احتیاط کی بنیاد پر وراثت کی تقسیم کے اہم مسائل قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، وراثت کے مسائل:جلد 02: صفحہ 224
مضمون کے اہم نکات

احتیاط کی بنیاد پر وراثت کی تقسیم

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میراث کے بارے میں گزشتہ مضامین میں جو مسائل ذکر ہوئے ہیں، وہ ان صورتوں سے متعلق تھے جن میں مورث (میت) کی وفات یقینی اور بالکل واضح ہو، اور اسی طرح مورث کی وفات کے وقت وارث کا موجود ہونا بھی یقینی ہو۔ یہ تمام وہ واضح صورتیں ہیں جن میں کسی قسم کا تردد یا اشکال نہیں ہوتا۔

اب ان صورتوں کے احوال بیان کرنا مقصود ہے جن میں مورث کی موت یا وارث کی زندگی یقینی اور واضح نہ ہو۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مورث کی موت یا وارث کی زندگی کی کیفیت مشتبہ ہو جاتی ہے، مثلاً: پیٹ میں موجود حمل کی حالت، پانی میں ڈوب جانے والے افراد، مکان یا دیوار کے نیچے دب جانے والے اشخاص، مفقود الخبر شخص، یا کسی وارث کے مرد یا عورت ہونے میں تردد، جیسا کہ خنثیٰ مشکل، جس کے بارے میں فیصلہ کرنا دشوار ہو کہ وہ مرد ہے یا عورت۔ اسی طرح پیٹ میں موجود حمل کی حقیقت بھی بعض اوقات واضح نہیں ہوتی۔

ان مذکورہ اشخاص کی حالت میں تردد پائے جانے کی وجہ سے ذیل میں مستقل ابواب ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ حقیقتِ حال اچھی طرح واضح ہو جائے۔

خنثیٰ مشکل کا بیان

خنثیٰ کا لفظ "انخناث” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی نرم ہونے، ٹوٹنے اور مڑ جانے کے ہیں۔ "خنث فم السقاء” اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی شخص مشکیزے کا منہ توڑ کر اس سے پانی پئے۔

علمِ میراث کی اصطلاح میں خنثیٰ مشکل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی جسمانی حالت مشتبہ ہو، یعنی اس میں مردانہ عضو بھی ہو اور زنانہ بھی، یا سرے سے کوئی آلۂ تناسل ہی نہ ہو، نہ مؤنث والا اور نہ مذکر والا۔

خنثیٰ شخص بنوّت، اخوّت، عمومت اور ولاء کی جہات میں سے کسی جہت سے ہو سکتا ہے، کیونکہ ہر جہت میں اس کے مذکر یا مؤنث ہونے کا احتمال موجود ہے۔ البتہ وہ ابوت (باپ، ماں، دادا اور دادی) کی جہت سے نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کا جسمانی معاملہ مشتبہ نہ رہے، یعنی وہ خنثیٰ مشکل نہ ہو۔ نیز یہ بھی ممکن نہیں کہ خنثیٰ مشکل خاوند یا بیوی ہو، کیونکہ جب وہ خنثیٰ مشکل ہے تو اس کا نکاح کرنا درست نہیں۔

❀ ① اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کو مرد یا عورت ہی پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اتَّقوا رَبَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ و‌ٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنها زَوجَها وَبَثَّ مِنهُما رِجالًا كَثيرًا وَنِساءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى تَساءَلونَ بِهِ وَالأَرحامَ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلَيكُم رَقيبًا ﴿١﴾… سورة النساء
"اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے” [النساء:1]

اور سورۃ شوریٰ میں فرمایا:

﴿لِلَّهِ مُلكُ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَرضِ يَخلُقُ ما يَشاءُ يَهَبُ لِمَن يَشاءُ إِنـٰثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشاءُ الذُّكورَ ﴿٤٩﴾… سورة الشورىٰ
"آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے” [الشوریٰ 49:42]

پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کا حکم بیان فرما دیا، لیکن ایسے کسی شخص کا حکم بیان نہیں کیا جو مرد بھی ہو اور عورت بھی۔ لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں وصف، یعنی زنانہ اور مردانہ، ایک ہی شخص میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں صنفوں میں امتیازی علامات اور ایسی خصوصیات رکھی ہیں جن سے ان میں واضح فرق معلوم ہوتا ہے؟ تاہم اس کے باوجود کبھی اشتباہ اس وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کے جسم میں دونوں قسم کے آلات، یعنی مردانہ اور زنانہ، موجود ہوتے ہیں۔

❀ ② اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ خنثیٰ اپنی غالب علامات کی بنا پر مذکر یا مؤنث کی جنس کے ساتھ ملحق کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اہلِ علم کی یہ رائے ہے کہ خنثیٰ مشکل کو وارث بنانے میں فیصلہ کن چیز اس کے پیشاب کرنے کی کیفیت ہے۔ اگر وہ مرد کے مقام سے پیشاب کرتا ہے تو اسے مرد شمار کیا جائے گا، اور اگر عورت کے مقام سے پیشاب کرتا ہے تو اسے عورت سمجھا جائے گا، کیونکہ عموماً یہی کیفیت ایک جنس کو دوسری جنس سے ممتاز کرتی ہے [سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھاگیا کہ ایک شخص جو مردانہ اور زنانہ دونوں عضو رکھتا ہے اسے کون سی میراث دی جائے ،یعنی مرد کا حصہ یا عورت کا؟ توانھوں نے جواب دیا جس عضو سے وہ پیشاب کرتا ہے۔ ایسی ہی روایات سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہیں۔ بیہقی(صارم)]۔

اور جس عضو سے اس کا پیشاب خارج نہیں ہوتا، وہ ایک عیب اور زائد عضو شمار ہوگا۔ اگر پیشاب دونوں راستوں سے آئے تو جس راستے سے زیادہ نکلے وہی معتبر ہوگا۔ اگر ابتدا میں ایک آلے سے پیشاب کرتا رہا، پھر بعد میں دونوں سے آنے لگا، تو پہلی حالت کا اعتبار ہوگا۔ اور اگر پیشاب دونوں راستوں سے وقت اور مقدار دونوں اعتبار سے برابر نکلے، تو اس کے بالغ ہونے تک دوسری علامات کے ظاہر ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔ اس وقت تک وہ خنثیٰ مشکل ہی شمار ہوگا۔

بلوغت کے وقت ظاہر ہونے والی بعض علامات مرد کے ساتھ خاص ہیں، مثلاً: مونچھوں کا اگنا، داڑھی کا ظاہر ہونا، اور ذکر سے منی کا خارج ہونا وغیرہ۔ اگر ان میں سے ایک علامت بھی ظاہر ہو جائے تو وہ مرد شمار ہوگا۔ اسی طرح بعض علامات عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، مثلاً: حیض آنا، حمل ظاہر ہونا، اور پستانوں کا نمایاں ہونا۔ اگر ان میں سے ایک علامت بھی ظاہر ہو جائے تو وہ عورت قرار پائے گی۔

❀ ③ اگر مردانہ یا زنانہ علامات میں سے کوئی بھی علامت ظاہر نہ ہو، تو وہ خنثیٰ مشکل ہے، اور اس میں جسمانی تبدیلی کی کوئی امید بھی نہ ہو، تو اس کے ساتھ دیگر ورثاء ہوں یا نہ ہوں، تقسیمِ وراثت کے بارے میں علماء کی درج ذیل آراء ہیں:

✔ 1۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ خنثیٰ کو دونوں حصوں، یعنی مذکر اور مؤنث، میں سے کم حصہ دیا جائے گا، جبکہ دیگر ورثاء کو زیادہ حصہ ملے گا۔ اور اگر وہ ایک اعتبار سے وارث ہو اور دوسرے اعتبار سے وارث نہ بنتا ہو، تو اسے غیر وارث قرار دیا جائے گا۔

✔ 2۔ بعض علماء کے نزدیک اگر اس کی جسمانی حالت میں تبدیلی کی امید ہو، تو ایسے خنثیٰ مرجوّ (جس کی وضاحت کی امید ہو) کو اور اس کے ساتھ شریک ورثاء کو کم حصہ دیا جائے گا، اور باقی حصہ محفوظ رکھا جائے گا یہاں تک کہ اس کی جسمانی کیفیت واضح ہو جائے یا ورثاء کسی مناسب صورت پر صلح کر لیں۔

✔ 3۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ خنثیٰ مشکل کو مرد کے حصے کا نصف اور عورت کے حصے کا نصف دیا جائے گا [مثلاً: مرد کا حصہ ایک روپیہ ہو اور عورت کا حصہ پچاس پیسے تو خنثیٰ کو پچھتر حصہ ملے گا۔(صارم)]، جبکہ اس کے دونوں حصوں میں فرق ہو۔ اگر صرف ایک اعتبار، یعنی مذکر یا مؤنث، سے وارث بنتا ہو تو اسی اعتبار کے حصے کا نصف دیا جائے گا۔ یہ حکم دونوں صورتوں میں ہے، خواہ خنثیٰ کی صورت حال بدلنے کی امید ہو یا نہ ہو۔

✔ 4۔ بعض علماء کا مسلک یہ ہے کہ اگر اس میں تبدیلی ظاہر ہونے کی امید ہو تو خنثیٰ اور اس کے ساتھ شریک ورثاء سب کو کم حصہ دیا جائے گا، کیونکہ اتنا حصہ یقینی ہے، اور باقی مال صورتِ حال واضح ہونے تک محفوظ رکھا جائے گا۔ اور اگر اس میں تبدیلی کی امید نہ ہو تو اسے مرد اور عورت دونوں کا نصف نصف حصہ دیا جائے گا، بشرطیکہ وہ دونوں حالتوں میں وارث ہو۔ اور اگر صرف ایک حالت، یعنی مرد یا عورت، میں وارث ہو تو وہ اس میں نصف حصے کا مستحق ہوگا۔ واللہ اعلم۔

حمل کی میراث کا بیان

کبھی ورثاء کی فہرست میں حمل بھی شامل ہوتا ہے، لیکن اس کی حالت غیر یقینی ہوتی ہے کہ آیا وہ زندہ پیدا ہوگا یا مردہ، ایک ہوگا یا ایک سے زیادہ، عورت ہوگی یا مرد۔ ان مختلف احتمالات کی وجہ سے حکم بھی مختلف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے حمل کے مسائل کو بڑی اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے اور کتبِ میراث میں حمل کے عنوان سے مستقل باب قائم کیا ہے۔

پیٹ میں موجود بچہ "حمل” کہلاتا ہے۔ جب "مورث” فوت ہو جائے اور اس کے ورثاء میں حمل شامل ہو، تو کبھی وہ ہر اعتبار سے وارث ہوتا ہے، اور کبھی ہر اعتبار سے محجوب ہوتا ہے، اور کبھی بعض اعتبار سے وارث اور بعض اعتبار سے محجوب ہوتا ہے، بشرطیکہ پیدائش کے وقت زندہ ہو۔

جو حمل بالاجماع وارث بنتا ہے، اس کے لیے دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے:

◈ ① مورث کی موت کے وقت رحم میں اس کا موجود ہونا، اگرچہ نطفہ ہی کی صورت میں ہو۔

◈ ② ولادت کے وقت اس میں زندگی کی واضح علامات پائی جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وَرِثَ "
"اگر بچہ چیخ مار کر رویا تو اسے وارث بنایا جائے گا۔” [سنن ابی داؤد الفرائض باب فی المولود یستھل ثم یموت ،حدیث2920]

"استہلال” کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمے میں ظاہر کیے گئے ہیں، البتہ بعض علماء کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں زندگی کی کوئی بھی علامت پائی جائے، صرف رونا ضروری نہیں، مثلاً: چھینک لینا یا حرکت کرنا وغیرہ، کیونکہ یہ ایسی حالتیں ہیں جن سے زندگی کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔ یہ دوسری شرط ہے۔

اب پہلی شرط، یعنی "مورث” کی موت کے وقت حمل کا موجود ہونا، تو اس کا تحقق اس وقت ہوگا جب حاملہ مقرر مدت کے اندر بچہ جنے، اور یہ مدت مختلف احوال کے مطابق کم از کم بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ بھی۔

مورث کی وفات کے بعد وضعِ حمل کی تین حالتیں ہو سکتی ہیں:

❀ ① مورث کی موت کے وقت سے لے کر کم از کم مدتِ حمل کے اندر وضعِ حمل ہو۔ اس حالت میں حمل مطلقاً وارث ہوگا، کیونکہ اس مدت میں وضعِ حمل اس بات کی دلیل ہے کہ مورث کی موت کے وقت رحم میں حمل موجود تھا۔

واضح رہے کہ کم از کم مدتِ حمل چھ ماہ ہے، اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَحَملُهُ وَفِصـٰلُهُ ثَلـٰثونَ شَهرًا…﴿١٥﴾… سورة الاحقاف
"اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے” [الاحقاف:46۔15]

نیز فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَالو‌ٰلِد‌ٰتُ يُرضِعنَ أَولـٰدَهُنَّ حَولَينِ كامِلَينِ…﴿٢٣٣﴾… سورة البقرة
"مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں۔” [البقرۃ:2/233]

ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر تیس مہینوں میں سے مدتِ رضاعت کے دو سال، یعنی چوبیس ماہ، نکال دیے جائیں تو باقی چھ ماہ رہ جاتے ہیں، اور یہی حمل کی کم از کم مدت ہے۔

❀ ② مورث کی موت کے وقت سے لے کر زیادہ سے زیادہ مدتِ حمل گزر جانے کے بعد وضعِ حمل ہو۔ اس حالت میں حمل وارث نہیں ہوگا، کیونکہ اتنی طویل مدت کے بعد وضعِ حمل اس بات کی دلیل ہے کہ مورث کی موت کے وقت اس کا وجود نہ تھا، بلکہ مورث کی وفات کے بعد حمل ٹھہرا۔

زیادہ سے زیادہ مدتِ حمل کی تعیین کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں:

✔ 1۔ زیادہ سے زیادہ مدتِ حمل دو سال ہے، جیسا کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول ہے: "ماں کے رحم میں دو سال سے زیادہ عرصہ حمل نہیں رہتا۔” [السنن الکبری للبیہقی :7/443] اس قسم کے قول کا تعلق اجتہاد سے نہیں ہوتا، اس لیے یہ "مرفوع حدیث” یعنی فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم میں ہے۔

✔ 2۔ زیادہ سے زیادہ مدتِ حمل چار سال ہے۔

✔ 3۔ اکثر مدتِ حمل پانچ برس ہے۔

ہمارے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدتِ حمل چار برس ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں تحدید کی کوئی صریح دلیل نہیں، لہٰذا وقوع پذیر واقعات کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ چنانچہ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں کہ حمل ماں کے پیٹ میں چار سال تک ٹھہرا رہا۔

❀ ③ کم مدتِ حمل، یعنی چھ ماہ، کے بعد اور اکثر مدتِ حمل سے پہلے وضعِ حمل ہو۔ اس حالت میں اگر اس کا خاوند یا آقا موجود ہو جو اس سے وطی کرتا رہا ہو تو وہ حمل میت کا وارث نہ ہوگا، کیونکہ مورث کی موت کے وقت حمل کا وجود یقینی نہیں۔ ممکن ہے کہ مورث کی موت کے بعد کی وطی سے حمل ٹھہرا ہو۔

اور اگر اس دوران میں اس سے وطی نہ ہوئی ہو، مثلاً: اس کا خاوند یا آقا موجود نہ ہو، یا اس سے غائب رہا ہو، یا کسی عجز و امتناع کی وجہ سے اس نے وطی ترک کر دی ہو، تو حمل وارث ہوگا، کیونکہ میت سے اس کا وجود ثابت ہے۔

علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جب بچہ ولادت کے بعد چیخ مارے تو اس سے زندگی ثابت ہو جاتی ہے۔ چیخ کے سوا دوسرے امور میں اختلاف ہے، مثلاً: بچے کا حرکت کرنا، دودھ پینا یا سانس لینا۔ بعض علماء صرف چیخ کو معتبر مانتے ہیں اور دوسرے معاملات کو شامل نہیں کرتے۔ جبکہ بعض علماء چیخ کے ساتھ ساتھ ہر اس امر کو معتبر سمجھتے ہیں جس سے زندگی کے آثار معلوم ہوں، اور یہی مسلک راجح ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ "اسْتَهَلَّ” کے معنی صرف چیخ مارنا ہی نہیں، بلکہ بعض علماء کے نزدیک اس میں حرکت وغیرہ بھی شامل ہے۔ اور اگر بالفرض "اسْتَهَلَّ” کے معنی صرف چیخ یا آواز ہی ہوں، تب بھی دوسری علامات کے ذریعے استدلال سے یہ مانع نہیں۔ واللہ اعلم۔

حمل کو حصہ دینے کا طریقہ

جب کسی شخص کے ورثاء میں ایسا حمل شامل ہو جس کے وارث ہونے یا نہ ہونے کا علم نہ ہو، اور ورثاء اس کی پیدائش سے پہلے ہی ترکہ کی تقسیم کا مطالبہ کریں، تو اختلاف سے بچنے کے لیے مناسب یہی ہے کہ حمل کے وضع ہونے کا انتظار کیا جائے، تاکہ اس کی کیفیت واضح ہو جائے اور ترکہ کی تقسیم ایک ہی بار ہو۔

اگر ورثاء ترکہ کی تقسیم میں تاخیر اور وضعِ حمل کا انتظار کرنے پر راضی نہ ہوں، تو کیا ترکہ تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں علمائے کرام کے دو قول ہیں:

✔ 1۔ انہیں ترکہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ حمل کی صورت حال مشکوک ہے، نیز ممکن ہے حمل ایک سے زائد بچے ہوں، جس کی وجہ سے حمل اور اس کے ساتھ شریک ورثاء کے حصوں کی مقدار میں فرق آ جائے۔ لہٰذا وضعِ حمل کے بعد صورتِ حال واضح ہونے تک انتظار کیا جائے۔

✔ 2۔ ورثاء تقسیمِ ترکہ کا مطالبہ کرنے کے مجاز ہیں، اور انہیں وضعِ حمل کے انتظار پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں ان کا نقصان ہے۔ ممکن ہے وہ ایسے محتاج اور فقیر ہوں کہ وضعِ حمل کی طویل مدت کا انتظار ان کے لیے دشوار ہو۔ رہا حمل، تو احتیاطاً اس کے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ تقسیمِ ترکہ میں تاخیر کی کوئی لازمی وجہ نہیں۔

دوسرا قول راجح معلوم ہوتا ہے، لیکن اس قول کے قائلین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ حمل کے لیے ترکہ سے کتنی مقدار محفوظ رکھی جائے، کیونکہ اس کی حقیقتِ حال کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس میں کئی احتمالات ہیں، مثلاً: وہ زندہ پیدا ہوگا یا مردہ، ایک بچہ ہوگا یا ایک سے زیادہ، لڑکا ہوگا یا لڑکی۔ بلاشبہ یہ احتمالات ورثاء کے حقوق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حمل کے حصے کی مقدار کے بارے میں تین مشہور اقوال ہیں:

✔ 1۔ تعدادِ حمل کو مقرر کرنا مشکل ہے، کیونکہ عورت کتنے بچوں کو پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے، اس کی تعداد معلوم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ جو ورثاء حمل کے ساتھ حصولِ ترکہ میں شریک ہوں، اگر ان میں کوئی شخص ایک صورت میں وارث ہو اور دوسری میں محجوب، یا وہ عصبہ ہو، تو ایسے شخص کو ترکہ میں سے کچھ نہیں دیا جائے گا۔ اور جو شخص ہر صورت میں وارث ہو لیکن کسی صورت میں کم اور کسی صورت میں زیادہ حصہ پاتا ہو، تو اسے کم حصہ دیا جائے گا۔ اور جس کے حصے میں کسی صورت میں فرق نہیں آتا، خواہ حمل لڑکا ہو یا لڑکی، اسے پورا حصہ ملے گا۔ اس کے بعد باقی حصہ محفوظ کر لیا جائے گا، یہاں تک کہ حمل کی صورت حال واضح ہو جائے۔

✔ 2۔ ترکہ میں سے حمل کے لیے زیادہ حصہ اور دیگر ورثاء کے لیے کم حصہ رکھا جائے گا۔ حمل کے لیے دو لڑکوں یا دو لڑکیوں کا حصہ، جو زیادہ ہو، محفوظ کیا جائے گا، اور اس کے ساتھ شریک وارث کو یقینی حصہ ملے گا۔ پھر جب حمل کی ولادت ہوگی اور صورتِ حال واضح ہو جائے گی، تو اگر حمل موقوف مال کے اکثر حصے کا حق دار ہوگا تو اسے دے دیا جائے گا، اور اگر موقوف حصہ کم ہوا تو ورثاء سے وصول کر کے اس کے حصے کی کمی پوری کی جائے گی۔

✔ 3۔ حمل کے لیے ایک لڑکے یا ایک لڑکی کا حصہ، جو زیادہ ہو، محفوظ رکھا جائے گا، کیونکہ عام طور پر عورت ایک ہی بچہ جنتی ہے، لہٰذا حکم غالب اور عام عادت پر محمول ہوگا۔

قاضی پر لازم ہے کہ ورثاء میں سے کسی ایک کو حمل کا کفیل مقرر کرے، کیونکہ حمل خود اپنے مفاد کا خیال رکھنے سے قاصر ہے۔ کفیل وضعِ حمل کے بعد حصص میں رد و بدل آنے کی صورت میں ہر حق دار کو اس کا حق پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرے گا۔

ہمارے نزدیک دوسرا قول احتیاط اور انصاف پر مبنی ہے، کیونکہ دو بچوں کی ولادت کے واقعات بکثرت پیش آتے ہیں، جبکہ دو سے زائد بچوں کی ولادت کے واقعات شاذ و نادر ہیں۔

راجح قول کے مطابق حمل کی چھ حالتیں ہو سکتی ہیں:

◈ ① زندہ بچہ ہوگا یا مردہ ہوگا۔
◈ ② اگر زندہ ہوگا تو لڑکا ہوگا۔
◈ ③ لڑکی ہوگی۔
◈ ④ ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوں گے۔
◈ ⑤ دونوں لڑکے ہوں گے۔
◈ ⑥ دونوں لڑکیاں ہوں گی۔

ہر صورت کا الگ مسئلہ بنایا جائے گا، اور حساب کے مطابق دیگر ورثاء میں سے ہر وارث کو اس کا حصہ دیا جائے گا۔ جس وارث کا حصہ ہر صورت میں ایک جیسا ہوگا، اسے پورا حصہ دے دیا جائے گا۔ جس کا حصہ ایک اعتبار سے کم اور دوسرے اعتبار سے زیادہ ہوگا، اسے کم حصہ دیا جائے گا۔ اور جو ایک اعتبار سے وارث اور دوسرے اعتبار سے غیر وارث ہوگا، اسے محروم رکھا جائے گا۔ باقی ترکہ موقوف اور محفوظ رکھا جائے گا یہاں تک کہ حمل کی پیدائش سے صورت حال واضح ہو جائے، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ واللہ اعلم۔

مفقود کی میراث کا بیان

مفقود کے لغوی معنی "معدوم یا گم شدہ شے” کے ہیں۔ "فقدت الشیء” کے معنی ہیں: "میں نے شے کو تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکی۔” یہاں مفقود سے مراد وہ شخص ہے جو لاپتہ ہو، یعنی ایسا غائب ہو کہ اس کا اتاپتا نہ ہو کہ زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے۔

اس کی گمشدگی کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، مثلاً: کوئی سفر پر نکلا، یا لڑائی کے لیے گیا، یا کشتی ٹوٹ گئی، یا کفار نے اسے قیدی بنا لیا، اور پھر معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں اور کدھر چلا گیا۔

گمشدگی کے دوران مفقود شخص کے بارے میں تردد رہتا ہے کہ آیا وہ زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سے ہر ایک سے متعلق مخصوص احکام ہیں، مثلاً: اس کی بیوی کے احکام، خود مفقود کا وارث ہونا، دوسروں کا اس کے ساتھ شریک ہونا، مفقود سے ورثہ پانا وغیرہ۔ ان احتمالی صورتوں میں سے کسی ایک کو دوسری پر ترجیح دینا ممکن نہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک مدت مقرر کی جائے جس میں اس کی اصل صورت حال معلوم کی جا سکے۔ جب وہ مدت گزر جائے تو اسے مفقود کی موت پر دلیل قرار دیا جائے۔

اسی ضرورت کے پیش نظر علمائے کرام نے ایک مدت کے مقرر ہونے پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس کی مقدار میں اختلاف کیا ہے۔ اس بارے میں دو قول ہیں:

✔ 1۔ تعیینِ مدت میں حاکم کا اجتہاد معتبر ہے، کیونکہ مفقود کی زندگی اصل ہے، اور اس اصل کو اسی صورت میں چھوڑا جائے گا جو یقینی ہو یا یقین کے قائم مقام ہو۔ الغرض فیصلہ کن امر حاکم کا اجتہاد ہے، خواہ اس کی سلامتی کی جانب غالب گمان ہو یا ہلاکت کی، اور خواہ وہ نوے برس کی عمر سے پہلے گم ہوا ہو یا بعد میں۔ اس کا انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی موت پر کوئی دلیل مل جائے، یا اتنی مدت گزر جائے کہ غالب گمان ہو جائے کہ اب اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ یہی جمہور کا قول ہے۔

✔ 2۔ اس قول میں کچھ تفصیل ہے، کیونکہ مفقود کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں:

❀ ایسی صورت کہ جس میں مفقود کی ہلاکت کا پہلو غالب ہو، مثلاً: وہ ہلاکت والی جگہ میں گم ہو گیا ہو، یا برسر پیکار صفوں میں لاپتہ ہو گیا ہو، یا کشتی ڈوب گئی ہو جس کے بعض افراد ہلاک ہو گئے ہوں اور بعض سلامت رہے ہوں، یا کوئی شخص اپنے گھر یا شہر میں رہتے ہوئے نماز کے لیے نکلا ہو لیکن واپس نہ آیا ہو۔ ایسے شخص کا انتظار گمشدگی کے وقت سے چار سال تک کیا جائے گا [دلیل سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاوہ فیصلہ ہے جس میں انھوں نے فرمایا کہ جس عورت کا خاوند گم ہو جائے اور اس کا اتاپتا نہ ہوتو وہ چار سال تک انتظار کرے۔پھر چار ماہ اور دس دن عدت وفات گزارے الموطا للامام مالک الطلاق باب عدۃالتی تفقد زوجہا 2/119]۔

کیونکہ یہ ایسی مدت ہے جس میں مسافروں اور تاجروں کا آنا جانا بار بار ہوتا رہتا ہے۔ اگر اس مدت میں کوئی خبر نہ مل سکے تو غالب گمان یہی ہوگا کہ وہ زندہ نہیں ہے۔

❀ اور اگر مفقود کے بارے میں غالب گمان ہو کہ وہ زندہ اور سلامت ہے، مثلاً: وہ تجارت، سیاحت یا طلبِ علم کے لیے سفر پر نکلا ہو، پھر اس کے بارے میں کوئی خبر نہ مل سکی ہو، تو ایسے شخص کا مدتِ ولادت سے لے کر نوے سال کی عمر تک انتظار کیا جائے گا، کیونکہ عموماً اس عمر کے بعد آدمی زندہ نہیں رہتا [یوم ولادت سے لے کر نوے سال تعیین جس طرح غیر معقول ہے اسی طرح یہ غیر منقول بھی ہےبھی ہے کیونکہ گمشدگی کے وقت اگر ایک شخص کی عمر نوے سال سے ایک یا دودن کم تھی تو اس کا ایک یا دودن انتظار کرنا کسی اعتبار سے بھی درست نہیں بلکہ امر فاسد ہے۔ کیونکہ بحث و تلاش کے لیے اتنی مدت کا کوئی بھی قائل نہیں۔(صارم)]۔

ہمارے نزدیک پہلا قول راجح اور معتبر ہے کہ مفقود کی مدتِ انتظار کی تحدید حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے، کیونکہ شہروں، اشخاص اور احوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے صورت حال بھی مختلف ہو جاتی ہے۔ نیز آج کے دور میں اطلاعات اور مواصلات کے ذرائع عام اور تیز رفتار ہیں، یہاں تک کہ ساری دنیا ایک شہر کی مانند سمٹ گئی ہے، اور اب پہلے زمانے جیسے حالات نہیں رہے۔

اگر مفقود کی مدتِ انتظار کے دوران اس کا کوئی مورث فوت ہو جائے

✔ 1۔ اگر مفقود کے سوا اور کوئی وارث نہ ہو، تو مدتِ انتظار مکمل ہونے تک یا صورت حال واضح ہونے تک تمام ترکہ محفوظ رکھا جائے۔

✔ 2۔ اگر مفقود کے ساتھ میت کے دوسرے ورثاء بھی ہوں، تو ترکہ کی تقسیم کے طریقے کے بارے میں علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ ان میں راجح قول، جس پر علماء کی ایک بڑی تعداد متفق ہے، یہ ہے کہ دیگر شریک ورثاء کو کم حصہ دیا جائے گا، جو یقینی ہو، اور باقی ترکہ محفوظ رکھا جائے گا۔

اس بارے میں قاعدۂ کلیہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مسئلے کی تصحیح مفقود کو زندہ فرض کر کے کی جائے گی، پھر دوسری مرتبہ اسی مسئلے کی تصحیح اسے مردہ فرض کر کے کی جائے گی۔ اب جو شخص دونوں صورتوں میں وارث ہے لیکن ایک صورت میں اس کا حصہ کم ہے اور دوسری میں زیادہ، تو اسے کم حصہ دیا جائے گا۔ اور جس کو دونوں صورتوں میں برابر حصہ ملتا ہے، اسے اس کا پورا حصہ دیا جائے گا۔ اور جسے صرف ایک صورت میں حصہ ملتا ہے اور دوسری میں نہیں ملتا، تو اسے کچھ نہیں دیا جائے گا۔ باقی ترکہ صورت حال واضح ہونے تک محفوظ رہے گا۔

سابقہ صورت اس حالت کی تھی جس میں مفقود خود وارث بن رہا تھا۔ لیکن اگر مفقود خود مورث ہو، تو جب اس کی مدتِ انتظار گزر جائے اور اس کی کوئی خبر نہ مل سکے، تو قاضی اس کے بارے میں موت کا فیصلہ صادر کرے گا۔ پھر اس کا ذاتی مال ہو یا دورانِ گمشدگی میں کسی سے بطورِ وراثت اسے ملا ہو اور محفوظ ہو، یہ تمام مال ان ورثاء پر تقسیم کیا جائے گا جو قاضی کے حکمِ موت صادر کرنے کے وقت زندہ ہوں۔ اور جو افراد مدتِ انتظار کے دوران فوت ہو گئے ہوں، وہ وارث نہ ہوں گے، کیونکہ قاضی کا فیصلہ ان کے مرنے کے بعد صادر ہوا ہے۔

میراث لینے کے لیے یہ شرط ہے کہ مورث کی وفات کے بعد وارث زندہ ہو۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب