سوال:
نیند سے جاگا، تو کپڑوں پر انزال ہونے کے نشانات تھے، مگر اسے شعور نہیں کہ احتلام ہوا ہے یا نہیں، تو کیا حکم ہے؟
جواب:
کپڑوں پر منی کے نشانات ہوں، تو غسل واجب ہو جاتا ہے، خواہ اس نے احتلام محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو، کیونکہ کپڑوں پر نشانات دلیل ہیں کہ اسے احتلام ہوا ہے۔
❀ زبید بن صلت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
خرجت مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه فنظرنا، فإذا هو قد احتلم فصلى ولم يغتسل فقال: والله ما أراني إلا وقد احتلمت وما شعرت وصليت وما اغتسلت، قال: فاغتسل وغسل ما رأى فى ثوبه، ونضح ما لم ير، وأذن وأقام الصلاة، ثم صلى بعدما ارتفع الضحى متمكنا
میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ (کسی سفر پر) نکلا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حالت جنابت میں نماز پڑھائی اور غسل نہیں کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں احتلام ہو چکا ہوں، میں نے بغیر غسل کیے نماز پڑھائی ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے غسل کیا، کپڑے میں جہاں پر نشان نظر آئے، اسے دھو لیا اور (جہاں شک تھا، مگر) کچھ نظر نہیں آیا، وہاں چھینٹے مار دیے، اذان اور اقامت کہی اور طلوع آفتاب کے بعد سواری سے اتر کر (دوبارہ) نماز ادا کی۔
(موطأ الإمام مالك: 49/1، شرح معاني الآثار للطحاوي: 2364، وسنده صحيح)
❀ علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
إجماع الأمة على أن من استيقظ ووجد المني ولم ير احتلاما فعليه الغسل
امت کا اجماع ہے کہ جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور اس نے منی کے نشانات پائے مگر اسے احتلام یاد نہیں، تو اس پر غسل واجب ہے۔
(المسالك في شرح موطأ مالك: 195/2)