اسلام میں بچوں کے بستر الگ کرنے کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ جاوید اقبال سیالکوٹی کی کتاب والدین اور اُولاد کے حقوق سے ماخوذ ہے۔

بچوں کے بستر علیحدہ علیحدہ کرو جب وہ دس سال کے ہو جائیں

◈ قال رسول الله: واضربوهم عليها وهم أبناء عشر وفرقوا بينهم فى المضاجع.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (تمہاری اولاد) دس سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں نماز چھوڑنے پر مارو اور ان کے بستر الگ کر دو۔“
[صحيح] ابوداود، كتاب الصلوة، باب متى يؤمر الغلام بالصلوة: 495
علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
◈ سواء كانوا ذكورا أو اناثا فيجب التفريق بينهم جميعا سواء اتحد الجنس او اختلف
چاہے بچے مذکر ہوں یا مونث، ان کے بستر الگ کرنا واجب ہے۔ آگے فرماتے ہیں چاہے دونوں مذکر ہوں یا دونوں مونث یا ایک مذکر ہو اور ایک مونث ہر حالت میں ان کے بستر الگ کرنا ضروری ہے۔
مشکوة البانی ج 1 ص 181
اسی طرح علامہ مناوی فیض القدیر میں فرماتے ہیں:
◈ فرقوابيـن اولادكـم فـي مضاجعهم التى تنامون فيها اذا بلغوا عشرا حذرا من غوائل الشهوة وان كن اخوات
”جب تمہاری اولاد دس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کے وہ بستر جہاں وہ سوتے ہیں جدا جدا کر دو شہوت کی مصیبتوں سے ڈرتے ہوئے اگر چہ وہ بہنیں ہی ہوں۔“
مرعاة:جلد2 ص 278
فضیلۃ الشیخ محمد بن جمیل زینو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دس سال کی عمر میں بچوں کے بستر الگ الگ کر دینے چاہیے۔ دس سال کے بچے کو نہ تو والدین کے ساتھ سونا چاہیے اور نہ ہی اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ ایک بستر میں سونا چاہیے۔ یہ ایسی عمر ہے کہ جس میں بچوں میں جنسی شعور بیدار ہونا شروع ہوتا ہے اس لیے اچھی تعلیم و تربیت کے لیے لازمی ہے کہ ان کے بستر الگ الگ کر دیئے جائیں پیار اپنی جگہ پر لیکن حدیث پر عمل کرنا چاہیے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے