اذان میں حي على الفلاح کے بعد حي على خير العمل کہنا کیسا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اذان میں حي على الفلاح کے بعد حي على خير العمل کہنا کیسا ہے؟

جواب:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کبھی کبھار حَحي على الفلاح کے بعد حي على خير العمل کے الفاظ کہہ دیتے تھے۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 424/1، وسنده صحيح)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کلمات کو کبھی کبھار بطور تقرب ادا کر لیتے تھے، شعار نہیں بناتے تھے، نہ ہی انہیں اصل اذان کا مستقل جزو سمجھتے تھے۔ ان کلمات کو بطور شعار ادا کرنا عہد نبوی اور اسلاف امت کے زمانے میں نہیں ملتا۔
❀ امام زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
كان يقول فى أذانه إذا قال: حي على الفلاح قال: حي على خير العمل ويقول: هو الأذان الأول
”آپ رحمہ اللہ اذان میں حي على الفلاح كے بعد حي على خير العمل کے الفاظ کہتے تھے۔ نیز فرماتے تھے کہ یہ پہلی اذان ہے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 425/1، وسنده صحيح)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذه اللفظة لم تثبت عن النبى صلى الله عليه وسلم فيما علم بلالا وأبا محذورة ونحن نكره الزيادة فيه
”یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس اذان میں ثابت نہیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال اور سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہما کو سکھائی تھی۔ ہم اذان کے کلمات میں زیادتی کو مکروہ سمجھتے ہیں۔“
(السنن الكبرى: 425/1)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد صارت سمة وشعارا للإمامية
”اذان میں یہ الفاظ اب امامیہ (روافض) کی نشانی اور شعار بن چکے ہیں۔“
(المهذب في اختصار السنن الكبير: 419/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️