مضمون کے اہم نکات
امتِ محمدیہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک معتدل اور متوسط امت ہے۔ اس کا دین، دینِ وسط ہے جس میں نہ سختی ہے اور نہ ہی بے جا نرمی، نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔ یہود کی طرح تشدد اور نصاریٰ کی طرح حد سے بڑھی ہوئی نرمی کے بجائے اسلام نے توازن اور میانہ روی کو اختیار کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا ﴾
(البقرۃ 2:143)
ترجمہ:
’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں (اے مسلمانو!) ایک معتدل اور بہترین امت بنایا ہے۔‘‘
اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ اس امت کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق میں اعتدال کو اختیار کرے اور ہر طرح کی زیادتی اور کوتاہی سے بچے۔
اعتدال اختیار کرنے والے کی کامیابی
جو شخص دین میں میانہ روی اختیار کرتا ہے اور افراط و تفریط سے بچتا ہے، اسے رسولِ اکرم ﷺ نے کامیابی کی بشارت دی ہے۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نجد کے رہنے والے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا۔ نبی ﷺ نے اسے فرائض بتائے:
- دن اور رات میں پانچ نمازیں
- رمضان کے روزے
- زکاۃ
ہر بار اس شخص نے پوچھا:
’’کیا اس کے علاوہ بھی کچھ فرض ہے؟‘‘
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ ))
’’یعنی فرض اس کے علاوہ کچھ نہیں، البتہ نفل چاہو تو کر سکتے ہو۔‘‘
آخر میں وہ شخص کہنے لگا:
( وَاللّٰہِ لَا أَزِیْدُ عَلٰی ہٰذَا وَلَا أَنْقُصُ )
’’اللہ کی قسم! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم۔‘‘
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ))
(صحیح البخاری: 46، صحیح مسلم: 11)
ترجمہ:
’’اگر اس نے سچ کہا (اور ایسا ہی کیا) تو وہ کامیاب ہوگیا۔‘‘
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دین میں کامیابی کا راستہ نہ زیادتی میں ہے اور نہ کمی میں بلکہ شریعت کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے میں ہے۔
غلو کا مفہوم
اس مضمون کا مرکزی موضوع غلو ہے۔
غلو کا لغوی معنی ہے: حد سے تجاوز کرنا۔
علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اَلْغُلُوُّ: مُجَاوَزَۃُ الْحَدِّ، وَالْغُلُوُّ فِی الدِّیْنِ: التَّصَلُّبُ وَالتَّشَدُّدُ فِیْہِ حَتّٰی مُجَاوَزَۃِ الْحَدِّ
ترجمہ:
’’غلو سے مراد حد سے آگے بڑھ جانا ہے، اور دین میں غلو یہ ہے کہ اس میں سختی اور تشدد اختیار کیا جائے حتیٰ کہ حد سے تجاوز ہو جائے۔‘‘
شروع ہی میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ غلو سے اجتناب نہایت ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے انجام سے سختی کے ساتھ خبردار فرمایا ہے۔
دین میں غلو کی ہلاکت خیزی
نبی کریم ﷺ نے امت کو متنبہ فرمایا کہ پچھلی امتیں اسی غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
(( إِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِی الدِّیْنِ فَإِنَّمَا أَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ الْغُلُوُّ فِی الدِّیْنِ ))
(سنن النسائی: 3057، سنن ابن ماجہ: 3029، وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
’’دین میں غلو سے بچتے رہنا، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا۔‘‘
اسی مفہوم کے قریب ایک اور لفظ تنطُّع ہے، یعنی بلاوجہ گہرائی میں جا کر دین میں سختی کرنا۔ اس کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ نے سخت وعید سنائی ہے:
(( ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُونَ ))
(صحیح مسلم: 2670)
ترجمہ:
’’دین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہلاک ہو گئے۔‘‘
(یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمائے)
➊ انبیائے کرام علیہم السلام اور صالحین میں غلو
غلو کی سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور نیک لوگوں کے مقام و مرتبہ میں حد سے تجاوز کیا جائے، جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ﴾
(التوبۃ 9:30)
ترجمہ:
’’اور یہودیوں نے کہا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح (عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔‘‘
یہ عقیدہ سراسر غلو ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ قرآن مجید نے اس عقیدے کو سخت ترین الفاظ میں رد کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا ٭ لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا ٭ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا ٭ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا ٭ وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ﴾
(مریم 19:88–92)
ترجمہ:
’’اور وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے کسی کو بیٹا بنا لیا ہے! یقیناً تم نے بہت ہی بھاری بات کہی ہے۔ قریب ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں، اس بات پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا۔ حالانکہ رحمن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔‘‘
اہلِ کتاب کو غلو سے خصوصی ممانعت
اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کو خصوصی طور پر دین میں غلو سے منع فرمایا:
﴿ قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَھْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ ﴾
(المائدۃ 5:77)
ترجمہ:
’’آپ کہہ دیجئے! اے اہلِ کتاب، اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کر گئے اور سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
﴿ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ ۚ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہٗ اَلْقٰھَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ ۚ اِنْتَھُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ۚ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ ﴾
(النساء 4:171)
ترجمہ:
’’اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ بن مریم تو صرف اللہ کے رسول تھے، اور اس کا کلمہ تھے جو اس نے مریم کی طرف القا فرمایا، اور اس کی طرف سے ایک روح تھے۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ’تین‘ نہ کہو، باز آ جاؤ، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ بے شک اللہ ایک ہی معبود ہے، وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔‘‘
علماء اور درویشوں میں غلو
اہلِ کتاب نے صرف انبیاء میں ہی نہیں بلکہ اپنے علماء اور راہبوں میں بھی غلو کیا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ﴾
(التوبۃ 9:31)
ترجمہ:
’’انہوں نے اپنے علماء اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔‘‘
اس کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے یوں فرمائی:
(( أَمَا إِنَّہُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یَعْبُدُوْنَہُمْ، وَلٰکِنَّہُمْ کَانُوْا إِذَا أَحَلُّوْا لَہُمْ شَیْئًا اسْتَحَلُّوْہُ، وَإِذَا حَرَّمُوْا عَلَیْہِمْ شَیْئًا حَرَّمُوْہُ ))
(جامع الترمذی: 3095، وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
’’وہ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے، لیکن جب وہ کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو اسے حلال مان لیتے، اور جب حرام کہتے تو اسے حرام مان لیتے تھے۔‘‘
امتِ محمدیہ میں غلو کی مثالیں
بدقسمتی سے امتِ محمدیہ میں بھی بعض لوگ رسول اللہ ﷺ اور صالحینِ امت کی شان میں غلو کرتے ہیں، حتیٰ کہ اشعار میں ایسی باتیں کہی جاتی ہیں جو صریح شرک پر مشتمل ہوتی ہیں، جیسے:
❀ وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اُتر پڑا ہے مدینہ میں مصطفی ہو کر
ایسے تمام اقوال باطل اور حرام ہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے خود اس سے سختی سے منع فرمایا۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
(( لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہُ، فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ ))
(صحیح البخاری: 3445)
ترجمہ:
’’میری تعریف میں حد سے تجاوز نہ کرو جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم کی تعریف میں غلو کیا۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔‘‘
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی ﷺ کو حاجت روا، مشکل کشا یا غوث ماننا غلو اور حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ قُلْ لَا أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰہُ ﴾
(الأعراف 7:188)
ترجمہ:
’’کہہ دیجئے! میں خود اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر وہی جو اللہ چاہے۔‘‘
➋ صالحین کی قبروں میں غلو اور اس کے خطرناک نتائج
انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد صالحین میں غلو کی ایک نہایت سنگین صورت یہ ہے کہ ان کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا جائے، ان سے حاجات طلب کی جائیں، نذر و نیاز پیش کی جائے، رکوع و سجود کیے جائیں اور انہیں حاجت روا و مشکل کشا سمجھا جائے۔ یہ سب افعال صریح غلو بلکہ شرک کے اسباب میں سے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے اس خطرے سے امت کو سختی کے ساتھ آگاہ فرمایا، خصوصاً انبیاء علیہم السلام کی قبروں کے بارے میں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مرضِ وفات میں بار بار یہ ارشاد فرماتے تھے:
(( لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ ))
(صحیح البخاری: 3453، 3454)
ترجمہ:
’’یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘
اس حدیث کا مقصد یہی تھا کہ امتِ محمدیہ اس روش سے بچے اور نبی کریم ﷺ کی قبر کو بھی عبادت گاہ نہ بنائے۔ جب انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا حرام ہے تو ان سے کم درجے کے افراد کی قبروں کا کیا حال ہوگا؟
شرک کی ابتدا صالحین میں غلو سے ہوئی
زمین پر شرک کی ابتدا بھی صالحین میں غلو ہی کی وجہ سے ہوئی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ کے ایک گرجا کا ذکر کیا جس میں تصویریں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ أُولٰئِکَ إِذَا کَانَ فِیْہِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلٰی قَبْرِہٖ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرَ، فَأُولٰئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ))
(صحیح البخاری: 427)
ترجمہ:
’’ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں تصویریں رکھ دیتے۔ یہی لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قبروں کو سجدہ گاہ بنانے، ان پر عمارتیں کھڑی کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے کو سختی سے منع کیا ہے۔
➌ عبادت میں غلو
عبادت میں غلو کا مطلب یہ ہے کہ شریعت نے جو حد مقرر کر دی ہو، انسان اس سے تجاوز کرے۔ یہ طرزِ عمل درست نہیں۔
پہلی دلیل: حج میں کنکریاں مارنے کا واقعہ
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے دسویں ذوالحجہ کی صبح مجھے کنکریاں چن کر لانے کا حکم دیا۔ میں نے چنے کے برابر کنکریاں لا کر دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( بِأَمْثَالِ ہٰؤُلَائِ، وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِی الدِّیْنِ ))
(سنن النسائی: 3075، سنن ابن ماجہ: 3029، وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
’’اسی طرح کی کنکریاں مارنا، اور دین میں غلو سے بچنا۔‘‘
آج بہت سے لوگ جمرات کو بڑے پتھر، جوتے اور چپل مارتے ہیں یا گالیاں دیتے ہیں، یہ سب غلو کی صورتیں ہیں۔
دوسری دلیل: وضو میں غلو
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرکے دکھایا اور ہر عضو تین تین بار دھویا، پھر فرمایا:
(( فَمَنْ زَادَ عَلٰی ہٰذَا فَقَدْ أَسَائَ وَتَعَدَّی وَظَلَمَ ))
(سنن النسائی: 140، وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
’’جس نے اس سے زیادہ کیا، اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ عبادت میں حد سے بڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ ہے۔
➍ نفلی اعمال میں غلو
نفلی عبادات میں بھی حد سے تجاوز کرنا درست نہیں، کیونکہ اصل خیر نبی ﷺ کی سنت کی پیروی میں ہے۔
وصال کے روزوں کی ممانعت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَا تُوَاصِلُوْا ))
“وصال نہ کرو”
صحابہ نے عرض کیا: آپ تو وصال کرتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنِّیْ لَسْتُ مِثْلَکُمْ، إِنِّیْ أَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ ))
(صحیح البخاری: 7299)
ترجمہ:
’’میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔‘‘
تین صحابہ کا واقعہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین صحابہ نے عبادت میں غلو کا ارادہ کیا۔ ایک نے ساری رات قیام، دوسرے نے ہمیشہ روزہ اور تیسرے نے نکاح ترک کرنے کا عزم کیا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِی فَلَیْسَ مِنِّی ))
(صحیح البخاری: 5063، صحیح مسلم: 1401)
ترجمہ:
’’جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘
➎ شریعت کی رخصت قبول نہ کرنا
غلو کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ کی دی ہوئی رخصت کو رد کیا جائے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے سفر میں ایک روزہ دار کو دیکھا تو فرمایا:
(( لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِی السَّفَرِ ))
(صحیح البخاری: 1946، صحیح مسلم: 1115)
ترجمہ:
’’سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔‘‘
➏ اپنے آپ پر سختی کرنا
غلو کی ایک نمایاں صورت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بلاوجہ مشقت میں ڈالے اور شریعت کی مقرر کردہ آسانی کو چھوڑ دے۔ یہ طرزِ عمل نہ مطلوب ہے اور نہ ہی پسندیدہ۔
پہلی دلیل: ابو اسرائیل کی نذر
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ:
- کھڑا رہے گا
- بیٹھے گا نہیں
- سائے میں نہیں جائے گا
- کسی سے بات نہیں کرے گا
- روزہ رکھے گا
تو نبی ﷺ نے فرمایا:
(( مُرْہُ فَلْیَتَکَلَّمْ، وَلْیَسْتَظِلَّ، وَلْیَقْعُدْ، وَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ ))
(صحیح البخاری: 6704)
ترجمہ:
’’اسے حکم دو کہ بات چیت کرے، سائے میں جائے، بیٹھے اور اپنا روزہ مکمل کرے۔‘‘
دوسری دلیل: پیدل حج کی نذر
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی۔ نبی ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( لِتَمْشِ وَلْتَرْکَبْ ))
(صحیح البخاری: 1866، صحیح مسلم: 1644)
ترجمہ:
’’اسے کہو کہ پیدل بھی چلے اور سواری بھی اختیار کرے۔‘‘
تیسری دلیل: بوڑھے آدمی کا واقعہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ بتایا گیا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ عَنْ تَعْذِیْبِ ہٰذَا نَفْسَہُ لَغَنِیٌّ ))
(صحیح البخاری: 1865، صحیح مسلم: 1642)
ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ اس بات سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو عذاب میں ڈالے۔‘‘
دین آسان ہے
نبی کریم ﷺ کا جامع اور اصولی فرمان ہے:
(( إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ، وَلَنْ یُّشَادَّ الدِّیْنَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَہُ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا ))
(صحیح البخاری، کتاب الإیمان: 39)
ترجمہ:
’’بے شک دین آسان ہے، اور جو شخص دین میں سختی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔ لہٰذا اعتدال اختیار کرو، قریب قریب عمل کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔‘‘
➐ بے جا سوالات کے ذریعے دین میں سختی
غلو کی ایک صورت غیر ضروری اور بے جا سوالات ہیں، جن کے ذریعے دین میں بلاوجہ سختی پیدا کی جاتی ہے۔
حج کے متعلق سوال
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( أَیُّہَا النَّاسُ، قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوْا ))
“اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس تم حج ادا کرو۔”
ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ))
(صحیح مسلم: 1337)
ترجمہ:
’’اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔‘‘
پھر فرمایا:
(( ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ… ))
ترجمہ:
’’جب تک میں خود تمہیں حکم نہ دوں، مجھ سے سوال نہ کیا کرو، کیونکہ پچھلی امتیں زیادہ سوالات اور اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔‘‘
سنگین وعید
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْیْءٍ لَمْ یُحَرَّمْ ))
(صحیح البخاری: 7289، صحیح مسلم: 2358)
ترجمہ:
’’مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس کے سوال کی وجہ سے کوئی چیز حرام کر دی جائے۔‘‘
➑ دعا میں غلو
دعا میں بھی غلو سے بچنا ضروری ہے، خواہ آواز کے اعتبار سے ہو یا الفاظ کے اعتبار سے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﴾
(الأعراف 7:55)
ترجمہ:
’’اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور آہستہ پکارو، بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
بلند آواز سے دعا کی ممانعت
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
(( اِرْبَعُوا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ… ))
(صحیح البخاری: 2830، صحیح مسلم: 2704)
ترجمہ:
’’اپنے آپ پر نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، وہ سننے والا اور قریب ہے۔‘‘
دعا کے الفاظ میں غلو
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو مخصوص محل مانگتے دیکھا تو فرمایا:
(( سَلِ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَتَعَوَّذْ بِہٖ مِنَ النَّارِ ))
“اللہ سے جنت مانگو اور اسی کی پناہ جہنم سے طلب کرو۔”
اور نبی ﷺ کا فرمان نقل کیا:
(( سَیَکُوْنُ فِیْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ قَوْمٌ یَّعْتَدُوْنَ فِی الطَّہُوْرِ وَالدُّعَاءِ ))
(سنن ابی داود: 96، سنن ابن ماجہ: 3864، وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
’’میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے۔‘‘
➒ دعوت الی اللہ میں غلو
دعوت الی اللہ ایک عظیم فریضہ ہے، لیکن اس میں بھی غلو اور سختی اختیار کرنا درست نہیں۔ بعض داعی اور واعظین اپنی دعوت میں اس قدر سختی کرتے ہیں کہ لوگ دین سے متنفر ہو جاتے ہیں، حالانکہ قرآن و سنت نے دعوت میں نرمی، حکمت اور حسنِ اسلوب کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ﴾
(النحل 16:125)
ترجمہ:
’’اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے اور ان سے بحث ایسے طریقے سے کیجئے جو سب سے بہتر ہو۔‘‘
جب نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا:
(( یَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا ))
(صحیح البخاری: 3038)
ترجمہ:
’’آسانی پیدا کرنا، سختی نہ کرنا، خوشخبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔‘‘
اسی طرح نبی ﷺ کا ارشاد ہے:
(( أَحَبُّ الْأَدْیَانِ إِلَی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ ))
(صحیح الجامع: 160)
ترجمہ:
’’اللہ کے نزدیک سب سے محبوب دین وہ ہے جو یکسو اور آسان ہو۔‘‘
دعوت میں ترجیحات کو نظر انداز کرنا بھی غلو ہے
بعض داعی فروعی اور اجتہادی مسائل میں حد سے زیادہ الجھ جاتے ہیں، جبکہ عقائد، توحید، ارکانِ اسلام، ارکانِ ایمان اور اخلاقیات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ بھی دعوت میں غلو کی ایک شکل ہے، کیونکہ شریعت نے دعوت کی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔
اسی طرح بعض لوگ صرف ’’فضائلِ اعمال‘‘ بیان کرتے ہیں، وہ بھی اکثر ضعیف یا من گھڑت روایات سے، جبکہ:
- توحید الوہیت
- شرک کی سنگینی
- بدعات کا خطرہ
- کبیرہ گناہوں (زنا، شراب، چوری، قتل وغیرہ)
ان سب پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ بھی غلو اور دین کے توازن کے خلاف ہے۔
➓ تکفیر میں غلو
دعوت میں غلو کی ایک نہایت خطرناک صورت یہ ہے کہ معمولی باتوں پر مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا جائے، حالانکہ تکفیر انتہائی نازک اور سنگین معاملہ ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا کَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاہُ فَقَدْ بَائَ بِہَا أَحَدُہُمَا ))
(صحیح البخاری: 6104، صحیح مسلم: 60)
ترجمہ:
’’جب ایک آدمی اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے ایک اس کا مستحق ہو جاتا ہے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
(( أَیُّمَا امْرِیٍٔ قَالَ لِأَخِیْہِ: یَا کَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِہَا أَحَدُہُمَا ))
(صحیح مسلم: 61)
ترجمہ:
’’جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو اگر وہ واقعی ایسا ہے تو ٹھیک، ورنہ یہ بات خود کہنے والے پر لوٹ آتی ہے۔‘‘
بلکہ ایک حدیث میں تو مومن کو کافر کہنا قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے:
(( وَمَنْ رَمَی مُؤْمِنًا بِکُفْرٍ فَہُوَ کَقَتْلِہٖ ))
(صحیح البخاری: 6105)
ترجمہ:
’’جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی، وہ گویا اسے قتل کرنے کے برابر ہے۔‘‘
⓫ قراءتِ قرآن میں غلو
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اسے تجوید کے مقررہ اصولوں کے مطابق، ٹھہراؤ اور خشوع کے ساتھ پڑھنا لازم ہے۔ بعض قراء اور خطباء قراءت میں اس قدر غلو کرتے ہیں کہ:
- آواز کو غیر فطری حد تک کھینچتے ہیں
- راگ اور ترنم میں حد سے بڑھ جاتے ہیں
- مخارج و تجوید کو پامال کر دیتے ہیں
یہ طرزِ عمل درست نہیں، کیونکہ قرآن کو اسی طرح پڑھنے کا حکم ہے جیسے وہ نازل ہوا۔
⓬ دین میں غلو کا انجام
رسول اللہ ﷺ نے دین میں غلو کرنے والوں کے انجام سے بھی خبردار فرمایا ہے:
(( صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِیْ لَنْ تَنَالَہُمَا شَفَاعَتِیْ: إِمَامٌ ظَلُوْمٌ غَشُوْمٌ، وَکُلُّ غَالٍ مَارِقٍ ))
(السلسلۃ الصحیحۃ: 470)
ترجمہ:
’’میری امت کے دو طبقوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی: ایک ظالم اور جابر حکمران، اور دوسرا ہر وہ شخص جو غلو کرے اور غلو کے سبب دین سے خارج ہو جائے۔‘‘
نتیجہ
دینِ اسلام میں غلو کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ہر معاملے میں اعتدال اور آسانی کا حکم دیا ہے۔ جو شخص شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہے، وہ خود کو ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ غلو کی تمام صورتوں سے بچے، سنتِ نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھامے اور دین کو اسی توازن کے ساتھ اختیار کرے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سکھایا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور ہر قسم کے غلو سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین