احرام میں کھجلی سے بال گرنے پر دم لازم ہے یا نہیں؟

ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل جلد 01
مضمون کے اہم نکات

احرام کی حالت میں سر میں کھجلی سے بال گرنے پر دم لازم ہے یا نہیں؟

سوال:

احرام کی حالت میں اگر سر میں کھجلی کی جائے اور اس دوران کچھ بال گر جائیں تو کیا دم لازم آتا ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احرام کی حالت میں اگر کھجلی کے دوران کچھ بال گر جائیں لیکن وہ غیر ارادی طور پر گریں، یعنی جان بوجھ کر بال نہ توڑے گئے ہوں، تو اس پر کوئی فدیہ (دم) واجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسے بال خود بخود یا بلا ارادہ گرنے والے ہوتے ہیں اور اس پر شریعت میں کوئی جزا یا کفارہ مقرر نہیں کیا گیا۔

نبی اکرم ﷺ کا عمل:

رسول اللہ ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے احرام کی حالت میں غسل فرمایا اور اس دوران اپنے سر کو مل کر دھویا۔ یہ بات بدیہی ہے کہ جب سر کو رگڑا جاتا ہے، خاص طور پر غسل کے دوران، تو چند بالوں کا ٹوٹنا یا گرنا ایک عام سی بات ہے۔

حدیث مبارکہ کی روشنی میں:

صحیح بخاری میں ایک حدیث موجود ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ احرام کے دوران سر دھونا اور اس کو ملنا جائز ہے:

عبداللہ بن عباسؓ اور مسور بن مخرمہؓ کے درمیان احرام کی حالت میں سر دھونے کے بارے میں اختلاف ہوا۔
عبداللہ بن عباسؓ اس بات کے قائل تھے کہ سر دھونا جائز ہے، جبکہ مسور بن مخرمہؓ اس کے خلاف تھے۔
جب یہ مسئلہ ابوایوب انصاریؓ کے پاس پیش کیا گیا تو انہوں نے نہاتے وقت اپنے سر پر پانی ڈالا اور اسے آگے پیچھے سے رگڑا۔ پھر فرمایا:
"نبیؐ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔”

(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1840)

نتیجہ:

لہٰذا، اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں سر میں کھجلی کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں کچھ بال بلا ارادہ گر جاتے ہیں تو اس پر کوئی دم یا فدیہ واجب نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے