آٹھویں صدی میں اہل سنت کی تصریحات
حافظ ذہبی رحمتہ اللہ (748ھ ) لکھتے ہیں:
هذه الصفات من الاستواء والإثبان والنزول قد صحت بها النصوص، ونقلها الخلف عن السلف، ولم يتعرضوا لها برد ولا تأويل، بل أنكروا على من تأولها مع اصفاقهم بأنها لا تشبه نعوت المخلوقين، وأن الله ليس كمثله شيء، ولا تنبغي المناظرة، ولا التنازع فيها، فإن في ذلك محاولة للرد على الله ورسوله أو حوما على التكييف أو التعطيل.
’’صفات الہی، یعنی استوا (اللہ تعالیٰ کا عرش پر بلند ہونا)، اتیان (قیامت کے دن بندوں کے فیصلے کے لیے آنا) اور نزول (ہر رات آسمان دنیا پر اترنا) کا بیان نصوص صحیحہ میں وارد ہوا ہے اور بعد والوں نے انھیں پہلوں سے نقل کیا ہے۔ وہ ان کے ردیا ان کی تاویل میں مشغول نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے ان صفات میں تاویل کرنے والوں پر نکیر کی ہے، نیز ان کا اتفاق ہے کہ اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں۔ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ اس بارے میں مناظرہ و مجادلہ جائز نہیں، کیونکہ یہ اللہ ورسول کی مخالفت کی کوشش ہے یا صفات الہی میں تکلیف و تعطیل کی سازش ہے۔‘‘
(سير أعلام النبلاء: 376/11)
نیز فرماتے ہیں:
كون عز وجل في السماء متواترا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم تواترا لفظيا.
’’اللہ عزوجل کا آسمانوں کے اوپر ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر لفظی کی حد تک ثابت ہے۔‘‘
(کتاب الأربعين، ص 53)
مزید لکھتے ہیں:
هو قول أهل السنة فاطبة أن كيفية الاستواء لا نعقلها، بل نجهلها، وأن الاستواء معلوم ، كما أخبر في كتابه، وأنه كما يليق به، لا نتعمق، ولا نتحذلق، ولا نخوض في لوازم ذلك نفيا ولا إثبانا، بل نسكت ونقف كما وقف السلف، ونعلم أنه لو كان له تأويل لبادر إلى بيانه الصحابة والتابعون، ولما وسعهم إقراره وإمراره والسكوت عنه، ونعلم يقينا مع ذلك أن الله جل جلاله لا مثل له في صفاته ولا في استوائه ولا في نزوله، سبحانه وتعالى عما يقول الظالمون علوا كبيرا.
’’تمام اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صفت استوا (اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے) کی کیفیت ہماری سمجھ سے بالا ہے، بلکہ ہم اس سے لاعلم ہیں۔ صفت استوا معلوم ہے، اللہ نے اپنی کتاب میں اس کی خبر دی ہے، وہ اس کے شایان شان ہے، ہم اس مسئلہ کی گہرائی میں نہیں جاتے، نہ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں، نہ ہی اس بحث میں پڑتے ہیں کہ اس مسئلہ سے فلاں چیز کا اثبات لازم آتا ہے، فلاں کی نفی۔ ہم تو خاموش ہیں، اسی طرح جیسے سلف صالحین تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر اس صفت کی کوئی تاویل (صحیح) ہوتی ، تو سب سے پہلے صحابہ و تابعین اسے بیان کرتے ، نیز انھیں اس صفت کے اقرار، اس کو حقیقت پر جاری رکھنے اور اس پر خاموشی اختیار کرنے کی گنجائش نہ ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یقینی طور پر یہ بھی جانتے ہیں کہ صفات استوا، نزول وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مثل نہیں، ظالم لوگ جو کچھ کہتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالی اس سے بہت بلند ہے ۔‘‘
(کتاب العلو، ص 104)
نیز لکھتے ہیں:
قول عموم أمة محمد صلى الله عليه وسلم: إن الله في السماء، يطلقون ذلك وفق ما جاءت النصوص بإطلاقه ، ولا يخوضون في تأويلات المتكلمين مع جزم الكل بأنه تعالى ليس كمثله شيء.
’’تمام امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیدہ ہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے۔ وہ مطلقاً یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ آسمانوں پر ہے، کہ نصوص شریعہ بھی مطلق ہی یہ بات کہتی ہیں۔ وہ متکلمین کی طرح تاویل نہیں کرتے۔ البتہ اس پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں ۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: 70/11-71)
جہمیہ کا عقیدہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قلت: الجهمية يقولون: إن الباري تعالى في كل مكان، والسلف يقولون: إن علم الباري في كل مكان، ويحتجون بقوله تعالى: (وهو معكم أين ما كنتم) (الحديد 4)، يعني بالعلم، ويقولون: إنه على عرشه استوى كما نطق به القرآن والسنة، ومعلوم عند أهل العلم من الطوائف أن مذهب السلف إمرار آيات الصفات وأحاديثها كما جاءت من غير تأويل ولا تحريف ولا تشبيه ولا تكييف، فإن الكلام في الصفات فرع على الكلام في الذات المقدسة، وقد علم المسلمون أن ذات الباري موجودة حقيقة، لا مثل لها، وكذلك صفاته تعالى موجودة، لا مثل لها.
جہمی کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ ہر جگہ ہے، جبکہ سلف صالحین کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، وہ اس فرمانِ باری تعالٰی سے دلیل لیتے ہیں:
وهو معكم اين ما كنتم.
(الحديد: 4)
’’تم جہاں بھی ہو، اللہ تمھارے ساتھ ہے۔‘‘
حالانکہ اس سے مراد علم ہے۔ اللہ تو اپنے عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ قرآن وسنت نے بتا دیا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ سلف صالحین کا مذہب صفات باری تعالیٰ پر مشتمل آیات واحادیث کو اسی طرح حقیقت پر رکھتا ہے، جیسے وہ آئی ہیں، ان کی کوئی تاویل، تحریف، تشبیہ اور تکلیف نہیں کی جائے گی، کیونکہ صفات باری تعالیٰ کے بارے میں کلام، ذات باری تعالیٰ کے بارے کلام کی فرع ہے۔ مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ باری تعالیٰ کی ذات حقیقتاً موجود ہے۔ اس کی کوئی مثل نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات بھی ہیں اور ان کی بھی کوئی مثل نہیں ۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء :402/8)
اجتماع کی صراحت کچھ ان الفاظ میں کی ہے۔
الله فوق عرشه كما أجمع عليه الصدر الأول، ونقله عنهم الأئمة.
’’اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر بلند ہے، جیسا کہ صدر اوّل کے مسلمانوں کا اس پر اجتماع تھا اور ائمہ کرام نے اس اجتماع کو نقل بھی کیا ہے۔‘‘
(العلو لعلي الغفّار، ص 596)
پھر عقیدہ اہل سنت کی بابت فرماتے ہیں:
إننا على أصل صحيح وعقد متين من أن الله تقدس اسمه لا مثل له، وأن إيماننا بما ثبت من نعوته كإيماننا بذاته المقدسة، إذ الصفات تابعة للموصوف، فنعقل وجود الباري ونمير ذاته المقدسة عن الأشباء من غير أن نتعقل الماهية، فكذلك القول في صفاته نؤمن بها ونعقل وجودها ونعلمها في الجملة من غير أن نتعفلها أو نشبهها أو نكيفها أو نميلها بصفات خلقه، تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا.
’’ہم اس صحیح دین اور مضبوط عقیدے پر قائم ہیں کہ کائنات میں اللہ کی کوئی مثال نہیں، نیز اللہ کی جو صفات (قرآن و حدیث سے) ثابت ہیں، ان پر ایمان لانا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا اس کی ذات مقدسہ پر ایمان لانا، کیونکہ صفات موصوف کے تابع ہوتی ہیں۔ چنانچہ جس طرح ہم بغیر کیفیت کو ذہن میں لائے ، باری تعالیٰ کے وجود اور ذات پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں، بعینہ یہی معاملہ اس کی صفات کے بارے میں ہے۔ ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے وجود کو بغیر کسی مخلوق سے تشبیہ دیے اور بغیر کیفیت بیان کیے اور بغیر مثال دیے تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تشبیہ و تمثیل سے بہت بلند ہے۔‘‘
(العلق للعلي الغفار، ص 13)
شیخ الاسلام ثانی ، علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمتہ اللہ (751ھ ) لکھتے ہیں:
أجمع المسلمون من الصحابة والتابعين أن الله على عرشه فوق سماواته ، بائن عن خلقه.
’’صحابہ وتابعین، یعنی مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق سے جدا، آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے۔‘‘
(مختصر الصواعق المرسلة، ص 418)
جہمیہ کا عقیدہ بیان کرتے ہیں:
قالت الجهمية: إن الله في كل مكان، وقال إخوانهم: ليس في العالم ولا خارج العالم، ولا متصلا به ولا منفصلا عنه، ولا مباينا له ولا محادثا له، ولا فوقه ولا خلفه، ولا أمامه ولا وراءه.
’’جہمیہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے، جبکہ ان کے بھائیوں (معطلہ) نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کائنات کے اندر ہے، نہ باہر، نہ کائنات سے متصل ہے، نہ جدا، نہ کائنات سے علیحدہ ہے، نہ اس سے جُڑا ہوا، نہ کائنات کے اوپر ہے، نہ نیچے، نہ آگے ہے اور نہ پیچھے ۔‘‘
(الصواعق المرسلة: 1192-1193)
فیصلہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
إنه لا يعلم آية من كتاب الله ولا نص صحيح عن رسول الله في باب أصول الدين اجتمعت الأمه على خلافه، وغاية ما ، يقدر اختلاف الأمة في القول بموجيه، ومن له خبرة بمذاهب الناس وأقوال السلف يعلم قطعا أن الأمة اجتمعت على القول به قبل ظهور المخالف، كما اجتمعت بأن الله مستو على عرشه فوق سماواته.
’’اصول دین کے بارے میں کتاب اللہ کی کوئی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں، جس کے خلاف پوری امت جمع ہو گئی ہو۔ ہاں، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ امت اس کے فہم میں مختلف ہو گئی ہو۔ جسے لوگوں کے مذاہب اور سلف کے اقوال کے بارے میں پختہ علم ہے، وہ یقینی طور پر جانتا ہے کہ اس نظریے کے مخالفین کے ظہور سے پہلے امت مسلمہ اس بات پر متفق تھی۔ اسی طرح امت مسلمہ اس بات پر بھی متفق تھی کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے ۔‘‘
(الصواعق المرسلة: 833)
ایک عقلی دلیل یوں دی ہے۔
إن كل من أقر بوجود رب العالم، مدير له، لزمه الإقرار بمباينة خلقه وعلوه عليهم.
’’جو کائنات کے رب اور مدبر کا اقراری ہے، اس پر اللہ کے مخلوق سے جدا اور بلند ہونے کا اقرار کرنا لازم ہو گا۔‘‘
(مختصر الصواعق المرسلة: 270/1)
اجماع کچھ ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
أجمع المسلمون من الصحابة والتابعين أن الله على عرشه فوق سماواته ، بائن من خلقه.
’’مسلمانوں یعنی صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور اپنی مخلوق سے جدا ہے۔‘‘
(مختصر الصواعق المرسلة: 418)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
الجهم بن صفوان الذي تنسب إليه الطائفة الجهمية الذين يقولون: إن الله في كل مكان بذاته ، تعالى الله عما يقولون علوا كبيرا.
’’جہم بن صفوان کی طرف جہمیہ فرقہ منسوب ہے، جو کہتے ہیں کہ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ ہے۔ اللہ ان لوگوں کی باتوں سے بہت بلند ہے۔‘‘
(البداية والنهاية: 199/13، هجر)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ (852ھ) ’’استوا علی العرش‘‘ کے بارے فرماتے ہیں:
كيف لا يوثق بما اتفق عليه أهل القرون الثلاثة، وهم خير القرون بشهادة صاحب الشريعة.
’’اس بات پر اعتماد کیوں نہ کیا جائے ، جس پر تینوں زمانوں والوں (صحابہ تابعین، تبع تابعین) نے اتفاق کیا ہے۔ صاحب شریعت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے گواہی دی ہے کہ یہ زمانے سب سے بہتر ہیں۔‘‘
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 408407/13)