اختلاف مطالع
❀ « عن كريب، ان ام الفضل بنت الحارث رضي الله عنها بعثته إلى معاوية بالشام، قال: فقدمت الشام فقضيت حاجتها، واستهل على رمضان وانا بالشام، فرايت الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة فى آخر الشهر، فسالني عبد الله بن عباس رضي الله عنهما، ثم ذكر الهلال، فقال: ” متى رايتم الهلال؟ "، فقلت: ” رايناه ليلة الجمعة "، فقال: ” انت رايته؟ "، فقلت: ” نعم ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية "، فقال: ” لكنا رايناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين او نراه "، فقلت: ” او لا تكتفي برؤية معاوية رضى الله عنه وصيامه ؟ فقال: ” لا هكذا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم. »
حضرت کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں حضرت معاویه رضی اللہ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا، فرماتے ہیں کہ میں شام پہنچا تو میں نے حضرت ام فضل رضی اللہ عنہ کا کام پورا کیا، اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہو گیا، اور میں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا، تو فرمایا: تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، اور دیگر لوگوں نے بھی دیکھا، اور انہوں نے روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے تو سنیچر کی رات کو دیکھا، اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے، تو میں نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے“۔ [صحيح مسلم 1087]
نوٹ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے گا، اور جس علاقے میں جس وقت چاند نظر آئے گا اسی کا اعتبار ہوگا۔