اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کتنا ہونا چاہیے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 320

سوال

اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
احادیث مبارکہ میں اذان اور اقامت کے درمیانی وقفہ کی کوئی مخصوص یا معین مقدار ذکر نہیں کی گئی۔

حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((بَیْنَ کُلِّ أَذَانَینِ صلوة)) (رواہ الجماعة، نیل الاوطار: ج۲ص۷۷)

’’ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے۔‘‘

آپﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

اسی طرح جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

((کان بلال یؤذن ثم یَمْھَلُ فَإِذَا رَأَی النبیﷺ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصلوة)) (عون المعبود: ج۱ص۲۱۱)

’’حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان کے بعد کچھ دیر ٹھہر جایا کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہیں کہتے تھے جب تک رسول اللہﷺ کو حجرہ سے باہر آتے نہ دیکھ لیتے، اور جب آپﷺ کو دیکھ لیتے تو اقامت کہہ دیتے۔‘‘

ان دونوں صحیح احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ نمازی وضو اور طہارت وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز کے لیے تیار ہو جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب