مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اذان کے وقت کانوں میں انگلیاں رکھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

اذان کہتے وقت کانوں میں اُنگلیاں رکھی جاتی ہیں کیا ہاتھ کھلے چھوڑ کر بھی اذان کہی جا سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب

وہ روایت جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال رضی اللہ عنہ کو کانوں میں اُنگلیاں رکھنے کا حکم و امر کا ذکر ہے ضعیف ہے البتہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی راویت :
رَأَيْتُ بِلَا لًا يُوْذِّنُ وَيَدُوْرُ ، وَيُتْبِعُ فَاهُ هٰهُنَا وَهٰهُنَا وَ اِصبَعَاهُ فِي أُذُنَيْه وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم فِيْ قُبَّة لَّه حَمْرَآء حدیث صحیح ہے ۔ مسند احمد اور ترمذی میں موجود ہے۔
میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اذان کہتے اور پھرتے اور اپنے منہ کو دائیں اور بائیں موڑتے اور آپ کی اُنگلیاں آپ کے کانوں میں تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرخ خیمہ میں تھے۔ (جامع الترمذي،ابواب الصلاة،باب ما جاء فی ادخال الاصبع الأذن عند الأذان)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔