مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اسلامی شریعت میں شغار کی حقیقت اور وٹہ سٹہ نکاح کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ 440
مضمون کے اہم نکات

سوال

شریعتِ اسلامیہ میں شغار کسے کہتے ہیں؟ کیا مہر کی موجودگی کے ساتھ ادلے بدلے پر بھی شغار کا اطلاق ہوتا ہے؟

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شغار کے بارے میں مختصر عرض یہ ہے کہ ہماری تحقیق کے مطابق شغار کا مفہوم ہی یہ ہے کہ تبادلہ بغیر مہر کے ہو۔
اگر مہر دونوں طرف سے مقرر کیا جائے تو اس طرح کا تبادلہ یا وٹہ سٹہ کسی قباحت یا حرمت کا سبب نہیں بنتا اور نہ ہی یہ شغار کی ممانعت میں داخل ہے۔

اس کی دلیل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو ابوداؤد وغیرہ میں شغار کی ممانعت کے بارے میں ان الفاظ سے مروی ہے:

((قلت لنافع ما الشغار قال ينكح إبنة الرجل وينكحه بنته بغير صداق وينكح أخت الرجل فينكحه أخته بغير صداق.))
(سنن أبى داود مع عون المعبود، طبع ملتانی، ج ۲، ص ۱۸۷)

تابعی نافعؒ کی تفسیر اور اس کی بنیاد

یہ تفسیر اگرچہ تابعی نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے لیکن چونکہ نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید ہیں اس لیے یہ بات انہوں نے یقیناً ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے سیکھی ہوگی۔

اس تفسیر کی تائید ایک مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

((لا شغار قالوا يا رسول الله وما الشغار قال نكاح المرأة بالمرأة لا صداق بينهما.))

یعنی (دین اسلام میں) شغار (ادلہ بدلہ یا وٹہ سٹہ) نہیں ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! شغار کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شغار یہ ہے کہ ایک عورت کا نکاح دوسری عورت کے بدلے میں بغیر مہر کے کیا جائے۔

اگرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے مگر چونکہ یہاں مقصد شغار کی تفسیر بیان کرنا ہے، اس لیے اس سے استیناس کیا جا سکتا ہے۔ نیز یہ تفسیر صحیح سند کے ساتھ نافع اور امام مالک رحمہما اللہ سے ثابت ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ نافع نے یہ تفسیر ابن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے لی ہے۔ اس لیے یہ روایت تائید کا باعث ہے اور محدثین ضعیف روایت سے کسی ایک معنی کے تعین کے لیے استدلال کرتے ہیں۔ اکثر علماء کے نزدیک بھی شغار کی یہی تفسیر معتبر ہے۔

معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وضاحت

بعض حضرات نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اپنے موقف کے اثبات میں پیش کیا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ بھی ہماری تائید کرتی ہے۔

حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

((ان العباس بن عبدالله بن العباس أنكح عبدالرحمن بن الحكم ابنته، وانكحه عبدالرحمن بنته، وكانا جعلا صداقا، فكتب معاوية إلى مروان يأمره بالتفريق بينهما.))
(سنن ابى داود، كتاب النكاح)

ترجمہ: "عباس بن عبداللہ بن عباس نے عبدالرحمن بن الحکم سے اپنی بہن کا نکاح کیا اور عبدالرحمن بن الحکم نے بھی اپنی بہن کا نکاح عباس بن عبداللہ سے کر دیا، اور انہوں نے مہر مقرر کیا تھا۔ پس معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا کہ ان دونوں میں تفریق کر دے۔”

غلط فہمی کی وجہ

بعض علماء کو "وكانا جعلا صداقا” کے الفاظ سے دھوکہ لگا۔ انہوں نے ان الفاظ کا وہ معنی کیا جو قواعدِ عربیہ کے خلاف ہے۔
صحیح مفہوم یہ ہے کہ:

"كانا جعلا النكاح كل واحد منهما الآخر ابنته صداقا.”

یعنی انہوں نے ایک دوسرے کے نکاح ہی کو مہر قرار دیا۔

اس معنی کی دلیل مسند ابی یعلی کی روایت ہے جس میں الفاظ ہیں:

"جعلاه صداقا.”

یہاں "ه” ضمیر "انكاح” کی طرف لوٹ رہی ہے، جو بالکل واضح ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اسی تبادلہ نکاح کو مہر بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق ان کے درمیان تفریق کا حکم دیا، نہ کہ اس لیے کہ وہ محض وٹہ سٹہ تھا۔

حدیثوں کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ مسند ابی یعلی کی روایت، ابوداؤد کی روایت کی تشریح کرتی ہے اور "جعلا” کے مفعول اول کو واضح کرتی ہے۔
مولوی حصاری وغیرہ اس پہلو پر غور نہ کرنے کی وجہ سے غلطی کا شکار ہوئے۔

مفاسد کا اشکال اور اس کی حقیقت

کچھ لوگ اس ادلے بدلے کو مفاسد کی بنا پر ناجائز کہتے ہیں۔ اس بارے میں عرض ہے کہ یہ مفاسد محض جہالت اور بے علمی کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔ سمجھدار لوگ ان مسائل سے محفوظ رہتے ہیں۔

اگر مفاسد کو ہی دلیل بنایا جائے تو ایسے مفاسد جہالت کی وجہ سے کسی ایک نکاح میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ رشتہ دار اپنی بچی کا نکاح کہیں کر دیتے ہیں لیکن بعد میں کسی لالچ یا ذاتی مفاد کے لیے لڑکی کو روک لیتے ہیں یا غیر شرعی شرطیں عائد کرتے ہیں۔

لہٰذا یہ خرابی صرف وٹہ سٹہ نکاح میں مخصوص نہیں ہے بلکہ عام نکاح میں بھی ممکن ہے۔

نتیجہ تحقیق

شغار صرف وہ ہے جو بغیر مہر کے ہو۔
◈ وٹہ سٹہ نکاح اگر مہر کے ساتھ ہو تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔
◈ جہالت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مفاسد کو اصل بنیاد بنانا درست نہیں۔

ھذا ما عندی، واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔