مضمون کے اہم نکات
اسلام ایک جامع دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ دین چار بنیادی امور پر قائم ہے: عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق و آداب۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اخلاق و آداب کے ایک نہایت بنیادی اور مرکزی موضوع ’’حیاء‘‘ پر گفتگو کر رہے ہیں، جو درحقیقت پورے اخلاقی نظام کی جڑ اور اساس ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح ہوگا کہ حیاء صرف ایک اخلاقی صفت نہیں بلکہ ایمان کا لازمی جز، دین کی روح اور معاشرتی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ اس مضمون میں حیاء کی حقیقت، اس کی اقسام، اس کی فضیلت، اور قرآن و حدیث سے اس کے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کیے جائیں گے۔
اسلام میں حیاء کی اہمیت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کو دینِ اسلام کی نمایاں ترین اخلاقی صفت قرار دیا ہے۔
حدیث: دین کا بنیادی اخلاق
(( إِنَّ لِکُلِّ دِیْنٍ خُلُقًا ، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَیَائُ ))
سنن ابن ماجہ: 4181 – وحسنہ الألبانی
ترجمہ:
’’ہر دین میں اخلاق کی کوئی نہ کوئی نمایاں صفت ہوتی ہے، اور اسلام کی نمایاں ترین اخلاقی صفت حیاء ہے۔‘‘
حیاء پورا دین ہے
حضرت قرۃ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
( بَلْ ہُوَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ )
صحیح الترغیب والترہیب: 2630
ترجمہ:
’’حیاء تو پورا دین ہی ہے۔‘‘
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حیاء محض ایک جز نہیں بلکہ پورے دین کی نمائندگی کرتی ہے۔
حیاء ایمان کا شعبہ ہے
(( اَلْإِیْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ… وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْإِیْمَانِ ))
صحیح مسلم: 35
ترجمہ:
’’ایمان کے ستر سے زیادہ (یا ساٹھ سے زیادہ) شعبے ہیں، ان میں سب سے افضل لا إلہ إلا اللہ کہنا ہے، اور سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔‘‘
حیاء اور ایمان کا باہمی تعلق
(( اَلْحَیَائُ وَالْإِیْمَانُ قُرِنَا جَمِیْعًا ))
صحیح الجامع: 3200
ترجمہ:
’’حیاء اور ایمان دونوں اکٹھے ہیں، جب ایک ختم ہوتا ہے تو دوسرا بھی ختم ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حیاء کا فقدان دراصل ایمان کی کمزوری یا اس کے زوال کی علامت ہے۔
حیاء کی تعریف
اہلِ علم کے مطابق:
’’حیاء ایک ایسی اخلاقی صفت ہے جو انسان کو قبیح، فحش اور گھٹیا اقوال و اعمال سے روکتی ہے اور نیکی و بھلائی پر ابھارتی ہے۔‘‘
یعنی حیاء انسان کو اللہ کے خوف اور اس کے حضور جواب دہی کے احساس کے تحت گناہوں سے روکتی ہے۔
حیاء کی اقسام
➊ فطری حیاء
یہ وہ حیاء ہے جو انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے، حتیٰ کہ بچوں میں بھی پائی جاتی ہے، جیسے ستر پوشی۔
قرآن سے دلیل
﴿فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰتُھُمَا﴾
الأعراف: 22
ترجمہ:
’’جب آدم و حواء نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر ڈھانپنے لگے۔‘‘
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حیاء انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
کنواری لڑکی کی حیاء
(( وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَأْذَنَ… أَنْ تَسْکُتَ ))
صحیح البخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419
ترجمہ:
’’کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے… اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے۔‘‘
یہ بھی فطری حیاء کی بہترین مثال ہے۔
➋ ایمانی حیاء
ایمانی حیاء یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نگرانی کے یقین کے ساتھ گناہوں سے بچے۔
قرآن سے دلائل
﴿اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا﴾
النساء: 1
ترجمہ:
’’بے شک اللہ تم پر نگران ہے۔‘‘
﴿وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴾
الحجرات: 18
ترجمہ:
’’اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
﴿یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ﴾
المؤمن: 19
ترجمہ:
’’اللہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔‘‘
اللہ سے کما حقہ حیاء
(( اِسْتَحْیُوا مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الْحَیَائِ ))
جامع الترمذی: 2458 – وحسنہ الألبانی
ترجمہ:
’’اللہ سے اس طرح حیاء کرو جیسا کہ حیاء کرنے کا حق ہے۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ حقیقی حیاء یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعضاء کو اللہ کی نافرمانی سے بچائے۔
اللہ تعالیٰ سے حقیقی حیاء کا مفہوم
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اِسْتَحْیُوا مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الْحَیَائِ ))
جامع الترمذی: 2458 – وحسنہ الألبانی
ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیاء کرو جیسا کہ حیاء کرنے کا حق ہے۔‘‘
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا نَسْتَحْیِیْ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
’’اے اللہ کے رسول! ہم اللہ سے حیاء کرتے ہیں، الحمدللہ۔‘‘
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَیْسَ ذَاکَ، وَلٰکِنَّ الْاِسْتِحْیَائَ مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الْحَیَائِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعٰی، وَالْبَطْنَ وَمَا حَوٰی، وَلْتَذْکُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلٰی، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَۃَ تَرَکَ زِیْنَۃَ الدُّنْیَا ))
جامع الترمذی: 2458
ترجمہ:
’’اللہ سے حقیقی حیاء یہ ہے کہ انسان اپنے سر اور اس میں موجود چیزوں (آنکھ، کان، زبان) کی حفاظت کرے، اپنے پیٹ اور اس میں جانے والی چیزوں کی حفاظت کرے، موت اور قبر کی بوسیدگی کو یاد رکھے، اور جو آخرت کا طالب ہو وہ دنیا کی زیب و زینت چھوڑ دے۔‘‘
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حیاء محض شرمانے کا نام نہیں بلکہ پورے جسم اور پوری زندگی کو اللہ کی اطاعت کے تابع کرنے کا نام ہے۔
اللہ سے حیاء کرنے کی وصیت
سعید بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:
( یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوْصِنِیْ )
’’اے اللہ کے رسول! مجھے وصیت کیجئے۔‘‘
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أُوْصِیْکَ أَنْ تَسْتَحْیِیَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَمَا تَسْتَحْیِیْ رَجُلًا مِنْ صَالِحِیْ قَوْمِکَ ))
السلسلۃ الصحیحۃ: 741
ترجمہ:
’’میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیاء کرو جیسے تم اپنی قوم کے کسی نیک آدمی سے حیاء کرتے ہو۔‘‘
حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( اَلْحَیَائُ لَا یَأْتِیْ إِلَّا بِخَیْرٍ ))
صحیح البخاری: 6117، صحیح مسلم: 165
ترجمہ:
’’حیاء ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے۔‘‘
حیاء زینت ہے اور بے حیائی بدنمائی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا کَانَ الْحَیَائُ فِیْ شَیْیٍٔ إِلَّا زَانَہٗ، وَلَا کَانَ الْفُحْشُ فِیْ شَیْیٍٔ إِلَّا شَانَہٗ ))
صحیح الأدب المفرد – باب الحیاء
ترجمہ:
’’جس چیز میں حیاء ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز میں بے حیائی ہوتی ہے وہ اسے بدصورت بنا دیتی ہے۔‘‘
حیاء اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبد القیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
(( إِنَّ فِیْکَ لَخُلُقَیْنِ یُحِبُّہُمَا اللّٰہُ: الْحِلْمُ وَالْحَیَائُ ))
صحیح الأدب المفرد – باب التؤدۃ
ترجمہ:
’’تم میں دو ایسی صفات ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے: بردباری اور حیاء۔‘‘
اللہ تعالیٰ خود بھی صفتِ حیاء سے متصف ہے
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( إِنَّ اللّٰہَ حَیِیٌّ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَیْہِ یَدَیْہِ أَنْ یَرُدَّہُمَا صِفْرًا ))
جامع الترمذی: 3556، سنن ابی داود: 1488، سنن ابن ماجہ: 3865 – وصححہ الألبانی
ترجمہ:
’’بے شک اللہ تعالیٰ نہایت باحیاء اور کریم ہے، بندہ جب اس کے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ کو حیاء آتی ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کی بے مثال حیاء
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَشَدَّ حَیَائً مِنَ الْعَذْرَائِ فِیْ خِدْرِہَا ))
صحیح البخاری: 3562، صحیح مسلم: 2320
ترجمہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں بیٹھی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء دار تھے۔‘‘
یہی وہ حیاء ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو کامل ترین بنایا۔
رسول اللہ ﷺ کی حیاء کے عملی نمونے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف فرما تھے اور آپ کی پنڈلیاں یا رانیں کھلی ہوئی تھیں۔ اسی دوران حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اور اسی حالت میں گفتگو فرماتے رہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے، تب بھی آپ نے اپنی حالت نہ بدلی۔ لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً سیدھے بیٹھ گئے اور کپڑے درست کر لیے۔
بعد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہ! ابو بکر اور عمر آئے تو آپ نے کوئی اہتمام نہ فرمایا، مگر عثمان آئے تو آپ نے اپنی حالت درست کر لی؟‘‘
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَلَا أَسْتَحْیِیْ مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْیِیْ مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ ))
صحیح مسلم: 6362
ترجمہ:
’’کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں!‘‘
یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم صفتِ حیاء پر روشن دلیل ہے۔
قرآن میں باحیا خواتین کا عظیم نمونہ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دو باحیا لڑکیوں کا واقعہ ذکر فرمایا ہے، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں بیان ہوا ہے۔
قرآن مجید کی آیات
﴿ وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِھِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ … ﴾
القصص: 23–24
ترجمہ:
’’اور جب موسیٰ مدین کے کنویں پر پہنچے تو وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے، اور ان سے الگ دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانوروں کو روکے کھڑی تھیں۔ موسیٰ نے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتیں جب تک چرواہے فارغ نہ ہو جائیں، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔ پھر موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر سایہ کی طرف ہٹ گئے اور دعا کی: اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
یہ دونوں لڑکیاں غیر محرم مردوں سے الگ کھڑی رہیں، یہ ان کی حیاء کا عملی ثبوت تھا۔
حیاء کے ساتھ چلنے والی لڑکی
﴿ فَجَآئَتْہُ اِحْدٰھُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآءٍ ﴾
القصص: 25
ترجمہ:
’’پھر ان میں سے ایک لڑکی شرم و حیاء کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔‘‘
یہ آیت صراحتاً بتاتی ہے کہ باحیا عورت کی چال بھی حیاء سے بھرپور ہوتی ہے۔
صحابیات رضی اللہ عنہن کی بے مثال حیاء
➊ قدموں کے پردے کا اہتمام
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ عورتیں کپڑے کے کناروں کا کیا کریں؟
(( یُرْخِیْنَ شِبْرًا … فَیُرْخِیْنَہُ ذِرَاعًا لَا یَزِدْنَ عَلَیْہِ ))
جامع الترمذی: 1731 – حسن صحیح
ترجمہ:
’’وہ ایک بالشت لٹکا لیا کریں، پھر ایک ہاتھ تک لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں۔‘‘
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہن قدموں کے ظاہر ہونے سے بھی حیاء محسوس کرتی تھیں۔
➋ احرام میں بھی چہرے کا پردہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
(( فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَہَا عَلٰی وَجْہِہَا ))
سنن ابی داود: 1833
ترجمہ:
’’جب مرد ہمارے قریب آتے تو ہم اپنے چہرے پر چادر ڈال لیتی تھیں۔‘‘
➌ جنتی خاتون کی حیاء
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت مرگی کی بیماری کے باوجود بے پردہ ہونے پر پریشان تھی۔
(( إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ ))
صحیح البخاری: 5652، صحیح مسلم: 2576
ترجمہ:
’’اگر تم صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے۔‘‘
اس عورت نے بیماری برداشت کی مگر بے پردگی برداشت نہ کی۔
➍ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا واقعہ
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر سوار ہونے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ غیر محرم مرد موجود تھے۔
(( فَاسْتَحْیَیْتُ أَنْ أَسِیْرَ مَعَ الرِّجَالِ ))
صحیح البخاری: 5224، صحیح مسلم: 2182
ترجمہ:
’’مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں حیاء آئی۔‘‘
بے حیائی کے سنگین نتائج اور معاشرتی تباہی
محترم حضرات!
جب کسی معاشرے سے حیاء اور غیرت ختم ہو جائے تو وہاں فحاشی، عریانی اور اخلاقی زوال تیزی سے پھیلتا ہے۔ کیونکہ حیاء ایمان کا حصہ ہے، اور جب ایمان کمزور ہوتا ہے تو گناہوں کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا:
(( اَلْحَیَائُ وَالْإِیْمَانُ قُرِنَا جَمِیْعًا فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُہُمَا رُفِعَ الْآخَرُ ))
صحیح الجامع للألبانی: 3200
ترجمہ:
’’حیاء اور ایمان ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ جب معاشرے میں بے حیائی عام ہو جاتی ہے تو ایمان کمزور پڑ جاتا ہے، اور پھر زنا، فحاشی، بدنگاہی، بے پردگی اور مرد و زن کا بے لگام اختلاط عام ہو جاتا ہے۔
بے حیائی کے چند نمایاں مظاہر
➊ میڈیا کے ذریعے فحاشی کا فروغ
آج الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بے حیائی کو عام کیا جا رہا ہے۔ ڈرامے، فلمیں، اشتہارات اور حتیٰ کہ مذہبی پروگراموں میں بھی فحاشی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ﴾
النور: 19
ترجمہ:
’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔‘‘
➋ نگاہوں کی بے احتیاطی
بے حیائی کا ایک بڑا سبب بدنگاہی ہے۔ مرد و عورت جب حرام مناظر دیکھتے ہیں تو دل میں شہوت پیدا ہوتی ہے، جو آگے چل کر گناہوں کا سبب بنتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿ قُلْ لِّلْمُؤمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوْجَہُمْ ﴾
’’مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘
النور: 30
اور عورتوں کے بارے میں فرمایا:
﴿ وَقُلْ لِّلْمُؤمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ ﴾
’’اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔‘‘
النور: 31
➌ عورتوں کا بلا ضرورت گھروں سے نکلنا
باحیا عورت بلا ضرورت گھروں سے باہر نہیں نکلتی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ﴾
’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو۔‘‘
الأحزاب: 33
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ ))
صحیح ابن حبان: 5599
ترجمہ:
’’عورت ستر ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے لوگوں کی نگاہوں میں مزین کر دیتا ہے۔‘‘
➍ بے پردگی اور زینت کی نمائش
پردہ عورت کی عزت اور وقار کی علامت ہے، لیکن آج پردے کو دقیانوسی سوچ قرار دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی ﴾
’’اور پہلی جاہلیت کی طرح بے پردگی کا اظہار نہ کرو۔‘‘
الأحزاب: 33
اور فرمایا:
﴿ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ﴾
’’وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔‘‘
الأحزاب: 59
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں کے بارے میں فرمایا:
(( نِسَائٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ … لَا یَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ ))
’’ایسی عورتیں ہوں گی جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی … وہ نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی۔‘‘
صحیح مسلم: 2128
➎ خوشبو لگا کر باہر جانا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَیُّمَا امْرَأَۃٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْقَوْمِ فَہِیَ زَانِیَۃٌ ))
سنن ابی داود: 4167
ترجمہ:
’’جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں، وہ زنا کرنے والی کے حکم میں ہے۔‘‘
➏ مرد و زن کا اختلاط اور خلوت نشینی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ ))
’’دیور (شوہر کا قریبی رشتہ دار) تو موت ہے۔‘‘
صحیح البخاری: 5232، صحیح مسلم: 2083
اور فرمایا:
(( لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلَّا کَانَ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ ))
’’کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے، کیونکہ ان دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘
جامع الترمذی: 2165
➐ زنا: بے حیائی کی بدترین صورت
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاءَ سَبِیْلًا ﴾
’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُرا راستہ ہے۔‘‘
الإسراء: 32
بے حیائی کی مزید صورتیں اور ان سے بچنے کی تاکید
➑ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ
حیاء کا تقاضا یہ ہے کہ مرد و عورت غیر محرم ہونے کی صورت میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے اجتناب کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے۔
(( لَأَنْ یُّطْعَنَ فِی رَأْسِ أَحَدِکُمْ بِمِخْیَطٍ مِنْ حَدِیْدٍ خَیْرٌ لَّہُ مِنْ أَنْ یَّمَسَّ امْرَأَۃً لَا تَحِلُّ لَہُ))
السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی: 226
ترجمہ:
’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں۔‘‘
➒ مردوں کی عورتوں سے اور عورتوں کی مردوں سے مشابہت
یہ بھی بے حیائی کی ایک خطرناک صورت ہے کہ مرد عورتوں کی وضع قطع اختیار کریں اور عورتیں مردوں جیسا حلیہ اپنائیں۔
(( لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الْمُتَشَبِّہِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَائِ بِالرِّجَالِ ))
صحیح البخاری: 5885
ترجمہ:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔‘‘
➓ غیر محرم کے ساتھ خلوت نشینی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم مرد و عورت کی خلوت نشینی کو شیطان کا دروازہ قرار دیا۔
(( أَلَا لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلَّا کَانَ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ ))
’’خبردار! کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے، کیونکہ ان دونوں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘
جامع الترمذی: 2165
◈ بہنوئی، دیور اور دیگر قریبی غیر محرم رشتوں میں بے تکلفی
اسلام نے واضح کیا ہے کہ بہنوئی، دیور اور کزن وغیرہ بھی غیر محرم ہیں۔ ان کے ساتھ بے تکلف گفتگو، ہنسی مذاق اور خلوت فتنہ کا سبب بنتی ہے۔
(( اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ ))
’’دیور (شوہر کے قریبی مرد رشتہ دار) تو موت ہیں۔‘‘
صحیح البخاری: 5232، صحیح مسلم: 2083
◈ نوکروں اور ڈرائیوروں کو گھروں میں بے لگام آزادی دینا
گھریلو ملازم، ڈرائیور یا دیگر غیر محرم افراد کو بلا روک ٹوک گھروں میں آنے جانے دینا بھی بے حیائی اور فتنہ کا بڑا سبب ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حتیٰ کہ مخنث لوگوں کو بھی عورتوں کے پاس آنے سے منع فرمایا:
(( لَا یَدْخُلْنَ ہٰؤُلَائِ عَلَیْکُنَّ ))
’’یہ لوگ تمہارے پاس داخل نہ ہونے پائیں۔‘‘
صحیح البخاری: 4069، صحیح مسلم: 2180
◈ زنا: بے حیائی کی بدترین شکل
بے حیائی کی انتہا زنا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا اور اس کے قریب جانے سے بھی منع کر دیا۔
﴿ وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَآئَ سَبِیْلًا ﴾
الإسراء: 32
ترجمہ:
’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔‘‘
نتیجہ
حیاء درحقیقت اسلام کے اخلاقی نظام کی بنیاد ہے۔ جب تک معاشرے میں حیاء، پردہ، غیرت اور تقویٰ باقی رہتے ہیں، تب تک ایمان محفوظ اور معاشرہ پاکیزہ رہتا ہے۔ لیکن جب حیاء ختم ہو جاتی ہے تو بے حیائی، فحاشی، زنا اور اخلاقی بگاڑ عام ہو جاتا ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ اسی صفت کی ضرورت ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں حیاء کو اپنی زندگیوں میں دوبارہ زندہ کرے، اپنے گھروں، اپنے معاشرے اور اپنی نسلوں کو بے حیائی کے طوفان سے محفوظ رکھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی حیاء اپنانے، اس پر عمل کرنے اور بے حیائی کے تمام راستوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین