اختلافِ مطالع کیا ہے؟ مطلع کی تعریف حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مقصود الحسن فیضی کی کتاب رویت ہلال سے ماخوذ ہے۔

فصل: 2

مطلع کی تعریف

مطلع طلوع مصدر کا اسم ظرف ہے۔ طلوع کے معنی ہیں نکلنا، طلوع ہونا، ظاہر ہونا۔ اس طرح مطلع کا معنی ہوا، طلوع ہونے کی جگہ۔ اسی مناسبت سے چاند اور سورج کے طلوع ہونے کی جگہ کو مطلع کہتے ہیں۔
مطلع سے ہماری مراد ماہِ نو کا مشرق کی جانب چھپ جانے کے ایک یا دو دن بعد مغرب کی جانب ظاہر ہونے کی جگہ ہے۔ اس کو اس طرح سمجھیے کہ ایک ہی خط طول البلد پر واقع تمام مقامات پر سورج اور چاند ایک ہی وقت میں طلوع ہوں گے اور ایک ہی وقت میں غروب ہوں گے۔ مثلاً حیدرآباد سندھ، کابل اور تاشقند کا طول البلد تقریباً 68 درجہ مشرق ہے۔ اگر حیدرآباد سندھ میں سورج صبح 4 بج کر 22 منٹ پر طلوع ہوگا تو کابل اور تاشقند میں بھی اسی وقت طلوع ہوگا۔ اسی طرح اگر تاشقند میں چاند، غروب آفتاب کے بعد نظر آ گیا ہے تو ان مقامات پر ضرور نظر آنا چاہیے بشرطیکہ بادل یا فضا کی آلودگی آڑے نہ آئے۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حیدرآباد سندھ، کابل اور تاشقند کا مطلع ایک ہی ہے۔
اس کی مزید وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ ایک مقام (الف) مقام (ب) سے پورے 180 درجہ مغرب میں واقع ہے یعنی اگر مقام (ب) کا طول البلد 75 درجہ مشرق ہو تو مقام (الف) 180 درجہ مغرب ہے۔ تو 23 مارچ یا 23 دسمبر کو جس وقت مقام (ب) میں سورج طلوع ہوگا، مقام (الف) میں غروب ہو رہا ہوگا اور وہاں رات شروع ہو جائے گی تو گویا مقام (ب) اور مقام (الف) کے مطالع ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
الشمس والقمر بحسبان، مجلة الدعوة جلد 14، شمارہ 12 ص 41۔

اختلاف مطالع ایک حقیقت ہے:

رؤیت ہلال کے سلسلے میں اختلاف مطالع ایک ایسی حقیقت ہے جس پر علمائے دین اور اہل فلک کا اتفاق ہے۔ اس بات پر سبھی علماء متفق ہیں کہ جس طرح ایک شہر سے دوسرے شہر میں سورج کے طلوع اور غروب کا فرق ہے بعینہ اسی طرح ہلالِ ماہِ نو کے طلوع و عدم طلوع کا بھی فرق رہتا ہے۔
دیکھیے: الاختیارات الفقهية صفحہ 106، رحمة الأمة صفحہ 194، تنبیه الغافل والوسنان صفحہ 104، ارشاد أهل الملة صفحہ 273، ابحاث ھيئة كبار العلماء صفحہ 33/3۔

اختلاف مطلع کیوں؟

علمائے جغرافیہ نے دوری و نزدیکی کے فرق کو واضح کرنے، دو ملکوں کے درمیان مسافت کی تحدید، سطح ارض پر جگہوں کی اور دنیا کے مختلف ممالک میں اوقات کی تعیین کے لیے زمین کو خطوط طول و عرض (وہمی) میں تقسیم کیا ہے۔ جو خط شمال سے جنوب کو جاتا ہے اس کو خط طول البلد کہتے ہیں اور جو خط مشرق سے مغرب کو جاتا ہے اسے خط عرض البلد کہتے ہیں۔ اس خط کا مرکز شہر لندن کے مشہور قصبہ گرینچ کو قرار دیا گیا ہے۔ اب جو شہر لندن سے شرق میں واقع ہیں انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے درجہ شرق طول البلد پر واقع ہیں۔ اور جو شہر لندن سے غرب میں واقع ہیں، انہیں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے درجہ غرب طول البلد پر واقع ہیں۔ مطلع کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے طول البلد (longitude) اور عرض البلد (latitude) کو سمجھنا ضروری ہے۔ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، (اہل ذوق کے لیے مولانا عبد الرحمن کیلانی کی کتاب (الشمس والقمر بحسبان) کافی مفید ہے۔) البتہ اختصار کے ساتھ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اگر دو شہر ایک ہی طول البلد یا قریب قریب طول البلد پر واقع ہیں تو دونوں شہروں میں لمبی مسافت کے باوجود اختلاف مطلع کا اثر نہیں ہوتا۔ مثلاً مدراس اور کشمیر، یا ریاض اور ماسکو تقریباً ایک ہی طول البلد پر واقع ہیں، اس لیے ان میں سورج اور چاند کے مطالع کا فرق نہیں ہے۔ اس کے برخلاف اگر دو شہر ایک ہی خط عرض البلد پر واقع ہیں تو ان میں مطلع کا فرق پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رؤیت ہلال پر بحث کرتے ہوئے اس نکتے کو سامنے رکھا جائے۔ اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے ہم ذیل میں مولانا محمد یحییٰ اعظمی کے ایک طویل مضمون کا اقتباس نقل کرتے ہیں۔ یہ طویل مضمون فتاویٰ ثنائیہ جلد اول، کتاب الصیام میں موجود ہے۔ ہم اس مضمون سے صرف رؤیت اور اختلاف مطالع کا حصہ نقل کرتے ہیں۔ مولانا لکھتے ہیں:
اچھا اب آپ رؤیت ہلال کے وقت سے چاند کی کیفیت ملاحظہ فرمائیے، کس قدر باریک اور سورج کے قریب ہوتا ہے پھر دوسرے دن شام کو دیکھیے تو آپ کو قدرے بڑا اور مشرق کی جانب دور نظر آئے گا۔ پھر تیسرے دن اور بڑا اور زیادہ جانب مشرق دوری پر معلوم ہوگا۔ بات یہ ہے کہ چاند سورج سے جتنا دور ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا روشن حصہ ہماری طرف رخ کرتا جاتا ہے۔ اس طرح دیکھتے رہیے یہاں تک کہ چودہویں شب اور کبھی تیرہویں شب اور پندرہویں شب کو چاند سورج کے مقابل جانب مشرق 180 درجہ یعنی نصف دورِ فلک کی دوری پر ہوتا ہے۔ اگر سورج مغربی افق میں اپنا سر چھپا رہا ہے تو چاند افق شرقی سے اپنی نورانی شعاعیں ہم پر پھینک رہا ہے۔ گویا آمنے سامنے برابر کا جوڑ ہے۔ اسی استکمال کی حالت میں ہم چاند کو بدر یا ماہ کامل اور اس تاریخ کو پورنماشی کہتے ہیں۔ اس وقت چاند کا نصف روشن حصہ پورے کا پورا ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ واضح ہو کہ اسی استکمال کے زمانہ میں اگر چاند، زمین اور سورج ایک خط مستقیم پر واقع ہو جائیں تو چاند گرہن ہو جائے گا۔ اس کے بعد پھر وہ یوماً، فیوماً سورج کے قریب ہونے لگتا ہے۔ اور ہم کو گھٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں بھی وہی بات ہے، مگر اس کے برعکس کیونکہ چاند کے سورج سے قریب ہوتے رہنے سے اس کا روشن حصہ ہمارے سامنے سے رخ پھیرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ 28 ویں یا 29 ویں شب کو سورج سے 12 درجہ قریب پہنچ کر دو شب اور کبھی ایک شب یا تین شب کے لیے ہماری نظروں سے یکسر غائب ہو جاتا ہے۔ اس اجتماع کو ہم محاق یا اوس کہتے ہیں۔ اس حالت میں چاند کا نصف روشن حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے اور نصف پچھلا تاریک حصہ ہمارے سامنے۔ واضح ہو کہ اسی اجتماع میں اگر چاند اور سورج میں عرضاً بھی اتنا قرب ہو جائے کہ ہماری نگاہ بخط مستقیم چاند سے گذرتی ہوئی سورج پر پڑ جائے تو سورج گرہن ہو جائے گا۔ یاد رکھیے، اسی زمانہ محاق میں جس کی مدت اوسطاً 47 گھنٹے 16 منٹ ہے، ایک خاص لمحہ ایسا گذرتا ہے جس میں چاند اور سورج کا ایک خط طولی پر، دوسرے لفظوں میں ایک خط نصف النہار پر واقع ہو جانا ضروری ہے اور وہ ساعت وہ ہے، جبکہ ابتدائے محاق سے 23 گھنٹے 38 منٹ گزر جائیں۔ بس اب یہیں سے رویت ہلال کا حساب شروع کیجیے۔
فرض کیجیے کہ جب افق شہر اعظم گڑھ سے جو 83 درجہ (degree) 13 دقیقہ (minutes) طول البلد پر واقع ہے، 6 بجے آفتاب غروب ہوا اور 6 بج کر 22 منٹ سے چند سیکنڈ پہلے چاند اور سورج میں اجتماع حقیقی ہو گیا اور ایک خط طولی پر دونوں واقع ہو گئے۔ پھر رات بھر اور دن بھر حرکت کرتے رہے یہاں تک کہ 23 گھنٹے 38 منٹ بعد یعنی 6 بجے سے چند سیکنڈ پہلے چاند، سورج سے 12 درجے دوری پر مشرق میں پہنچ کر قوس الرؤیہ کے لباس سے آراستہ ہو گیا۔ بس یہی وہ اولین ساعت ہے کہ چاند ہلال بن کر فلک اول پر تاباں ہو جاتا ہے۔ اور دنیا بھر کے انسانوں کی نگاہیں اس کے دیکھنے کی متمنی ہوتی ہیں، اگر ابر گردوغبار، کہر اور دیگر اسباب، رؤیت سے مانع نہ ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کو یہ ننھا منا سا ہلال چمکتا ہوا دکھائی نہ دے۔
خیال فرمائیے یہ تو اعظم گڑھ کا مطلع قمر ہے، اب اعظم گڑھ کے مغرب، کراچی، مکہ معظمہ، قاہرہ، تیونس، اور جزائر کناریا (جزائر خالدات) میں بسنے والے انسان سب کے سب بشرط رفع موانع اپنے اپنے مطلع سے بلا شبہ ہلال دیکھیں گے۔ فرق یہ ہے کہ ہم اعظم گڑھ میں غروب کے وقت اگر 4 بجے ہلال دیکھتے ہیں تو کراچی میں 7 بج کر 5 منٹ، مکہ میں 8 بج کر 52 منٹ، قاہرہ میں 4 بج کر 27 منٹ، تیونس (افریقہ) میں 10 بج کر 52 منٹ اور جزائر کناریا (مغربی افریقہ) میں 12 بج کر 45 منٹ پر (اعظم گڑھ میں نصف شب گذر چکی ہے) بوقت غروب آفتاب ہلال نظر آئے گا۔ لیکن نسبتاً مغربی شہر والے اپنے مشرق والوں سے ہلال بڑا اور سورج سے دور دیکھیں گے۔ اب چونکہ ہلال فلک پر موجود ہے اس لیے مذکورہ بالاشہروں کے باشندے اگر اپنی نگاہ کی تیزی سے دن ہی دن میں چاند دیکھ لیں تو کچھ عجب نہیں مگر یہ ان کے لیے سخت دشوار ہے۔
اچھا اب ذرا اور آگے بڑھو تو آپ کو نیو یارک (امریکہ) میں 4 بج کر 29 منٹ اور واشنگٹن (امریکہ) میں 7 بج کر 33 منٹ پر (اعظم گڑھ میں طلوع شمس ہو چکا ہے) بوقتِ غروب آفتاب ہلال نظر آ جائے گا۔ مگر ان کا ہلال جزائر کنار یا والوں سے بڑا اور سورج سے اور بھی دوری پر ہوگا۔ یہ لوگ اگر دن میں ہلال دیکھ لیں تو بعید نہیں مگر یہ بھی دشوار ہے۔
اب یہاں سے یہ بھی مسئلہ حل کر لیجیے کہ رؤیت ہلال قبل نصف النہار اور بعد نصف النہار بھی ممکن ہے۔ کیونکہ ان اوقات میں ہلال فلک پر موجود ہے۔ اور اس کا آنے والی شب کا ہلال ہونا بھی ظاہر ہے۔
اچھا امریکہ سے گذرتے ہوئے اب ذرا اور آگے بڑھیے تو ٹوکیو (جاپان) میں 2 بج کر 14 منٹ (اعظم گڑھ میں بعد دوپہر کا وقت ہے۔) اور آگے بڑھیے تو شہر برما میں 5 بج کر 5 منٹ پر (اعظم گڑھ میں غروب کو 55 منٹ باقی ہیں) غروب آفتاب ہوگا۔ اس وقت وہاں ہلال نظر آئے گا۔ اور ان لوگوں کا ہلال علی الترتیب کافی بڑا اور سورج سے کافی فاصلے پر ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دن میں بہت آسانی سے ہلال دیکھ سکتے ہیں۔ خصوصاً برما کے باشندے کیونکہ ان کا ہلال سب سے بڑا اور سورج سے کافی (تقریباً 23،3/4) درجہ دوری پر ہوگا۔ لیکن اس ہلال کا بھی آنیوالی شب کا ہلال ہونا ظاہر ہے۔ مگر غروب کے وقت جب اہل برما ہلال دیکھتے ہیں تو کوئی کہتا ہے یہ تو کل کا ہے اور کوئی خیال کرتا ہے، یہ تو پرسوں کا ہے۔ قربان جائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ فرماتے ہیں: نہیں نہیں تم کو دھوکہ ہو رہا ہے، یہ تو آج ہی کا ہلال ہے۔
عن أبى البختري قال خرجنا للعمرة فلما نزلنا ببطن نخلة قال تراءينا الهلال فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، قال: فلقينا ابن عباس فقلنا إنا رأينا الهلال فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، فقال: أى ليلة رأيتموه، قال فقلنا ليلة كذا وكذا فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مده للروية فهو لليلة رأيتموه
حضرت ابو البختري رحمہ اللہ علیہ (تابعی) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لیے نکلے تو جب وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا، بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے، اور کسی نے کہا یہ دو راتوں کا چاند ہے، تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے، کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے، کوئی کہتا ہے دوسری کا چاند ہے، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کو، تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لیے اسے بڑھا دیا ہے، درحقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔
صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 348۔ حدیث نمبر: 1088
حاصل کلام یہ کہ جب افق اعظم گڑھ پر وقت مقررہ میں ہلال کا وجود ہو چکا تو اب اس کے آگے مغرب میں جہاں تک بھی چلے جائیے کوئی ملک، شہر اور بستی ایسی نہ ہوگی جس کے افق پر ہلال کا وجود نہ ہو۔ یہ اور بات ہے کہ عارضی موانع سے وہاں کے باشندے نہ دیکھ سکیں، اسی کو اختلاف رؤیت کہتے ہیں۔ اب اگر ہلال کا صحیح ثبوت مل جائے تو حکم شرع نافذ کیا جائے گا ورنہ نہیں۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ یہاں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اہل مشرق کی رویت سارے کے سارے مغرب والوں کے حق میں ہلال کا قطعی ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔ اس لیے اگر مشرق سے ثبوت ہلال کی صحیح سند مل جائے تو بلا شبہ شرعی احکام نافذ ہوں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلال کا چھوٹا بڑا ہونا کوئی چیز نہیں، 29 کا ہو یا 30 کا۔
اب ہم اختلاف مطالع کی بحث سمجھانا چاہتے ہیں۔ بس پھر وہیں سے حساب شروع کیجیے، جبکہ افق اعظم گڑھ پر 6 بجنے سے چند سیکنڈ پہلے چاند سورج سے 12 درجہ دور، قوس الرؤیہ پر پہنچ کر ہلالی شکل میں نمودار ہوا۔ اب ذرا اعظم گڑھ سے مشرق میں چلیے مگر 12 درجہ سے زیادہ نہیں جیسے پٹنہ، بھاگلپور، ڈھاکہ، سلہٹ، منی پور (آسام)، جب اعظم گڑھ میں ظہور ہلال ہوا تو وہ ہلال ان سب شہروں کے باشندوں کے افق کے اوپر ہے۔ علی الترتیب ان لوگوں کا ہلال ان کے افق سے قریب اور قریب تر ہونے کی وجہ سے ان کو نہ دکھائی دے گا۔ منی پور ان سب شہروں میں سب سے دور اور اعظم گڑھ سے 10 درجہ 45 دقیقے فاصلہ پر ہے۔ ان کا ہلال تو بس افق سے اتنا قریب ہوگا کہ صرف 5 منٹ باقی رہ کر افق سے غروب ہو جائے گا۔ اب ان شہروں کے باشندوں کو اگر ہلال کا صحیح ثبوت پہنچ جائے تو احکام شرع نافذ ہوں گے۔ اور یہ حکم ہماری تقریبی 12 درجہ قوس الرؤیۃ کی بنا پر اعظم گڑھ سے 12 درجہ مشرق تک عائد ہوگا اور بس۔
اچھا اب 12 درجہ سے بڑھ کر تیرہویں درجہ پر کھڑے ہو جائیے۔ اب چونکہ اعظم گڑھ میں ہلال 12 درجہ بلند ہے اور آپ اعظم گڑھ سے 13 درجہ مشرق کو ہٹ کر تیرہویں درجہ پر قدم رکھ چکے ہیں اس لیے چاند قوس الرؤیۃ پر پہنچنے کے ساتھ ہی آپ کے افق سے نیچے ہوگا۔ مثال میں شہر برما کو لے لیجیے جو 97 درجہ طول البلد پر اور اعظم گڑھ سے 13 درجہ 47 دقیقہ مشرق کو ہے لے لیجیے، جب افق اعظم گڑھ سے ظہور ہلال ہوا تو برما کے افق سے ایک درجہ 47 دقیقے نیچے پہنچ چکا ہے۔ اب باشندگان برما کے لیے رویت ہلال کسی بھی آنکھ اور رصد سے ممکن نہیں۔ بس یہی اختلاف مطالع ہے۔ اعظم گڑھ کے مطلع پر ہلال ہے اور اہل برما کا مطلع ہلال سے خالی ہے۔ اب جتنا بھی مشرق (ہانگ کانگ، ٹوکیو، واشنگٹن) میں چلے جائیے رویت ہلال کسی کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کے مطالع ہلال سے خالی ہیں۔
یہاں سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اہل مغرب کی رؤیت کا تمام مشرق والوں کے حق میں ہلال ثابت کر دینا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ صرف 12 درجہ مشرق (ہماری تقریبی قوس الرؤیۃ) تک یہ حکم قطعی طور سے لگایا جا سکتا ہے اور اس کے بعد نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اختلاف مطالع کی تحقیق کے لیے اوسطاً 12 درجہ (ہماری تقریبی قوس الرؤیۃ) کا فصل ضروری ہے۔ جس کا 833 میل ہوتا ہے۔
فتاوی ثنائیہ جلد اول صفحہ 670 اور اس کے بعد۔
اختلاف مطالع کے باب میں ایک اہم سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اختلاف مطالع کی حدود کا اعتبار کس بنیاد پر کیا جائے؟ کیا اس کے لیے کوئی ضابطہ ہے جسے علماء یا ذمہ داران کے سامنے رکھا جائے؟ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ رؤیت کے لیے مطلع کا اعتبار کیا جائے گا، تو اس میں ایک مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ہر شخص اور ہر عالم یا ہر حاکم یہ نہیں جانتا کہ جس مقام پر رؤیت ہلال کا ثبوت ہوا ہے وہاں مطلع کی حد کیا ہے؟ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو کسی ضابطے کے تحت لایا جائے، تا کہ جب بھی کسی جگہ رویت ہلال کا ثبوت ہو وہاں کے لوگ یا کم از کم اس کے ارد گرد رہنے والے اہل علم یہ جان لیں کہ فلاں فلاں علاقوں کے لیے فلاں علاقے کی رویت معتبر ہے۔ اور فلاں فلاں جگہ کے لیے معتبر نہیں ہے۔
اس سلسلے میں راقم سطور کی رائے یہ ہے کہ ہر ملک میں اہلِ علم اور اہل فن دونوں کے مشورے سے کسی قرار کو پاس کیا جائے اور جگہ جگہ کے مراکز میں موجود ذمہ دار حضرات تک یہ بات پہنچا دی جائے، خوش قسمتی سے ہمارے ہندو پاک کی سرزمین اس قسم کے اہل فکر ونظر سے خالی نہیں ہے۔
سر دست میرے سامنے دو رائیں قابل قبول ہیں۔ جنہیں آپ لوگوں کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ اس کی روشنی میں اہل علم کسی ایک نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں، اور یہ دونوں رائیں اس کے علاوہ ہیں، جس کا ذکر مولانا اعظمی کے بیان میں ابھی ابھی گزرا ہے، اس طرح کل تین صورتیں سامنے آتی ہیں، واضح رہے کہ رابطہ عالم اسلامی کے تحت کام کرنے والی کمیٹی ”مجمع الفقه الاسلامی“ میں یہ موضوع بار بار پیش ہو چکا ہے، جس سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
پہلی رائے : رابطہ عالم اسلامی کے ”مجمع الفقه الاسلامی“ کے دورہ ثانیہ میں ڈاکٹر محمد عبد اللطیف الفرفور نے اختلاف مطالع اور اس کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک طویل مقالہ پیش کیا جس کے آخر میں اپنی یہ رائے پیش کی کہ سارے عالم کو تین بڑے زون (علاقوں) میں تقسیم کر دیا جائے اور ہر زون (Zone) کی رؤیت اس پورے علاقے کے لیے ثابت مانی جائے۔
① قارہ آمریکہ ایک زون، اس میں امریکہ جنوبی، شمالی، کینیڈا، برازیل اور اس علاقے کے تمام جزیرے شامل ہیں۔
② مغرب اقصیٰ سے لے کر جزیرہ عربیہ تک ایک زون، جس میں بلاد شام، مصر، سوڈان وغیرہ تمام علاقے شامل ہیں۔
③ خلیج عربی سے جاپان تک ایک زون اس میں جاپان اور اس کے ارد گرد کے جزیرے شامل ہیں۔
دوسری رائے : مولانا عبد الرحمن صاحب کیلانی رحمہ اللہ : اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ”مطلع کی حدود “ کے زیر عنوان لکھتے ہیں:
”اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علم ہیئت کی رو سے آس پاس کے علاقے کی حدود کیا ہیں؟ اگر چاند بالکل ہمارے سر پر چمک رہا ہو تو اسے ہم 90 درجہ کے زاویہ کی بلندی قرار دیتے ہیں۔ یہ چاند سات دنوں میں مغربی افق سے نصف آسمان تک پہنچا ہے۔ گویا یہ سات دن میں 90 درجے کا فاصلہ طے کر کے آیا ہے۔ چونکہ ہر گول چیز کے 360 درجے قرار دیئے گئے ہیں، لہذا چاند کا آسمان پر درجوں کے حساب سے فاصلہ اور ہمارا زاویہ نگاہ ایک ہی بات ہے۔ “
بالکل ایسے ہی صورت حال زمین کے درجات طول البلد کی ہے۔ ایک ہی طول البلد پر واقع تمام شہروں یا ملکوں کا چاند وسورج دونوں کے حساب سے مطلع ایک ہی ہوتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مقام (الف) پر ہلال 81 درجے زاویہ بلندی پر مشاہدہ کیا گیا تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں:
① یہ ہلال سورج غروب ہونے کے ایک گھنٹہ 15 منٹ بعد غروب ہو گا۔ اور شفق کی وجہ سے نماز مغرب کے بعد ہی نظر آ سکتا ہے۔
② مغرب میں اس چاند کا مطلع غیر محدود ہے اور مغربی مقامات میں اس کا نظر آنا بہر حال یقینی ہے۔
③ مشرق میں اس کے مطلع کی حد 13 درجے مزید طول البلد مشرقی کا فاصلہ ہوگا۔ کیونکہ 13 درجہ کا چاند نظر نہیں آتا۔
5 درجے مشرق میں واقع مقام (ب) پر یہ چاند نظر آئے گا اور پانچ درجے طول البلد کا سیدھا شرقاً غرباً فاصلہ:
الف : خط استواء پر 5 × 69،1/2 میل ہو گا = 346 میل سیدھا مشرق کو۔
ب : خط جدی یا سرطان پر 67 × 5= 335 میل سیدھا مشرق کو ہو گا۔
ج : ”66،1/2“ درجے جدی یا خط سرطان پر تقریباً 5 × 46 = 230 میل سیدھا مشرق کو ہوگا۔
د : ”66،1/2“ درجے کے اوپر کے مقامات پر رؤیت ہلال پر ایک دم بہت زیادہ اثر پڑ جاتا ہے۔
یہی وہ فاصلہ ہے جسے ایک مطلع کی حد شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ فاصلہ بھی شامل ہے جہاں لوگوں نے یہ نیا چاند دیکھ لیا ہے اور وہ فاصلہ بھی جہاں کے لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں۔
مطلع کی حدود کے متعلق آئمہ سلف کے اقوال میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن آجکل طول البلد کے تعین اور اس کے مطابق معیاری وقت کے تعین نے اس مسئلہ کو کافی حد تک حل کر دیا ہے۔ کئی اسلامی ممالک میں سارے ملک میں معیاری وقت ایک ہی ہوتا ہے خواہ اس کا فاصلہ 15 درجہ طول البلد سے زیادہ ہو۔ مثلاً سعودی عرب 35 درجہ سے 56 درجہ طول البلد شرقی یعنی 21 درجہ پر پھیلا ہوا ہے۔ لیکن ملک بھر میں ان کا معیاری وقت ایک ہی ہے یعنی گرینچ ٹائم سے تین گھنٹے آگے۔ رؤیت ہلال کے لیے حکومت کمیٹی مقرر کر دیتی ہے جو شہادتوں کی توثیق کے بعد رؤیت ہلال کا اعلان کر دیتی ہے اور اس کو پورے ملک کی رؤیت قرار دے دیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکومت نے ملک بھر کے لیے ایک ہی مطلع قرار دے کر اختلاف کو ختم کر دیا ہے۔
ایسی ہی صورتحال بھارت میں ہے جس کا طول البلد 70 تا 89 یعنی 19 درجہ ہے۔ وہاں بھی ایک ہی معیاری وقت ہے اور وہاں کی رؤیت بھی ملک بھر کے لیے ایک ہی رؤیت ہے۔ البتہ چند ممالک ایسے بھی ہیں جو بہت زیادہ درجوں پر پھیلے ہوئے ہیں مثلاً چین، روس اور کینیڈا۔ ان کے مختلف علاقوں میں معیاری وقت بھی الگ ہیں اور اسی طرح مطالع بھی۔
الشمس والقمر بحسبان، مجلة الدعوة جلد 14 شمارہ 12 صفحہ 83۔