مضمون کے اہم نکات
اسلام دینِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول صرف اور صرف یہی دین ہے۔ اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی جائے گی کہ اسلام سراسر دینِ رحمت، امن اور سلامتی ہے۔ آج کے دور میں اسلام پر انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، حالانکہ یہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ اس مضمون میں ہم ثابت کریں گے کہ اللہ تعالیٰ خود رحمت والا ہے، اس کے اسمائے حسنیٰ رحمت پر دلالت کرتے ہیں، اس کی شریعت سراسر آسانی اور شفقت پر مبنی ہے، اور اس نے اپنے بندوں کیلئے دنیا و آخرت میں رحمت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔
اسلام ہی دینِ برحق ہے
اسلام وہ واحد دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کیلئے پسند فرمایا ہے، اور اسی کی پیروی نجات کا ذریعہ ہے۔
﴿ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ﴾
(آل عمران: 19)
ترجمہ:
“بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک (برحق) دین اسلام ہی ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے، اس کا وہ دین اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔
﴿ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴾
(آل عمران: 85)
ترجمہ:
“اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کرے گا، وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔”
اسلام پر لگایا جانے والا بہتان
یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ آج بعض حلقے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ اسلام تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا دین ہے۔ حالانکہ یہ اسلام پر کھلا بہتان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دینِ رحمت ہے، جو پوری انسانیت کو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ اس دین کو عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے جو ارحم الراحمین ہے، اور جس رسول ﷺ کے ذریعے یہ دین پہنچا وہ رحمۃً للعالمین ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے
قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔
﴿ وَإِذَا جَآئَکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ … ﴾
(الأنعام: 54)
ترجمہ:
“اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو کہہ دیجئے: تم پر سلامتی ہو، تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ اگر تم میں سے کوئی جہالت سے برا کام کر بیٹھے، پھر توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔”
رحمت اللہ ہی کی ملکیت ہے
رحمت کا اصل اور کامل مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کے خزانے اسی کے پاس ہیں۔
﴿ وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَۃِ ﴾
(الکہف: 58)
ترجمہ:
“اور آپ کا رب بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے۔”
﴿ اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَہَّابِ ﴾
(ص: 9)
ترجمہ:
“کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے؟”
اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے نواز دے، اور جسے چاہے محروم رکھے، اس کے فیصلے میں کوئی شریک نہیں۔
﴿ مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا ﴾
(فاطر: 2)
ترجمہ:
“اللہ اگر لوگوں کیلئے رحمت کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں۔”
اللہ کے اسمائے حسنیٰ اور رحمت
اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں الرحمن اور الرحیم شامل ہیں، جو اس کی بے پناہ رحمت پر دلالت کرتے ہیں۔
﴿ وَإِلٰـہُکُمْ إِلٰـہٌ وَّاحِدٌ لَّا إِلٰـہَ إِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ﴾
(البقرۃ: 163)
ترجمہ:
“اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔”
یہ دونوں اسمائے مبارکہ قرآن مجید میں بار بار آئے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سراسر رحمت ہے۔
اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے
اللہ رب العزت کی ایک عظیم صفت یہ ہے کہ وہ ارحم الراحمین ہے، یعنی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا۔ اس سے بڑا رحم کرنے والا کوئی نہیں، نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں۔
﴿ فَاللّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا وَّہُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ﴾
(یوسف: 64)
ترجمہ:
“اللہ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔”
﴿ وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ ﴾
(المؤمنون: 118)
ترجمہ:
“اور کہہ دیجئے: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔”
حدیثِ شفاعت اور اللہ کی بے مثال رحمت
حدیثِ شفاعت میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب تمام سفارشیں مکمل ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
( فَیَقُوْلُ اللّٰہُ: شَفَعَتِ الْمَلَائِکَۃُ، وَشَفَعَ النَّبِیُّونَ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ، وَلَمْ یَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ… )
(صحیح البخاری: 7439، صحیح مسلم: 183 – واللفظ لہ)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے شفاعت کر لی، انبیاء نے شفاعت کر لی، مومنوں نے بھی شفاعت کر لی، اور اب صرف ارحم الراحمین باقی ہے…”
پھر اللہ تعالیٰ جہنم سے ایسے لوگوں کو نکال لے گا جنہوں نے کوئی نیکی نہیں کی ہوگی، صرف اس کی بے پایاں رحمت کی بنیاد پر۔
ماں کی شفقت اور اللہ کی رحمت
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قیدیوں میں ایک عورت اپنے بچے کو ڈھونڈتی پھر رہی تھی، جیسے ہی اسے بچہ ملا تو اسے سینے سے لگا کر دودھ پلانے لگی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
( أَتَرَوْنَ ہٰذِہِ الْمَرْأَۃَ طَارِحَۃً وَلَدَہَا فِی النَّارِ؟ )
"کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟”
ہم نے عرض کیا: ہرگز نہیں۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
( لَلّٰہُ أَرْحَمُ بِعِبَادِہِ مِنْ ہٰذِہِ بِوَلَدِہَا )
(صحیح البخاری: 5999، صحیح مسلم: 2754)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس عورت سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا وہ اپنے بچے پر رحم کرتی ہے۔”
اللہ کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
اللہ تعالیٰ کی رحمت محدود نہیں بلکہ ہر مخلوق کو شامل ہے۔
﴿ وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ … ﴾
(الأعراف: 156)
ترجمہ:
“اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، پس میں اسے ان لوگوں کیلئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس رسول کی اتباع کرتے ہیں جو نبیِ اُمی ہے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا میں رحمت عام ہے، لیکن آخرت میں رحمت کے خصوصی مستحق وہی ہوں گے جو ایمان، تقویٰ اور اتباعِ رسول ﷺ اختیار کریں گے۔
اللہ کن لوگوں پر رحم کرتا ہے؟
اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص طور پر ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو خود بھی رحم دل ہوتے ہیں۔
( الرَّاحِمُونَ یَرْحَمُہُمُ الرَّحْمٰنُ، اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِی السَّمَائِ )
(سنن الترمذی: 1924 – وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
“رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔”
رحمت کے مستحق بننے والے اعمال
قرآن مجید نے واضح طور پر وہ اعمال بیان کیے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے:
❀ ایمان اور تقویٰ
❀ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت
❀ قرآن مجید کی اتباع
❀ حسنِ اخلاق
❀ نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی
❀ نیک اعمال
❀ استغفار
❀ مومنوں کے درمیان صلح
❀ مصیبت پر صبر
❀ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
یہ تمام اعمال انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بناتے ہیں۔
دینِ اسلام میں رحمتِ الٰہی کی عملی صورتیں
عزیز بھائیو! اب تک ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود سراسر رحمت ہے اور اس کا دین بھی رحمت پر قائم ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ دینِ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کن عملی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے، تاکہ یہ حقیقت مزید واضح ہو جائے کہ اسلام کسی بھی اعتبار سے تشدد یا تنگی کا دین نہیں بلکہ سراپا شفقت، آسانی اور رحمت ہے۔
➊ رسول بھیج کر خبردار کرنا، پھر عذاب آنا
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی بنا پر کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس کی طرف رسول بھیج کر حق واضح نہ کر دے۔
﴿ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا ﴾
(الإسراء: 15)
ترجمہ:
“اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیا کرتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔”
﴿ وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا … ﴾
(القصص: 59)
ترجمہ:
“اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں جب تک ان کے مرکزی مقام پر رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان کے رہنے والے ظلم پر اتر آئیں۔”
یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے کہ اس نے کسی کو بغیر حجت قائم کیے سزا نہیں دی۔
➋ طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا، یہ بھی اس کی بے مثال رحمت ہے۔
﴿ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ﴾
(البقرۃ: 286)
ترجمہ:
“اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔”
اسی رحمت کی بنا پر:
❀ پانی نہ ہو یا نقصان دہ ہو تو تیمم کی اجازت ہے
❀ کھڑے ہو کر نماز ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر، ورنہ لیٹ کر
❀ حیض و نفاس میں خواتین سے نماز معاف
❀ حج زندگی میں ایک بار اور صرف صاحبِ استطاعت پر
❀ مریض اور مسافر کو روزے چھوڑنے کی اجازت
یہ سب شریعتِ اسلام کی آسانی اور رحمت کی روشن مثالیں ہیں۔
➌ مجبوری میں حرام بھی حلال ہو جاتا ہے
اللہ تعالیٰ نے بعض چیزیں حرام کیں، مگر شدید مجبوری کی حالت میں اپنی رحمت سے اجازت دے دی۔
﴿ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ﴾
(البقرۃ: 173)
ترجمہ:
“جو شخص مجبور ہو جائے، نہ زیادتی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔”
➍ بھول، خطا اور جبر معاف
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے امتِ محمدیہ کی بھول، غلطی اور جبر کے تحت کیے گئے کام معاف کر دیے۔
( إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِی مَا حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا… )
(صحیح البخاری: 5269)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل کے خیالات اور وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ کہے۔”
( إِنَّ اللّٰہَ قَدْ تَجَاوَزَ لِی عَنْ أُمَّتِی الْخَطَأَ وَالنِّسْیَانَ وَمَا اسْتُکْرِہُوْا عَلَیْہِ )
(سنن ابن ماجہ: 2043 – وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ نے میری امت کی غلطی، بھول اور جس پر وہ مجبور کر دیے جائیں، اسے معاف فرما دیا ہے۔”
➎ مرفوع القلم افراد
اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا ہے۔
( رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ… )
(سنن ابن ماجہ: 2041 – وصححہ الألبانی)
ترجمہ:
“تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:
سویا ہوا جب تک بیدار نہ ہو،
بچہ جب تک بالغ نہ ہو،
اور مجنون جب تک ہوش میں نہ آ جائے۔”
➏ توبہ کا دروازہ موت تک کھلا ہے
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بندے کی توبہ موت کے وقت تک قبول فرماتا ہے۔
( إِنَّ اللّٰہَ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ )
(سنن الترمذی: 3537 – صححہ الألبانی)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔”
➐ نیکی کا اجر کئی گنا، برائی ایک ہی
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے جبکہ برائی ایک ہی لکھی جاتی ہے۔
﴿ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا ﴾
(النساء: 40)
ترجمہ:
“اگر نیکی ہو تو اللہ اسے کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔”
( فَمَنْ ہَمَّ بِحَسَنَۃٍ … )
(صحیح مسلم: 162)
ترجمہ:
“نیکی کا ارادہ کر کے نہ کرے تو ایک نیکی لکھی جاتی ہے، کر لے تو دس سے سات سو گنا تک۔ اور برائی کا ارادہ کر کے نہ کرے تو نیکی لکھی جاتی ہے، کر لے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔”
➑ رحمت غضب پر غالب ہے
( إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی )
(صحیح البخاری: 7554)
ترجمہ:
“میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے جا چکی ہے۔”
➒ رحمت کے سو حصے
( جَعَلَ اللّٰہُ الرَّحْمَۃَ فِی مِائَۃِ جُزْءٍ … )
(صحیح البخاری: 6000)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ایک زمین پر اتارا، باقی اپنے پاس رکھے۔ اسی ایک حصے سے ساری مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔”
➓ جانوروں پر بھی رحمت
کتے کو پانی پلانے والی عورت اور پیاسے کتے کو سیراب کرنے والے شخص کے واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام جانوروں تک پر رحم سکھاتا ہے۔
صحیح البخاری: 3467، 2363 ،صحیح مسلم: 2244
نتیجہ
جس اللہ کا دین یہ ہو، کیا وہ دین دہشت گردی سکھا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسلام اللہ ارحم الراحمین کا بھیجا ہوا دین ہے، جو پوری انسانیت کیلئے امن، سلامتی اور رحمت کا پیغام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لے، اور ہمیں سچے معنی میں دینِ اسلام کا سفیر بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔