مضمون کے اہم نکات
میقات، احرام اور تلبیہ
حج اور عمرے کے لیے احرام باندھنے کے مقام اور وقت کو میقات کہا جاتا ہے۔ مختلف جہتوں کے اعتبار سے احرام باندھنے کے مقامات بھی مختلف ہیں:
يَلَملَم:
پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا اور ان سے ملے ہوئے علاقوں سے آنے والے عازمین حج کے لیے میقات يلملم ہے۔ نیز اہلِ یمن کا میقات بھی یہی ہے۔
ذُو الْحُلَيْفَه:
مدینہ اور اس سے ملے ہوئے علاقوں کے لوگوں کے لیے میقات ،،ذُو الْحُلَيْفَہ،، ہے جس کا نیا نام ،،بِئْرِ عَلی،، یا ،،آبَارِ علی،، ہے۔
جحفہ:
شام اور مصر وغیرہ کے لوگوں کے لیے میقات ،،جُحْفَہ،، ہے۔
ذَاتُ العِرق:
عراق والوں کا میقات ذات العرق ہے۔
قَرْنُ الْمَنَازِل:
نجد والوں کے لیے میقات ،،قَرْنُ الْمَنَازِل،، یا ،،سيْلِ كَبِير،، ہے۔
جولوگ ان مقامات اور مکہ کے درمیان رہائش پذیر [مقامی] ہیں، مثلاً: ،،جِعِرانہ،، اور ،،عُسْفَان،، وغیرہ میں رہتے ہیں، وہ اپنی رہائش گاہ ہی سے احرام باندھیں گے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
مگر مکہ والوں کو عمرے کا احرام باندھنے کے لیے حدود حرم سے باہر آنا پڑے گا، مثلاً عرفات یا مسجد عائشہ وغیرہ۔
ضروری وضاحت:
آج کل حج اور عمرے کے لیے زیادہ تر فضائی سفر اختیار کیا جاتا ہے، اس لیے مناسب ہے کہ روانگی کے وقت ایئر پورٹ ہی سے احرام کا لباس پہن لیا جائے۔ البتہ حج یا عمرے کا تلبیہ میقات سے گزرتے ہوئے شروع ہوگا۔ میقات کی حدود شروع ہونے پر ہوائی جہاز میں باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ جدہ پہنچ کر احرام باندھتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ [شیخ عثیمین]
مسئلہ: ہوائی سفر نہ بھی ہو تو میقات سے پہلے احرام کا لباس پہننا جائز ہے، تاہم نیت میقات سے یا اس کے برابر سے گزرتے ہوئے ہی ہوگی۔
احرام:
جس طرح نمازی تکبیر تحریمہ سے نماز میں داخل ہوتا ہے، اور تکبیر تحریمہ کے بعد اس پر کچھ پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، اسی طرح حج یا عمرہ کرنے والا احرام کے بعد حج اور عمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس پر بھی کچھ پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔
احرام سے قبل غسل کرنا:
حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کےلئے مستحب [پسندیدہ] ہے کہ وہ پہلے غسل کرے کیونکہ نبیﷺ سے ایسے ہی ثابت ہے۔
[جامع الترمذي ، الحج، حديث:830]
لیکن واضح رہے کہ سرتاپا صفائی [زیر ناف بالوں اور بغلوں کی صفائی] کو اس وقت تک مؤخر کرنا اور اس تاخیر کو مسنون سمجھنا درست نہیں۔
مسئلہ: اگر حاجی یا معتمر مرض یا کسی اور وجہ سے غسل نہیں کر پایا یا نہیں کر سکتا تو وہ غسل کے بغیر بھی احرام باندھ سکتا ہے، اس کے حج یا عمرے میں کسی بھی قسم کا خلل واقع نہیں ہوگا۔
بدن پر خوشبو لگائے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث:1539]
مسئلہ: احرام باندھتے ہوئے کپڑوں پر خوشبو کا استعمال قطعاً ممنوع ہے۔
عورتوں کو چاہیے کہ وہ بھی احرام سے قبل غسل کریں، نیز وہ عورتیں جو حالت حیض یا نفاس میں ہوں، وہ بھی غسل کر کے احرام باندھیں۔
[صحيح مسلم، الحج، حديث:1209]
احرام باندھتے وقت دو قسم کی عورتوں کے لیے غسل ضروری ہے:
احرام باندھتے وقت غسل کرنا مرد کے لیے ضروری ہے نہ عورت کے لیے، البتہ یہ مستحب [بہتر] عمل ہے۔ تاہم عورت کے لیے دو حالتوں میں غسل ضروری ہے۔
◈ حج یا عمرے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اگر عورت کو زچگی [ولادت] ہو جائے، تو اس کے لیے غسل ضروری ہے۔ نبیﷺ کے سفر حج میں حضرت ابوبکر رضی اللہ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تو نبیﷺ نے ان کو غسل کر کے احرام باندھنے کا حکم دیا، یہ واقعہ مدینے سے نکلنے کے بعد شجرہ [ذو الحلیفہ] کے مقام پر پیش آیا۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1210,1209]
◈ یا عورت حائضہ ہو جائے تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ غسل کر لے اور بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے سارے مناسک ادا کرلے، پاک ہونے کے بعد طواف بھی کر لے۔ حضرت عائشہ رضي اللہ عنہما کے ساتھ سفر حج میں یہی معاملہ پیش آیا تو نبیﷺ نے ان کو غسل کر کے سوائے طواف کے سارے مناسک حج ادا کرنے کی ہدایت فرمائی۔
مردوں کا احرام:
مردوں کے لیے دو صاف ستھری چادریں [اگر سفید ہوں تو بہتر ہے] احرام کا لباس ہیں۔ ایک بطور تہبند باندھنے کے لیے اور دوسری اوپر اوڑھنے کے لیے، لیکن سر اور چہرہ ننگا رہے۔ جوتا کوئی سا بھی پہنا جا سکتا ہے، البتہ ٹخنے ننگے ہوں ۔
[صحيح البخاري، الحج، حديث:1545،1542]
مسئلہ:
احرام کا لباس نیا اور غیر استعمال شدہ ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ پرانا اور استعمال شدہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ وہ ایک لباس ہی ہے اسے جتنی بار چاہیں استعمال کریں۔
مسئلہ:
گھڑی، انگوٹھی، عینک اور پرس والا بیلٹ وغیرہ پہننے میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔
عورتوں کا احرام:
عورتوں کے لیے کوئی مخصوص احرام نہیں۔ وہ جو بھی کپڑے پہنے ہوئے ہوں انھی کو بطور احرام اختیار کر سکتی ہیں، البتہ نہ دستانے پہنیں اور نہ نقاب پہنیں۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث:1825]
واضح رہے کہ نقاب سے مراد وہ کپڑا ہے جو چہرے کے مطابق سلائی کیا جاتا ہے، احرام کی حالت میں وہ پہننا منع ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت پردہ ہی نہ کرے۔
حالت احرام میں اجنبیوں سے پردہ:
نبیﷺ کی بیویاں امہات المؤمنین فرماتی ہیں: کہ جب لوگ گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی چادر لٹکا لیتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ احرام والی عورتیں نقاب کے علاوہ بڑی چادر سے پردہ کریں، سادگی اپنائیں، نظریں نیچی رکھیں۔ کیونکہ نبیﷺ کی ازواج مطہرات اسی طرح کرتی تھیں۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث:1833]
اب چونکہ تمام مقامات حج پر مردوں کا بے پناہ ہجوم ہوتا ہے، اور کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں مرد نہ ہوں، اس لیے عورت کے لیے ضروری ہے کہ حالت احرام میں: میں بھی اپنا چہرہ ہر جگہ ڈھانپ کر رکھے، اس کے لیے کسی قسم کے تکلف کی ضرورت نہیں، جس طرح بھی وہ چہرہ ڈھانپ سکتی ہے، ڈھانپے، بڑی چادر سے، یا سکارف سے یا کسی اور طریقے چہرہ کھلا رکھنا اس کے لیے قطعاً جائز نہیں ہے، سوائے محرم مردوں کے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ غیر محرم مردوں کی موجودگی میں سب کے نزدیک بالا تفاق چہرہ چھپانا ضروری ہے۔ والله أعلم
احرام کے بعد غیر مسنون اعمال سے اجتناب:
بعض لوگ احرام کے آغاز ہی سے ،،اضطباع،، [دایاں کندھا ننگا] کر لیتے ہیں۔ اور اسی حالت میں نمازیں ادا کرتے رہتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ نماز کی حالت میں کندھے کھلے رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحیح البخاري، الصلاة، حديث:359] نیز نبیﷺ سے اضطباع صرف طَوافِ قُدُوم میں ثابت ہے۔[جامع الترمذي، الحج، حديث:859]
[نوٹ: دوران نماز ،،اضطباع،، دایاں کندھا ننگا رکھنا ممنوع ہے۔ نماز کی حالت میں دونوں کندھے ڈھانپ کر رکھیں]
◈ احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفلﷺ سے ثابت نہیں۔
◈ بعض عورتیں سر کی دونوں جانب پنکھا نما کوئی چیز باندھتی ہیں یا دھوپ سے بچاؤ والا ہیٹ پہن کر اس کے اوپر نقاب ڈالتی ہیں تاکہ نقاب کا کپڑا چہرے کو نہ لگے، یہ محض تکلف ہے۔
◈ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ احرام کے بعد مووی بنواتے اور تصویریں کھنچواتے ہیں۔ یہ بالکل ناجائز، حرام اور آداب حج کے منافی ہے۔ اور خطرہ ہے کہ کہیں ریا کاری کی وجہ سے حج کے ثواب ہی سے محروم نہ رہ جائیں۔
احرام کا تلبیہ
عمرہ اور حج تمتع کرنے والا میقات سے روانہ ہوتے وقت یہ الفاظ کہے:
[اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً]
یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں عمرے کے لیے حاضر ہوں۔
حج قران کرنے والا یہ الفاظ کہے:
[اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ حَجًّا وَ عُمْرَةً]
یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں حج اور عمرے کے لیے حاضر ہوں۔
حج افراد کرنے والا یہ الفاظ کہے:
[اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ حَجًّا]
یا اللہ! میں تیری بارگاہ میں حج کے لیے حاضر ہوں۔
اسی طرح ،،حج تمتع،، کرنے والا [8] ذو الحجہ کو جب حج کے لیے احرام باندھے گا تو وہ بھی حج افراد والے الفاظ کہے گا۔
مسئلہ:
اگر کسی شخص نے میقات سے حج افراد یا حج قِران کا احرام باندھا ہے، لیکن مکہ پہنچنے کے بعد اس کا ارادہ بدل جاتا ہے۔ اور وہ افراد یا قران کو تمتع میں تبدیل کر لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں اور نہ اس پر کوئی دم یا فدیہ ہی ہے، البتہ حج قران کرنے والا اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا ہو تو وہ اسے حج تمتع میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ [صحیح البخاري، الحج،حدیث:1638]،[صحيح مسلم، الحج، حدیث:1211]
مشروط احرام باندھنا:
ایک بیمار شخص میقات پر احرام باندھتے وقت قدرے صحت مند ہے، مگر اسے یہ خدشہ ہے کہ اس کی تکلیف بڑھ سکتی ہے، یا دوبارہ شروع ہو سکتی ہے یا کوئی اور ایسا عذر پیش آسکتا ہے جو حرم تک پہنچنے سے رکاوٹ کا باعث ہوگا، تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے ذکر شدہ الفاظ کے بعد یہ الفاظ بھی کہے:
[اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي]
اے اللہ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے گا۔
[صحيح البخاري النكاح، حديث:5089]
مسئلہ:
اس شرط کا فائدہ یہ ہے کہ اگر رکاوٹ پیش آنے کی صورت میں احرام کھولنا پڑ گیا تو اسے فدیہ نہیں دینا پڑے گا۔ اور اس کا حج نفلی ہے تو قضاء بھی نہیں دینی پڑے گی۔ [مناسك الحج والعمرة للإمام الألباني، ص:15]
لیکن اگر اس نے مشروط احرام نہیں باندھا تھا اور رکاوٹ کی صورت میں قربانی کرنا اس کی استطاعت میں ہے تو اپنی قربانی کسی کے ساتھ حرم بھیج دے تاکہ وہاں ذبح ہو جائے، پھر اندازاً اس کے ذبح ہونے پر احرام کھول دے اور اگر وہ قربانی نہیں بھیج سکتا تو رکاوٹ کے مقام ہی پر قربانی ذبح کر دے اور حجامت کے بعد احرام کھول دے اور اگر قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا تو [حج تمتع کی طرح دس] روزے رکھے۔
[صحيح البخاري، المحصر، حديث:1810،1807]،[أضواء البيان، ص:85،83]
تلبیہ کے الفاظ:
حج یا عمرہ کرنے والا احرام باندھنے کے بعد میقات سے تلبیہ شروع کر دے۔ تلبیہ کے الفاظ یہ ہیں:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ
حاضر ہوں، یا اللہ! میں حاضر ہوں۔ بار بار حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں پھر حاضر ہوں۔ یقیناً سب تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث:1549]
◈ نبیﷺ سے تلبیہ کے یہ الفاظ بھی ثابت ہیں:[لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ]
اے معبود برحق! میں حاضر ہوں۔ [سن النسائي، مناسك الحج، حديث:2753]
تلبیہ کب ختم کیا جائے؟:
عمرہ کرنے والا مسجد حرام میں داخل ہونے کے بعد جب طواف شروع کرنے لگے تو تلبیہ بند کر دے۔ [جامع الترمذي، الحج، حدیث:919]
جبکہ حج کرنے والا [10] ذو الحجہ کے دن بڑے جمرے کو کنکریاں مارنے سے پہلے تلبیہ ختم کرے گا۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث:1685]
احرام کی پابندیاں:
احرام باندھنے کے بعد حج یا عمرہ کرنے والے پر کچھ پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں:
مردوں کے لیے:
سلا ہوا کپڑا پہننا، پگڑی، ٹوپی یا رومال وغیرہ اوڑھنا موزے یا جرابیں پہننا، خوشبو لگانا، سر کے بال کٹوانا، اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے جمہور علماء نے جسم کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ اور اسی طرح ناخن کاٹنے کو بھی۔ [شیخ عثیمین رحمہ اللہ] بیوی سے استمتاع، نکاح کرنا، نکاح کرانا یا اس کا پیغام بھیجنا خشکی کا شکار کرنا یا شکار میں مدد دینا۔
عورتوں کے لیے:
خوشبو لگانا، بال اور ناخن کاٹنا، دستانے پہننا، نقاب [چہرے کے مطابق سلا ہوا کپڑا] پہننا، شکار کرنا یا شکار میں مدد دینا، خاوند سے ملاپ، نکاح کرنا،کرانا یا اسکا پیغام بھیجنا۔
اگر کوئی شخص حالت احرام میں فوت ہو جائے؟:
اگر کوئی شخص حالت احرام میں فوت ہو جائے تو اسے خوشبو لگائی جائے نہ اس کا سر ڈھانپا جائے اور اسے احرام ہی کی چادروں میں کفن دیا جائے۔ [سنن النسائي، مناسك الحج، حديث:2856]
إحرام میں جائز امور:
◈حج یا عمرہ کرنے والا حالت احرام میں بغیر خوشبو والے صابن اور شیمپو سے غسل کر سکتا ہے۔ ◈آنکھوں کے علاج کے لیے سرمہ یا دوائی ڈال سکتا ہے۔ ◈جسم کے کسی حصے سے علاج کے لیے خون نکلوا سکتا ہے۔ ◈ایسا تیل لگا سکتا ہے جس میں خوشبو نہ ہو۔ ◈کسی قسم کی بیماری کا علاج کرا سکتا ہے۔ ◈جسم پر خارش کر سکتا ہے۔ ◈چھتری استعمال کر سکتا ہے۔ ◈سر پر وزن اٹھا سکتا ہے۔ ◈احرام کی چادریں دھو یا بدل سکتا ہے۔ ◈سمندری شکار کر سکتا ہے۔ ◈سانپ، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والے کتے کو مار سکتا ہے۔

