مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اسلام میں داڑھی کا حکم، منڈھوانے اور کاٹنے کی شرعی حیثیت

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، ص 518

سوال

داڑھی کے بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے؟
اسے کاٹوانا یا منڈھوانا کس حد تک جائز ہے؟
اگر داڑھی نہ رکھی جائے تو کیا یہ گناہ ہے؟
اور اگر کسی مجبوری کے باعث داڑھی نہ رکھی جا سکے تو کیا کرنا چاہیے؟
داڑھی کی لمبائی یعنی سائز کتنا ہونا چاہیے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مٹھی والی حدیث رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
◄ داڑھی کٹوانا، منڈھوانا یا اس کو کاٹنا جرم اور گناہ ہے۔
◄ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اعفاء، ارخاء اور توفیر لحیہ کا حکم دیا ہے۔
◄ ان احکامات کو وجوب سے ندب (محض ترغیب) کی طرف پھیرنے والا کوئی قرینہ موجود نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔