ٰتَكَ سَكَنٌ لَهُم وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ ﴿١٠٣﴾… سورة التوبة
“آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجئے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے” [التوبۃ 9/103]

❀ خلاصہ یہ کہ زکاۃ کے ذریعے انسانی نفس بخل و کنجوسی سے صاف ہوتا ہے، اور محبوب مال میں سے زکاۃ نکال کر مالدار شخص اللہ تعالیٰ کے امتحان میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

④ کن اموال میں زکاۃ اور شرح کی حکمت

◈ اللہ تعالیٰ نے ان اموال میں زکاۃ فرض کی ہے جن میں مخلوق کو فائدہ زیادہ ہو، اور جو بڑھنے والے/نفع بخش ہوں۔
❀ مثالیں:
✿ مویشیوں کے ریوڑ اور کھیت وغیرہ (قدرتی طور پر بڑھتے رہتے ہیں)
✿ سونا چاندی اور مالِ تجارت (تصرف/لین دین سے بڑھتا ہے)

◈ شریعت نے ہر مال میں زکاۃ کی شرح اس کے حصول میں محنت و مشقت کے اعتبار سے مقرر فرمائی ہے:
❀  دورِ جاہلیت کے دفن شدہ مال کے ملنے پر پانچواں حصہ زکاۃ ہے۔
❀  جس میں مشقت ایک طرف سے ہو تو اس میں دسواں حصہ (عشر) ہے، جیسے وہ کھیت جنہیں پانی دینے کی خاص محنت نہ ہو اور بارش/چشموں سے پانی مل جائے۔
❀  جس میں دوگنی محنت ہو، مثلاً رہٹ وغیرہ سے پانی دینا پڑے، تو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔
❀  جن اموال میں حصوں کی ترتیب/حفاظت/حساب میں زیادہ محنت ہو، وہاں چالیسواں حصہ ہے، جیسے کرنسی یا مالِ تجارت وغیرہ۔

⑤ زکاۃ کا نام، حقیقت اور برکت

◈ زکاۃ کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی ادائیگی سے دل اور مال پاک ہوتے ہیں۔
◈ زکاۃ کوئی تاوان یا ٹیکس نہیں کہ جس سے مال گھٹ جائے اور مالک کا نقصان ہو؛ بلکہ اس کے برعکس زکاۃ سے مال میں برکت اور اضافہ ایسے انداز سے ہوتا ہے کہ دینے والے کو شعور بھی نہیں ہوتا۔

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ”
“صدقہ(زکاۃ) دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔” [صحیح مسلم البر والصلۃ باب استحباب العفو والتواضع حدیث 2588]

◈ شریعت کی اصطلاح میں زکاۃ سے مراد یہ ہے: مخصوص مال میں مخصوص وقت پر واجب ہونے والا مخصوص لوگوں کا حق۔
❀ اس کی صورتیں:
✿ ایک سال پورا ہونے پر مویشی، نقدی اور مالِ تجارت پر زکاۃ
✿ اناج اور پھل تیار ہونے پر زکاۃ
✿ متعین مقدار میں شہد یا معدنیات ملنے پر زکاۃ
✿ عید کی رات سورج غروب ہونے کے بعد صدقۂ فطر ہر مسلمان پر فرض

⑥ زکاۃ کے فرض ہونے کی پانچ شرائط

◈ زکاۃ ہر اس مسلمان پر لازم ہو جاتی ہے جس میں درج ذیل پانچ شرطیں پائی جائیں:

❀  آزاد ہونا

✿ غلام یا لونڈی پر زکاۃ فرض نہیں، کیونکہ ان کی ملکیت میں مستقل مال نہیں ہوتا؛ ان کے پاس جو مال ہو وہ آقا کی ملکیت شمار ہوتا ہے، لہٰذا زکاۃ آقا ادا کرے گا۔

❀  صاحبِ مال کا مسلمان ہونا
✿ زکاۃ مسلمان کے مال میں فرض ہے، کافر کے مال میں فرض نہیں؛ کیونکہ زکاۃ کا مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب اور اطاعت کا اظہار ہے، اور کافر اس کا اہل نہیں۔
✿ نیز زکاۃ میں نیت ضروری ہے، اور کافر کی نیت معتبر نہیں۔
✿ کافر پر زکوۃ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مخاطب ہیں اور آخرت میں سزا بھی پائیں گے۔
✿ البتہ کافر پر زکاۃ وغیرہ احکام کے واجب ہونے میں بعض اہلِ علم کے ہاں اختلاف ہے۔

❀ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ”
“انھیں(اہل کتاب کو) لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شہادت دینے کی دعوت دو۔”

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کیا، پھر فرمایا: "ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ”
“اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لی جائے گی اور ان کے فقراء پر تقسیم ہوگی۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب وجوب الزکاۃ حدیث 1395 وصحیح مسلم الایمان باب الدعاء الی الشھادتین وشرائع الاسلام حدیث 19]

✿ اس روایت میں وجوبِ زکاۃ کے لیے اسلام کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ (واللہ اعلم)

❀  نصاب کا پورا ہونا

✿ زکاۃ کے فرض ہونے کے لیے نصاب کا مکمل ہونا ضروری ہے؛ اگر مال نصاب سے کم ہو تو زکاۃ فرض نہیں۔
✿ صاحبِ نصاب بالغ ہو یا نابالغ، عاقل ہو یا مجنون—ہر ایک پر زکاۃ لازم ہے، کیونکہ دلائلِ شرعیہ میں عموم ہے جو ان سب کو شامل ہے۔

❀  ذاتی ملکیت ہونا

✿ اگر مال کسی کے پاس ہو مگر وہ اس کی ملکیت نہ ہو بلکہ کسی دوسرے کی ملکیت ہو، تو جس کے پاس ہے اس پر زکاۃ نہیں۔
✿ مثال: غلام کا آقا سے مکاتبت کا معاملہ کہ مقررہ رقم دے کر آزاد ہوگا۔ غلام کے پاس رقم جمع ہو جائے تو بظاہر وہ اس کا مالک دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقتاً وہ رقم آقا کی ہے جو عارضی طور پر غلام کے پاس ہے۔

❀  مال پر ایک سال کا گزرنا (حولانِ حول)

✿ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ”
“مال میں زکاۃ تب ہے، جب اس پر ایک سال گزر جائے۔” [سن ابن ماجہ الزکاۃ باب من استفاد مالا حدیث 1792۔وروی الترمذی معناہ الزکاۃ باب ماجاء لا زکاۃ علی المال المستفاد حتی یحول علیہ الحول حدیث 631]

✿ واضح رہے کہ ایک سال گزرنے کی شرط اس مال میں ہے جو زمین کی پیداوار نہ ہو، جیسے نقدی، مویشی، مالِ تجارت وغیرہ—ان میں حولانِ حول ضروری ہے تاکہ وہ مال نشوونما پا لے، اور اس میں مالک کا فائدہ بھی ملحوظ ہے۔
✿ لیکن اگر مال زمین کی پیداوار ہو تو اس میں سال گزرنے کی شرط نہیں؛ بلکہ اناج وغیرہ تیار ہو کر ہاتھ آتے ہی زکاۃ واجب ہو جاتی ہے۔

⑦ دورانِ سال بڑھنے والی آمدن کا حکم

◈ نصاب کو پہنچے ہوئے مویشیوں کے بچوں کے لیے یا نصاب والے مالِ تجارت کے منافع کے لیے الگ سال گزرنا شرط نہیں۔
◈ سال کے دوران حاصل ہونے والی آمدن کو اصل نصاب کے ساتھ ملا کر زکاۃ ادا کر دی جائے۔
◈ البتہ اگر اصل مال نصاب تک نہ پہنچا ہو، تو جب نصاب مکمل ہو تب سے ایک سال شمار کیا جائے۔

⑧ قرض اور زکاۃ کا مسئلہ

◈ اگر کسی نے کسی تنگدست کو قرض دیا ہو اور وہ رقم دستیاب نہ ہو رہی ہو، تو صحیح رائے کے مطابق جب قرض واپس ملے گا تب ایک سال کی زکاۃ دے گا (چاہے کئی سال گزر جائیں)۔
◈ اور اگر مقروض مال دار ہو لیکن ٹال مٹول کر رہا ہو تو قرض خواہ ہر سال زکاۃ ادا کرے گا۔ [اہل علم کی ایک رائے کے مطابق ایسے شخص کا حکم بھی وہی ہے جو پہلے کا ہے ،یعنی جب اسے قرضہ واپس ملے گا تب ایک سال کی زکاۃ دےگا۔(صارم)]

⑨ استعمال کی عام چیزوں میں زکاۃ نہیں

◈ عمومی استعمال کی چیزوں میں زکاۃ نہیں، مثلاً: رہائشی گھر، استعمال کے کپڑے، گھریلو سامان، گاڑیاں، مشینری، سواری کے جانور وغیرہ۔

⑩ کرایہ والی اشیاء کی زکاۃ

◈ جن چیزوں سے کرایہ آتا ہو، ان چیزوں کی ذات میں زکاۃ نہیں؛ زکاۃ ان کی آمدن میں ہے۔
◈ شرط یہ ہے کہ کرایہ کی رقم (یا اس کے ساتھ دوسری موجود رقم) ملا کر نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے۔

⑪ زکاۃ فرض ہو چکی ہو اور موت واقع ہو جائے

◈ اگر کسی پر زکاۃ فرض ہو گئی لیکن ادائیگی سے پہلے وہ فوت ہو گیا، تو موت کی وجہ سے زکاۃ ساقط نہیں ہوگی۔
◈ ورثاء پر لازم ہے کہ اس کے ترکہ سے زکاۃ ادا کریں، کیونکہ یہ حق واجب الادا ہے۔

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فدين الله أحق بالقضاء”
“اللہ تعالیٰ کاقرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔” [صحیح البخاری الصوم باب من مات وعلیہ صوم حدیث 1953 وصحیح مسلم الصیام باب قضاء الصوم عن المیت حدیث 1148 واللفظ لہ]

مویشیوں میں زکاۃ کا بیان

◈ اللہ تعالیٰ نے جن اموال میں زکاۃ فرض کی ہے ان میں مویشی بھی شامل ہیں، یعنی: اونٹ، گائے، اور بھیڑ بکری—بلکہ زکاۃ والے اموال میں یہ بہت نمایاں ہیں۔
◈ ان جانوروں کی زکاۃ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشہور اور صحیح احادیث مروی ہیں۔
◈ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء نے ان اموال کی زکاۃ اور اس کے مسائل کے بارے میں خطوط بھی تحریر فرمائے، اور مدینہ کے اطراف و اکناف اور وسیع اسلامی علاقوں میں زکاۃ وصول کرنے کے لیے نمائندے بھی بھیجے۔

مویشیوں میں زکاۃ فرض ہونے کی دو شرطیں

❀  یہ جانور کام کاج اور کھیتی باڑی کے لیے نہ ہوں، بلکہ دودھ اور نسل کے حصول کے لیے رکھے گئے ہوں؛ کیونکہ عمر اور تعداد بڑھنے کے ساتھ فائدہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔
❀  یہ جانور سال بھر یا سال کے اکثر حصے میں خود چر کر خوراک حاصل کریں۔

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ "
“چرنے والے ہر چالیس اونٹوں میں دوسال کی اونٹنی ہے۔” [سنن ابی داود الزکاۃ فی زکاۃ السائمۃ حدیث 1575 وسنن النسائی الزکاۃ باب سقوط الزکاۃ عن الابل اذا کانت رسلا لاھلھا ولحمولتھم حدیث 2451ومسند احمد 5/2۔4]

◈✔ اس حدیث کی روشنی میں وہ جانور جنہیں پورا سال یا سال کے اکثر حصے میں چارہ خرید کر، یا مختلف جگہوں سے گھاس پھوس لا کر کھلایا جائے—ان میں زکاۃ نہیں۔

اونٹوں میں زکاۃ کی تفصیل

◈ جب اونٹوں میں مذکورہ شرائط پائی جائیں تو ان کی زکاۃ کی تفصیل یوں ہے:

① پانچ اونٹوں میں ایک بکری زکاۃ ہے۔
② دس میں دو، پندرہ میں تین، اور بیس اونٹوں میں چار بکریاں زکاۃ ہیں—جیسا کہ سنت و اجماع سے ثابت ہے۔ [دیکھئے صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454 وسنن ابی داود الزکاۃ باب فی زکاۃالسائمۃ حدیث 1568]

③ جب اونٹ پچیس ہو جائیں تو زکاۃ میں ایسی اونٹنی دی جائے جو ایک سال مکمل کر کے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہو۔ اگر ایسی اونٹنی موجود نہ ہو تو دو سال کا اونٹ کافی ہوگا جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو۔

④ جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو زکاۃ ایسی اونٹنی ہے جو دو سال کی ہو اور تیسرے میں داخل ہو چکی ہو—اس پر اہلِ علم کا اجماع ہے، اور پینتالیس تک یہی حکم ہے۔

⑤ جب چھیالیس سے ساٹھ تک اونٹ ہوں تو زکاۃ تین سال کی اونٹنی ہے جو سواری اور بوجھ اٹھانے کے قابل ہو۔

⑥ جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو زکاۃ چار سال کی اونٹنی ہے، جس کے دودھ کے دانت گر چکے ہوں اور وہ مکمل جوان ہو—رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان ہے، اور پچھتر تک یہی ہے۔

⑦ جب چھہتر سے نوے تک اونٹ ہوں تو صحیح حدیث کے مطابق زکاۃ دو اونٹنیاں ہیں جو دو سال کی ہوں۔

⑧ جب اکیانوے سے ایک سو بیس تک ہوں تو زکاۃ دو جوان اونٹنیاں ہیں جن کی عمر تین سال مکمل ہو کر چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہو۔

⑨ جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے مطابق دو سال کی تین اونٹنیاں زکاۃ ہیں۔

⑩ پھر اس کے بعد ہر پچاس اونٹوں میں تین سال کی اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سال کی اونٹنی بطور زکاۃ فرض ہے۔ [دیکھئے صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454 وسنن ابی داود الزکاۃ باب فی زکاۃالسائمۃ حدیث 1568]

گایوں میں زکاۃ

◈ نصوصِ شرعیہ اور اجماع سے معلوم ہوتا ہے کہ گایوں میں زکاۃ واجب ہے۔

❀ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ” مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا، لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ”
“اونٹوں، گایوں، اور بھیڑ بکریوں کا جو مالک زکاۃ نہیں دیتا، اس کو ایک ہموار میدان میں لٹایا جائے گا، جہاں یہ جانور اسے سینگ ماریں گے اور اپنے پاؤں تلے روندیں گے۔ اس دن ان میں نہ تو بے سینگ بکری ہوگی اور نہ ٹوٹے ہوئے سینگ والی بکری ہوگی۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب اثم مانع الزکاۃ حدیث 988]

❀ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں: "إِلَّا أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا”
“قیامت کے دن اسے لایا جائے گا۔ دنیا سے زیادہ بڑی اور موٹی تازہ کرکے۔ پھر وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندے گی اور سینگ مارے گی۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ البقر حدیث 1460]

❀ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً”
“جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن کی طرف روانہ کیا تو حکم دیا کہ تیس گایوں میں ایک سال کا بچہ اور چالیس گایوں میں دو سال کا گائے کا بچہ بطور زکاۃ وصول کریں۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب فی زکاۃ السائمۃ حدیث 1576 وجامع الترمذی الزکاۃ باب ما جاء فی زکاۃ البقر حدیث 623 ومسند احمد 5/230]

◈ اگر گائیں تیس سے کم ہوں تو زکاۃ نہیں۔ کیونکہ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جب تک تیس گائیں نہ ہوں زکاۃ نہ لی جائے۔ [ھذا معنی الحدیث واصلہ فی مسند احمد 5/240]

◈ جب گائیں چالیس ہوں تو ایک “دودانتا (دوندا)” زکاۃ ہے۔ [مُسنہ دو دانتے جانور کو کہتے ہیں،یعنی جس کے سامنے دودانت گرچکے ہوں اور نئے دانت نکل آئے ہوں،عمر کااعتبار نہیں ہے۔دیکھئے النھایۃ(ع۔و)]

❀ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن بھیجتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: "أن يأخُذَ مِنَ البَقَرِ: مِن كلِّ ثلاثينَ، تبيعًا أو تبيعةً، ومن كل أربعينَ، مُسنَّةً”
“وہ ہر تیس گایوں میں گائے کا ایک سالہ بچہ اور ہر چالیس گایوں میں گائے کا دودانتا بچہ زکاۃ وصول کریں۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب فی زکاۃالسائمۃ حدیث 1576 وسنن النسائی الزکاۃ باب زکاۃ البقر حدیث 3454 ومسند احمد 5/230 واللفظ لھما]

◈✔ جب گایوں کی مجموعی تعداد چالیس سے بڑھ جائے تو قاعدہ یہ ہے:
❀ ہر 30 پر ایک سال کا بچہ
❀ ہر 40 پر دو سال کا (دوندا) بچہ

بھیڑ بکریوں میں زکاۃ

◈ بھیڑ اور بکریوں میں زکاۃ کی فرضیت پر سنت اور اجماع دلیل ہے۔

❀ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے لکھا: "هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَالَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ. . . وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ . . . "
“یہ زکاۃ کی وہ مقرر مقدار ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا حکم دیا ہے۔۔۔ نیز فرمایا: خود چرنے والی بکریاں چالیس ہوجائیں تو ایک سو بیس تک ان میں ایک بکری یا بھیڑ زکاۃ ہے۔۔۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454]

◈ چھترا یا دنبہ ہو تو تقریباً ایک سال کا (کھیرا)، اور بکری یا بکرا ہو تو جو دوسرے سال میں داخل ہو (دوندا) بطور زکاۃ ادا کیا جائے۔
◈ سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صدقہ وصول کرنے والا آیا اور اس نے بتایا کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ بھیڑ کی نسل سے تقریباً ایک سال کی عمر والا (کھیرا) اور بکری کی نسل سے دوندا (یعنی ایک سال مکمل کر کے دوسرے میں داخل) لیا جائے (اور سامنے والے دانت دودھ کے گر چکے ہوں)۔

◈ اگر بھیڑ بکریاں چالیس سے کم ہوں تو زکاۃ نہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے: "فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا”
“جب خود چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں، الا یہ کہ مالک چاہے تو زکاۃ ادا کر دے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454]

◈ جب بکریاں 121 ہوں تو 200 تک دو بکریاں زکاۃ ہیں، جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خط میں ہے: "فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ”
“جب ایک سو بیس سے ایک بکری بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک دو بکریاں زکاۃ ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454]

◈ جب بکریاں 201 ہوں تو 300 تک تین بکریاں زکاۃ ہیں، جیسا کہ اسی روایت میں ہے: "فإِذا زادت على مائتين إلى ثلاثمائة ففيها ثلاث”
“جب دو سو ایک (201) سے تین سو (300) تک بکریاں ہوں تو تین بکریاں زکاۃ ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃالغنم حدیث 1454]

◈ اس کے بعد شرح ایک ہی رہتی ہے: ہر سو بکری میں ایک بکری زکاۃ ہے۔
❀ 400 میں 4، 500 میں 5، 600 میں 6 بکریاں زکاۃ ہیں۔
◈ یہ پوری تفصیل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خط میں موجود ہے جس پر وہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات تک عمل کرتے رہے۔ [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454 وجامع الترمذی الزکاۃ باب ماجاء فی زکاۃ الابل والغنم حدیث 621 وسنن ابی داود الزکاۃ باب زکاۃ السائمۃ حدیث 1568]

مویشیوں کی زکاۃ میں چند اہم اصول

① زکاۃ میں ناقص/بوڑھا/عیب دار جانور نہ لیا جائے

◈ زکاۃ میں ایسا بوڑھا یا عیب دار جانور نہ لیا جائے اور نہ دیا جائے جس کی قربانی جائز نہ ہو—ہاں اگر پورا ریوڑ ہی ایسا ہو تو پھر وہی ہوگا۔
◈ اسی طرح حاملہ، دودھ پلانے والا جانور یا وہ جانور جس کے حاملہ ہونے کی امید ہو، زکاۃ میں نہ لیا جائے۔

❀ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے: "وَلاَ يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ، وَلاَ هَرِمَةٌ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ، إِلاَّ مَا شَاءَ الْمُصَّدِّقُ”
“زکاۃ میں بوڑھا، عیب والا یا سانڈ جانور وصول نہ کیا جائے الا یہ کہ زکاۃ وصول کرنے والا چاہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب لا یؤخذ فی الصدقۃ ھرمۃ ولا ذات عوار۔حدیث 1455]

❀ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلا تَيَمَّمُوا الخَبيثَ مِنهُ تُنفِقونَ …﴿٢٦٧﴾… سور ةالبقرة
“ان میں سے بری چیز کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا۔” [البقرۃ:2/267]

❀ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَلَكِنْ مِنْ وَسَطِ أَمْوَالِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ ، وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ "
“تم درمیانی قسم کے مال دیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے نہ زیادہ اچھا مال مانگتا ہے اور نہ تمھیں نکما مال دینے کا حکم دیتا ہے۔” [سنن ابی داود الزکاۃ باب فی زکاۃ السائمۃ حدیث 1582]

◈ نتیجہ یہ کہ زکاۃ دینے والے سے موٹا تازہ جانور زبردستی وصول نہ کیا جائے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا: "فإيّاكَ وَكَرَائمَ أمْوَالهم "
“لوگوں کا عمدہ مال لینے سے بچنا۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء۔حدیث 1496 وصحیح مسلم الایمان باب الدعاء الی الشھادتین وشرائع الاسلام حدیث 19]

② زکاۃ درمیانے درجے سے لی جائے

◈ زکاۃ عام طور پر درمیانے درجے کی لی جائے، جیسا کہ حدیث میں “درمیانی قسم” کا حکم ہے۔
◈ اگر کسی کا سارا ریوڑ ہی مریض ہو تو زکاۃ میں مریض ہی قبول کیے جائیں گے، کیونکہ زکاۃ کا مقصد باہمی ہمدردی اور غم خواری ہے۔
◈ مریض ریوڑ والے سے صحت مند جانور مانگنا زیادتی ہے۔
◈ اسی طرح اگر سب جانور چھوٹے ہوں تو زکاۃ بھی انہی میں سے ہوگی۔

③ اگر مالک بہتر جانور دینا چاہے

◈ اگر زکاۃ دینے والا خوش دلی سے اعلیٰ اور بہتر جانور دے تو یہ اس کی مرضی ہے، اور اس کے لیے اجر و ثواب زیادہ ہے۔

◈ اگر مال میں بڑے/چھوٹے، تندرست/بیمار، نر/مادہ جانور مختلف ہوں تو بڑے اور چھوٹے جانوروں کی الگ قیمت لگا کر دونوں قسموں کے برابر ایک بڑی تندرست مادہ زکاۃ میں لے لی جائے۔
◈ اسی طرح تندرست و بیمار یا نر و مادہ کے تناسب/اندازے سے قیمت مقرر کی جائے۔
❀ مثال: اگر تندرست بڑا جانور 2000 کا ہو اور بیمار چھوٹا جانور 1000 کا ہو تو دونوں قیمتوں کا نصف یعنی 1500 ادا کر دے۔

④ مویشیوں میں شراکت (خلیطین) کا حکم

◈ اگر مویشی دو یا زیادہ افراد کی شراکت میں ہوں تو یہ دو شکلیں ہوتی ہیں:

❀ اشتراکِ اعیان: یعنی مال اس طرح مشترک ہو کہ ایک دوسرے کے مال کی جداگانہ پہچان نہ ہو بلکہ سب اکٹھا مال ہو، جیسے ایک شخص کا نصف یا چوتھائی حصہ ریوڑ میں ہو۔
❀ اشتراکِ اوصاف: یعنی ہر ایک کا مال واضح ہو، مگر دونوں اپنا مال ملا کر ایک جگہ رکھتے ہوں۔

◈ ان دونوں صورتوں میں زکاۃ کے فرض ہونے یا ساقط ہونے میں دونوں شریک ہوں گے، اور زکاۃ کی کمی بیشی کے اثرات بھی دونوں پر آئیں گے، نیز ان حالات میں دونوں کا مال ایک مال شمار ہوگا—لیکن اس کے لیے چند شرطیں ہیں:

❀ مجموعی مال نصابِ زکاۃ تک پہنچ چکا ہو
✿ اگر مجموعی مال نصاب سے کم ہو تو زکاۃ نہیں۔
✿ یہاں مجموعی نصاب سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ ہر ایک کا انفرادی مال نصاب سے کم ہی کیوں نہ ہو۔

❀ دونوں وجوبِ زکاۃ کے اہل ہوں
✿ اگر ایک کافر ہو تو یہ اشتراک مؤثر نہیں ہوگا۔
✿ مسلمان کا مال اگر نصاب تک پہنچے تو اس پر زکاۃ ہے، ورنہ نہیں۔

❀ جانوروں کا اکٹھا رہنا اور نظام مشترک ہونا
✿ دونوں کے جانور اکٹھے رہیں، اکٹھے چریں، اور ایک ہی جگہ رات گزاریں۔
✿ دودھ ایک ہی جگہ دوہا جائے۔
✿ اگر ہر ایک الگ جگہ دودھ دوہتا ہو تو اشتراک معتبر نہیں ہوگا۔
✿ مشترک ریوڑ کا سانڈ بھی مشترک ہو۔
✿ سب جانور ایک ہی جگہ چرتے ہوں؛ اگر الگ الگ جگہ چراگاہیں ہوں تو اشتراک مؤثر نہ ہوگا اور الگ ملکیت شمار ہوگی۔

◈ جب یہ تمام شرطیں جمع ہو جائیں تو شریکوں کا مال ایک ہی مال سمجھا جائے گا۔

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ولا يجمع بين متفرق، ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة، وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بينهما بالسوية”
“زکاۃ دینے کے خوف سے متفرق مال کو اکھٹا نہ کیا جائے اور جو اکھٹا ہو اسے متفرق نہ کیا جائے۔۔۔ جو زکاۃ دو شریکوں سے وصول کی جائے گی، پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے برابری کی سطح پر وصولی کریں گے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب لا یجمع بین متفرق ولا یفرق بین مجتمع وباب ما کان من خلیطین۔۔۔،حدیث 1450۔1451]

⑧ شراکت کی عملی مثالیں

◈ اگر ایک شخص کے پاس ایک بکری ہو اور دوسرے کے پاس انتالیس بکریاں ہوں، یا چالیس آدمیوں کی مشترکہ چالیس بکریاں ہوں—اور سارا سال اکٹھا رہیں اور اشتراک کی شرطیں موجود ہوں—تو دونوں صورتوں میں مجموعی طور پر ایک بکری زکاۃ ہے۔
❀ پہلی صورت میں:
✿ جس کے پاس 1 بکری ہے اس پر 1/40 حصہ لازم ہوگا۔
✿ جس کے پاس 39 ہیں اس پر 39/40 حصہ لازم ہوگا۔
❀ دوسری صورت میں:
✿ ہر ایک پر 1/40 حصہ زکاۃ ہے۔

◈ اگر تین افراد کی مجموعی 120 بکریاں اس طرح ہوں کہ ہر ایک کے پاس 40 ہوں، تو مجموعی طور پر ایک بکری زکاۃ ہوگی، اور یوں ہر ایک پر ایک تہائی بکری کا حصہ لازم ہوگا۔

⑨ تفریق (ایک شخص کے مال کا بکھرا ہونا) کا مسئلہ

◈ جس طرح اشتراک مؤثر ہے، اسی طرح امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بعض صورتوں میں تفریق بھی مؤثر ہے۔
❀ مثال:
✿ اگر ایک شخص کی جنگل میں چرنے والی بکریاں دو جگہ الگ رہتی اور چرتی ہوں، اور دونوں ریوڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ نماز قصر جائز ہو، تو زکاۃ بھی الگ الگ ریوڑوں کے حساب سے دی جائے گی، دونوں جگہوں کی بکریاں ملا کر حساب نہ کیا جائے گا۔
✿ جس جگہ بکریاں نصاب تک پہنچیں گی اسی جگہ کے مطابق زکاۃ ہوگی۔

◈ جبکہ جمہور علماء کے نزدیک ایک ہی شخص کے مال میں تفریق مؤثر نہیں؛ بلکہ اس کے الگ الگ اموال کو جمع کر کے حساب کیا جائے گا، اور یہی قول راجح ہے۔ واللہ اعلم۔

◈ ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب