اختلاف دین اور قاتل کی وجہ سے وراثت کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، وراثت کے مسائل:جلد 02: صفحہ 241
مضمون کے اہم نکات

اختلافِ دین کی بنا پر وراثت

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اختلافِ دین سے مراد یہ ہے کہ مورث اور وارث دونوں الگ الگ دین اور ملت کے پیروکار ہوں۔ اس عنوان کے تحت دو مسئلے نہایت اہم ہیں۔

① کافر کو مسلمان کا اور مسلمان کو کافر کا وارث بنانا

اس مسئلے میں علماء کے چار مختلف اقوال ہیں:

✔ 1۔ مسلمان اور کافر دونوں ایک دوسرے کے مطلقاً وارث نہیں بن سکتے۔ یہ اکثر اہلِ علم کا قول ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

” لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ "
"مسلمان کافر شخص کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں۔” [صحیح البخاری الفرائض باب ولا یرث المسلم الکافر المسلم حدیث 6764۔ وصحیح مسلم الفرائض باب یرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم حدیث1614]

✔ 2۔ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے، البتہ "ولاء” کی صورت میں وارث ہوں گے، یعنی آزاد کرنے والے کو آزاد کردہ کی ولاء، یعنی مالِ ترکہ، ملے گا اگرچہ ایک فریق کافر ہی کیوں نہ ہو۔ حدیثِ شریف میں ہے:

"لا يرث المسلم النصراني؛ إلا أن يكون عبده أو أمته”
"مسلمان نصرانی کا وارث نہ ہو گا الایہ کہ وہ (آزاد کردہ) اس کا غلام یا لونڈی ہو۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی 4/41۔ حدیث 4036۔ اور فرمایا کہ موقوف محفوظ ہے۔ ارواء الغلیل 6/155۔ حدیث 1715]

اس حدیثِ شریف سے معلوم ہوا کہ "ولاء” کی صورت میں معتِق اپنے آزاد کردہ کا وارث ہوگا، چاہے دونوں کا دین مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

✔ 3۔ اگر کوئی کافر رشتے دار کسی مسلمان کی وفات کے بعد، لیکن اس کے ترکہ کی تقسیم سے پہلے پہلے مسلمان ہو جائے، تو وہ وارث ہوگا۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

"كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ لَهُ وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الإِسْلاَمُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الإِسْلاَمِ "
"جو تقسیم جاہلیت میں ہوچکی اسے برقرار رکھا جائے گا، اور جو تقسیم زمانۂ اسلام میں ہوگی وہ اسلام کے قوانین کے مطابق ہوگی۔” [سنن ابو داود الفرائض باب فیمن مسلم علی میراث حدیث:2014۔ اس مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے "تفہیم الموارث”(صارم)]

✔ 4۔ مسلمان کافر کا وارث ہوگا، لیکن کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوگا، کیونکہ حدیث میں ہے:

"الإسلام يزيد ولا ينقص”
"اسلام بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔” [(ضعیف) سنن ابو داؤد الفرائض باب ھل یرث المسلم الکافر حدیث 2912]

لہٰذا اگر مسلمان کو کافر کا ترکہ ملے تو اس میں فائدہ ہے اور حدیث کا تقاضا بھی پورا ہوتا ہے، جبکہ حصہ نہ ملنے میں نقصان ہے۔

ان مذکورہ اقوال میں سے پہلا قول راجح ہے، کیونکہ دوسرے اقوال کے مقابلے میں اس کی دلیل صحیح اور صریح ہے [قول اول کی طرح قول ثانی بھی قابل عمل ہے کیونکہ اس کا تعلق خاص ترکہ یعنی "ولاء”سے ہے چنانچہ قول ثانی میں پیش کردہ روایت سے جس طرح قول اول کی تائید ہوتی ہے اسی طرح سے قول ثانی کی صحت بھی ثابت ہوتی ہے۔ الغرض روایت لایرث المسلم دونوں اقوال کی مؤید ہے۔(صارم)]۔

② کافر شخص کو کافر کا وارث بنانا

اس مسئلے کی دو حالتیں ہیں:

✔ 1۔ مورث اور وارث ایک ہی مذہب پر ہوں، مثلاً: دونوں یہودی ہوں یا دونوں عیسائی ہوں۔ اس حالت میں وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، اور اس میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔

✔ 2۔ مورث اور وارث دونوں کا مذہب الگ الگ ہو، مثلاً: ایک یہودی ہو اور دوسرا عیسائی، یا اس کے برعکس، یا ایک مجوسی ہو اور دوسرا بت پرست، یا اس کے برعکس۔ اس حالت میں حقِ میراث کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے۔

اس اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا کفر کو ایک ہی ملت قرار دیا جائے یا مختلف مذاہب کو الگ الگ حیثیت دی جائے۔ اس بارے میں ائمہ کے درج ذیل اقوال ہیں:

❀ ① کفر ایک ہی ملت ہے، خواہ وہ یہودیت ہو، نصرانیت ہو، مجوسیت ہو یا بت پرستی، لہٰذا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، بشرطیکہ وہ ایک ہی ملک میں رہتے ہوں [یہ شرط محل نظر ہے]، کیونکہ اس بارے میں وارد شرعی نصوص میں عموم ہے، اور بغیر کسی مخصص کے اس عموم کی تخصیص جائز نہیں، الا یہ کہ جسے خود شارع نے مستثنیٰ کر دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَالَّذينَ كَفَروا بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ …﴿٧٣﴾… سورةالانفال
"کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔” [الانفال:8/73]

احناف اور شوافع کا یہی قول ہے، اور حنابلہ سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے۔

❀ ② کفر کی تین مختلف ملتیں ہیں: یہودیت، نصرانیت، اور باقی دوسرے کفریہ مذاہب تیسری ملت ہیں، کیونکہ پہلی دو قسمیں اہلِ کتاب کی ہیں جبکہ تیسری قسم کے پاس کوئی کتابِ الٰہی نہیں۔ لہٰذا یہودی نصرانی کا، یا ان میں سے کوئی ایک مجوسی یا بت پرست کا وارث نہیں ہوگا۔

❀ ③ کفر کی متعدد ملتیں ہیں، اور ایک ملت والا دوسری ملت والے کا وارث نہیں ہوگا۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

” لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى "
"دو مختلف ملتوں والے باہم وارث نہیں ہوں گے۔” [سنن ابو داؤد الفرائض باب ھل یرث المسلم الکافر ؟حدیث 2911۔ وجامع الترمذی الفرائض باب لا یتوارث اھل الملتین حدیث 2108 وسنن ابن ماجہ الفرائض باب میراث اھل الاسلام من اھل الشرک حدیث 2731 ومسند احمد2/178۔195]

آخری قول راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کی تائید میں پیش کردہ روایت محلِ نزاع میں نصِ صریح ہے۔ نیز مختلف مذاہب والے آپس میں ایک دوسرے کے ایسے ہی مخالف اور دشمن ہیں جیسے مسلمان اور کافر، لہٰذا جس طرح مسلمانوں اور کفار کے درمیان اختلافِ دین حقِ میراث سے مانع ہے، اسی طرح کفر کی دیگر ملتوں کے افراد میں بھی اختلافِ دین مانع ہوگا۔

جن حضرات کی رائے یہ ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے، ان کی یہ رائے بھی ہے کہ اختلافِ دار، کفار کے مابین حقِ میراث کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتا ہے، کیونکہ اختلافِ دار کی وجہ سے وہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون نہیں کرتے۔ ہم کہیں گے کہ یہی بات اختلافِ دین میں بھی موجود ہے، لہٰذا ہمیں درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ نصرانی کسی یہودی کا، یا مجوسی کسی بت پرست کا وارث نہ ہوگا۔ اسی طرح بت پرست یہودی کا ترکہ نہیں لے گا، بلکہ نصاریٰ کی میراث نصاریٰ میں، اور یہود کی میراث یہود میں تقسیم ہوگی۔ اسی طرح باقی مللِ کفر کے لوگ اپنی اپنی ملت کے اندر باہم وارث ہوں گے۔

قاتل کی میراث کا حکم

بعض اوقات ایک شخص میں میراث حاصل کرنے کا سبب موجود ہوتا ہے، لیکن کسی مانع کی وجہ سے وہ حقِ میراث سے محروم ہو جاتا ہے۔ موانعِ میراث کئی ہیں، اور ان میں سے ایک مانع "قتل” ہے، یعنی اگر کوئی وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو قاتل کو اس کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ فرمانِ نبوی ہے:

"لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ "
"قاتل کے لیے میراث میں سے کچھ نہیں۔” [سنن ابن ماجہ الدیات باب القاتل لایرث حدیث:2646]

ایک اور روایت میں ہے:

"لا يرث القاتل شيئا "
"قاتل (مقتول کی) کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا۔” [سنن ابو داود الدیات باب دیات الاعضاء حدیث:4564]

اس میں حکمت یہ ہے کہ شریعت نے اس حکم کے ذریعے ایک نہایت خطرناک دروازہ بند کر دیا ہے، اور وہ یہ کہ کہیں دنیاوی مال کی محبت وارث کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ وہ اپنے مورث کا مال جلد حاصل کرنے کے لیے اسے قتل کر دے۔ ایسی صورت میں شریعت نے اسے میراث سے محروم قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک مشہور قاعدہ بھی ہے کہ جو شخص کسی چیز کو اس کے مشروع وقت سے پہلے ناجائز طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس کی سزا یہ ہے کہ اسے اسی چیز سے محروم کر دیا جائے۔

قاتل کو میراث سے محروم رکھنے پر اہلِ علم کا اجماع ہے، البتہ ان میں اس بات میں اختلاف ہے کہ قتل کی کون سی نوعیت اور کون سی صورت مانع ہے اور کون سی مانع نہیں۔

قتل کے بارے میں فقہاء کے مذاہب

❀ ① مذہبِ شافعی یہ ہے کہ قتل کی جو بھی نوعیت ہو، بہرحال قاتل وارث نہیں ہوگا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عام ہے:

"لا يرث القاتل شيئا "
"قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا۔” [سنن ابو داود الدیات باب دیات الاعضاء حدیث:4564]

اس کے علاوہ قتل اس لیے بھی میراث سے محروم کر دیتا ہے کہ مورث کے مال کو جلد حاصل کرنے کے لیے قتل کو ذریعہ نہ بنایا جائے۔ لہٰذا ہر حال میں قاتل کو میراث سے محروم رکھنا واجب ہے تاکہ قتل کا دروازہ بند رہے۔ اس بنا پر ہر قسم کا قتل مانعِ میراث قرار پائے گا، چاہے وہ قتل جائز ہی کیوں نہ ہو، مثلاً: کسی کو قصاص میں قتل کرنا، یا قاضی کے فیصلے یا گواہ کی گواہی کے نتیجے میں کسی کا قتل ہونا۔

اسی طرح وہ قتل بھی مانع ہوگا جس میں قصد و ارادہ شامل نہ ہو، مثلاً: نیند کی حالت میں کسی کو قتل کر دینا، بچے یا مجنون کا کسی کو قتل کر دینا، یا کسی ایسے عمل کے نتیجے میں کسی کا قتل ہو جانا جس کی شرعاً اجازت ہو، مثلاً: کسی کو ادب و تمیز سکھانے کے لیے سزا دینا، یا کسی مریض کا علاج کرنا جس کے نتیجے میں وہ فوت ہو جائے وغیرہ۔

❀ ② مذہبِ حنابلہ یہ ہے کہ حقِ میراث سے مانع وہ قتل ہے جو ناحق ہو، یعنی ایسا قتل جس سے قصاص یا دیت و کفارہ لازم آئے، مثلاً: قتلِ عمد، شبہ عمد، یا قتلِ خطا، یا وہ قتل جو ان صورتوں کے مشابہ ہو، مثلاً: بچے، مجنون یا سوئے ہوئے شخص کے ہاتھوں کسی کا قتل ہو جانا۔

اور جو قتل ایسا نہ ہو، وہ مانع بھی نہیں ہوگا، مثلاً: قصاص کے طور پر کسی کو قتل کیا جائے، یا حد نافذ کرتے ہوئے قتل کیا جائے، یا کوئی شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے کسی کو قتل کر دے، یا قاتل عادل ہو اور مقتول باغی ہو، یا تادیب یا علاج کے دوران میں کوئی مر جائے۔

❀ ③ علمائے احناف کا بھی تقریباً یہی مسلک ہے، البتہ انہوں نے قتلِ سبب کو مانعِ میراث قرار نہیں دیا، مثلاً: کسی نے کنواں کھودا، یا راستے میں پتھر رکھ دیا، پھر اس کا مورث کنویں میں گر کر یا پتھر سے ٹھوکر کھا کر فوت ہوگیا۔

اسی طرح علمائے احناف کے نزدیک وہ قتل بھی مانعِ ارث نہیں جو بچے اور مجنون سے صادر ہو۔

❀ ④ مالکیہ کے ہاں قتل کی دو حالتیں ہیں:

✔ 1۔ مورث کو عمداً اور ظلم کے ساتھ قتل کیا گیا ہو۔ اس صورت میں قاتل مورث کے مال اور دیت، دونوں کا وارث نہیں ہوگا۔

✔ 2۔ اگر قتل خطا کے طور پر ہو تو قاتل اپنے مورث کے مال کا وارث ہوگا، البتہ اس کی دیت کا وارث نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے مقتول کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے جلدی نہیں کی۔ اور جہاں تک دیت میں وارث نہ ہونے کی بات ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دیت کی ادائیگی اسی پر لازم تھی۔

راجح مسلک

ہمارے نزدیک حنابلہ اور احناف کا مسلک درست ہے، کیونکہ جس فعل میں قاتل کا قصور موجود ہو اور اس پر ضمان لازم آتا ہو، اس میں اسے حقِ میراث سے محروم رکھنا درست ہے۔ البتہ قتل کی وہ صورتیں جن میں ضمان لازم نہیں آتا، ان میں قاتل کو معذور سمجھا جائے گا اور اس پر ذمہ داری نہیں ہوگی، لہٰذا وہ قتل مانعِ میراث بھی نہیں ہوگا۔

اگر شوافع کے قول پر عمل کرتے ہوئے ہر قاتل کو میراث سے محروم قرار دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حدود نافذ نہیں کی جائیں گی اور حقدار کو حق نہیں ملے گا، یعنی جب قصاص لینے والے کو معلوم ہوگا کہ قصاص لینے کی وجہ سے وہ میراث سے محروم ہو جائے گا تو وہ قصاص نہیں لے گا۔

اس تفصیل کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:

"لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ "

کے عموم کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا جائے گا جب قتل ناحق ہو، جس کی وجہ سے اسے قصاص یا دیت دینی پڑے اور ضمان لازم آئے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب