مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اسقاط حمل کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

اسقاط حمل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب :

بلا عذر شرعی اسقاط حمل حرام ہے۔ یہ ”واد خفی“ میں سے ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ( 728ھ) فرماتے ہیں:
إِسْقَاطُ الْحَمْلِ حَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مِنَ الْوَادِ الَّذِي قَالَ اللهُ فِيهِ : ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ، بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ﴾ وقد قال: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ﴾
”اسقاط حمل کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ یہ اس زندہ درگور کرنے میں سے ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ، بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ﴾ (التكوير : 8-9) ”جب زنده در گور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا، کس گناہ کی پاداش میں اسے قتل کیا گیا؟“ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ﴾ (بني إسرائيل : 31) ” اپنی اولا د کو غربت کے ڈر سے قتل مت کرو۔“
(مجموع الفتاوى : 160/34)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔