مضمون کے اہم نکات
اذان و اقامت کا بیان
❀ اذان اسلام کا شعار اور مسلمانوں کی علامت ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملہ کرنا چاہتے تو صبح ہونے تک حملہ نہ کرتے، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے (کہ وہاں مسلمان ہیں، شب خون مارنے پر ان کا نقصان ہو گا) اور اگر اذان نہ سنتے تو صبح ہوتے ہی حملہ کر دیتے۔
[بخاری، کتاب الجهاد، باب دعاء النبي صلى الله عليه وسلم إلى الإسلام الخ: 2943]
❀ جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کسی شخص کو اذان کہنی چاہیے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب من قال ليؤذن الخ: 628 – مسلم: 4674]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے، وہاں تک جہاں اسے اذان سنائی نہ دے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل التأذين: 608 – مسلم: 389/9]
مؤذن کی فضیلت:
ارشاد باری تعالی ہے:
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ
(حم السجدة: 33)
اس شخص سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلاتا ہے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المؤذنون أطول أعناقا يوم القيامة
قیامت کے دن سب سے لمبی گردنیں مؤذنوں کی ہوں گی (یعنی وہ مرتبے میں سب سے اونچے ہوں گے)۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل الأذان وهرب الشيطان عند سماعه: 387]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور صف اول میں کیا اجر ہے، پھر ان کے لیے قرعہ اندازی کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہتا تو وہ ضرور اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الاستهام في الأذان: 615 – مسلم: 437]
❀ اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے:
المؤذن يغفر له بمد صوته ويصدقه من سمعه من رطب ويابس، وله مثل أجر من صلى معه
مؤذن کو بلند آواز سے اذان کہنے کی وجہ سے بخش دیا جاتا ہے اور جو بھی تر یا خشک چیز اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرے گی (یعنی گواہی دے گی) اور اس کے لیے ان لوگوں (کے ثواب) کے برابر ثواب ہے جو اس کی اذان پر نماز کے لیے آتے ہیں۔
[نسائی، کتاب الأذان، باب رفع الصوت بالأذان: 647 – صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا: امام ضامن اور ذمہ دار ہے اور مؤذن امین اور قابل اعتماد ہے۔ اے اللہ! اماموں کو (صحیح علم و عمل کی) ہدایت دے اور مؤذنوں کی بخشش فرما۔
[أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يجب على المؤذن من تعاهد الوقت: 517 – ترمذی: 207 – صحیح]
اور مؤذن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کا رب بکریوں کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عز و جل فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، مجھ سے ڈر کر اذان کہہ رہا اور نماز پڑھ رہا ہے، میں نے اسے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔
[نسائی، کتاب الأذان، باب الأذان لمن يصلى وحده: 667 – أبو داؤد: 1203 – صحیح]
اذان کہنے کے آداب:
❀ نماز اور طواف کے علاوہ کسی کام کے لیے وضو شرط نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
[أبو داؤد، کتاب الأطعمة، باب في غسل اليدين عند الطعام: 3760 – ترمذی: 1847 – نسائی: 132 – صحیح]
❀ اذان کے لیے وضو والی حدیث ضعیف ہے۔ [إرواء الغليل: 222]
❀ تاہم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے اذان کہنے سے پہلے وضو کیا۔
[أبو داؤد، کتاب الخراج، باب في الإمام يقبل هدايا المشركين: 3055 – ابن حبان: 6351 – إسناده حسن لذاته]
❀ اذان کھڑے ہو کر کہنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے بلال! کھڑا ہو اور نماز کے لیے اذان کہہ۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب بدء الأذان: 604 – مسلم: 377]
❀ قبلہ رخ ہونا۔
(مسند السراج، ح: 61 – إسناده صحیح قاله الشيخ المحدث الثقة أبو البدر إرشاد الحق الأثري حفظه الله)
نیز آج تک امت کا عمل بھی اسی پر ہے۔
❀ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے ہوئے انگلیاں کانوں میں رکھتے تھے۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في إدخال الأصبع في الأذن عند الأذان: 197 – ابن ماجه: 711 – صحیح]
❀ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان میں حي على الصلاة کہتے ہوئے اپنا چہرہ دائیں طرف اور حي على الفلاح کہتے ہوئے بائیں سمت پھیرتے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب هل يتتبع المؤذن فاه الخ: 634 – مسلم: 503]
❀ اذان اس آدمی کو کہنی چاہیے جس کی آواز اچھی و خوبصورت ہو۔ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آواز پسند آئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اذان سکھائی۔
[ابن خزيمة: 195/1، ح: 377]
❀ اذان بلند آواز سے کہنی چاہیے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: جب تو نماز کے لیے اذان کہے تو بلند آواز سے کہہ۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب رفع الصوت بالنداء: 609]
❀ سپیکر نہ ہو تو بلند جگہ پر اذان کہنی چاہیے۔ ایک صحابیہ فرماتی ہیں: میرا مکان مسجد کے ارد گرد تمام مکانوں سے بلند تھا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس پر چڑھ کر اذان کہتے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الأذان فوق المنارة: 519 – حسن]
❀ مؤذن اگر اذان میں غلطی کر رہا ہو تو اس کی اصلاح کر دینی چاہیے۔ عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بارش والے دن خطبہ دیا، جب مؤذن حي على الصلاة پر پہنچا تو انھوں نے فرمایا: اب یہ کہہ الصلاة فى الرحال (نماز گھروں ہی میں پڑھ لو)۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الكلام في الأذان: 616 – مسلم: 699/27]
❀ غلط وقت پر اذان ہو جائے تو اعلان کر کے لوگوں کو بتانا چاہیے۔ ایک دن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہہ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ جا کر اعلان کر دو کہ بندہ سو گیا تھا (یعنی نیند کی وجہ سے غلطی ہو گئی)۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في الأذان قبل دخول الوقت: 532 – صحیح]
❀ اذان کہنے پر اجرت لینے میں اختلاف ہے، کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت پر مؤذن رکھنے سے منع کیا اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان دینے پر ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی۔ امام شوکانی نے نیل الاوطار میں ان دونوں احادیث میں یہ تطبیق دی ہے کہ اجرت حرام اس وقت ہے جب مشروط ہو، اگر مشروط نہیں تو جائز ہے۔
❀ منع والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
واتخذوا مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا
ایسا مؤذن مقرر کرو جو اذان کہنے کی اجرت نہ لے۔
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب أخذ الأجر على التأذين: 531 – ترمذی: 209 – نسائی: 673 – ابن ماجه: 714 – صحیح]
❀ اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور میں نے اذان کہی، جب میں نے اذان مکمل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی کی کوئی چیز تھی۔
[نسائی، کتاب الأذان، باب كيف الأذان: 633 – مسند أحمد: 409/3، ح: 15386 – حسن]
اذان سے پہلے خود ساختہ درود:
اذان سے پہلے بعض لوگ خود ساختہ درود الصلاة والسلام عليك يا رسول الله وغیرہ پڑھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ کے عہد تک کسی بھی وقت میں ایسے الفاظ کا ثبوت نہیں ملتا۔ شیخ محمد بن عبدہ رحمتہ اللہ علیہ (مفتی مصر) سے یہی سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: اذان کے کلمات پندرہ ہیں، جس کے آخر میں لا إله إلا الله ہے، اس سے پہلے اور بعد میں جو کلمات کہے جاتے ہیں سب نو ایجاد و بدعت ہیں۔
[بدعات اور ان کا شرعی پوسٹمارٹم: 364]
اذان کے کلمات:
❀ اذان کے کلمات مندرجہ ذیل ہیں:
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان: 499 – ابن ماجه: 706 – صحیح]
❀ فجر کی اذان میں حي على الفلاح کے بعد یہ الفاظ بھی کہے جائیں:
الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان: 500 – صحیح]
اقامت کے کلمات:
اقامت کے کلمات مندرجہ ذیل ہیں:
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ
[أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان: 499 – ابن ماجه: 706 – صحیح]
❀ اقامت میں حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہتے ہوئے دائیں اور بائیں گردن گھمانا ثابت نہیں۔
ترجیع والی اذان:
❀ ترجیع سے مراد یہ ہے کہ اذان میں شہادتین والے کلمات چار مرتبہ کہے جائیں، پہلی مرتبہ آہستہ آواز میں کہے:
أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ)
أشهد أن محمدا رسول الله (دو مرتبہ)
پھر دوسری بار بلند آواز میں کہے:
أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ)
أشهد أن محمدا رسول الله (دو مرتبہ)
باقی الفاظ عام اذان والے ہیں۔
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان: 502 – نسائی: 632 – صحیح]
ترجیع والی اقامت:
❀ ترجیع والی اقامت میں مندرجہ ذیل کلمات ہیں:
اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّهِ، حَيَّ عَلَى ٱلصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى ٱلصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى ٱلْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى ٱلْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ ٱلصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ ٱلصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب كيف الأذان: 502 – نسائی: 632 – صحیح]
❀ بعض لوگوں نے ترجیع والی اذان کا انکار کیا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ترجیع والی اقامت کا نہ صرف اقرار کیا بلکہ اسے لازم سمجھا ہے اور بغیر ترجیع والی اقامت کا انکار کر دیا ہے۔ یعنی ترجیع والی اذان کا انکار کر دیا اور بغیر ترجیع والی اقامت کا انکار کر دیا۔ حالانکہ ترجیع والی اذان اور اقامت بھی ثابت ہے اور بغیر ترجیع والی اذان و اقامت بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان اطہر سے خود سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان و اقامت سکھائی۔
ترجیع والی اذان کو رد کرنے کے لیے کئی طرح کے عذر تراشے گئے، مثلاً ایک نے کہا اہل مکہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو شہادتین دو دفعہ کہنے کا حکم دیا تاکہ اہل مکہ کے دلوں میں توحید و رسالت پختہ ہو جائے۔
دوسرے نے کہا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نئے مسلمان ہوئے تھے، ان کے دل میں توحید و رسالت پختہ کرنے کے لیے یہ کلمات دو دو بار کہنے کا حکم دیا گیا اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے غلطی سے انھیں ہمیشہ اذان کا حصہ بنا لیا۔ (نعوذ بالله من ذلك)
تیسرے نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان سکھا رہے تھے تو انھوں نے اپنے خاندان سے ڈر کر آہستہ آواز میں پڑھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈرو نہیں اور بلند آواز سے دوبارہ یہ کلمات پڑھنے کا حکم دیا اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے غلطی سے دوسری مرتبہ والے کلمات کو بھی اذان کا حصہ سمجھ لیا۔
اگر شہادتین دو دفعہ پڑھانے کا مقصد ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کا یا اہل مکہ کا ایمان پختہ کرنا تھا تو ایک مخصوص وقت کے لیے ہونا چاہیے تھا، بعد میں چھوڑنے کا حکم دیا جاتا، لیکن یہ کہیں ثابت نہیں، بلکہ اس کے برعکس منقول ہے کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آخر عمر تک یہی اذان کہتے رہے۔
[أسد الغابة: 273/6، ت: 6229]
اگر سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے غلطی سے ان کلمات کو اذان کا حصہ بنایا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصحیح کیوں نہ کی؟ اگر بالفرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم نہ ہو سکا تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیتا، لیکن نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، نہ اللہ نے اس سے روکا اور نہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اس کی اصلاح کی اور سب کی موجودگی میں اللہ کے گھر اور اسلام کے مرکز میں سالہا سال تک اذان غلط ہوتی رہی؟ معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ غلط اور مسلک کے تحفظ کے لیے ایک عذر لنگ کے سوا کچھ نہیں۔
اگر ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان غلط تھی تو ان کی اقامت کیوں تسلیم کر لی گئی؟ اگر ان کی اقامت درست ہے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اقامت کا انکار کس بنیاد پر کیا گیا؟ اس میں کیا خامی تھی؟ ایک عام فہم آدمی بھی ایسی نرالی فقہ نہیں مان سکتا کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان لی جائے اور اقامت کا انکار کیا جائے اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اقامت مان لی جائے اور اذان کا انکار کر دیا جائے اور کسی ایک بھی حدیث پر مکمل عمل نہ کیا جائے۔
دونوں اذانیں اور دونوں اقامتیں صحیح ہیں، کسی ایک کا بھی انکار درست نہیں۔ اسی طرح یہ بھی یاد رہے کہ جو اذان کہی جائے اسی کے ساتھ والی اقامت کہی جائے۔ مثلاً اگر اذان سیدنا بلال رضی اللہ عنہ والی کہی ہے تو اقامت بھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ والی کہنی چاہیے۔ اگر اذان سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ والی کہی ہے تو اقامت بھی انھی والی کہی جائے، یعنی جس حدیث پر بھی عمل کریں، مکمل عمل کریں۔
سفر میں اذان و اقامت:
❀ سفر میں اذان، اقامت اور جماعت ایسے ہی ضروری ہے جیسے حضر میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر پر جانے والے دو آدمیوں سے فرمایا:
جب تم سفر پر نکلو تو راستے میں اذان کہنا، پھر اقامت کہنا، پھر تم میں سے جو بڑا ہے وہ جماعت کرائے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافر الخ: 630 – مسلم: 674/293]
❀ سفر میں سواری پر بیٹھ کر اذان کہنا جائز ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں سواری پر اذان کہتے اور نیچے اتر کر نماز ادا کرتے۔
[إرواء الغليل: 226 – حسن]
اکیلے آدمی کے لیے اذان و اقامت:
❀ اکیلے آدمی کو با جماعت نماز پڑھنے کے لیے اذان و اقامت کہنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آپ کا رب بکریوں کے اس چرواہے سے بہت خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ اذان کہتا ہے اور نماز کے لیے اقامت کہتا ہے، وہ مجھ سے ڈرتا ہے، یقیناً میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔
[نسائی، کتاب الأذان، باب الأذان لمن يصلى وحده: 667 – أبو داود: 1203 – صحیح]
نمازیں جمع کرنے کی صورت میں اذان و اقامت:
❀ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کے حوالے سے فرماتے ہیں: پھر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، صحابی نے پھر اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔
[مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي صلى الله عليه وسلم: 2950]
یعنی اذان سب نمازوں کے لیے ایک، جبکہ اقامت ہر نماز کے لیے الگ الگ۔
دوسری جماعت کے لیے اذان و اقامت:
❀ ایک جگہ جماعت ہو چکی، کچھ لوگ دوسری جماعت کرانا چاہتے ہیں تو انھیں اذان و اقامت کہنی چاہیے، بخاری میں حدیث ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے، جماعت ہو چکی تھی، تو انھوں نے اذان اور اقامت کہی اور جماعت کروائی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، تعليقاً قبل الحديث: 645 – وصله أبو يعلى في مسنده: 468/3 ح: 4338]
❀ دوسری جماعت اذان کے بغیر بھی جائز ہے۔
[شرح معانی الآثار: 392/1]
❀ دوسری جماعت والوں کو اقامت ضرور کہنی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جماعت کے ساتھ اقامت کہلواتے تھے۔
❀ اگر ایک آدمی نے تنہا نماز شروع کی، لیکن بعد میں ایک اور آدمی جماعت کی نیت سے ساتھ مل گیا اور انھوں نے باجماعت نماز شروع کر دی تو انھیں اذان و اقامت کی ضرورت نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تنہا نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کون (اس کے ساتھ نماز پڑھ کر) اس پر صدقہ کرے گا؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھی (بغیر اذان و اقامت کے)۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الجماعة الخ: 220 – أبو داود: 574 – صحیح]
قضا نمازوں کے لیے اذان و اقامت:
❀ نماز قضا ہو جائے تو بھی جماعت کروانے کے لیے اذان اور اقامت کہنی چاہیے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی صبح کے وقت بیدار نہ ہو سکا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اٹھ اور نماز کے لیے اذان کہہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر جب سورج بلند ہو کر چمکنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب الأذان بعد ذهاب الوقت: 595 – مسلم: 681]
فجر سے قبل رات کو اذان:
❀ رات کے وقت فجر سے قبل اذان کہنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کی اذان تمھیں سحری کھانے سے روک نہ دے، کیونکہ وہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں، تاکہ جو نمازی نماز پڑھ رہے ہیں وہ رک جائیں اور جو لوگ سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہو جائیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الأذان قبل الفجر: 621 – مسلم: 1093]
❀ رات اور فجر کی اذان میں کوئی زیادہ وقفہ نہیں ہوتا تھا، مسلم میں راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا کہ ایک اذان دے کر نیچے اتر رہا ہے اور دوسرا اذان دینے کے لیے اوپر چڑھ رہا ہے۔
[مسلم، کتاب الصيام، باب بيان أن الدخول في الصوم الخ: 1092/38]
❀ اذان و اقامت صرف فرض نماز کے لیے ہے، نفل کے لیے نہیں۔
❀ کسی آفت کے وقت اذان کہنا جائز نہیں ہے۔
اذان و اقامت کے الفاظ میں کمی بیشی کرنا:
اذان و اقامت کے الفاظ میں کمی بیشی یا تبدیلی کرنا بدعت ہے۔ جناب مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں: میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی نے ظہر یا عصر کی اذان میں تحویب کی (یعنی بعد میں الصلاة خير من النوم وغیرہ کہا) تو وہ فرمانے لگے: مجھے یہاں سے لے چلو، بلاشبہ یہ بدعت ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في التثويب: 538 – حسن]
اذان و اقامت کب کہنی چاہیے؟
❀ اذان اول وقت ہی میں کہنی چاہیے، بلاوجہ دیر نہیں کرنی چاہیے، لیکن اقامت امام کے آنے پر کہنی چاہیے۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے لیٹ نہیں کرتے تھے لیکن اقامت میں کبھی کبھار تھوڑی بہت تاخیر کر لیتے تھے۔
[ابن ماجه، کتاب الأذان، باب السنة في الأذان: 713 – حسن]
❀ اور مسلم میں حدیث ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ زوال کے وقت اذان کہہ دیتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے سے پہلے نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آتا دیکھتے تو اقامت کہتے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب متى يقوم الناس للصلاة: 4606]
اذان و اقامت کے درمیان وقفہ:
مذکورہ بالا دونوں احادیث سے پتا چلتا ہے کہ اذان و اقامت میں وقفہ ہونا چاہیے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بين كل أذانين صلاة ثلاثا لمن شاء
[بخاری، کتاب الأذان، باب كم بين الأذان الخ: 624]
اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: جو چاہتا ہے پڑھے۔
اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ اذان اور اقامت میں کچھ وقفہ ہونا چاہیے۔ یہ کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی، جیسا کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دیکھتے کہ لوگ جلدی آ گئے ہیں تو جماعت جلدی کرا دیتے اور جب دیکھتے کہ لوگوں نے تاخیر کر دی ہے تو جماعت میں تاخیر کر دیتے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب وقت المغرب: 560 – مسلم: 646]
کیا اقامت اور جماعت کے درمیان وقفہ جائز ہے؟
❀ اقامت اور جماعت کے درمیان کسی وجہ سے کچھ وقفہ ہو جائے، یا کوئی بات کر لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور صفیں درست ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنے مصلیٰ پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آیا کہ میں جنبی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ تم اپنی جگہ رکے رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے گھر چلے گئے اور پھر ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب هل يخرج من المسجد لعلة؟: 639 – مسلم: 4605]
❀ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت اور جماعت کے درمیان طویل وقفہ بھی ہو جائے تو دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت نہیں۔
اقامت کون کہے؟
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن ہی اقامت کہتا تھا، اس لیے مؤذن ہی کو اقامت کہنی چاہیے۔
❀ لیکن ایک شخص اذان کہے اور دوسرا اقامت، تو یہ جائز ہے، کیونکہ ایسا کرنا کسی صحیح حدیث سے ممنوع نہیں ہے۔
اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنا:
❀ اذان ہو جانے کے بعد بغیر شرعی عذر مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے: اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب النهي عن الخروج الخ: 655]
❀ اگر کوئی شرعی عذر ہے تو اذان بلکہ اقامت کے بعد بھی مسجد سے نکلا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اقامت ہونے کے بعد یاد آیا کہ وہ جنبی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً مسجد سے نکل گئے، غسل کیا، پھر آ کر نماز پڑھائی۔
[بخاری: 639 – مسلم: 605]
اذان کا جواب دینے کی فضیلت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص نے خلوص دل سے اذان کا جواب دیا وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن الخ: 1385]
اذان کا جواب دینے کا طریقہ:
❀ مؤذن کے ساتھ ساتھ اذان کے کلمات کا جواب دینا چاہیے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن : 385]
❀ اذان کے جواب میں وہی کلمات دہرانے چاہییں جو مؤذن کہہ رہا ہے، سوائے حي على الصلاة اور حي على الفلاح کے۔ جب مؤذن یہ کلمات کہے تو سننے والے کو پڑھنا چاہیے:
لا حول ولا قوة إلا بالله
[بخاری، کتاب الأذان، باب ما يقول إذا سمع المنادى: 611 – مسلم: 383]
أشهد أن محمدا رسول الله کے جواب میں بھی یہی کلمات دہراتے ہیں اور ان کلمات کے جواب میں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا بدعت ہے، کیونکہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مؤذن کے شہادتین کے کلمات ادا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے، اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے:
وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا
[صحیح ابن خزيمة: 220/1، ح: 422 – مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن الخ: 386]
اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوں اللہ کے رب ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔
الصلاة خير من النوم کے جواب میں یہی کلمات کہنے چاہییں صدقت وبررت وبالحق نطقت کہنا ثابت نہیں۔
❀ اقامت کا جواب دینا اگرچہ کسی صحیح و صریح حدیث سے ثابت نہیں ہے، لیکن اقامت کو بھی اذان کہا گیا ہے، اس لیے عموم سے استدلال کرتے ہوئے اگر کوئی اقامت کا جواب دے لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (والله اعلم)
❀ اقامت میں قد قامت الصلاة کے جواب میں أقام الله وأدامها کہنا جائز نہیں، کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے، قابل اعتماد نہیں۔
[احکام و مسائل از مولانا مبشر احمد ربانی: 142]
❀ اقامت ختم ہونے پر آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حق لا إله إلا الله پڑھنا بدعت ہے، یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
اذان کے بعد کی دعائیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول، ثم صلوا علي، فإنه من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا، ثم سلوا الله لي الوسيلة، فمن سأل لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة
جب تم مؤذن کی اذان سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو، جس نے مجھ پر درود پڑھا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا، پھر میرے لیے اللہ سے مقام وسیلہ کا سوال کرو کیونکہ جس نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گی۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه الخ: 1384]
❀ لہذا اذان کا جواب دینے کے بعد درود شریف پڑھیں، کیونکہ جو درود ابراہیمی پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر یہ دعائے وسیلہ پڑھیں:
اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ
اے اللہ! اس کامل دعوت اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انھیں مقام محمود پر فائز فرما، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء عند النداء: 614 – السنن الكبرى للبيهقي: 410/1، ح: 1933 – إسناده صحیح]
اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنا:
❀ اذان اور اقامت کے درمیان زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يرد الدعاء بين الأذان والإقامة
اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی۔
[أبو داود، کتاب الصلاة، باب في الدعاء بين الأذان والإقامة: 521 – ترمذی: 212 – صحیح]