اسلام میں تربیتِ اولاد کی اہمیت: والدین کی شرعی ذمہ داریاں اور بچوں کے حقوق

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اولاد والدین کے پاس امانت ہے اور ان کی تربیت والدین کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہئے کہ صرف رزق، لباس اور سہولتیں فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ دینی و اخلاقی تربیت بھی فرض ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْْہَا مَلَائِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُونَ اللّٰہَ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُونَ ﴾ (التحریم66 :6)
ترجمہ: “اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، اور جس پر سخت گیر اور تندخو فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔”

یہ آیت بتاتی ہے کہ اہل و عیال کی اصلاح و تربیت کا اہتمام کرنا ایمان والوں پر لازم ہے تاکہ سب جہنم سے بچ سکیں۔

ہر شخص اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَّسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،فَالْإِمَامُ رَاعٍ،وَهُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِيْ أَهْلِهِ،وَهُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِيْ بَيْتِ زَوْجِهَا،وَهِيَ مَسْئُوْلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا…فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ )) (صحیح البخاری،الجمعۃ باب الجمعۃ فی القری والمدن:893،صحیح مسلم:1829)
ترجمہ: “تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی… مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے… پس تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔”

یعنی والدین سے ضرور پوچھا جائے گا کہ انہوں نے بچوں کی اسلامی تربیت کہاں تک کی۔

رعیت سے غش (دھوکہ) جنت سے محرومی کا سبب

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيْهِ اللّٰهُ رَعِيَّةً ، يَمُوْتُ يَوْمَ يَمُوْتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ ، إِلَّا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ)) (صحیح البخاری:7150،صحیح مسلم :142)
ترجمہ: “جس بندے کو اللہ کسی رعیت کا نگہبان بنائے، پھر وہ اپنی رعیت سے دھوکہ کرتا رہے اور اسی حالت میں مر جائے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔”

یہ والدین کیلئے سخت تنبیہ ہے کہ اولاد کے معاملے میں خیر خواہی ترک نہ کریں۔

صالح اولاد والدین کیلئے صدقۂ جاریہ ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلاَثٍ : صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ)) (صحیح مسلم :1631)
ترجمہ: “جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، علم نافع، یا صالح اولاد جو اس کیلئے دعا کرتی رہے۔”

پس والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کو صالح بنائیں تاکہ وہ والدین کیلئے آخرت میں نفع کا ذریعہ بنے۔

بچے فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتے ہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ،فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَ يُنَصِّرَانِهِ وَ يُمَجِّسَانِهِ )) (صحیح البخاری:1359،صحیح مسلم:2658)
ترجمہ: “ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔”

یعنی بچے میں حق قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اصل فیصلہ والدین کی تربیت اور گھر کے ماحول سے ہوتا ہے۔

حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو دس نصیحتیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ﴾ (لقمان31 :13)
ترجمہ: “اور جب لقمان نے نصیحت کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔”

یہ پہلی اور سب سے بڑی نصیحت ہے: عقیدہ درست کرنا، توحید سکھانا، شرک کی ہر شکل سے بچانا، اور بچوں کے دل میں صرف اللہ سے امید، خوف اور بھروسہ بٹھانا۔

والدین سے حسنِ سلوک اور شرک میں اطاعت نہیں

اللہ تعالیٰ حضرت لقمان کی نصیحتوں کے ضمن میں والدین کے حقوق بھی واضح فرماتا ہے:

﴿وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَی وَهْنٍ وَّفِصَالُهُ فِیْ عَامَیْنِ أَنِ اشْكُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْكَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ. وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَی أَن تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِیْ الدُّنْیَا مَعْرُوفًا وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ أَنَابَ إِلَیَّ ثُمَّ إِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ (لقمان31 :15-14)
ترجمہ: “ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے۔ (ہم نے اسے حکم دیا) کہ میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف رجوع کرے۔ پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے، پھر میں تمہیں بتاؤں گا جو تم کرتے تھے۔”

ان آیات سے معلوم ہوا کہ والدین کی اطاعت اور خدمت لازم ہے، لیکن اگر وہ شرک یا معصیت کا حکم دیں تو اطاعت نہیں ہوگی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی اصول واضح فرمایا:

(( لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِیْ مَعْصِیَةِ اللّٰهِ ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِیْ الْمَعْرُوفِ )) (متفق علیہ)
ترجمہ: “اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو صرف نیکی میں ہے۔”

اللہ کے علم و نگرانی کا یقین: چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی سامنے آئے گی

پھر حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل کا یقین دلایا:

﴿یَا بُنَیَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِیْ صَخْرَةٍ أَوْ فِیْ السَّمَاوَاتِ أَوْ فِی الْأَرْضِ یَأْتِ بِهَا اللّٰهُ إِنَّ اللّٰهُ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ﴾ (لقمان31 :16)
ترجمہ: “اے میرے پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، پھر وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، اللہ اسے ضرور لے آئے گا۔ بے شک اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔”

یہ تربیت کا بہت بنیادی اصول ہے کہ بچوں کے دل میں یہ یقین راسخ کیا جائے کہ اللہ ہر نیکی اور ہر برائی کو جانتا ہے، اس لئے انہیں مسلسل نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلانا ضروری ہے۔

نماز، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور صبر

حضرت لقمان کی اگلی نصیحت:

﴿یَا بُنَیَّ أَقِمِ الصَّلَاۃَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَی مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ (لقمان31 :17)
ترجمہ: “اے میرے پیارے بیٹے! نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کا حکم دیتے رہنا، برے کاموں سے منع کرنا، اور جو مصیبت تم پر آئے اس پر صبر کرنا۔ بے شک یہ بڑے ہمت والے کاموں میں سے ہے۔”

یہاں چار اہم تربیتی امور ہیں:

❀ نماز کی پابندی
❀ نیکی کی دعوت
❀ برائی سے روکنا
❀ مصیبت میں صبر

خصوصاً والدین پر لازم ہے کہ بچے کو وضو، طہارت اور نماز کا درست طریقہ عملی طور پر سکھائیں اور خود بھی پابندی کریں، کیونکہ صرف حکم دینا اور خود عمل نہ کرنا بچوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مُرُوْا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاۃِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ،وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَیْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ )) (أحمد،أبوداؤد ۔ صحیح الجامع للألبانی:5868)
ترجمہ: “جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہو جائیں (اور نماز نہ پڑھیں) تو انہیں اس پر مارو۔”

اسی طرح بچوں کو یہ بھی سکھایا جائے کہ وہ اپنے ہم عمر ساتھیوں میں بے ہودہ گفتگو کے بجائے ایک دوسرے کو نیکی کی طرف بلائیں اور برائی سے بچنے کی تلقین کریں، اور کسی مشکل میں صبر و تحمل اختیار کریں۔

اخلاقیات: تکبر، چال ڈھال اور گفتگو کے آداب

پھر حضرت لقمان نے بچوں کے اخلاق اور معاشرتی آداب سکھائے:

﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ٭وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ﴾ (لقمان31 :19-18)
ترجمہ: “اور لوگوں سے (تکبر کے ساتھ) منہ نہ پھیرنا، اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا، بے شک اللہ ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرنا، اور اپنی آواز پست رکھنا، بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔”

یہ چار نصیحتیں بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ:

◈ لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں
◈ تکبر اور فخر سے بچیں
◈ چال ڈھال میں اعتدال رکھیں
◈ گفتگو میں آواز اور لہجے کا ادب اختیار کریں

رسول اللہ ﷺ اور بچوں کی تربیت: ابنِ عباسؓ کو دس عظیم نصیحتیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے ہر فرد کو دین سکھایا، حتیٰ کہ بچوں کو بھی بنیادی عقائد اور توکل کی تعلیم دی۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( یَا غُلَامُ ! أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ یَنْفَعُكَ اللّٰهُ بِهِنَّ؟))

ترجمہ: “اے بچے! کیا میں تمہیں چند ایسی باتیں نہ سکھاؤں جن کے ذریعے اللہ تمہیں نفع دے؟”

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عظیم اصول سکھائے:

(( اِحْفَظِ اللّٰهَ یَحْفَظْكَ))
ترجمہ: “اللہ (کے دین) کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔”

(( اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ))
ترجمہ: “اللہ کی حدود کا خیال رکھو، اسے اپنے ساتھ پاؤ گے۔”

(( إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ ))
ترجمہ: “جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو۔”

(( وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ ))
ترجمہ: “جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔”

(( وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَّنْفَعُوْكَ بِشَیْءٍ،لَمْ یَنْفَعُوْكَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ،وَإِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْكَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْكَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَیْكَ))
ترجمہ: “جان لو! اگر ساری امت تمہیں نفع پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر ساری امت نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ اتنا ہی نقصان دے سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔”

(( رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ))
ترجمہ: “قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔”

(( تَعَرَّفْ إِلَی اللّٰهِ فِیْ الرَّخَاءِ یَعْرِفْكَ فِیْ الشِّدَّةِ ))
ترجمہ: “خوشحالی میں اللہ کو پہچانو، وہ تنگی میں تمہیں پہچانے گا۔”

(( وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ یَكُنْ لِیُصِیبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ یَكُنْ لِیُخْطِئَكَ))
ترجمہ: “جو چیز تم سے چُوک گئی وہ تمہیں ملنے والی نہ تھی، اور جو تمہیں مل گئی وہ تم سے چُوکنے والی نہ تھی۔”

(( وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ))
ترجمہ: “مدد صبر کے ساتھ آتی ہے، اور تنگی کے ساتھ کشادگی ہے۔”

(( وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ))
ترجمہ: “اور بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔” (أحمد :2804 ۔ وصححہ الأرناؤط ۔ سنن الترمذی : 2516۔ وصححہ الألبانی)

یہ نصیحتیں بچوں کی تربیت میں توحید، توکل، تقدیر اور صبر کا ایسا جامع نصاب ہیں جسے والدین کو بچوں کے ذہنوں میں بٹھانا چاہئے۔

اولاد پر شفقت اور محبت کا اظہار

والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ محبت، شفقت اور نرمی کا برتاؤ کریں، کیونکہ سختی اور بے رخی بچوں کے دلوں کو توڑ دیتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ ایک صحابی حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَن لَّا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ )) (صحیح البخاری :5997، صحیح مسلم :2318)
ترجمہ: “جو رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔”

اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: کیا آپ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ہاں۔ وہ کہنے لگے: ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( أَوَ أَمْلِکُ إِنْ کَانَ اللّٰہُ نَزَعَ مِنْکُمُ الرَّحْمَۃَ )) (صحیح البخاری :5998، صحیح مسلم :2317)
ترجمہ: “اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟”

اور حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سرخ قمیصیں پہنے ہوئے آئے اور لڑکھڑا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے، دونوں کو اٹھایا اور فرمایا:

﴿ إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ ﴾

ترجمہ: “بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔”
(سنن أبی داؤد :1109، صحیح الجامع للألبانی :3757)

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ پیار اور توجہ دینا سنتِ نبوی ہے۔

بچوں کے حقوق کی ادائیگی

بچوں کو ان کا حق دینا ضروری ہے، خواہ وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مشروب پیش کیا گیا۔ آپ کے دائیں جانب ایک بچہ اور بائیں جانب بزرگ لوگ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا:

(( أَتَأْذَنُ لِیْ أَنْ أُعْطِیَ ہٰؤُلَائِ ? ))
ترجمہ: “کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ مشروب پہلے ان بزرگوں کو دے دوں؟”

بچے نے عرض کیا:
(( وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! لَا أُوْثِرُ بِنَصِیْبِیْ مِنْکَ أَحَدًا))
(صحیح البخاری:5620، صحیح مسلم :2030)
ترجمہ: “اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں اپنے حصے پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتا۔”

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب اسی بچے کو عطا فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے حق کا احترام کرنا چاہئے۔

جائز کھیل کود کی اجازت

اسلام میں جائز کھیل کود اور تفریح کی اجازت ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک چھوٹا بھائی ایک پرندے سے کھیلتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزاحاً فرمایا کرتے:

(( یَا أَبَا عُمَیْر ! مَا فَعَلَ النُّغَیْر ? ))
(صحیح البخاری:6129، صحیح مسلم :2150)
ترجمہ: “اے ابو عمیر! وہ چھوٹا پرندہ کیا ہوا؟”

اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے کہا:

﴿ أَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ﴾ (یوسف12:12)
ترجمہ: “اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ کھائے پیئے اور کھیلے کودے، اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔”

یہ دلیل ہے کہ جائز کھیل پر کوئی پابندی نہیں، بشرطیکہ شریعت کی حدود میں ہو۔

تربیتِ اولاد کیلئے اہم امور

➊ کلمۂ طیبہ کی تعلیم

بچوں کو کلمہ یاد کرایا جائے:

لَا إِلٰہَ إلِاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ

ترجمہ: “اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔”

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ﴾ (البقرۃ2 :163)
ترجمہ: “اور تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ نہایت مہربان، رحم والا ہے۔”

محمد رسول اللہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی اطاعت فرض ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْ أَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ﴾ (النساء4:65)
ترجمہ: “قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حاکم نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کریں۔”

➋ ارکانِ اسلام کی تعلی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ:شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إلِاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ،وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ،وَحَجِّ بَیْتِ اللّٰہِ ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ)) (متفق علیہ)
ترجمہ: “اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔”

ہر رکن کی آیات:

﴿ وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلاَۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا﴾ (طہ20:132)
ترجمہ: “اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر پابندی کرو۔”

﴿وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ وَآتُواْ الزَّکَاۃَ﴾ (البقرۃ2:43)
ترجمہ: “نماز قائم کرو اور زکاۃ دو۔”

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ﴾ (البقرۃ2:183)
ترجمہ: “اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔”

﴿ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً ﴾ (آل عمران3:97)
ترجمہ: “اور اللہ کیلئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھے۔”

➌ ارکانِ ایمان کی تعلیم

(( أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ،وَمَلَائِکَتِہٖ،وَکُتُبِہٖ،وَرُسُلِہٖ،وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ )) (صحیح مسلم :8)
ترجمہ: “ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخرت پر اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان لاؤ۔”

﴿ذَلِکَ بِأَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ﴾ (لقمان31:30)
ترجمہ: “یہ اس لئے کہ اللہ ہی برحق ہے اور اس کے سوا جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں۔”

﴿یُسَبِّحُونَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ لَا یَفْتُرُونَ ﴾ (الأنبیاء21:20)
ترجمہ: “وہ (فرشتے) دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور تھکتے نہیں۔”

﴿زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَن لَّن یُبْعَثُوا﴾ (التغابن64:7)
ترجمہ: “کافروں کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے، کہہ دیجئے: کیوں نہیں! میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔”

﴿ وَکُلَّ شَیْئٍ أَحْصَیْنَاہُ فِیْ إِمَامٍ مُّبِیْنٍ ﴾ (یس36:12)
ترجمہ: “اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔”

➍ اولاد سے جھوٹ نہ بولنا

والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد سے کبھی جھوٹ نہ بولیں، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو دیکھتے اور سنتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے۔ میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا: آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اسے کیا دینے والی تھیں؟ انہوں نے کہا: میں اسے کھجور دینے کا ارادہ رکھتی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( أَمَا إِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطِیْہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکَ کِذْبَۃً )) (أبو داؤد، واللفظ لہ)
ترجمہ: “خبردار! اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر جھوٹ لکھ دیا جاتا۔”

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ : إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَان )) (متفق علیہ)
ترجمہ: “منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔”

لہٰذا سچائی کی تعلیم گھر سے شروع ہونی چاہئے۔

➎ آدابِ طعام کی تعلیم

بچوں کو کھانے پینے کے اسلامی آداب سکھائے جائیں۔

حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں اِدھر اُدھر جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( یَا غُلَامُ ! سَمِّ اللّٰہَ ، وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ ، وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ )) (صحیح البخاری:5376، صحیح مسلم:2022)
ترجمہ: “اے بچے! بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔”

➏ اولاد میں عدل و انصاف

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کچھ مال دینا چاہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( اِتَّقُوْا اللّٰہَ وَاعْدِلُوْا فِیْ أَوْلَادِکُمْ ))
اور فرمایا:
(( إِنِّیْ لَا أَشْہَدُ عَلٰی جَوْرٍ )) (صحیح البخاری :2650، صحیح مسلم :1623)
ترجمہ: “اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔”
“میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔”

➐ گالی گلوچ سے منع کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مِنَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ، یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ ، وَیَسُبُّ أُمَّہُ فَیَسُبُّ أُمَّہُ )) (متفق علیہ)
ترجمہ: “کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے (یعنی کسی کے والدین کو گالی دے اور وہ بدلے میں اس کے والدین کو گالی دے)۔”

➑ صفائی کی تعلیم

بچوں کو جسم، لباس اور گھر کی صفائی کا عادی بنایا جائے، کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کی تعلیم دی جائے۔

➒ دینی تعلیم کو ترجیح دینا

والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں، حتیٰ کہ حفظ کی کوشش کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، سیرتِ طیبہ، اور اسلامی عقیدہ کی تعلیم دیں تاکہ وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔

➓ بچیوں کو پردے کی تعلیم

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَائِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ أَدْنیٰ أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ﴾ (الأحزاب33:59)
ترجمہ: “اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، اس سے وہ پہچان لی جائیں گی اور ستائی نہیں جائیں گی۔”

مزید ضروری امور

فضول مشاغل سے بچاؤ

بچوں کو فلم بینی اور فحش لٹریچر سے بچایا جائے اور قرآن، سیرت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانح کی طرف راغب کیا جائے۔

بری صحبت سے حفاظت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالسُّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ… )) (صحیح البخاری:5534)
ترجمہ: “اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی میں پھونکنے والے کی طرح ہے…”

گانے اور موسیقی سے منع کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِیْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ )) (صحیح البخاری)
ترجمہ: “میری امت میں کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے۔”

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾ (الرعد13:28)
ترجمہ: “خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”

اولاد کیلئے دعا کرنا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَامًا﴾ (الفرقان25:74)
ترجمہ: “اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ یُسْتَجَابُ لَہُنَّ… دَعْوَۃُ الْوَالِدِ لِوَلَدِہٖ )) (صحیح الجامع:3033)
ترجمہ: “تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں… والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔”

نتیجہ

تربیتِ اولاد محض ایک سماجی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم شرعی ذمہ داری ہے۔ جو والدین اپنی اولاد کو دین کی صحیح تعلیم دیتے ہیں، ان کی اصلاح کیلئے محنت کرتے ہیں اور اللہ سے ان کیلئے دعا کرتے رہتے ہیں، وہ دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ اور جو اس ذمہ داری میں کوتاہی کرتے ہیں انہیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اولاد کو نیک، صالح، ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے لئے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین۔