مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

اذان فجر کے بعد نفل نماز پڑھنے کا حکم اور علماء کی آراء

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 373

سوال

اذانِ صبح کے بعد تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد کے نوافل ادا کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اذانِ صبح کے بعد صرف فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی نفل جائز نہیں۔

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!

اس مسئلہ میں سلفِ صالحین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ امام ابن منذر اور دیگر اہلِ علم نے بھی ذکر کیا ہے۔

◈ اذانِ فجر کے بعد وتر کی نماز پڑھنا جائز ہے۔
◈ امام محمد بن نصر مروزیؒ نے اس مسئلہ پر تفصیلی گفتگو کی ہے (قیام اللیل)۔
◈ تاہم مذہب یہی ہے کہ فجر کی اذان کے بعد صرف فجر کی دو سنتیں پڑھنا درست ہیں، اس کے علاوہ تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء اور دیگر نفل نمازیں جائز نہیں۔

حدیث کی دلیل

تحفة الاحوذی شرح ترمذی (ص 321، ج1) میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

أن رسول اللہﷺ قال لا صلوة بعد الفجر إلا رکعتین

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: پو پھٹنے کے بعد سوائے دو سنتوں کے کوئی نفل نہیں ہے۔‘‘

علماء کی آراء

◈ حضرت امام عبدالرحمٰن مبارکپوریؒ لکھتے ہیں:

قلت الراجح عندی ھو قول من قال بالکراهة له لان احادیث الباب عليه صراحة۔

یعنی میرے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ طلوعِ فجر کے بعد دو سنتوں کے علاوہ کوئی اور نماز پڑھنا مکروہ ہے، کیونکہ اس بارے میں احادیث صراحتاً دلالت کر رہی ہیں۔

◈ حضرت حافظ عبداللہ صاحب روپڑی رحمہ اللہ نے بھی فجر کے بعد تحیۃ المسجد وغیرہ نفل نماز کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (رواہ الخمسة الا النسائی، نیل الاوطار: ج2، ص67)

◈ راقم کا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے۔

البتہ بعض اہلِ علم کے نزدیک ایسے نوافل پڑھے جا سکتے ہیں۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔