اسلامی اخوت کی بنیاد: مومن ایک جسم کی مانند اور مسلمانوں کے باہمی حقوق

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

مومنوں کی باہمی اخوت: قرآن کی بنیاد

برادرانِ اسلام! اہلِ ایمان کا رشتہ محض نسب یا قومیت نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو بھائی بھائی قرار دیتے ہوئے فرمایا:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ﴾ (الحجرات49 :10)
ترجمہ: “بے شک مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔”

یہی نہیں، مومنوں کے تعلق کی نوعیت اور باہمی ذمہ داریوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا:

وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ‎﴿٧١﴾ (التوبة9 :71)
ترجمہ: “مومن مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے (مدد گار ومعاون اور) دوست ہوتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے، زکاۃ ادا کرتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ غالب، حکمتوں والا ہے۔”

اس آیت سے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ مومنوں کا باہمی تعلق:
❀ مددگاری و معاونت
❀ دوستی و خیر خواہی
❀ امر بالمعروف و نہی عن المنکر
❀ نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی
❀ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت

پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی اجتماعی زندگی میں اللہ کے حکم پر جمع ہوتے اور اسی کے حکم پر جدا ہوتے ہیں، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ پر ایمان لانے والے ہر مسلمان سے محبت کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمتوں کے مستحق بنتے ہیں۔

مومن ایک جسم کی مانند

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ ایمان کی اجتماعی کیفیت کو نہایت بلیغ مثال سے سمجھایا:

(مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِذَا اشْتَکیٰ مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعیٰ لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰی) (صحیح البخاري :6011، صحیح مسلم :2586)
ترجمہ: “مومنوں کی مثال باہم محبت، باہم رحم اور باہم شفقت میں ایک جسم کی مانند ہے کہ جب اس کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم بخار کے ساتھ تڑپ اٹھتا ہے اور بیدار رہتا ہے۔”

یعنی جس طرح جسم کے ایک حصے کی تکلیف پورے جسم کو بے چین کرتی ہے، اسی طرح مومنوں کو ایک دوسرے کی تکلیف میں شریک اور ایک دوسرے کے لیے سراپا ہمدرد ہونا چاہیے۔

اسلامی بھائی چارہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا کر ان پر بہت بڑا احسان فرمایا، اور اس نعمت کو یاد دلایا:

وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦٓ إِخْوَٰنًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ‎﴿١٠٣﴾ (آل عمران 3:103)
ترجمہ: “تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں مت بٹو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور (یاد کرو جب) تم جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔”

اور مزید فرمایا:

﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ‎﴿٦٣﴾ (الأنفال8: 63)
ترجمہ: “اس (اللہ) نے مومنوں کے دلوں میں الفت پیدا کی، اگر آپ زمین کی تمام چیزیں خرچ کر ڈالتے تو بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں محبت پیدا کر دی۔ بے شک وہ غالب، حکمتوں والا ہے۔”

ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ بعثتِ نبوی سے پہلے عرب میں قبائلی جنگیں برسوں چلتی رہتی تھیں؛ مدینہ میں اوس و خزرج کی جنگیں، خصوصاً جنگِ بعاث معروف تھیں۔ پھر اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے قبولِ اسلام کرنے والوں کے دلوں میں ایسی محبت ڈال دی کہ جو کل تک دشمن تھے وہ بھائی بھائی بن گئے، نفرتیں محبت میں بدل گئیں اور ایثار کی کیفیت پیدا ہو گئی—یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان تھا۔

حنین کے موقع پر انصار سے خطاب: اخوت و الفت کی یاد دہانی

حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کو فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت تقسیم کیا اور بعض لوگوں کو دیا جن کی تالیفِ قلب مقصود تھی۔ پھر آپ تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اُن کی طرح مالِ غنیمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ان سے خطاب کیا اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا:

(یَا مَعْشَرَ الْأنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاکُمُ اللّٰہُ بِیْ؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاکُمُ اللّٰہُ بِیْ؟ وَمُتَفَرِّقِیْنَ فَجَمَعَکُمُ اللّٰہُ بِیْ؟) (صحیح البخاري:4330،صحیح مسلم:1061)
ترجمہ: “اے انصار کی جماعت! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا، پھر اللہ نے میرے ذریعے تمہیں ہدایت دی؟ اور تم محتاج نہیں تھے، پھر اللہ نے میرے ذریعے تمہیں غنی کر دیا؟ اور تم منتشر نہیں تھے، پھر اللہ نے میرے ذریعے تمہیں جمع کر دیا؟”

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ سوالات کر رہے تھے تو انصار ہر سوال کے جواب میں یہی کہتے جاتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کا احسان بہت بڑا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اخوت، ہدایت، اجتماعیت اور دلوں کی الفت—یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں جن کی قدر کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔

مسلمانوں کے باہمی حقوق

01) ایک دوسرے سے محبت کرنا

ایک مسلمان پر پہلا حق یہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرے، کیونکہ باہمی محبت ایمان کی تکمیل اور جنت کے راستے کا ذریعہ بنتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

(لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا، وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا، أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ) (صحیح مسلم:54)
ترجمہ: “تم جنت میں داخل نہ ہو گے یہاں تک کہ ایمان لے آؤ، اور تم (کامل) ایمان والے نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ تم اپنے درمیان سلام کو پھیلا دو۔”

یعنی سلام کو عام کرنا باہمی محبت کی بنیاد ہے۔

اسی طرح فرمایا:

(تَصَافَحُوْا یَذْهَبِ الْغِلُّ، وَتَهَادَوْا تَحَابُّوْا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ) (مؤطا إمام مالک مرسلا :1682)
ترجمہ: “تم ایک دوسرے سے مصافحہ کیا کرو، اس سے تمہارے درمیان بغض و کینہ ختم ہو جائے گا، اور ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے اور تمہارے درمیان دشمنی مٹ جائے گی۔”

ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ:
❀ سلام پھیلانا
❀ مصافحہ کرنا
❀ ہدیہ دینا
—یہ سب مسلمانوں کے درمیان محبت بڑھاتے اور بغض و عداوت ختم کرتے ہیں۔

اللہ کی رضا کیلئے محبت: اللہ کی محبت کا مستحق ہونا

ابو ادریس الخولانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں آپ سے اللہ کی رضا کیلئے محبت کرتا ہوں۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے تصدیق چاہی، پھر خوشخبری سنائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:

(قَالَ اللّٰہُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی: وَجَبَتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِیَّ، وَالْمُتَجَالِسِیْنَ فِیَّ، وَالْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ، وَالْمُتَبَاذِلِیْنَ فِیَّ) (صحیح الترغیب والترہیب :3018)
ترجمہ: “اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: میری محبت ان لوگوں کیلئے واجب ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری خاطر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔”

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کیلئے روانہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے راستے میں ایک فرشتہ مقرر کر دیا۔ فرشتے نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: اس بستی میں میرا ایک بھائی ہے، میں اس سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے کہا:

(هَلْ لَّكَ عَلَیْهِ مِنْ نِّعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟)
ترجمہ: “کیا وہ تمہارا احسان مند ہے جس کی وجہ سے تم اس سے ملنے جا رہے ہو؟”

اس نے کہا: نہیں، میں تو صرف اللہ کیلئے اس سے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا:

(فَإِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْكَ بِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَبَّكَ کَمَا أَحْبَبْتَهُ فِیْهِ) (صحیح مسلم:2576)
ترجمہ: “میں اللہ کی طرف سے تمہارے پاس یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ جس طرح تم نے اس سے اللہ کیلئے محبت کی، اسی طرح اللہ نے بھی تم سے محبت کر لی ہے۔”

باہمی محبت: ایمان کی لذت اور مٹھاس

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْهِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الْإِیْمَانِ: أَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُهُ أَحَبَّ إِلَیْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ یُّحِبَّ الْمَرْءَ لَا یُحِبُّهُ إِلَّا لِلّٰہِ، وَأَنْ یَّکْرَہَ أَنْ یَّعُوْدَ فِیْ الْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْهُ، کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّلْقٰی فِیْ النَّارِ) (صحیح البخاري:16،صحیح مسلم :43)
ترجمہ: “تین خصلتیں جس میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پا لیتا ہے: (1) اللہ اور اس کا رسول اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں، (2) وہ کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کیلئے کرے، (3) کفر کی طرف لوٹنا اسے ایسا نا پسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا۔”

اللہ کیلئے محبت: قیامت کے دن اللہ کا سایہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إِنَّ اللّٰہَ یَقُولُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ: أَیْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِی الْیَوْمَ؟ أُظِلُّهُمْ فِیْ ظِلِّیْ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّیْ) (صحیح مسلم :2566)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: آج میری خاطر محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جبکہ آج میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں۔”

اور فرمایا: “سات قسم کے لوگوں کو اللہ اپنا سایہ دے گا… ان میں دو آدمی وہ ہیں جنہوں نے اللہ کیلئے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے۔” (صحیح البخاری:660،صحیح مسلم :1031)
ترجمہ (متعلقہ حصہ): “دو آدمی جنہوں نے محض اللہ کی رضا کیلئے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر اکٹھے ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے۔”

محبت کا اظہار کرنا بھی سنت ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ کے پاس ایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس آدمی سے اللہ کیلئے محبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے بتایا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا کر اسے بتا دو۔ (مسند احمد و ابو داؤد :5125۔ وحسنہ الألبانی)
ترجمہ: “اسے بتا دو، اس سے تمہارے درمیان محبت زیادہ دیر تک قائم رہے گی۔”

02) ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا

ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کا ہمدرد ہونا چاہئے، اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرے اور جہاں تک ممکن ہو اس کی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

(مَنْ کَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْیَعُدْ بِهِ عَلٰی مَنْ لَّاظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ کَانَ لَهُ فَضْلٌ مِّنْ زَادٍ فَلْیَعُدْ بِهِ عَلٰی مَنْ لَّا زَادَ لَهُ) (صحیح مسلم :1728)

ترجمہ:
“جس کے پاس اضافی سواری ہو وہ اسے اس شخص کو دے دے جس کے پاس سواری نہ ہو، اور جس کے پاس کھانے پینے کا اضافی سامان ہو وہ اسے اس شخص کو دے دے جس کے پاس کچھ نہ ہو۔”

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری اور کھانے کے علاوہ بھی کئی چیزوں کا ذکر کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ ضرورت سے زیادہ کسی چیز پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ایثار

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات قائم کی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بہت مالدار تھے۔ انہوں نے کہا:

“میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں، میں اپنا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، ایک حصہ میرا اور ایک آپ کا۔ اور میری دو بیویاں ہیں، آپ جسے پسند کریں میں اسے طلاق دے دوں گا، عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیجئے۔”

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

(بَارَكَ اللّٰہُ لَكَ فِیْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے۔”

بعد ازاں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے محنت سے تجارت شروع کی اور کچھ ہی عرصے میں خوشحال ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر شادی کے آثار دیکھے تو پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ) (صحیح البخاري :3780،3781)

ترجمہ:
“ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ذبح کر کے کیوں نہ ہو۔”

یہ تھا وہ زمانہ جب مسلمان مسلمان کا حقیقی ہمدرد تھا۔

03) خندہ پیشانی سے ملنا

مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے خوش اخلاقی اور مسکراہٹ کے ساتھ ملے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو فرمایا:

(لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا، وَلَوْأَنْ تَلْقٰی أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ) (صحیح مسلم :2626)

ترجمہ:
“کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھو، اگرچہ اپنے بھائی سے خوش چہرہ ہو کر ملنا ہی کیوں نہ ہو۔”

اسی طرح فرمایا:

(تَبَسُّمُكَ فِی وَجْهِ أَخِیْكَ صَدَقَةٌ…) (الترمذي :1956۔ وصححہ الألباني)

ترجمہ (متعلقہ حصہ):
“اپنے بھائی کے چہرے پر مسکرانا بھی صدقہ ہے۔”

04) ایک دوسرے سے اچھی گفتگو کرنا

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَقُولُوا۟ لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ (البقرۃ 2:83)

ترجمہ:
“لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔”

اور فرمایا:

﴿وَقُل لِّعِبَادِى يَقُولُوا۟ ٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ﴾ (الاسراء 17:53)

ترجمہ:
“میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ ایسی بات کہیں جو سب سے بہتر ہو۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(اَلْکَلِمَةُ الطَّیِّبَةُ صَدَقَةٌ) (صحیح البخاري :2989، صحیح مسلم :1009)

ترجمہ:
“پاکیزہ کلمہ صدقہ ہے۔”

05) رحمدلی، نرمی اور تواضع

اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾

ترجمہ:
“وہ آپس میں رحم دل ہیں۔”

اسی طرح فرمایا:

﴿أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ﴾

ترجمہ:
“مومنوں کے لئے نرم اور کافروں پر سخت ہوتے ہیں۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إِنَّ اللّٰہَ رَفِیْقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ…) (صحیح مسلم :2593)

ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ نرم ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ چیز عطا کرتا ہے جو سختی پر نہیں کرتا۔”

تواضع کے بارے میں فرمایا:

(مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰہُ) (صحیح مسلم :2588)

ترجمہ:
“جو شخص اللہ کیلئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دیتا ہے۔”

06) مریض کی عیادت کرنا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(مَنْ عَادَ مَرِیْضًا نَادَی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ…) (سنن ابن ماجہ:1443۔ وحسنہ الألباني)

ترجمہ:
“جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے: تم خوش نصیب ہو، تمہارا چلنا اچھا ہے اور تم نے جنت میں ایک گھر بنا لیا ہے۔”

اور فرمایا:

(إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ لَمْ یَزَلْ فِیْ خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتّٰی یَرْجِعَ) (صحیح مسلم :2568)

ترجمہ:
“جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کیلئے جاتا ہے تو واپس آنے تک جنت کے میووں میں رہتا ہے۔”

07) خیر خواہی کرنا

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

(بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم عَلٰی إِقَامِ الصَّلاَۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ) (صحیح البخاري:1401،صحیح مسلم :56)

ترجمہ:
“میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ نماز قائم رکھوں گا، زکاۃ دیتا رہوں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔”

اور فرمایا:

(لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْهِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِه) (صحیح البخاري:13،صحیح مسلم :45)

ترجمہ:
“تم میں سے کوئی (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔”

08) تعاون کرنا

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ﴾ (المائدۃ 5:2)

ترجمہ:
“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا) (صحیح البخاري :481، صحیح مسلم :2585)

ترجمہ:
“مومن مومن کیلئے دیوار کی مانند ہے جس کی ایک اینٹ دوسری کو مضبوط کرتی ہے۔”

09) مظلوم کی مدد کرنا

(أُنْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُوْمًا) (صحیح البخاري :2444)

ترجمہ:
“اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔”

صحابہ نے پوچھا: ظالم کی مدد کیسے؟
فرمایا:

(تَکُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ فَذَاكَ نَصْرُكَ إِیَّاہُ)

ترجمہ:
“اسے ظلم سے روک دینا ہی اس کی مدد ہے۔”

10) سفارش کرنا

﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾ (النساء 4:85)

ترجمہ:
“جو نیک سفارش کرے گا اس کیلئے اس کے ثواب میں حصہ ہوگا۔”

11) غائبانہ دعا کرنا

(مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَدْعُوْ لِأخِیْهِ بِظَهْرِ الْغَیْبِ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ) (صحیح مسلم :2732)

ترجمہ:
“جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کیلئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تمہارے لئے بھی وہی ہو۔”

مسلمان کے پانچ حقوق

(حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ…) (صحیح البخاري :1240،صحیح مسلم :2162)

ترجمہ:
“مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کو (الحمد للہ کہنے پر) یرحمك اللہ کہنا۔”

برادرانہ تعلقات کو بگاڑنے والے اُمور

برادران اسلام! اخوت و بھائی چارے کی اہمیت اور مسلمانوں کے باہمی حقوق بیان کرنے کے بعد اب ہم ان اسباب کا ذکر کرتے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان محبت کی فضا نفرت اور عداوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ان امور سے بچنا نہایت ضروری ہے۔

01) غیبت

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو غیبت سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔

﴿وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ﴾ (الحجرات 49:12)

ترجمہ:
“تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے نا پسند کرو گے۔”

یعنی جس طرح مردہ بھائی کا گوشت کھانا سخت نا پسند ہے اسی طرح اس کی غیبت کرنا بھی سخت نا پسند ہونا چاہئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَنْ أَکَلَ لَحْمَ أَخِیْه فِی الدُّنْیَا قُرِّبَ لَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَیُقَالُ لَهُ: کُلْهُ مَیِّتًا کَمَا أَکَلْتَهُ حَیًّا، فَیَأْکُلُهُ وَیَکْلَحُ وَیَصِیْحُ) (قال الحافظ فی الفتح: سندہ حسن)

ترجمہ:
“جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت (یعنی غیبت) کھایا، قیامت کے دن اسے اس کا گوشت لا کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا: اسے مردہ حالت میں کھاؤ جیسے تم نے زندہ حالت میں کھایا تھا۔ پس وہ اسے کھائے گا اور بدصورت ہو جائے گا اور چیخے گا۔”

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أَتَدْرُونَ مَا الْغِیْبَةُ؟)
صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔
فرمایا: (ذِکْرُكَ أَخَاكَ بِمَا یَکْرَہُ)
ترجمہ: “اپنے بھائی کا ذکر ایسی چیز سے کرنا جو وہ نا پسند کرے۔”

پوچھا گیا: اگر وہ بات واقعی اس میں موجود ہو؟
فرمایا: (إِنْ کَانَ فِیْهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ) (صحیح مسلم :2589)

ترجمہ:
“اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔”

02) چغل خوری (نمّامی)

چغل خوری بھی باہمی تعلقات کو تباہ کرنے والا بڑا گناہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إِنَّهُمَا لَیُعَذَّبَانِ… أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَةِ) (صحیح البخاري :1378، صحیح مسلم :292)

ترجمہ:
“ان دونوں قبروں والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے… ان میں سے ایک چغل خوری کیا کرتا تھا۔”

اور فرمایا:

(لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ) (صحیح مسلم :105)

ترجمہ:
“چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”

03) بدگمانی اور تجسس

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا﴾ (الحجرات 49:12)

ترجمہ:
“اے ایمان والو! زیادہ گمان کرنے سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور جاسوسی نہ کیا کرو۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ…) (صحیح البخاري :6066، صحیح مسلم :2563)

ترجمہ:
“بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے…”

04) مذاق اڑانا اور برے القاب سے پکارنا

﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ… وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ (الحجرات 49:11)

ترجمہ:
“کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں… اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَّحْتَقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ) (سنن الترمذي :1927)

ترجمہ:
“کسی آدمی کے برا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔”

05) حسد اور بغض

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا…) (صحیح مسلم :2563)

ترجمہ:
“آپس میں حسد نہ کرو اور بغض نہ رکھو…”

اور فرمایا:

(اَلْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِیَ الْحَالِقَةُ… تَحْلِقُ الدِّیْنَ) (سنن الترمذي :2510)

ترجمہ:
“حسد اور بغض وہ بیماری ہے جو دین کو مونڈ ڈالتی ہے (ختم کر دیتی ہے)۔”

06) قطع تعلقی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(وَلَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَّهْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلاَثٍ) (صحیح البخاري :6065، صحیح مسلم :2559)

ترجمہ:
“کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔”

اور فرمایا:

(تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ… أَنْظِرُوْا هَذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا) (صحیح مسلم :2565)

ترجمہ:
“ہر پیر اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں… مگر ان دو آدمیوں کو مہلت دی جاتی ہے جن کے درمیان دشمنی ہو یہاں تک کہ وہ صلح کر لیں۔”

نتیجہ

اسلام نے اخوت و بھائی چارے کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ باہمی محبت اللہ کی محبت کا ذریعہ ہے اور باہمی عداوت اللہ کی ناراضی کا سبب۔ لہٰذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ:

✔ اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرے
✔ اس کی خیر خواہی کرے
✔ اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے
✔ اس کے دکھ درد میں شریک ہو
✔ حسد، بغض، غیبت اور چغل خوری سے بچے

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی اسلامی اخوت اختیار کرنے، مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے اور باہمی محبت و الفت کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔