حمل
سوال:
حمل کی تعریف، مدت حمل، تعداد حمل، حکم اور شرائط تحریر کیجیے۔
جواب:
تعریف: وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو۔
مدت حمل: کم از کم مدت جس میں بچہ زندہ پیدا ہو سکتا ہے وہ چھ ماہ ہے، جس طرح ایک صحابی کا قرآن سے استدلال ہے۔ روایت ہے کہ ”ایک آدمی نے نکاح کیا اور چھ ماہ بعد عورت نے بچہ جنم دیا۔ یہ معاملہ امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے رجم کا حکم دے دیا۔ تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر یہ عورت تجھ سے کتاب اللہ کے ساتھ بحث و تکرار کرنا چاہے تو کر سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾
(الأحقاف 15:46)
”اور بچے کا حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“
اور دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾
”مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں ان (باپوں) کے لیے جو اپنی اولاد کی مدت رضاعت پوری کرنا چاہتے ہوں۔“
(البقرة 233:2)
جب دودھ پلانے کی مدت دو سال نکل جائے تو حمل کی چھ ماہ باقی رہ جاتی ہے۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے حد ساقط کر دی (اور خاوند سے بچے کا نسب ثابت کر دیا۔)
(موطأ إمام مالك ، الحدود، باب ماجاء في الرجم : 348/2، حدیث :1586، و سنن الكبرى للبيهقي : 442/7 )
اکثر مدت حمل میں اختلاف: امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک پانچ سال، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک چار سال، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دو سال، محمد بن عبد الحکم رحمہ اللہ کے نزدیک ایک سال اور ظاہریہ کے نزدیک نو ماہ ہے۔
تعداد حمل: حمل آنکھوں سے مخفی ہوتا ہے، اس لیے اس کی تعداد مقرر کرنے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ بعض نے ایک، بعض نے دو اور بعض نے تین یا چار بیٹوں یا بیٹیوں (جس کا حصہ زیادہ بنتا ہو) مقرر کیے ہیں۔
ملاحظہ: کیونکہ شریعت کے احکام عام عادات کے موافق ہیں اور عام عادت میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے راجح قول یہی ہے۔ اگر حمل ایک سے زیادہ بچے پیدا ہوں تو باقی ورثاء سے اس کا حصہ وصول کیا جائے گا۔
حکم: اگر دوسرے ورثاء ترکہ کی تقسیم کو حمل کی پیدائش تک مؤخر کرنے پر راضی نہ ہوں تو حمل کے لیے اکثر حصہ رکھا جائے گا اور دیگر ورثاء کو اقل حصہ دیا جائے گا۔ یعنی ایک مرتبہ حمل کو مذکر اور دوسری مرتبہ مونث تسلیم کر کے مسئلہ نکالا جائے گا۔ جو حصہ زیادہ ہو وہ اس کے لیے رکھا جائے گا۔
طریقہ کار: حمل کو مذکر و مونث تسلیم کر کے دو الگ مسئلے بنائے جائیں، پھر دونوں مسئلوں میں نسبت دیکھی جائے۔ اگر توافق کی ہو تو ایک کے وفق کو دوسرے کے کل میں ضرب دی جائے گی۔ اگر تباین ہو تو کل کو کل میں ضرب دی جائے گی۔ تو حاصل ضرب ”جامعہ العمل“ ہوگا۔ پھر جس وارث کو مسئلہ ذکوریت سے جو ملا ہے اسے مسئلہ انوثیت کے وفق سے ضرب دی جائے اور جس کو مسئلہ انوثیت سے جو ملا ہے اس کو مسئلہ ذکوریت کے وفق سے ضرب دی جائے۔ پھر دونوں مسئلوں میں دیگر ورثاء کو کم حصہ دیا جائے گا۔ اور حمل کا زیادہ حصہ اور دوسرے ورثاء کا باقی ماندہ حصہ محفوظ رکھا جائے گا یہاں تک کہ صورت حال واضح ہو جائے۔ مثلاً ایک آدمی حاملہ بیوی، بیٹی، ماں اور باپ چھوڑ کر فوت ہو گیا:


مسئلہ کی وضاحت: حمل کو مذکر و مونث تسلیم کر کے دو الگ مسئلے بنائے۔ مسئلہ ذکوریت ”24“، تصحیح ”72“ ہوئی اور مسئلہ انوثیت ”24“ عول ”27“ بنا۔ پھر دونوں مسئلوں، یعنی 27:72میں نسبت دیکھی تو توافق کی نسبت پائی گئی، چنانچہ ”72“ کا ”8“ اور ”27“ کا ”3“ وفق حاصل ہوا۔ پھر ایک کے وفق کو دوسرے کے کل میں ضرب دی تو جامعہ العمل ”216“ حاصل ہوا۔ اس میں سے ہر فریق کا حصہ نکالا کہ مسئلہ ذکوریت میں سے ہر فریق کے حصے کو مسئلہ انوثیت کے وفق ”3“ سے ضرب دی، اور مسئلہ انوثیت میں سے ہر فریق کے حصے کو مسئلہ ذکوریت کے وفق ”8“ سے ضرب دی۔ پھر دونوں مسئلوں میں سے ہر فریق کا کم حصہ اسے دے دیا اور باقی ماندہ محفوظ کر کے رکھ دیا اور حمل کا اکثر حصہ بھی محفوظ کر کے رکھ دیا۔جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

وراثت حمل کی شرائط: حمل کے وارث یا مورث بننے کی دو شرطیں ہیں:
① مورث کی موت کے وقت حمل کا وجود ہو، خواہ نطفہ کی حالت میں ہو۔ اس کا علم اس طرح ہوگا کہ اگر حاملہ میت کی بیوی ہو اور وہ اکثر مدت حمل تک جنم دے تو وہ وارث ہوگا، بشرطیکہ عورت نے عدت کے ختم ہونے کا دعویٰ نہ کیا ہو۔ اگر حاملہ بیوی کے علاوہ ہو، جیسے میت کی والدہ، اور وہ اقل مدت میں جنم دے تو وہ وارث بنے گا۔
② حمل زندہ پیدا ہوا، گرچہ پیدائش کے چند لمحات بعد فوت ہو جائے۔ زندگی کا علم حرکت، آواز اور چھینک وغیرہ سے ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يرث الصبي حتى يستهل صارخا وقال إستهلاله أن يبكي أو يصيح أو يعطس
”بچہ وارث نہیں بن سکتا جب تک چیخ کی آواز نہ لگائے، نیز فرمایا استہلال یہ ہے کہ وہ روئے، چیخے یا چھینکے۔“
(سنن ابن ماجہ، الفرائض، باب إذا استهل المولود ورث، حدیث: 2751)