سوال:
ایک شخص پر حج فرض ہے، باوجود استطاعت و قدرت ہونے کے خود حج نہیں کرتا، بلکہ کسی دوسرے کو اپنی طرف سے حج کرنے کے لیے بھیج دیتا ہے، کیا اس کا فریضہ ادا ہو جائے گا؟
جواب:
حج فرض ہو اور حج کرنے کی طاقت ہو، تو خود حج کرنا ضروری ہے، کسی دوسرے کو حج پر نہیں بھیج سکتے، البتہ اگر حج کرنے کی مالی استطاعت تو ہے، مگر ارکان حج ادا کرنے کی جسمانی استطاعت نہیں، تو کوئی ایسا شخص اس کی طرف سے حج کر سکتا ہے، جو اپنا فرض حج ادا کر چکا ہو۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن امرأة من خثعم سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم، زاد ابن خشرم وابن هاشم غداة النحر قالوا: والفضل رديفه فقالت: إن فريضة الله فى الحج على عباده أدركت أبى وهو شيخ كبير لا يستطيع أن يستمسك على الرحل فهل ترى أن يحج عنه قال: نعم
خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے (ابن خشرم اور ابن ہاشم کی روایت میں یوم النحر کی صبح کے الفاظ زائد ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، جب کہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ (سواری پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے، تو وہ میرے بوڑھے باپ پر بھی فرض ہو چکا ہے، لیکن وہ سواری پر صحیح طور پر نہیں بیٹھ سکتے، کیا اس کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے؟ فرمایا: جی ہاں!
(صحيح البخاري: 1513، صحیح مسلم: 1334، المنتقى لابن الجارود: 497)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن فلانا الجهني سأل النبى صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أبى شيخ كبير مات ولم يحج أو قال: لا يستطيع الحج، قال: فحج عنه
جہینہ قبیلے کے فلاں آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرا بوڑھا باپ حج کیے بغیر فوت ہو گیا ہے، یا یوں کہا کہ حج کی استطاعت نہیں رکھتا، (کیا اس کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے آپ حج کر لیں۔
(صحیح مسلم: 1325، مختصراً، مسند الإمام أحمد: 1/244-279، المنتقى لابن الجارود: 498)
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا أن من عليه حجة الإسلام، وهو قادر لا يجزئ إلا أن يحج بنفسه، ولا يجزئ أن يحج عنه غيره
اہل علم کا اجماع ہے کہ جس پر حج فرض ہو اور وہ حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو اس کے لیے خود حج کرنا ضروری ہے، اگر کوئی دوسرا اس کی طرف سے حج کرے تو اس کا فرض ادا نہ ہوگا۔
(الإجماع، ص 77)